Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 5)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 5)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
یا اللّہ !! آپ سے سوال کرنے کی میری جرأت نہیں ، نہ میری اتنی طاقت ہے کہ میں آپ سے پوچھ سکوں کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ؟؟
ضرور میں نے کوئی غلطی کی ہو گی جس کی مجھے سزا مل رہی ہے یا یہ میرے لئے آزمائش ہے۔۔
میں معافی مانگتی ہوں میرے مالک ،،
میری خطا کو معاف فرما دے ۔۔۔
تُو غفور الرحیم ہے میری خطا کو معاف فرما دے ۔۔۔
میرے دامن کو داغدار ہونے سے بچا لے میرے مالک۔۔۔
میری عزت کی حفاظت کر،، مجھے درندوں سے رہائی دلا دے۔۔
میری مدد کر۔۔۔
وہ سجدے میں گر کر روتی ،، گڑگڑاتی رہی۔۔۔
اتنی ٹھنڈی رات میں اسے ٹھنڈ محسوس نہ ہوئی۔۔اسکے آنسوٶں کی تپش اس ٹھنڈ کو زائل کرنے کے لیے کافی تھی۔۔
اس کی آنکھیں ،، گال ، ناکک لال سرخ ہو چکے تھے۔۔
روتے روتے اسکی ہچکی بندھ گٸی تھی۔۔
کسی کے آگے اس نے ہاتھ نہیں پھیلایا تھا نہ کسی اور سے مدد کی بھیک مانگی تھی۔۔
وہ مالکوں کے مالک کے سامنے سجدہ ریز تھی وہ اس ذات کو مدد کیلیے پکار رہی تھی جو بن بلاۓ بھی مدد گار رہتا ہے۔۔
پوری رات اس نے نماز پڑھتے دعا مانگتے گزاردی۔۔ اور صبح کی نماز کے بعد اس کو تھوڑا قرار ملا اور وہ اپنی جگہ پر جا کر لیٹ گئی تاکہ گھر والے اسے یوں دیکھ کر پریشان نہ ہوں۔۔
صبح ہونے تک وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔۔؟؟
اس کے لیے قیامت کی رات تھی تنہائی میں اس نے اللّہ سے سلسلہِ کلام جوڑا تھا اور وہ تو اپنے بندے کی پُکار کا منتظر ہوتا ہے تو پھر اتنی تڑپ سے بلائے جانے پر وہ کیسے چپ رہتا ،، کیسے مدد نہ کرتا۔۔۔
وہ صبح سے آفس میں بیٹھی اسد آفندی کا انتظار کر رہی تھی مگر وہ ابھی تک آیا ہی نہیں تھا۔۔ وہ بنا ناشتہ کیے آئی تھی اور کوئی بھی کام نہیں کیا تھا کیونکہ وہ کام کرنے آٸی ہی نہیں تھی۔۔۔
وہ صرف اپنا ریزیگنیشن لیٹر دینے آئی تھی اور ساتھ میں اسد آفندی کو پولیس کمپلین کی دھمکی دے کر تصویریں ڈیلیٹ کروانا چاہتی تھی۔۔
لیکن وہ یہ سوچ چکی تھی کہ کچھ بھی ہو جاۓ وہ اسکے ناپاک ارادے کامیاب نہیں ہونے دونگی اور نہ اب یہاں جاب کرونگی۔۔۔
اندر ہی اندر ایک خوف بھی تھا کہ اب تک اس نے تصویریں کہیں کر نہ دی ہوں۔۔ پتہ نہیں پولیس سے ڈرے گا بھی یا نہیں۔۔
کچھ ہی دیر میں اس نے صاٸم اور مسٹر اسد کو اندر آتے اور اپنے کیبن کی طرف جاتے دیکھا۔۔
انکے چہرے پر سنجیدہ تاثرات تھے۔۔آیت بھی اٹھ کر انکے پیچھے چلی گئی کیونکہ مزید انتظار نہیں کر سکتی تھی۔۔وہ دروازے پر آئی جو تھوڑا سا کھلا رہ گیا تھا جس کی وجہ سے اندر کی آواز باہر آ سکتی تھی اور وہ ایک بات سنتے ہیں وہیں رک گئی۔۔
یار اسد تم کیا کر رہے ہو ؟؟
مجھے تو کم از کم دکھا دو اس کی تصویریں۔۔
صائم کے آواز آئی
کیسے دکھا دوں؟؟
کہاں اسے دکھا دوں؟؟ میں نے تو خود تصویر نہیں دیکھی تھی صرف اس لڑکی کو بھیجی تھی۔۔۔
آفندی نے غصے سے کہا
کیا مطلب؟؟
صاٸم نے حیرت سے پوچھا
اس کا مطلب یہ کہ اس کی ساری تصویریں میرے موبائل سے ڈیلیٹ ہو چکی ہیں۔۔
کیسے؟؟
یہ میں نہیں جانتا اسی وجہ سے میں خود بہت پریشان ہوں۔۔
مسٹر آفندی نے بلآخر بتایا
صاٸم کی حیرت سے آنکھیں کھلی ہی تھیں آیت بھی حیران ہوئی تھی۔۔
کیاااااا؟؟؟
ایک طریقہ ملا تھا اتنے عرصے بعد اس کو پھانسنے کا تو نے وہ بھی گنوا دیا۔۔۔
وہ کرسی پر تھکے ہوۓکھلاڑی کی طرح بیٹھ گیا تھا جس نے بازی بھی لگاٸی اور ہار گیا۔۔
کس نے کیا ہو گا یہ؟؟
شاید کسی نے ہمارے نشے میں ہونے کا فائدہ اٹھایا ہے۔۔ اسد آفندی پر سوچ انداز میں بولا
کون ہو سکتا ہے ؟؟کوئی جانتا تک نہیں تھا کہ ہم نے چھپ کر موبائل سے اس کی تصویر بنائی ہے صاٸم بھی سوچتے ہوئے بولا
اس کا تو میں پتہ لگا لوں گا۔۔ ہے تو کوئی آفس کا یا پھر اس آیت کا کوئی یار ہوگا۔۔
لیکن ہم آیت کو تو دھمکی لگا ہی سکتے ہیں اسے کیا معلوم کہ تصویریں نہیں ہیں ہمارے پاس۔۔
وہ تھوڑے توقف سے بولا تھا پھر دونوں نے زور دار قہقہہ لگایا۔۔
آیت نے بے اختیار آسمان کی طرف دیکھا اور شکرانے کی مسکراہٹ اس کے چہرے پر ابھر آئی کس طرح سے اسے اس وبال سے نکال لیا گیا تھا ۔۔
وہ واپس آ گئی اب صائم کے جانے کے بعد ہی اندر جانا تھا دور کھڑے مددگار نے آیت کے چہرے پر حیرت اور پھر اطمینان دیکھا اور اس نے بھی اللّہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے موبائل سے لی جانے والی آیت کی تصویریں دیکھ لی تھیں اور جب اس کا پیچھا کیا تو وہ مسٹر اسد کا موبائل نکلا۔۔
وہ جانے کا کہہ کر وہیں چھپ گیا اسے پتہ تھا کہ وہ دونوں آج اپنی نامکمل جیت کا جشن منانے کے لیے شراب پٸیں گے اور وہ اپنا کام کر سکتا تھا اور ایسا ہی ہوا۔۔
وہ دونوں جب شے میں دھت ہو کر سو گئے تو اس نے اندر جا کر اسی کے فنگر پرنٹ سے لاک کھولا اور آیت کی ساری تصاویر ڈیلیٹ کر دی اس میں موجود ہر ایک ایپ ، ہر فولڈر چھان مارا کہ کہیں کوئی ایک تصویر بھی رہ نا جاۓ۔۔
آیت کو کیے جانے والے میسج بھی ڈیلیٹ کر دیے تھے اپنا کام کرتا وہوہاں سے نکل گیا ہاتھوں پر دستانے چڑھا کر اس کا موبائل چھوا تھا تاکہ اس کی انگلیوں کے نشان نہ لگیں۔۔
آفندی اس دفعہ بھی کچھ زیادہ اوور کنفیڈنس ہوگیا تھا کہ اس نے وہ تصاویر نہ کسی دوسری ڈیوائس میں رکھیں اور نہ ہی لاک میں اور جب اس نے ڈیلیٹ ہوئی تصویریں ڈھونڈنا شروع کی تو اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے وہ تصویریں کہیں نہیں تھی اسے دن میں تارے نظر آنے لگے آیت اس سے بنا مقابلہ کیے جیت گئی تھی اور یہ بات مسٹر اسد کو منہ کے بل گرانے کے لئے کافی تھی۔۔۔۔۔۔
آیت آج صبح کچھ پریشان سی تھی ۔۔
بشیر صاحب نے کہا
ہاں میں نے پوچھا بھی لیکن کہتی کے کوئی بات نہیں ہے ۔۔
شاید تھکی ہوئی ہو گی ۔۔
نورین بیگم نے تسلی دی
هنمم شاید ۔۔
رات سوتے ہوئے مجھے گھٹن سی ہو رہی تھی جیسے میں کہیں پھنسا ہوا ہوں ۔۔۔
شاہ صاحب نے کہا
آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا ؟؟
مجھے بھی ایسے بے چینی سی ہوتی رہی ۔۔۔
سبھا نماز کے بعد بہت دوعایا کی میں نے ۔۔
اللّه سب کا حامی و ناصر ہو ۔۔
امین
نورین بیگم نے بتا کر پھر دعا کی۔۔۔
آمین ۔۔شاہ صاحب نے بھی دعا کی۔۔
دونوں صبح سے چپ چاپ تھے انکو بھی کوئی خوف تھا یا بے چینی۔۔اخر کو ماں باپ تھے اولاد کی تکلیف کا کیسے نہ پتہ چلتا۔۔
سر یہ میرا استعفی میں اب مزید یہاں کام نہیں کر سکتی۔۔ آیت آفندی صاحب کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی اس نے ایک لفافہ ان کی طرف بڑھایا جسے اس نے کھول کر دیکھا ،، پڑھا اور پھر ایک فاتحانہ مسکراہٹ اس کی طرف اچھال دی۔۔
آپ کیا سمجھتی ہیں کہ آپکے اس طرح کرنے سے میں ان تصویریں کا کچھ نہیں کرونگا۔۔
اس نے مسکراتے ہوۓ کہا
آپ کی مجھ سے کیا دشمنی ہے ؟؟
آیت نے بے بسی سے پوچھا
کوئی بھی نہیں۔۔ دشمنی تو آپ نے خود پیدا کی ہے مجھے انکار کرکے۔۔ ورنہ میں تو دوستی چاہتا تھا۔۔
میرے ساتھ تعلق میں ہوتی تو بہت خوش رہتیں۔۔
اسد صاحب نے نری خباثت اور کمینگی سے کہا
اپنی بکواس بند رکھیں اپنی بیٹیوں کو ان کاموں پر لگائیں میں تھوکتی بھی نہیں ہوں آپکی اس دولت پر۔۔
آیت نے غصے سے چلا کر کہا
ہاہاہاہا۔۔
ابھی تھوڑا غصہ بچا کے رکھو کیونکہ جو آپ نے کنٹریکٹ سائن کیا تھا اس کے مطابق آپ مزید تین ماہ تک جاب نہیں چھوڑ سکتی اور اگر ایسا کیا تو آپکے خلاف قانونی کارواٸی کی جا سکتی ہے اور اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کو اتنا تو میں کر ہی سکتا ہوں۔۔۔
اس نے کہنے کے ساتھ ہی ایک اور قہقہہلگایا تھا ۔۔
آیت سے مزید اسکی بکواس برداشت نہ ہوٸی تو وہ جانے کیلیے اٹھ گٸی تھی
مس آیت بات آپ نے نہیں مانی تو آپ کی تصویریں۔۔۔۔۔۔۔
آیت نے برہمی سے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا بھاڑ میں جائیں تصویریں جہاں بھیجنی ہیں بھیج دو ۔۔
یہ سنتے ہی مسٹر اسد کا رنگ فق ہو گیا وہ سوچتا اسے کسی بات سے خوف کیوں نہیں آتا اور پھر اس نے تصدیق چاہی۔۔
تمہارا کسی سے تعلق ہے؟؟
تم کسی سے رابطے میں ہو؟؟
آیت دروازے تک جا کر پلٹی کچھ دیر چپ رہی پھر جواب دیا
ہاں
” اللّہ سے “
یہ کہتے ہی وہ باہر نکل گئی اور اسد صاحب نے گلاس اٹھا کر پوری قوت سے فرش پر مارا وہ مزید مشتعل ہوگیا وہ ہر حال میں آیت کا یہ خود اعتمادی کا مان توڑ دینا چاہتا تھا اسے آج تک کسی لڑکی سے نہ سننے کو نہیں ملی تھی اور یہ لڑکی اسے انکار پہ انکار کیے جا رہی تھی اب اس کے پاس تین ماہ کا وقت تھا اور اس کے نزدیک یہ بہت زیادہ تھا ایک پاکیزہ ، حجابی لڑکی کو برائی کے سامنے زِیر کرنے کے لئے۔۔۔۔
