Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 18) Last Episode

264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 18) Last Episode

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

آیت ۔۔۔

یہ جوس پی لیں ۔۔۔۔

آپ بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہیں ۔۔۔۔

عفان اس کے پاس بینچ پر بیٹھ گیا تھا

نہیں ابھی میرا دل نہیں کر رہا ۔۔۔گھر جا کے ریسٹ کروں گی ۔۔۔۔

اس نے اپنا رُخ دوسری طرف موڑ لیا تھا ۔۔۔۔

وه اس کی مائیوں میں بیٹھی دلہن تھی تو کیسے بے شرموں کی طرح اسکے ساتھ بیٹھی رہتی۔۔۔۔

کیا ہے ۔۔؟؟

منہ کیوں چھپا رہی ہیں ۔۔۔؟؟

عفان کو الجھن ہوئی

آپ جاٸیں نہ یہاں سے ۔۔۔

اچھا نہیں لگتا ۔۔۔۔

اسے گھبراہٹ ہونے لگی تھی ۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے آپ ریلیکس ہوں۔۔۔۔

میں جا رہا ہوں اور یہ شیک پی لیں۔۔۔۔

آیت کا منہ چونکہ دوسری طرف تھا تو عفان نے جلدی سے ایک دو سپ لیا اور گلاس ادھر ہی رکھ کے مسکراتا ہوا چلا گیا۔۔۔۔

اس کے جانے کے کچھ دیر بعد اس نے گلاس اٹھایا اور سٹرا منہ میں ڈالی تو خود بخود مسکراہٹ اسکے چہرے پہ سج گئی جیسے اسے پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔

کچھ مہمان سو گئے تھے تو کچھ ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔

آیت کے گھر والے تو اس کے انتظار میں بیٹھے تھے ۔۔۔

وه لوگ تقریباً رات کے تین بجے فارغ ہوۓ۔۔۔

ان میں سے کسی کو اپنی فکر نہیں تھی وه سب آیت کی فکر کیے جا رہے تھے ۔۔۔۔

کے اس کا فنکشن بھی خراب ہوا اور تھک الگ گئی ۔۔۔۔

خیر ایسے موقعے تو آتے رہیں گے۔۔۔سب سے زیادہ اہمیت انسانی جان کی ہوتی ہے اور کسی چیز کی نہیں۔۔۔

اتنی بھاگ دوڑ کرنے اور پریشان ہونے کے بعد بھی وہ اتنی ہی چمک رہی تھی اور اتنی ہی خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔

وہ پہلے ادھر آۓ تھے ان لوگوں سے معذرت بھی کی اور آیت کو انکے حوالے کر کے رخصت ہو گئے۔۔۔

فنکشن چونکہ دوسرے دن رات کا تھا تو وہ آرام کر سکتی تھی۔۔۔۔

اس لیے اسے سُلا دیا گیا۔۔۔باقی سب بھی آہستہ آہستہ سونے لگے۔۔۔۔

سب ایک کمرے میں تو نہیں سو سکتے تھے اس لیے کچھ لوگ رضائی لے کر باہر سو گئے۔۔۔ویسے بھی صبح ہونے والی تھی اور شادی کا ماحول تھا تو سب یہ وقت ہنسی خوشی بِتا رہے تھے۔۔۔۔

تیرے گھر آیا ۔۔۔

میں آیا تجھ کو لینے ۔۔۔

دل کے بدلے میں ۔۔۔

دل کا نذرانہ دینے۔ ۔۔۔۔

عفان کے گھر صبح سے شادی والا سماں بندھا تھا ۔۔۔۔

ثناء ٹھیک تھی بس تھوڑی سی نقاہت تھی جسم میں۔۔۔

وہ پھر بھی شادی کی خوشیوں میں پوری طرح شرکت کر رہی تھی۔۔۔

آیت لوگوں کا گھر چھوٹا تھا اور بارات کے فنکشن میں مہمان زیادہ ہونے تھے تو بخاری صاحب نے بڑا حال بک کرا لیا تھا ۔۔۔وہاں پے صبح سے سجاوٹ کا کام جاری تھا ۔۔۔۔

آیت کو صبح سے کسی نے نہیں جگایا تھا ۔۔۔اب صائمہ آئی تھی ڈرائیور کے ساتھ اسے پارلر لے جانے تو پھر نورین نے اسے جگایا ۔۔۔۔

آیت اٹھو بیٹا ، کچھ کھا لو ۔۔۔۔صائمہ آئی تھی تمہیں پارلر لے جانے ۔۔۔

انہوں نے پیار سے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوۓ کہا

ابھی سے؟؟

آیت کی حیرت کی وجہ سے فوراً انکھیں کھل گئیں۔۔

ابھی سے کہاں؟؟

تین بج رہے ہیں۔۔۔۔پھر وہاں بھی کچھ ٹائم لگے گا۔۔۔۔

امی نے مسکراتے ہوۓ اسکا گال تھپکا

آیت کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی جسے چھپانے کیلیے اس نے بالوں کا جُوڑا بنانے کیلیے فوراً بازو منہ کے سامنے کر لیے۔۔۔

آیت تم بہت خوش قسمت ہو بیٹا۔۔۔۔

اللّہ تمہاری خوشیوں کو ہر بد نظر سے بچا کر رکھے۔۔۔

شادی کے بعد شوہر کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہنا اور اس گھر کو اپنا گھر سمجھنا۔۔۔۔

وہ جُوڑا بنا چکی تو امی نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا

امی میں کیسے کسی کے گھر رہوں گی؟؟

میرا تو ایک ایک پل ادھورا ہے اپنے گھر والوں کے بنا۔۔۔

وہ قابو نہیں کر پائی اور آنسو اسکی آنکھوں سے نکل کر گالوں پر پھسل گئے۔۔۔

ارے کسی کا گھر کیوں؟؟

وہ تمہارا اپنا گھر ہے بیٹا۔۔۔اور ہم تم سے دور کب ہیں ہر وقت تمہارے ساتھ رہیں گے۔۔۔

وہ بھی ماں تھیں انکی بھی آنکھیں بھیگ گئی تھیں مگر انہوں نے آیت کے بھی آنسو صاف کیے اور اپنے بھی۔۔۔

وہ خوش بہت تھی مگر ماں باپ کا گھر چھوڑنا کبھی بھی کسی بھی بیٹی کیلیے آسان نہیں رہا۔۔۔۔

واحد یہ غم ہر خوشی پر بھاری پڑ جاتا ہے۔۔۔۔

ارے ابھی سے رونا دھونا شروع مت کریں۔۔۔۔

ہمارے بھائی کے تو پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے اور آپ رو رہی ہیں۔۔۔

صائمہ اسی وقت اندر آئی تھی اور وہ آیت کے گلے لگی تھی۔۔۔۔

تم ایسے ہی بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔کسی بھی سنگھار کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔

وہ بہت محبت سے اسے دیکھتے ہوۓ کہہ رہی تھیں اور وہ سر جھکاۓ بس مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

اچھا چلو جلدی سے کچھ کھا لو پھر چلیں۔۔۔۔

ہاں تم منہ ہاتھ دھو لو۔۔۔میں کھانا لے آتی ہوں۔۔۔۔

امی مسکراتے ہوۓ اٹھ کر باہر گئیں تو وہ دونوں بھی اٹھ کر باہر جانے لگی۔۔۔۔

دن بدلتے ہیں اور ضرور بدلتے ہیں۔۔۔۔یہ میرے اللّہ کی شان ہے کہ ہر اندھیری رات کے بعد روشن سویرا ضرور ہوتا ہے اور سب کیلیے یکساں۔۔۔۔

کوئی چھوٹا بڑا ، امیر غریب نہیں دیکھا جاتا۔۔۔

پارلر میں تین گھنٹے لگانے کے بعد بلآخر اسے ہال میں لے آیا گیا۔۔۔۔

ہر طرف چکا چوند روشنیاں ایسے چمک رہی تھیں کہ دن کا گمان ہونے لگتا۔۔۔۔

وہ سرخ جوڑے میں پھولوں سے سجے اسٹیج پر اپنی سہیلیوں کے جھرمٹ میں زیورات اور میک اپ سے لدی کسی ابسرا کا تاثر دے رہی تھی۔۔۔۔

وہاں کوئی حسد نہیں تھا بس ہر نظر اس کے سراپے کا صدقہ اتار رہی تھی۔۔۔۔

بخاری صاحب نے آج سارا دن صدقہ خیرات کی تھی کہ انکے گھر کی خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے۔۔۔

جب سے آیت آئی تھی اسکی امی اور ساس کے آنسو نہیں رک رہے تھے۔۔۔۔وہ دونوں رو رو کر اسکی دائمی خوشیوں کی دعائیں مانگ رہے تھے۔۔۔۔

انہوں نے سارے مووی میکرز کو دلہن کی تصویریں بنانے سے منع کر دیا تھا صرف ایک فیملی ممبر نے کیمرہ لیا ہوا تھا جو ہر پوز پر کلک کر رہا تھا۔۔۔۔

وہ دن بہت خوبصورت دن تھا۔۔۔ہر چہرہ مسکرا رہا تھا۔۔۔۔کچھ دیر بعد عفان کو لا کر آیت کے پہلو میں بٹھایا گیا اور وہ سب کی نظروں کی پرواہ کیے بغیر آیت کو دیکھے جا رہا تھا۔۔۔۔

جو بھی اسٹیج پر آتا اسے نظروں کا زاویہ موڑنے کو کہتے وہ تھوڑی دیر منہ موڑ لیتا اور پھر انکے جانے کے بعد وہی حال ہوتا۔۔۔۔

گانے چلے ، فوٹو شوٹ ہوا ، ڈانسز بھی ہوئیں۔۔۔۔

پھر دلہن کو گھر کی طرف ، اپنے دائمی گھر کی طرف بے شمار دعاؤں کے ساۓ تلے رخصت کر دیا گیا۔۔۔۔

یہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب ہر احساس رکھنے والے کی آنکھ نم ہوتی ہے۔۔۔۔

آیت نے بھی بہت آنسو بہاۓ اور اسکے گھر والوں نے بھی۔۔۔۔

ثانیہ خود بھی رو رہی تھی مگر اس نے گھر والوں کو بھی سنبھال رکھا تھا۔۔۔۔۔

عفان کے گھر والوں نے انکی خریداری تک خود کروائی تھی۔۔۔۔شاہ صاحب کو احساسِ ندامت نے گھیرا ہوا تھا مگر انہوں نے کہا تھا کہ یہ مجھ پر قرض ہے اور میں یہ اتارونگا انشاءاللّہ۔۔۔۔۔

کیونکہ کوٸی بھی غیرت مند باپ یہ برداشت نہیں کرتا کہ وہ جہاں بیٹی بیاہے وہاں سے ایک پیسہ بھی لے۔۔

چاہے وہ کتنا ہی بے بس اور لاچار کیوں نہ ہو۔۔۔

دلہن رخصت ہو گئی تو مہمانوں کیلئے پُر تكلف کھانے کا بندوبست کیا گیا ۔۔۔۔

سب نے سیر ہو کر کھایا اور واپسی کی راہ لی۔۔۔۔۔

آیت کو چند ایک مخصوص رسموں کے بعد اپنے کمرے میں لایا گیا ۔۔۔۔

کمرہ ایسا کے جیسے پورا گھر ہو ۔۔۔۔بہت وسیع و عریض اور ہر سہولت سے بھرپور۔۔۔۔

سارے کمرے کی سجاوٹ خوبصورت سرخ گلابوں اور روشنیوں سے کی گئی تھی ۔۔۔۔

اسے یہ ساری چیزیں ، اتنی محبتیں صراطِ مستقیم کا صدقہ ملی تھیں یا ماں باپ کی دعاؤں کے صدقے۔۔۔۔وہ فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔۔۔۔۔

عفان نے اسے زیادہ دیر انتظار نہیں کروایا تھا کیونکہ اس سے خود انتظار نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

دروازہ ناک ہوا تو آیت کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں ، وہ بہت کنفیوز ہو رہی تھی حالانکہ اس جتنا خود اعتماد انسان کوئی نہیں تھا۔۔۔۔۔

عفان خود بھی کنفیوز سا تھا شاید محبت کا احساس ہی ایسا ہے کہ محبوب کے سامنے آتے ہی ساری خود اعتمادی ہوا ہو جاتی ہے۔۔۔۔

آیت آپ خوش ہیں نا اس رشتے سے۔۔۔؟؟

سلام دعا کے بعد اور کچھ سنبھلنے کے بعد اس نے پہلا سوال کیا تھا اور آیت نے بنا سر اٹھاۓ اثبات میں ہلا دیا تھا۔۔۔۔

میں نے کبھی محبت کا اظہار نہیں کیا کیونکہ مجھے لگتا تھا بھی اور ہے بھی کہ میری محبت کو لفظوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ بیان ہو ہی نہیں پاۓ گی۔۔۔۔

لیکن محبت ظاہر تو ہو سکتی ہے ، محسوس تو ہوتی ہے نا اور میرا وعدہ ہے کے میں ہر پل اپنے عمل سے یہ ثابت کروں گا کے

” میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ۔۔۔”

عفان نے اس کے ہاتھ پہ ہاتھ رکھا تھا اور آیت نے اپنا دوسرا ہاتھ اٹھا کے عفان کے ہاتھ پر رکھا تھا ۔۔۔۔

اب وه بھی اسکی طرف دیکھ رہی تھی اور جب آیت نے آنکھیں اٹھاٸیں تو عفان نے جھکا لیں وه ان آنکھوں کی گہرائی کو نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔۔۔

اچھا ایک سرپرائز تھا آپ کیلئے ۔۔۔؟؟

عفان نے تھوڑی دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد کہا

اب تک آیت کی کچھ جھجھک کم ہو گئی تھی ۔۔۔

ایک ڈاکٹر سے میں نے اپائنٹمنٹ لی تھی انکل کے چیک اپ کیلئے ۔۔

وه تو شادی سے پہلے بلا رہے تھے لیکن میں نے تھوڑا اور ٹائم لیا تا کے ہم دونوں ساتھ جا سکیں ۔۔۔۔

وه مسکراتے ہوئے کہہ رہا تھا اور اسکی آنکھوں کی چمک دیکھ کر اندازہ کر سکتا تھا کے یہ اس کیلئے کتنی بڑی خوشخبری ہے ۔۔۔۔

عفان آپ سچ کہہ رہے ہیں ؟؟

ابو پھر سے چل پاٸیں گے ؟؟

وه اپنے پیروں پہ پھر سے کھڑے ہوں گے ۔۔۔؟؟

ہاں ان شا اللّه ۔۔۔۔

انکا تو کوئی بڑا مسٸلہ ہی نہیں ہے ۔۔۔

اتنے سیریس مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں۔۔۔۔یہ بھی ہو جائیں گے۔۔۔۔

ڈاکٹر نے بہت تسلی دی ہے مجھے۔۔۔۔

اوہ تھینک گاڈ۔۔۔۔۔

بہت شکریہ عفان ۔۔۔۔

نہیں صرف شکریہ تو بہت کم ہے۔۔۔۔آپ نے مجھے بہت بڑی خوشی دی ہے۔۔۔۔

آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔

وہ بہت خوشی سے ہنستے ہوۓ بول رہی تھی۔۔۔اسے یہ بھی بھول گیا تھا کہ وہ آج پہلے دن کی دلہن ہے۔۔۔

ہاں وہ تو ہے۔۔۔

اچھا کالم ڈاؤن۔۔۔۔

تھوڑی خوشی اس دن کیلیے بچا کہ رکھیں جب وہ بالکل ٹھیک ہو کر اپنے قدموں پر چلتے ہوۓ آپ کے سامنے آئیں گے۔۔۔۔

اس نے بہت پیار اور نرمی سے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے تھے پھر ان پر اپنے لب رکھ دیے۔۔۔۔

شرم سے پھر اسکا سر جھک گیا تھا۔۔۔

عفان نے اسے منہ دکھائی کا تحفہ ہیرے کا سیٹ دیا تھا۔۔۔جس کی قیمت اور خوبصورتی کا اندازہ اسکی بناوٹ سے ہی ہو رہا تھا۔۔۔۔

وہ عفان کی کس کس چیز پر شکر گزاری کرے ، کس بات پر شکریہ ادا کرے اور کیسے لفظوں میں۔۔۔

ابھی اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔

آج آپ بہت ہی زیادہ خوبصورت لگ رہی تھیں۔۔۔

میں چاہتا ہوں آپ ہمیشہ ہی صراطِ مستقیم پر رہیں، ہمیشہ میری ہو کر رہیں۔۔۔۔

تا کہ میرے بچے بالکل آپ پر جائیں ۔۔۔۔

آپ بھی پیارے لگ رہے تھے ۔۔۔

میں ہمیشہ آپ کی رہوں گی انشاءاللّہ۔۔۔

اف شکر ہے آخر تم نے بھی میری تعریف کی۔۔۔۔میں کب سے اسی لیے تو اتنی محنت کر رہا تھا۔۔۔

اس نے مسکراہٹ دباۓ کہا تو آیت نے نا سمجھی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔

پھر دونوں ہنسے اور ہر چھوٹی بات پر ہنستے چلتے گئے۔۔۔

وہاں محبت تھی ، بھروسہ تھا تو سب کچھ انکا اپنا تھا۔۔۔۔انکے پاس تھا۔۔۔۔

صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کیلیے ہمیشہ امتحان ہوتے ہیں۔۔۔۔

آزمائشیں ہوتی ہیں۔۔۔مگر انکے ساتھ اللّہ کا ساتھ ہوتا ہے اور ہمیشہ ہوتا ہے۔۔۔۔

انہیں صبر سکھایا جاتا ہے اور پھر اسکا صلہ اتنا خوبصورت ہوتا ہے کہ صبر کرنے والے کو خود اپنی قسمت پر رشک ہونے لگتا ہے۔۔۔کیوں کے قرآن مجید میں بھی ہے نا کے ۔۔۔۔

” بے شک اللّه صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔۔۔۔”