264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 12)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

اسلام علیکم سر !

میں آیت بات کر رہی ہوں۔۔۔ کیسے ہیں آپ ؟؟؟

آیت اپنے کیبن میں بیٹھی فون پر بات کر رہی تھی ۔۔

جی وعلیکم السلام بیٹا۔۔ بہت ٹائم بعد یاد کیا ہے۔۔۔

انہوں نے خوش دلی سے جواب دیا

جی بس حالات ایسے ہو جاتے ہیں کہ کسی سے بات نہیں ہو پاتی ۔۔۔

آج کچھ پریشان تھی تو سوچا آپ سے راہنماٸی لے لوں۔۔ اس نے نہایت مدھم آواز میں اور افسردہ ہو کر کہا

جی جی بتائيں ۔۔

وہ اپنی کرسی پر سیدھے ہو کر بیٹھ گۓ تھے عینک اتار کر ایک ساٸیڈ پر رکھ دی تھی۔۔

آیت نے سارا خواب ان کے گوش گزار کر دیا وہ ایسی چیز نہیں تھی جسے نظر انداز کر دیا جاتا اور دیکھا بھی فجر کے وقت تھا۔۔۔

بیٹا اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔

آپ اپنے خواب کا صدقہ دیں اور اس کی تعبیر اچھے معنوں میں نکالیں۔۔

لیکن اگر کوئی ایسا کام ہے جس سے آپ کو لگتا ہے نہیں کرنا چاہیے یا آپ کو کوئی منع کر رہا ہے تو اس سے پیچھے ہٹ جائیں ، ورنہ رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔۔۔

انہوں نے تفصیل سے سمجھایا

لیکن ضروری تو نہیں کہ جس کام سے منع کیا جا رہا ہو وہ غلط ہی ہو ؟؟

بعض دفعہ ہم کچھ چیزوں کو غلط سمجھتے ہیں مگر بعد میں انکا انجام اچھا ہوتا ہے ۔۔۔

وہ مطمئن نہیں تھی۔۔

انجام کس نے دیکھا ہے ؟؟

ہمیں تو آغاز سے مطلب ہوتا ہے جس کا آغاز اچھا ہو ، دل کو اطمینان بخشتا ہو اسے کر لینے میں کوئی حرج نہیں لیکن آپ کو تو آغاز میں ہی تنبیہ کردی گئی ہے۔۔۔

وہ اسے جانتے تھے وہ اس کے یونی کے پروفیسر تھے اور وہ ہمیشہ ان سے کچھ نہ کچھ ڈسکس کرتی رہتی تھی۔۔۔

ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ کوئی ہمیں دھوکہ دے رہا ہے ہم کسی کے دل کے حال تو نہیں پہچانتے ہیں نا؟؟

آیت نے پھر سوال کیا

یہ تو خود کو خود دھوکہ دینے والی بات ہےکہ ہم کسی کے دل کے حال نہیں پہچانتے۔۔۔

لوگوں کو پرکھنا سیکھو ، ان کی آنکھیں ،، ان کے الفاظ پڑھنا سیکھو۔۔۔

جب ہم کسی سے منسلک ہوتے ہیں تو اپنے آپ پر غور کرو کہ خیر کی راہ پر چل رہے ہیں تو وہ آپ کے ساتھ مخلص ہے۔۔

خیر اور شر کے راستے کا فرق بھی آپ کو دیکھنا ہے۔۔۔

انہوں نے ہر بات واضح کردی ۔۔

وہ ان سے متفق تھی مگر ماننا نہیں چاہ رہی تھی۔۔ کیونکہ وہ بھٹک گئی تھی ،، راستہ بھول گئی تھی اور اب بنا کسی کی مدد کے ، بنا کسی دھکے کے وہ سیدھے رستے پر نہیں آ رہی تھی۔۔

اس لیے بنا کسی نتیجے پر پہنچے کال ختم ہوگٸی۔۔

کال ختم ہونے کے بہت دیر تک وہ اسی پوزیشن میں بیٹھی رہی اور پروفیسر کی باتوں پر غور کرتی رہی۔۔۔

کیا سچ میں مجھے اسی بات کے لیے تنبیہہ کی گٸی ہے۔۔

اب وہ اپنے ہر عمل ، قول پر غور کر رہی تھی اور ہر بات سے ہر چیز سے وہ یہی نتیجہ نکال رہی تھی کہ یہ کام اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔۔

نماز چھوڑ دینا ،،گھر والوں کی پرواہ نہ کرنا ،، ان سے بدتمیزی کرنا،، رات کو دیر سے گھر آنا ،، رات دیر تک موبائل چلانا ،، ایک نامحرم کے لیے خود سجانا سنوارنا۔۔۔

پہلے تو وہ ایسی نہ تھی۔۔

مگر فی الحال وہ سجاول کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی کیونکہ اس نے دل کو اس کے حوالے کردیا تھا۔۔۔

اور ان کے گھر کا ماحول ہر وقت سوگوار سا رہتا وہ پہلے والی باتیں نہیں رہی تھیں۔۔۔

ہر وقت کی ٹینشن ، بدسلوکی ، چپ چاپ اور ایک گہرا سکوت سا ہوتا تھا جس سے کبھی کبھی خوف آنے لگتا مگر وہ اپنی حرکتوں پر شرمندہ نہیں ہو رہی تھی۔۔۔

سبھی اس کو سمجھا رہے تھے کہ سید زادی کسی غیر سید سے نکاح نہیں کر سکتی مگر وہ ان سے متفق نہیں تھی ۔۔۔

آج وہ کسی کیفے سجاول سے ملنے کے لیے آئی تھی ، وہ اچھی جگہ نہ تھی اور اس کا اندازہ اسے نہیں تھا وہاں ایک میز کے گرد رکھی کرسی پر بیٹھی سجاول کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔

جب آئمہ اسے دیکھ کر اس کے پاس آ گئی

ہائے تم کیسی ہو یار؟؟؟

وہ اس کے گلے ملی تھی جب کہ آیت تو اسے دیکھ کر ہڑبڑا گئی تھی۔۔

آٸمہ اسے ایسی جگہ دیکھنے کی توقع نہیں کر رہی تھی اس لیے حیرت سے اس کی طرف دیکھا

تم یہاں کیا کر رہی ہو یار؟؟؟

اس نے حیرانی سے پوچھا

کیوں یہاں صرف تم آ سکتی ہو ؟؟باقی کسی کو اجازت نہیں ہے کیا ؟؟

وہ برہمی سے بولی

ارے میں نے ایسا تو نہیں کہا اور میں یہاں سے آرڈر ریسیو کرنے آئی تھی۔۔ تمہارے احسان کی وجہ سے میں ”ایسی جگہوں “ اور ایسے لوگوں سے بچ گئی ہوں۔۔۔

اُس کو میں نے چھوڑ دیا تھا کیونکہ جو شادی کرتا ہے وہ ملاقاتیں نہیں مانگتا اور جو ملاقاتیں مانگے وہ کبھی شادی نہیں کرسکتا ۔۔۔

اور تم نے مجھے یہ بات سمجھائی تھی ۔۔۔

آئمہ نے انجانے میں آیت کے منہ پر زور دار تھپڑ مارا تھا آیت نے پل بھر کو نظر اٹھا کر آئمہ کا چہرہ دیکھا جس پر پہلے کی نسبت چمک تھی جب کہ آیت کی خوبصورتی ماند پڑتی جارہی تھی۔۔۔

اور میری شادی ہو رہی ہے میں تمہیں بلاؤں گی تم ضرور آنا ۔۔۔

آٸمہ نے مسکراتے ہوئے کہا

مبارک ہو بہت۔۔۔ میں چلتی ہوں۔۔۔

آیت اپنا بیگ اٹھائے وہاں سے نکل آٸی۔۔

اسے برقعے اور حجاب میں بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے بیچ بازار میں کسی نے اس کا سر ننگا کر دیا ہو ۔۔

سب اس پر تھوک رہے ہیں۔۔۔

وہ کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں۔۔۔

بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے وہ وہاں سے سیدھی گھر آٸی تھی۔۔۔

جب سے بینک میں نوکری شروع کی تھی آج پہلی دفعہوہ وقت سے بھی پہلے گھر آٸی تھی۔۔۔

گھر والوں کے منہ عجیب سی خوشی سے چمک اٹھے تھے اس نے اپنے گھر والوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا مگر وہ بولی نہیں چپ تھی بالکل۔۔۔

ذہن بھی بالکل خالی تھا۔۔۔

ہر سوچ سے آزاد۔۔۔۔

اس رات وہ سو نہ سکی تھی اس کے دل کو آج پہلی بار عجیب بے سکونی اور بے چینی لگی ہوئی تھی امی اور بہن سے اتنا بول چال نہیں تھا ان کو وہ کہہ چکی تھی کہ سجاول کے علاوہ کسی سے شادی نہیں کروں گی۔۔۔

مگر آج اس کا اپنا ارادہ ڈگ مگ سا لگ رہا تھا ۔۔۔

اسے لگ رہا تھا کہ کسی نے بددعا دی ہے وہ اتنی خوش تھی سجاول کے ساتھ مگر اب؟؟

مگر بد دعا تو پہلے لگی تھی اب تو کسی کی دعاٸیں اثر کر رہی تھیں۔۔

وہ جاگ رہی تھی تو دیکھ سکی اس کی امی بھی جاگ رہی تھیں۔۔وہ وقفے وقفے سے دیکھتی تو نورین بیگم کبھی رو رہی ہوتیں اور کبھی دعا مانگ رہی ہوتیں۔۔

وہ عجیب سے گلٹ کا شکار ہوتی رہی ، دوسرے دن وہ بینک نہیں گئی تھی اور نہ سجاول کی کال ریسیو کی تھی۔۔

جب وہ گھر تھی تو گھر کا ماحول بھی دیکھ پاٸی جو یکسر بدل چکا تھا صرف اور صرف اس کی وجہ سے۔۔۔

وہ کسی ہارے ہوئے کھلاڑی کی طرح گھر میں تھی ایسا کھلاڑی جو اپنا سب کچھ لٹا چکا ہو اور اب کھیل بھی نہ سکتا ہو ۔۔۔

مطلب ہر طرح سے خالی ہاتھ۔۔

وہ اپنی ہر تکلیف کا سوچ تکلیف میں مبتلا ہو رہی تھی۔۔

ہر چیز کا موازنہ دوسری سے کر رہی تھی شاید غیر ارادی طور پر وہ اپنے جاگے ضمیر کو سلا دینا چاہتی تھی۔۔۔

وہ خود کو بے گناہ اور مظلوم ثابت کرنا چاہتی تھی اپنی ہی نظروں میں۔۔۔

سارا دن وہ غلط اور صحیح کے بیچ الجھی رہی اور شام تک وہ سچ کو جھٹلا چکی تھی ۔۔۔

اس کیلیے وہی صحیح تھا جس کا انتخاب وہ کر چکی تھی اور اب اس کی زندگی میں وہ سیاہ اور تاریک رات آنے والی تھی ایک کالا سایہ اس کے سر پر منڈلا رہا تھا۔۔۔

کیا ہو گیا تھا آیت ؟؟

تمہیں پتا ہیں میں کتنا پریشان ہو گیا تھا آپ کیلئے ؟؟؟

وه میز پہ دونوں ہاتھ ٹکا کے اس کی چیئر پر جھکا کھڑا تھا

بس میں تھوڑی پریشان تھی تو اس لئے ۔۔۔

آیت نے نقاب آنکھوں کے قریب کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

Ohh come on dear

کس دور میں جی رہی ہو ۔۔۔آج کل دیکھا ہے کسی کو اتنا چھپا ہوا ۔۔۔

اس میں تمہاری ساری خوبصورتی چھپ جاتی ہے ۔۔۔

وه بات کرتے ہوئے مسلسل کوشش کرتا رہا کے آیت کا نقاب اتار دے مگر اس نے ایک ہاتھ سے پکڑ رکھا تھا اور وه خود بھی ہمت کر نہیں پایا ۔۔۔

اچھا کیا پریشانی تھی ؟؟

مجھے بتاؤ۔۔۔

میں ہوں نا ؟؟

اس نے خود ہی بات کا رخ بدلا

میری امی اس رشتے کیلئے راضی نہیں ہیں۔ ۔۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتی میں کیا کروں۔ ؟؟

آیت رو دینے کو تھی مگر سجاول کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گئی تھی۔۔۔

آپ نے گھر بات کر لی ہے ؟؟؟

آیت نے پوچھا تو وه اس کی چیئر سے ہٹ گیا دوسری طرف اپنی کرسی پر جا کے بیٹھا اور آیت کی طرف دیکھا

کر لوں گا ۔۔۔اتنی جلدی کیا ہے ۔۔۔

اور ہاں تمہاری اداسی دور کرنے کا ایک حل ہے میرے پاس ۔۔۔

اس نے فوراً سے بات کا رخ پھیرا مگر آیت خاموش رہی۔۔

اس نے اوپر دیکھا ہی نہیں تھا۔۔۔

آج رات میرے دوست کے گھر ڈنر ہے ہم سب آفس والے جا رہے ہیں اور تم بھی چلو گی ۔۔۔

نہیں میں رات کو نہیں آ پاؤں گی ۔۔۔

آیت کا منہ بن گیا تھا وه یقین نہیں کرنا چاہتی تھی کے سجاول بھی اس کے ساتھ دھوکہ ۔۔۔۔؟؟؟

میں پوچھ نہیں رہا ۔۔۔بتا رہا ہوں کے تم چل رہی ہو اور بس اب کوئی بحث نہیں ۔۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وه چپ ہو گئی مگر اب اس کی سوچ کا زاویہ بدل گیا تھا سجاول کو لیکر۔۔۔۔