Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 14)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 14)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
وه اسی طرح روۓ جا رہی تھی جب سجاول آیا تو اس نے پوچھا
کیا ہوا آیت ؟؟
کیوں رو رہی ہو؟ ؟
اس نے ایسے دکھایا جیسے اسے آیت کی بہت پرواہ ہو رہی ہے ۔۔۔
نہیں کچھ نہیں ہوا ۔۔۔
میری طبیعت خراب ہو رہی ہے مجھے گھر چھوڑ دیں ۔۔۔
وه اس کے منہ کی طرف دیکھ کے بے بسی سے بول رہی تھی ۔۔۔
ارے کچھ نہیں ہوتا طبیعت کو ، ابھی وہاں جاٸیں گے نہ تو سب سے مل کر اچھا لگے گا ۔۔۔
اس نے آیت کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر تسلی دی تھی مگر وه مطمئن نہیں تھی اسے گھٹن ہو رہی تھی مگر وه خاموش رہی ۔۔۔۔
گاڑی اپنے سفر پر رواں دواں تھی ۔۔۔آیت نے باہر دیکھنے کی زحمت بھی نئی کی اور نہ کچھ نظر آنا تھا کیوں کے گاڑی کے شیشے سیاہ تھے ۔۔۔۔
وه سجاول کے ساتھ باتیں کر رہی تھی جب گاڑی ایک جھٹکے سے رکی ۔۔۔
یہ کیا ہوا ؟؟؟
آیت کا پہلے ہی دل گھبرا رہا تھا وه مزید ڈر گئی ۔۔۔
شاید گاڑی کا ٹائر خراب ہو گیا ہے میں دیکھتا ہوں ۔۔۔۔
سجاول یہ کہہ کر نیچے اتر گیا ۔۔۔۔
اسے سامنے کے شیشے سے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا بس اندھیرا تھا ہر طرف ۔۔۔۔
وه کچھ دیر بیٹھی انتظار کرتی رہی پھر باہر نکلی تو پہلی بار اس کے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے ۔،۔
ویرانا تھا ہر طرف ۔۔۔۔دور دور تک کوئی روشنی بھی نظر نہیں آتی تھی ۔۔۔۔روڈ تھا بس نام کا ، کوئی ٹریفک نہیں تھی ۔۔۔۔
اسے وحشت سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
یا اللّه رحم کر ۔۔۔۔۔میرا دل بہت گھبرا رہا ہے ۔۔۔
سب ٹھیک کرنا۔۔۔۔پلیز مدد کرنا۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر کے اللّه کو یاد کیا ۔۔۔۔اس سے مدد مانگی ۔۔۔
اتنے مہینوں سے نہ نماز پڑھی تھی اور نہ صحیح طرح سے دعا مانگی تھی ۔۔۔۔
وه لوگ کسی ویران حویلی کے پاس تھے ۔۔۔جس کے اتنے بڑے بڑے دروازے ، کھڑکیاں لگے تھے ۔۔۔دور سے دیکھنے پر بھی اس جگہ سے خوف آتا تھا ۔۔۔
اس نے اِرد گِرد دیکھا سجاول کہیں نظر نہیں آ رہا تھا وه تھوڑا سا آگے ہوئی جب اس نے سجاول کی آواز سنی
”ہاں تم لوگوں کو کتنی دیر ہے کمینو ۔۔۔۔
جلدی آ جاؤ ۔۔۔۔ہاں ہاں وه میرے ساتھ ہے اور جسکا مال ہے اسے بھی ساتھ لے آنا ۔۔۔۔
میں اتنی دیر فون پہ بات نہیں کر سکتا اس بے وقوف لڑکی کو شک نہ ہو جائے ۔۔۔۔“
آیت کو لگا کے آسمان اس کے سر پہ آ گرا ہے ۔۔۔اسے لگا وه واقع کسی کھائی میں گر رہی ہے ۔۔۔بے اختیار اسکی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے تھے ۔۔۔۔
مگر یہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لینے کا وقت تھا یہ آخری موقع تھا اس کے پاس نکلنے کا ۔۔۔۔
وه نہ جگہ کے بارے میں جانتی تھی اور نہ کوئی آس پاس نظر آتا تھا ۔۔۔
وه اپنا بیگ سنبهالتی وہاں سے دبے قدموں پیچھے ہٹ آئی ۔۔۔۔
اسے سمجھ نئی آ رہا تھا کے کس طرف جائے ۔۔۔۔پھر وه آہستہ آہستہ اسی حویلی کی طرف چلنے لگی ۔۔۔۔
اندھیرا اتنا تھا کے وه تھوڑا سا بھی دور چلی جاتی تو اسے نظر نہیں آنی تھی ۔۔۔۔
کچھ چلنے کے بعد اس کے قدم تھم گئے جب اس نے اپنا نام سنا ۔۔۔۔
آیت ۔۔۔۔۔۔۔
اسے لگا کے سجاول نے اسے دیکھ لیا ہے مگر اتنے اندھیرے میں اسے خاک نظر آنا تھا وه تو اسے آواز دے کے ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔شاید وه گاڑی میں دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
شان ابھی مت سو نا۔ ۔۔
مجھے اکیلے ڈر لگے گا ۔۔۔۔
شایان ثانیہ کی گود میں سر رکھے سو رہا تھا ۔۔۔
بیچارے بچے نے کچھ کھایا بھی نہیں تھا اور نہ کھانے کی ضد کی تھی ۔۔۔۔
یا اللّه پلیز آپی کو جلدی سے گھر بھیج دیں ۔۔۔۔میں ان کی جتنی بہادر نہیں ہوں ۔۔۔۔
وه روتے ہوئے دعا مانگ رہی تھی ۔۔۔۔
جب کے شان کب کا سو چکا تھا ۔۔۔
آیت پھر نہیں رُکی وه روتے ہوئے تیز چلنے لگی۔ ۔۔۔
اپنے پیچھے اس نے ایک اور کار کے رکنے کی آواز سنی ۔۔۔وه بے تحاشا ڈر گئی تھی ۔۔۔۔
مگر اس نے ہمت نہیں ہاری اور جیسے ہی دروازے میں پاؤں رکھا تو وه دروازے سے ٹکرايا اور آواز پیدا ہوئی ۔۔۔۔
اس نے جوتے وہیں چھوڑ دیے اور ننگے پاؤں اندر بھاگ گئی مگر وه لوگ دروازے کی آواز سن چکے تھے اور دوڑتے قدموں کی آواز اسے قریب سے آنے لگی ۔۔۔۔
وه بے آواز آنسوؤں سے روتی اِدھر اُدھر بھاگ رہی تھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کہاں چھپے سارے دروازے ٹوٹے ہوۓ تھے۔۔۔
پھر وہ ایک گندے سے کمرے میں جا کر دروازے کے پیچھے چھپ گئی۔۔۔تب تک وہ لوگ حویلی کے اندر آ چکے تھے۔۔۔
اتنا بڑا دھوکہ میرے ساتھ۔۔؟؟
سب لوگ میرا استعمال کیوں کرنا چاہتے ہیں؟؟
کوئی بھی مخلص نہیں ہے؟؟؟
آج وہ بہت پچھتا رہی تھی۔۔
مت کرو ایسے ورنہ بہت پچھتاؤ گی۔۔۔۔۔
اسے امی کی کہی بات یاد آئی۔۔۔۔
وہ چار پانچ لوگ تھے جو حویلی میں ادھر ادھر اسے ڈھونڈ رہے تھے۔۔۔۔
آیت جہاں بھی ہو سامنے آ جاؤ ورنہ بے موت ماری جاؤ گی۔۔۔۔اب تم بھوکے شیروں کے پنجرے میں پھنس چکی ہو اور یہاں سے رہائی صرف موت کی صورت مل سکتی ہے۔۔۔
اور پھر وہ سب قہقہہ لگا کے ہنسے تھے۔۔۔
وہ رو رہی تھی یہاں تک کے اسکی ہچکی بندھ گئی تھی اور وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کر اسے روکے ہوۓ تھی۔۔۔۔
یار اسے ڈھونڈو۔۔۔۔
کہیں وہ اپنے یار عفان سے بات نہ کر لے۔۔۔
اور وہ کمینہ تو ہمیں کچا چبا جائے گا۔۔۔۔
عفان کے نام پر وہ چپ ہوئی تھی۔۔۔یہ نام سنا سنا لگ رہا تھا..
مگر وہ مجھے کیسے جانتا ہے اور یہ لوگ بھی ؟؟؟
وه ابھی یہ بات سوچ ہی رہی تھی کے اسے خیال آیا
بولنے والے کی آواز بھی سنی ہوٸی لگتی ہے ۔۔۔مگر یاد نہیں آ رہا تھا کے کون ہے ؟؟؟
اس نے آہستہ سے جھانک کے دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔۔۔۔
صائم ۔۔۔۔۔۔۔
اسد آفندی کا دوست ۔۔۔۔؟؟
تو مطلب ان کے کہنے پہ سجاول نے مجھے ؟؟؟
اس سے آگے وه سوچ ہی نہیں پائی ۔۔۔اس کے رکے آنسو ایک بار پھر جاری ہو گئے تھے ۔۔۔۔وه اپنی کم عقلی پر ماتم کر رہی تھی ۔۔۔۔
اس سے کیسے بات کر سکتی ہے ۔۔۔وه تو اسد پہ کیس کروانے کے بعد ہی کہیں نکل گیا تھا ۔۔۔
سجاول نے کہا تو ایک اور راز آیت پر آشکار ہوا ۔۔۔
سر اسد پہ کیس ؟؟؟
کس وجہ سے؟ ؟؟
کیا میرے اغوا کی وجہ سے ؟؟؟
مگر اس بارے میں تو کوئی جانتا ہی نہیں ؟؟
ابھی وه سوچوں کے تانے بانے میں تھی کے اسے اپنے اغوا کے وقت کی فون کال یاد آئی ۔۔۔
تو کیا وه عفان ؟؟؟
مگر وه ہے کون ؟؟؟
یار وه اپنی محبوبہ کو بچانے کیلئے کہیں سے بھی ٹپک سکتا ہے اسے ہلکا مت لو۔۔۔بس اس لڑکی کو ڈھونڈو۔۔۔
صائم کو تسلی نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
عفان وه جو اسد صاحب کے آفس کام کرتا تھا ؟؟
وه معمولی آدمی کیا کر لے گا ۔۔؟؟
ایک اور آدمی بولا شاید وه بھی انہی کے آفس کام کرتا تھا ۔۔۔
پہلی بات تو یہ کے وه اسد کا آفس نہیں ہے اب سب کچھ میرا ہے ۔۔۔۔اور دوسری بات وه معمولی آدمی نہیں ہے اس نے اپنی شناخت چھپاٸی اس لڑکی کا مدد گار بننے کی خاطر ۔۔۔۔
وه ہم سے بھی بڑا بزنس مین ہے۔۔۔۔
صائم نے بات مکمل کی تو سب حیران ہوۓ مگر اس وقت کسی نے کوئی جواب نہیں مانگا نہ سوال کیا کیونکہ اس وقت ان کیلیے آیت کو ڈھونڈنا زیادہ ضروری تھا۔۔۔۔
وہ بہت غور سے انکی باتیں سنتی رہی۔۔۔کبھی آنسو صاف کرتی تو کبھی پسینہ۔۔۔۔
میری خاطر ؟؟؟
اپنی شناخت ؟؟
مدد گار ؟؟؟
ابھی کسی سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا مگر اس کے دماغ نے اسے سگنل دیا اور اس نے موبائل نکالا۔۔۔
آن کر کے سائلینٹ پر کر لیا اور لوکیشن بھی آن کی۔۔۔۔
اسے پچھلی بار والی کال یاد آئی اور انکی باتیں سن کر حوصلہ ہوا کہ شاید مدد گار اب بھی ڈھونڈ لے مجھے۔۔۔۔
اسے قدموں کی آہٹ سنائی دی جو اسی کمرے کے پاس تھی۔۔۔وہ ایک ایک کونا چھان رہے تھے۔۔۔آیت نے صرف آنکھیں نکال کر دیکھنے کی کوشش کی تو انکی اس طرف پیٹھ تھی۔۔۔۔
وہ آہستہ سے باہر نکلی مگر انہوں نے قدموں کی آہٹ سن لی اور اسی طرف دوڑے۔۔۔
وہ ان سے پہلے بھاگ کر ایک کمرے میں گھس گئ جسکا خوش قسمتی سے دروازہ بھی تھا اور فوراً سے لاک کر لیا۔۔۔۔
ان لوگوں نے قدموں کی آہٹ سن لی تھی اور وه بھاگ کر اسی طرف گئے ۔۔۔۔انہوں نے زور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کر دیا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔۔
ان پانچوں نے دھکے دیے ، لات ماری مگر بے سود ۔۔۔اب وه اچھے خاصے فکر مند ہو گئے تھے ۔۔۔۔
صائم اور سجاول کی آپس میں بحث ہو رہی تھی ۔۔۔کے اچانک سے ہوا کا شور آنا شروع ہو گیا ۔۔۔
اتنی تیز آندھی ، بارش ، بجلی کی چمک ، بادلوں کی گڑ گڑاہٹ۔۔۔۔موسم کافی حد تک خوفناک ہو گیا تھا۔۔۔۔
وہ اندر بیٹھی کوئی دعائیں پڑھ رہی تھی ، اسکے ابو ہاسپٹل میں تڑپ رہے تھے ۔۔۔۔امی اللّہ کے حضور ہاتھ بلند کیے رو رہی تھیں ، گڑگڑا رہی تھیں۔۔۔۔
کمرے میں بَھنک تک نہ پڑی کہ باہر موسم کتنا خراب ہے۔۔۔وہ طوفان تو شیطانوں کیلیے تھا ۔۔۔۔انکا انجام کرنا تھا۔۔۔
شیطان کی شاہی اور ظلم کی انتہا یہیں تک تھی اب انہیں راہِ راست سے بھٹکانے کی سزا دینی تھی۔۔۔۔
نیکوں کو آزمانے کی سزا دینی تھی۔۔۔۔
کمرے میں گُھپ اندھیرا تھا اور اچانک روشنی ہوئی ، اتنی تیز روشنی کہ آیت نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔۔
اسے ڈر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک انجانا سا احساس تھا جو اسے خوشی بخش رہا تھا۔۔۔۔
پھر اس روشنی سے مانوسیت ہوئی تو اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں تو سامنے وہی سفید پوش بیٹھے مسکرا رہے تھے۔۔۔
وہ بھاگ کر انکے پاس گئی اور قدموں میں گر گئی۔۔۔وہ بہت رو رہی تھی ہاتھ جوڑ کر اپنے ناکردہ گناہوں کی معافی طلب کر رہی تھی۔۔۔۔
باہر کا منظر اس قدر ہولناک ہو چکا تھا کہ وہ سب سر پر پیر رکھ کر بھاگے تھے۔۔۔
وہ قدم آگے کی طرف اٹھاتے مگر ہوا انہیں پیچھے دھکیل دیتی تھی۔۔گھبراہٹ سے وہ سب سانس لینا بھی بھول گئے تھے. . ۔۔۔
ایسا منظر ان میں سے پہلے کبھی کسی نے نہیں دیکھا تھا بجلی چمکتی تو ایسے کہ روشن سویرا ہو جاتا اور جب اندھیرا ہوتا تو کالی رات چھا جاتی ۔۔۔۔
میں نے تو تمہیں پہلے آگاہ کر دیا تھا مگر تم نادانی کی راہ پر تھی ۔۔۔مجھے حکم تھا تمہیں صراطِ مستقیم پر واپس لیکر آنے کا۔۔۔۔
میں پہلے یہ سب کر گزرتا مگر دنیا کے لوگوں کی حقیقت بھی دکھانی تھی۔۔۔۔
وه بول رہے تھے اتنا خوبصورت ، اتنا ٹھہرا ہوا لہجہ ، اتنا دھیما ، اتنا میٹھا لہجہ آیت نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔۔۔
بیٹا ، میرا رب تو وه ہے جو مشرق والوں کو دیکھتا ہے تو مغرب والوں کو نہیں بھولتا ۔۔۔
جو آسمانوں کا نظام چلاتے ہوئے سمندروں کا نظام چلانا نہیں بھولتا ۔۔۔
جو رات کے اندھیروں میں سجدہ کرنے والوں کو دیکھتا ہے تو برائی کی محفلوں سے غافل نہیں ہوتا ۔۔۔۔
جو ایسا معاف کرنے والا ہے کے سو سال کے گناہوں کو ایک پل میں معاف کر دیتا ہے اور پلٹ کر یہ بھی نہیں پوچھتا کے پلٹ کر تو نہیں کرو گے ۔۔۔۔؟؟
آیت سر جھکاٸے خاموشی سے ان کی گفتگو سن رہی تھی اوپر نظر اٹھانے کی اس میں طاقت نہیں تھی ۔۔۔۔
اس کے آنسو بھی اب تھم چکے تھے ۔۔۔۔
انکی باتوں سے اسے ڈهارس بندھ رہی تھی ۔۔۔۔پلٹ کر کوئی سوال کرنے کی بھی جرأت نہیں تھی ۔۔۔۔
مجھے خوشی ہے اس بات کی کے بنا کسی عیب کے راہِ راست پر لوٹ آئی ہو ۔۔۔
جاؤ ، چلی جاؤ ۔۔۔
جو چاہو پا لو۔ ۔۔۔
خوش رہو ۔۔۔۔
میرا ہاتھ ہمیشہ تمہارے سر پر رہے گا ۔۔۔۔
اور اچانک سے روشنی ہوٸی اتنی ہی تیز کے آیت کی آنکھیں خود با خود بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔
اور پھر وہی اندھیرا ہو گیا۔ ۔۔
اسے اپنے سر پر ابھی بھی وه پیار بھرا نرم و نازک لمس محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
پھر وه آہستہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف قدم بڑھاۓ
اب اسے گھر والے یاد آ رہے تھے اور وه پچھتا رہی تھی ۔۔۔
وه باہر کی جانب بھاگی ، جیسا موسم وه چھوڑ کر اندر گئی تھی باہر آنے پر وہی موسم پایا ۔۔۔
اس نے کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی کوئی تبدیلی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔
وه تو سزا تھی ان سب کیلئے جو صراطِ مستقیم پر چلنے والی کو بھٹکا رہے تھے ، ظلم کر رہے تھے۔۔۔۔
یہ انکے ظلم کا جواب تھا۔۔۔۔
وہ روڈ تک آئی تھی مگر آس پاس کچھ نہیں تھا وہ اتنے اندھیرے کی ہولناکی سے ڈر کر وہیں گری اور آس پاس سے بیگانہ ہو گئی۔۔۔۔
آیت کی ماں تم گھر چلی جاؤ ۔۔۔۔وه آ رہی ہے ۔۔۔وه میرے پاس ہی آۓ گی۔۔۔
میری بچی آ رہی ہے۔۔۔
وہ مسکرا کر کہہ رہے تھے۔۔۔ایسے جیسے انہیں کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔۔۔
کیا ہوا ہے؟؟
آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟؟
وہ اچانک سے انکو ہشاش بشاش دیکھ کر پریشان ہو گئیں تھیں۔۔۔۔
اب تو میں ٹھیک ہوں۔۔۔میری بچی آ رہی ہے۔۔۔
وہ بھٹک گئی تھی۔۔۔مجھے پتہ چل گیا تھا۔۔۔۔
لیکن وہ اسے واپس لے آۓ ہیں۔۔۔۔
اب وہ یہیں آۓ گی۔۔۔تم گھر بچوں کے پاس جاؤ وہ ڈر رہے ہونگے۔۔۔میرے لیے پریشان نہ ہونا۔۔۔
وہ یہ کہہ کر دوبارہ آنکھیں بند کر کے لیٹ گئے۔۔۔اور نورین بیگم تذبذب کا شکار ہوتیں ، اپنی آنکھیں صاف کرتی وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔۔۔۔
آیت۔۔۔۔۔۔
آیت ۔۔۔اٹھیں آنکھیں کھولیں
یہ اتنی ویران جگہ پہ اکیلی ۔۔۔؟؟؟
وه چہرے کے تنے نقوش لیے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔اسکا چہرہ تھپتھپا رہا تھا۔۔۔
مگر وہ دنیا جہان سے بیگانی لیٹی تھی۔۔۔۔
آیت آنکھیں کھولیں پلیز۔۔۔۔کیا ہو گیا ہے آپکو۔۔۔؟؟
سوری مجھے آپکو اکیلے چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔۔
وه بہت پریشان ہو گیا تھا ۔۔۔دفعتاً اس نے مخالف سمت دیکھا تو اسے دو گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔۔۔۔
وہ مشکل سے آیت کو بازوؤں میں سنبھالتا اپنی گاڑی تک لایا اور پچھلی سیٹ پر لٹا دیا۔۔۔
آیت کا حجاب برقرار تھا۔۔۔۔
یا اللّہ اس بیچاری پر اتنی آزمائش کیوں؟؟
اس نے آسمان کی طرف دیکھا پھر وہ ان گاڑیوں کی طرف بڑھا تو اسکا پاؤں کسی بھاری چیز سے ٹکرایا۔۔۔
اس نے موبائل کی ٹارچ آن کی اور نیچے دیکھا تو اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔۔
وہ ایک بے جان وجود کیچڑ میں لتھڑا ہوا پڑا تھا۔۔۔
وہ تھوڑا آگے ہوا تو ایک اور وجود۔۔۔
وہ آگے بڑھتا گیا اور اسے وجود نظر آتے گئے۔۔۔۔
انکی حالت ایسی تھی کہ وہ مشکل سے پہچان میں آ رہے تھے ۔۔۔سارے چہرے اس کیلئے شناسا تھے ۔۔۔۔
اور وه سب کیچڑ میں لتھڑے ہوۓ تھے۔۔۔۔سب کے چہرے لٹھے کی مانند سفید ہوۓ پڑے تھے اور موت بھی کسی خوفناک طوفان کی وجہ سے ہوئی لگتی تھی۔۔۔۔
حالانکہ آس پاس کہیں بھی کسی قسم کے طوفان کے آثار نہیں تھے ، نا آیت کو دیکھ کر ایسا کچھ لگتا تھا۔۔۔۔
وہ گھبرا کر اٹھا اور انکو ہاتھ لگاٸے بنا اپنی گاڑی تک آیا ۔۔۔۔
اور گاڑی زن سے بھگا لے گیا ۔۔۔۔اس کا دماغ بُری طرح الجھا ہوا تھا ۔۔۔ابھی کسی سوال کا جواب نہیں مل رہا تھا اور چاہیے بھی نہیں تھا کیوں کے آیت کی حالت ٹھیک نہیں تھی اور اسے ہاسپٹل لیکر جانا تھا۔۔۔۔
