264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 11)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

آج شاہ صاحب بہت پریشان تھے ۔۔انھیں بار بار آیت کا خیال آ رہا تھا ۔۔۔

آیت کی ماں ،،

آج کل آیت کچھ زیادہ دیر سے گھر آنے لگی ہے ۔۔۔اور اسکی عادتیں بھی پہلے جیسی نہیں رہی ۔۔۔

تم ماں ہو ، پوچھو اس سے ۔۔۔

وه تکیے کی ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور نورین بیگم ان کے ساتھ والی چارپائی پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی تھیں۔۔۔

ہاں پہلے ایک دو بار میں نے پوچھنے کی کوشش کی ہے مگر وہ بات ٹال جاتی ہے مگر اب ایسا نہیں ہو گا۔۔۔

وہ بھی آیت سے ناراض تھیں۔۔۔

دونوں کے چہرے اترے ہوۓ تھے۔۔۔بہت پریشانی تھی کہ جانے کس راستے چل پڑی ہے آیت۔۔۔

آیت شاہ اب وه آیت نہیں رہی تھی وه بہت بدل چکی تھی ۔۔۔ان کے گھر کا سکون ، سلوک ، محبّت سب ختم ہو رہا تھا ۔۔۔

پیسہ تھا ، کھانا پینا سب موجود تھا مگر کچھ تھا جو اندر ہی اندر سب کو کھاۓ جا رہا تھا۔۔۔

ایک دن ابو کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹر کو چیک بھی کروایا تھا پریشان بھی ہو گئی تھی۔۔۔

مگر خود اتنا دھیان نہیں دے پائی تھی کیونکہ اسکے پاس وقت ہوتا تو دھیان دیتی نہ۔۔۔

اس دن بشیر صاحب نے نورین بیگم سے کہا تھا کہ اس سے بات کرے۔۔۔

ہمیں حلال کھانے کی عادت ہے۔۔اگر اس میں ذرا سی بھی حرام کی ملاوٹ ہوئی تو ہمیں ایسی کمائی کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

وہ سب صبح شام پریشان رہتے تھے مگر وہ انکی پریشانی کو کوئی توجہ نہیں دے رہی تھی۔۔۔

آج رات جب وہ گیارا بجے واپس آئی تو نورین بیگم جاگ رہی تھیں۔۔۔

انہوں نے کھانا دینا چاہا مگر آیت نے انکار کر دیا۔۔۔

تو وہ اسکے بازو سے پکڑ کر اندر لے گئیں۔۔۔

آیت تم اس وقت کہاں سے آ رہی ہو؟؟

بلکہ روز ہی لیٹ آتی ہو اور یہ جھوٹ مت بولنا کہ بنک سے۔۔۔

کیونکہ ہم ان پڑھ ضرور ہیں مگر اتنے پاگل نہیں جتنا تم سمجھ رہی ہو؟؟؟

وہ چارپائی پر بیٹھ چکی تھیں مگر آیت برقعے سمیت کھڑی تھی۔۔۔

امی،، آپ شک کر رہی ہیں مجھ پر؟؟

اس نے معصوم بنتے ہوۓ کہا اور عبایا اتارنے لگی۔۔۔

اس کی آنکھوں سے جھوٹ جھلکنے لگتا تھا کیونکہ کبھی جھوٹ بولا نہیں تھا اس لیے وہ نظریں کم ملاتی تھی۔۔۔

نادان تھی ورنہ اس رشتے کی حقیقت کا اندازہ اسی بات سے لگا لیتی کہ جس سچ پر یا جس بات پر آنکھیں یا سر جھکانا پڑ جائے وہ کیسا سچ؟؟؟

ہم شک نہیں کر رہے تم ہمیں مجبور کر رہی ہو ۔۔۔؟؟

آدھی رات تک پہلے تم کبھی باہر نہیں رہی اور جب سے یہ نئی نوکری شروع کی ہے تب سے تمہاری یہی روٹین چل رہی ہے ۔۔۔

وه غصّے سے بول رہی تھیں اور وه لا جواب ہونے لگی تو موبائل نکال لیا ۔۔

یہ موبائل ہم لے بھی سکتے ہیں تم سے ۔۔۔اور گھر بھی بٹھا سکتے ہیں مگر ہمیں تم پہ یقین تھا اس لئے ایسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔

انہوں نے موبائل اسکے ہاتھ سے لیتےہوۓ کہا

آیت سمجھ گئی تھی کے آج بچنا مشکل ہے اس لئے غصّہ تھوک کر وه امی کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔

امی آپ غصہ نہ کریں نہ ۔۔۔

میں بتاتی ہوں آپ کو۔ ۔۔

وو۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔وہ نا

ایک لڑکا مجھ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔۔۔

وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔

وہ جھجھکتے ہوۓ بتا رہی تھی۔۔۔

نورین بیگم اسکی بات سن کر بہت حیران ہوئیں۔۔۔یہ آیت جو لڑکوں کے نام سے ہمیشہ چڑتی تھی۔۔۔

جو ہمیشہ ایسی لڑکیوں کو برا کہتی تھی اب خود ایسے۔۔؟؟

پھر بھی انہوں نے خود کو نارمل کیا ۔۔۔

تو وه ہم سے بات کرے ۔۔۔گھر والوں کو بھیجے یہاں ؟؟

تم اتنی دیر تک وہاں۔ ۔۔؟؟؟

ہاں وه پہلے اپنے گھر بات کرے گا پھر آپ لوگوں سے ۔۔۔۔

اس کی باتیں ختم نہیں ہوتی اس لئے ۔۔۔

11 بجے بھی میں زبردستی آتی ہوں۔ ۔۔

اب وه زیادہ ہلکا لے رہی تھی اس بات کو بھی ہنستے ہنستے کہہ دیا ۔۔۔۔

تڑاخ۔۔۔۔۔۔

امی نے پوری قوت سے تھپڑ اسکے منہ پر مارا

شرم نہیں آئی تمہیں مجھ سے ایسی بات کرتے ہوۓ۔۔؟؟

ایک نا محرم تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔۔؟؟

اور یہاں جو چار لوگ تمہارے لیے مر رہے ہیں انکا کیا۔۔۔؟؟

آیت تمہارے لیے کسی کی محبت اتنی طاقتور کیسے ہو گئی؟؟؟

انکی آواز بھرا گئی تھی۔۔۔

آیت تو حیرت سے گال پکڑے ماں کا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو گر رہے تھے۔۔۔

کچھ بھی ہو اسے اپنی ماں سے تھپڑ کی امید نہیں تھی حالانکہ اب جیسی اسکی حرکتیں تھیں اسے کسی بھی چیز کی امید رکھنی چاہیے تھی۔۔۔

سر سر

ایک بری خبر ہے ۔۔۔

ایک آدمی بھاگتا ہوا آفندی کے پاس آیا ۔۔۔

اسکا سانس پھولا ہوا تھا ۔۔۔

کک۔۔۔۔کیا ہوا؟؟

وہ بنچ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا اور ہڑ بڑا کر پوچھ رہا تھا۔۔

سر آپکے دوست صائم نے آپکو دھوکہ دیا ہے آپکی ساری پراپرٹی پر قبضہ کر لیا ہے ۔۔۔

اور جس آدمی کو آپ نے کام سونپا تھا اسکو دگنی رقم دے کر اس سے ہاتھ ملا لیا ہے اب وہ بہت جلد اس لڑکی پر بھی قبضہ کر لے گا۔۔۔

وہ تیزی سے تفصیل بتا رہا تھا اور ماتھے سے نکلتا پسینہ بھی بار بار صاف کر رہا تھا۔۔۔۔

جبکہ وہ بے یقینی سے اسکا منہ دیکھ رہا تھا اس کے کان سائیں سائیں کر رہے تھے ۔۔۔

یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟؟

اتنا گھٹیا مذاق کر رہے ہو ہمارے ساتھ۔۔؟؟

اس نے ہوش میں آتے ہی اس آدمی کا کالر پکڑ کر جھنجوڑنا شروع کر دیا تھا۔۔۔

پھر اسکی گرفت ڈھیلی ہوئی اور وہ لڑھک کر زمین پر دھڑام سے گرا۔۔۔

جب آپ کسی کے ساتھ برا کرتے ہیں تو آپ کے ساتھ بھی ویسا ہوتا ہے۔۔۔

کیونکہ ” مکافات عمل ” کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔۔۔

تھوڑی دیر دونوں کے درمیان خاموشی اور آنسوؤں کے ذریعے گفتگو ہوئی پھر نورین بیگم نے پوچھا

کون ہے وہ؟؟

کیا کرتا ہے؟؟

اور سب سے اہم بات کس قوم سے تعلق رکھتا ہے؟؟

وہ کھڑی تھیں۔۔

اور آیت کی آنکھوں میں دیکھ کر پوچھ رہی تھیں۔۔

میں جس بنک میں کام کرتی ہوں اسکا مالک ہے وہ۔۔

او۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔

وو۔۔۔۔وہ را۔۔۔۔۔۔راجپوت ہے۔۔۔۔

آیت نے نظریں جھکاۓ ہکلاتے ہوۓ بتایا

اسکا یہ کہنا تھا کہ امی چارپائی پر گر گئیں تھیں۔۔۔

انہیں لگا انکی روح پر کسی نے تھپڑ رسید کیا ہو۔۔۔

اتنا گھٹیا مذاق بھی تقدیر انکے ساتھ کر سکتی ہے یہ کسی نے نہیں سوچا تھا۔۔۔

امی، امی. کیا ہوا؟؟

وہ بھاگ کر آگے ہوئی تھی اور نیچے امی کے گھٹنوں میں بیٹھی تھی۔۔۔

دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔۔۔

ہاتھ مت لگانا مجھے۔۔۔۔

انہوں نے روتے ہوۓ غصے سے اسکو دور دھکا دیا

امی پلیز میری۔۔۔۔۔۔۔

وہ بھی رونے لگی تھی ، دوبارہ منت کرنے لگی تھی مگر امی نے جھڑک کر اسکی بات کاٹ دی۔۔

امی مت کہو مجھے اور مزید مجھے اس بارے میں کوئی بات مت کرنا۔۔۔

آئی سمجھ؟؟

آیت تمہیں کیا ہو گیا ہے؟؟

کیوں یہ سب کر رہی ہو تمہیں خود سمجھ نہیں آ رہی کہ تم کس خاندان سے تعلق رکھتی ہو؟؟

سید زاد ہو تم، کتنی عزت ہے تمہارے باپ کی اس سماج میں۔۔۔

اور تم ایک غیر سید ، ایک نا محرم کے لیے سب ختم کر دینا چاہتی ہو۔۔؟؟

وہ روتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھیں۔۔۔انکا دماغ یہ ماننے کو تیار نہیں تھا کہ آیت اتنی سلجھی ہوئی لڑکی یہ سب کیوں کر رہی ہے۔۔؟؟

امی سید غیر سید معنی نہیں رکھتا۔۔۔

ہے تو وہ انسان ہی اور وہ بھی مسلمان۔۔۔

گھر کاروبار سب اچھا ہے۔۔۔میں ساری عمر کتنی خوش رہوں گی یہ آپ کیوں نہیں دیکھ رہیں۔۔۔؟؟

یہ تو وہ جانتی تھیں کہ آیت دلائل دینے میں کتنی آگے ہے مگر فی الوقت سب بے کار تھے۔۔۔

میں دیکھ رہی ہوں کہ کس طرح دولت کی اور ایک نا محرم کی محبت کی پٹی تمہاری آنکھوں پر بندھی ہے۔۔

نہ کرو یہ سب ورنہ بہت پچھتاؤ گی ۔۔۔

کبھی خوش نہیں رہو گی ۔۔۔

وه یہ کہتی اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔

آیت ان کو آوازیں دیتی رہی مگر انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے نا کے انسان جانے یا انجانے میں اس راستے کی طرف چل پڑتا ہے جہاں تباہی و بربادی اسکا انتظار کر رہی ہوتی ہے پھر کوئی لاکھ پکارنے کی کوشش کرے ہم اسکی ایک نہیں سنتے ۔۔۔

آیت بیٹا کہاں جا رہی ہو ؟؟

آگے راستہ نہیں ہے واپس آ جاؤ ۔۔۔

وه ایک خوبصورت راستے پر کسی کے ساتھ ہنستی باتیں کرتی چلتی جا رہی تھی ۔۔۔

جب ایک بابا مکمل سفید لباس ، سفید داڑھی اور ہاتھ میں تسبیح لئے کھڑا تھا اور اسے آوازیں لگا رہا تھا ۔۔۔

آیت اسکی طرف دیکھ ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔وه راستہ بہت خوبصورت تھا ہر طرف پھول ہی پھول تھے ۔۔۔۔

سبزہ ، تتلياں ، پانی کا شور ، خوبصورتی ، خوشبو

نیز ہر خوبصورت ، زندگی سے بھرپور چیز وہاں موجود تھی پھر کیوں بابا اسے بلا رہے تھے۔۔۔

آیت میری بات مان لو ، آگے مت جاؤ ۔۔۔

واپس آ جاؤ ۔۔۔

بابا نے پھر کہا

وه پلٹی ایک غصیلی نگاہ اس پر ڈالتی پھر سے منہ پھیر گئی۔۔۔

پھر سے ہنسی میں ، باتوں میں مصروف ہو گئی وه ساتھ چلتے نفوس کی طرف دیکھ رہی تھی اس لئے آگے نہیں دیکھ پائی ۔۔۔جب کے وه سامنے دیکھ رہا تھا مگر جو کچھ سامنے تھا وه آیت کو نہیں بتا رہا تھا ۔۔۔

اور پھر آگے راستہ ختم ہو گیا ایک کھائی تھی ۔۔

گہری کھائی ۔۔۔

دوسرے نفوس نے قدم روک لئے ۔۔۔آیت نے قدم اٹھا لیا اور جب اس نے سامنے دیکھا تو اسکا پاؤں پھسل گیا ۔۔۔

اس نے خود کو سمبھالنے کی کوشش کی مگر وہ پھسلتی چلی گئی۔۔۔

وہ گہری کھائی ، اندھیرے میں جا رہی تھی۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی تھی۔۔۔اس نے ادھر ادھر دیکھا سب سو رہے تھے۔۔۔

فجر کا وقت ہونے والا تھا وہ پسینے میں بھیگ چکی تھی۔۔۔حلق خشک کانٹا بن چکا تھا۔۔۔

اور جسم ایسے کہ نچوڑو تو خون کا قطرہ نہیں۔۔۔

وه ڈرتی گهبراتی پانی پی کر دوبارہ سو گئی مگر اس خواب نے اسے دوبارہ سونے نہیں دیا۔ ۔۔۔

یار تم ابھی تک کیا کر رہے ہو ؟؟

دو مہینے ہونے والے ہیں اور تم ابھی تک ایک لڑکی کو قابو نہیں کر پاۓ۔۔۔

صاٸم نے اسے کہا

دو مہینے میں جتنا میں کر چکا ہوں۔۔۔اتنا تو تم لوگ دو سالوں میں بھی نہیں کر پاۓ۔۔۔

ایک تو وہ بے وقوف بہت ہے اپنی ماں سے اس بارے میں بات بھی کر چکی ہے اور اب مجھے ذلیل کر رہی ہے۔۔۔

وہ نخوت سے بول رہا تھا۔۔۔۔

تو بس جلدی سے اسکا کام مکمل کر کے میرے حوالے کر ۔۔۔

پتہ نہیں اس میں ایسا کیا ہے کہ اور کسی پہ دل نہیں آ رہا۔۔۔

صائم بھی خباثت سے بولا

اسکا یار جو اس کے لیے اسد کے خلاف کیس لڑ رہا تھا وہ تو کہیں باہر نکل گیا ہے اس لیے بھی تمہارے لیے آسان ہو جائے گا یہ کام کرنا۔۔۔

صائم نے سجاول کو صلاح دی تو اس نے کچھ سوچتے ہوۓ اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔

اور تمہاری خبر اب تک تو اسد تک پہنچ گئی ہو گی۔۔۔

سجاول نے اس سے پوچھا

ہاں تو پہنچنے دو۔۔کیا کر لیگا۔۔۔اسی سے تو سارے پیپرز سائن کروائے ہیں میں نے اور اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔۔۔

صائم نے کرسی سے اٹھ کر ادھر اھر ٹہلتے ہوۓ کہا اور پھر دونوں قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔۔۔