264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 3)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

معمول کے مطابق سلام دعا کے بعد امی ابو کے گلے مل کے پیار لیا اور سامان رکھنے اندر چلی گئی ۔۔اس کے امی ابو اور ثانیہ (آیت کی چھوٹی بہن ) بھی پریشان ہو چکے تھے ۔۔

وہ عبایا اتار کر باہر آئی آج بھی موسم میں خنکی سی تھی ، شام کا وقت ہو رہا تھا اور پریشانی کی وجہ سے اسے ذرا زیادہ ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔۔اس لیے اپنی بڑی شال لے لی تھی اس نے۔۔

اسکی آنکھیں ، چہرہ بہت اداس سا دِکھ رہا تھا ۔۔ثانیہ نے اسے پانی کا گلاس دیا جسے اس نے خاموشی کے ساتھ پی لیا۔۔

ابو آپکی طبیعت ٹھیک ہے؟؟

پانی پینے کے بعد تھوڑا گلا صاف ہوا تو اس نے خود کو نارمل کرنے کی پہلی کوشش کی

ہاں ابو کی جان۔۔۔میری طبیعت ٹھیک ہے۔۔

تم کیوں پریشان ہو؟؟

انہوں نے نہایت فکر مندی سے پوچھا

ابو۔۔۔وو۔۔۔وہ۔۔۔

تنخواہ نہیں ملی آج۔۔سر جلدی چلے گئے اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔۔۔

لیکن میں بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوں جیسے بات ہو گی وہ گھر پہنچا دیں گے۔۔

اس نے پریشانی کی وجہ بتائی۔۔۔پھر ان سے زیادہ وہ خود کو تسلی دے رہی تھی۔۔

سب گھر والے واقعتاً پریشان ہو چکے تھے۔۔کیونکہ گھر میں ایک سودا بھی نہیں تھا۔۔

اچھا تم پریشان نہ ہو ۔۔اللہ تعالیٰ مدد کریں گے۔۔وہ مسبب الاسباب ہے۔۔کوئی نہ کوئی راستہ دکھائیں گے۔۔

شاہ صاحب نے سب کو تسلی دی اور نورین بیگم اٹھ کر وضو کرنے چلی گئیں۔۔

آیت نے نمبر ڈائل کر کے موبائل کان سے لگایا تو اس بار کال ریسیو کر لی گئی اور وہ سائڈ پہ ہو کر بات کرنے لگی۔۔

سوری سر آپکو ڈسٹرب کر رہی ہوں مجھے پیسے ضرورت تھے اگر آپ تنخواہ بھجوا سکتے ہیں تو۔۔

آپکو پتہ ہیں میرے حالات۔۔

آیت نے درخواست کی

ہممم۔۔آپکو بھی تو میری حالت پتہ ہے۔۔مجھے بھی آپکی اشد ضرورت ہے۔۔

ضرورت مند تو دونوں ہیں اگر ایکدوسرے کے کام آ جائیں تو اس میں کیا برائی ہے؟؟

اس نے گھٹیا زبان سے گھٹیا الفاظ ہی نکالے۔۔

آیت کو شدید غصہ آیا مگر اگلے ہی لمحے خود پر قابو پا کر بولی

دیکھیں سر میں نے کام کیا ہے اور اسی کا معاوضہ مانگ رہی ہوں کوئی بھیک نہیں مانگ رہی۔۔

میری مجبوری ہے پلیز بات کو سمجھیں۔۔۔

وہ بے بسی سے بول رہی تھی۔۔

اسے لگ رہا تھا کہ وہ ذمہ داری پوری نہیں کر پا رہی۔۔

آج پہلی بار گھر والے میری وجہ سے بھوکے؟؟

نہیں ، نہیں ایسا نئی ہو گا۔۔

وہ خود ہی سوچ کے اپنی سوچ کو جھٹلا رہی تھی.

میں تو بھیک مانگ رہا ہوں آپکے ساتھ کی۔۔آپ وہ بھی نہیں دے رہیں۔۔

وہ اپنی عمر کا لحاظ کیے بنا بول رہا تھا جو ہمیشہ سے وہ سن رہی تھی۔کیونکہ کئی بار کوشش کے باوجود کہیں اور کام نہ ملنے کی وجہ سے وہ مجبوراً وہیں کام کر رہی تھی۔۔

اس سے مزید بکواس برداشت نہیں ہوئی تو تُھو کر کے کال کاٹ دی۔۔

بے بسی کی شدت سے اسکی آنکھوں سے آنسو نکل کر گالوں پر پھسل گئے۔۔

فوراً ہی اسکی گال ، ناک اور آنکھیں لال سرخ ہو گئی تھیں۔۔اس نے خاموشی سے آنسو بہاتے ہوۓ آسمان کی جانب دیکھا اور آنکھیں رگڑ ڈالیں۔۔۔

شام گزر رہی تھی۔۔سب لوگ خاموشی سے گفتگو کر رہے تھے۔۔گھر کا ماحول سو گوار سا تھا کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب کریں تو کیا۔۔صرف اللّہ سے دعا کی جا سکتی تھی اور ایسا ہو سکتا ہے کہ اسے پکارا جاۓ اور وہ جواب نہ دے۔۔

آج ایک پرانی بات یاد آ رہی ہے مجھے۔۔

شاہ صاحب نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ اونچی آواز میں کہا تو سب انکی طرف متوجہ ہو گئے۔۔

ایک بار کسی سنسان علاقے میں کچھ مزدور کام کر رہے تھے اور انہیں کام کرتے کرتے رات کے گیارہ بج گئے۔۔

علاقہ سنسان تھا کہیں آس پاس کوئی ہوٹل نہیں تھا جب وہ فارغ ہوۓ تو ظاہر ہے بھوک بھی لگ رہی تھی۔

اب وہ سوچیں کہ کھانا کہاں سے کھائیں پھر ایک نے کہا بس ایسے ہی سو جاتے ہیں ۔۔صبح کھا لیں گے۔۔

ایک نے کہا مجھے تو بھوک بھی بہت لگی ہے اور میرا ایمان بھی ہے کہ اس نے وعدہ کیا ہے بھوکا اٹھاؤں گا ضرور مگر سلاؤں گا نہیں۔۔

تو اب دیکھو۔۔

تھوڑی دیر وہ خاموشی سے بیٹھے رہے کہ اُدھر سے کسی نے آواز لگائی۔۔

چند لوگ گاڑیوں میں ان تک آوازیں لگاتے ہوۓ آۓ

کہ اے مزدورو ، کھانا لے لو۔۔

وہ سب ہنسی خوشی وہاں پہنچے تو انہوں نے بریانی ، قورمے اور حلوے کے پتیلے بھر بھر کر دیے۔۔

جانے کون لوگ تھے ۔۔؟؟

کیوں آۓ تھے۔۔؟؟

کہاں سے آۓ تھے ؟؟؟

کچھ پتہ نہیں بس ان کا رزق پہنچا گئے تھے۔۔اور یہ حقیقت ہے۔۔

یہ بات بتاتے ہوۓ انکی خود کی آنکھوں میں آنسو تھے اور باقی سب کی بھی۔۔

وہ مسکراۓ تھے۔۔آنکھیں صاف کی تھیں اور دروازہ بجنے کی آواز آئی۔۔

شایان بیٹا جاؤ دروازہ کھولو۔۔

دیکھو کون ہے۔۔؟؟

شاہ صاحب نے بیٹے سے کہا جسکی عمر دس سال ہے ۔۔

وہ چپ چاپ اٹھ کر چلا گیا ساتھ نورین بیگم بھی دروازے تک گئیں کیونکہ رات کا وقت تھا اور وہ معصوم بچہ۔۔

تھوڑی دیر بعد وہ لوگ کھانے کے ایک بڑے سے تھال کے ساتھ واپس آۓ جس میں روٹیاں ، سالن ،پھل وغیرہ بھی تھے۔۔

سب نے حیران ہو کر دیکھا

یہ سب کہاں سے آیا؟؟

آیت نے حیرانگی سے پوچھا

محلے میں کسی نے قرآن پاک کا ختم دلایا ہے تو انہوں نے بھجوایا ہے۔۔

نورین بیگم کی تشکر سے آنکھیں نم تھیں۔۔

ان سب نے بیک وقت بھیگی پلکوں سے آسمان کی طرف دیکھا۔۔

یہ شان ہے میرے رب کی کہ وہ کبھی اپنی مخلوق کو بھوکا نہیں سُلاتا۔۔

وہ رازق ہے۔۔اس نے رزق دینے کا “وعدہ” کیا ہے۔۔

پھر جب وہ وعدہ خلافی کو پسند نہیں کرتا تو خود وعدہ خلافی کیسے کر سکتا ہے؟؟

اس دن ان سب نے پہلے سے بھی زیادہ سیر ہو کر کھانا کھایا۔۔اور شکرانے کے نوافل بھی ادا کیے۔۔

May i come in sir

آیت نے آفس کے دروازے سے جھانکتے پوچھا

Yes please please

آپکو اجازت لینے کی کیا ضرورت ہے؟؟

انہوں نے کرسی کی بیک سے ٹیک لگاتے ہوۓ کمینی مسکان سے کہا

وہ چپ چاپ اندر آ گئی ۔

Please sit

مسٹر اسد نے کرسی کی جانب اشارہ کر کے کہا تو وہ کرسی پر بیٹھ گئی۔۔

سر آپ نے بلایا؟؟

تھوڑی دیر بعد آیت نے خود ہی سلسلہ کلام جوڑا

جی میں نے بلایا۔۔آپ خود تو آتی نہیں پھر ہم نے دیدار بھی تو کرنا ہوتا ہے۔۔

باقی سیکٹریز تو باس کے روم سے نہیں نکلتیں۔۔وہ انکی ہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آیت نے برہمی سے انکی بات کاٹی

میں ان لڑکیوں کے جیسی نہیں ہوں۔۔اور میرے خیال سے اب تک آپکو یہ بات سمجھ جانی چاہیے تھی۔۔

اس نے آفندی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نڈر لہجے میں کہا

یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ سب سے الگ ہیں۔۔

خیر آج آپکو اس لیے نہیں بلایا۔۔یہ باتیں تو خود با خود آپکو دیکھ کر منہ سے نکل جاتی ہیں۔۔۔

سب سے پہلے یہ سب کی تنخواہوں کے پیسے۔۔

کسی کے اکاؤنٹ میں بھجوانے ہوں تو بھجوا دیں نہیں تو ہاتھ میں دے دیں۔۔۔

اس نے ایک لفافہ آیت کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا

جسے اس نے چھیننے کے انداز سے لیا تا کہ ہاتھ مس نہ ہوں۔۔اور جانے کی لیے اٹھ گٸی

اور ایک بات آج یہاں آفس میں آپ کے لیے ایک تقریب رکھی ہے۔۔

مسٹر اسد نے مسکراتے ہوۓ کہا

کیا مطلب؟؟

وہ جاتے جاتے پلٹی

آپ بہت اچھا کام کرتی ہیں پوری ایمانداری کے ساتھ تو اس لیے آپ کے لیے ایوارڈ فنکشن رکھا ہے۔۔۔

جو ہم ہر سال کسی اچھے ایمپلائی کے لیے رکھتے ہیں۔۔۔

آپکی وجہ سے کسی باہر والے کو تو نہیں بلایا اور نہ کسی ہوٹل میں انتظام کیا تا کہ آپ ان کمفرٹ ایبل نہ رہیں۔۔

ابھی تنخواہیں تقسیم کرنے کے بعد آپ چلی جائیں پھر شام کو آجائیں۔۔

انہوں نے بڑی سنجیدگی سے تفصیل بتائی تا کہ وہ شک نہ کر سکے ۔۔

اور وه واقع شک نہ کر سکی بڑی توجہ سے اس نے اسد صاحب کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کی مگر وہاں سنجیدگی کے سوا کچھ نہ تھا ۔۔۔

وه اوکے کہتی باہر نکل گئی اور پیچھے اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی ۔۔

اب آیا اونٹ پہاڑ کے نیچے ۔۔۔۔