Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 13)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 13)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
آ۔۔۔۔ آی ۔۔۔۔۔۔۔ ت کی ماں
آی ۔۔۔۔ ت کی ماں۔۔۔
بشیر شاہ اٹکتے ہوئے آوازیں دے رہے تھے۔۔
کیا ہوا؟؟؟
وہ چلاتے ہوئے بھاگنے کے سے انداز میں آئی
ہاۓ میرے اللّہ۔۔۔
کیا ہوگیا؟؟ وہ انکی حالت دیکھ کر دل تھام کر رہ گٸی تھیں۔۔۔
وہ چارپائی پر دوہرے ہو رہے تھے شاید انہیں کہیں درد تھا جو ان کی برداشت سے باہر تھا۔۔۔
ثانیہ ،،
ثانیہ جلدی سے کسی کو بلاؤ ، ایمبولینس کو کال کرو
نورین بیگم نے بیٹی کو آواز لگائی
شایان تو باپ کی یہ حالت دیکھ کر رونا شروع ہو گیا تھا۔۔
اس نے سب سے پہلے ایمبولینس کو کال کی۔۔ شاہ صاحب بالکل دم سادھے لیٹے تھے وہ اتنی آہستہ سانس لے رہے تھے جیسے ابھی رک جائے گی۔۔۔
سب پریشان ہو گۓ تھے۔۔۔ ثانیہ نے آیت کا نمبر ملایا مگر وہ بند تھا اس نے کئی بار کوشش کی مگر جواب ندارد۔۔۔
تقریبا پندرہ منٹ بعد ایمبولینس آ گٸی۔۔۔
انہوں نے ریسکیو والوں کو اند ہی بلا لیا تھا کیونکہ وہ نیم بےہوشی کی حالت میں تھے تو عورتیں کہاں سمنبھال سکتی تھیں۔۔
دونوں بچے گھر تھے کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ آیت ابھی آ جاۓ گی۔۔۔
نورین بیگم شاہ صاحب کے ساتھ تھیں۔۔۔
السلام علیکم ! بیٹا آیت آپ ٹھیک ہیں ؟؟؟
وہ آفس میں بیٹھی سست روی سے لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہی تھی۔۔
چہرے پہ سنجیدہ تاثرات تھے۔۔بغیر کسی وجہ کے اس نے اپنا موبائل بند کر رکھا تھا پروفیسر نے اسکے آفس کے نمبر پر کال کی تھی۔۔
اسے نہ چاہتے ہوئے رسیو کرنا پڑی ۔۔
الحمدللّہ ، آپ کیسے ہیں؟؟
اس نے بے رخی سے پوچھا ابھی اسکا دل بری طرح اچاٹ تھا ۔۔۔
میں بھی ٹھیک ہوں۔۔۔ اللّہ کا کرم ہے ۔۔
رات ایسے خواب آیا مجھے جس میں کہا کسی نے کہ مجھے آپ سے بات کرنی چاہیے۔۔۔
انہوں نے اپنے خواب کے بارے میں بتایا ۔۔۔
آیت آپ میری بیٹی جیسی نہیں ، میری بیٹی ہیں اور آپ ہمیشہ مجھ سے کچھ نہ کچھ ڈسکس کرتی رہتی ہیں اس لیے میں باقیوں کی نسبت آپ کو اچھے سے جانتا ہوں۔۔۔۔۔
وہ لمبی چوڑی تمہید باندھ رہے تھے اور آیت چڑ رہی تھی۔۔
جی سر ۔۔
اس نے بس اتنا ہی کہا
میرے پاس کوئی ٹاپک تو نہیں اور نہ آپ کا کوئی سوال ہے اس دن آپ نے ایک سوال پوچھا تھا اسی کا جواب دے دیتا ہوں آپ نے کہا تھا ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ سامنے والا ہمیں دھوکا دے رہا ہے۔۔۔
تو بیٹا یہ دنیا ایک فریب ہے اور یہ ہر انسان کو فریب دیتی ہے چاہے کوئی کتنا کامل کیوں نہ ہو۔۔
کوئی اس کے فریب میں پوری طرح پھنس جاتا ہے اور کوئی بچ نکلتا ہے۔۔
اور جو بچ نکلتا ہے وہ ہوتا ہے
” مقدر کا سکندر“
اور ایک بات جو اولاد ہوتی ہے اس پر سب سے پہلا حق والدین کا ہوتا ہے وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں بچوں کے لیے وہی بہترین ہوتا ہے ۔۔
وہ بلاوجہ اس بات پر سمجھا رہے تھے جس پر ابھی سمجھانا ضروری تھا۔۔۔
لیکن سر اولاد کی خوشی کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی تو کوئی فیصلہ کرنا چاہیے نا؟؟
آیت کو آج پہلی مرتبہ ان کی باتیں بور کر رہی تھیں۔۔
تو ایسا کب ہوا ہے کہ ماں باپ اپنا مفاد پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرتے ہیں ؟؟؟
میں مفاد نہیں خوشی کی بات کر رہی ہوں۔۔
آیت نے پھر کہا
بیٹا یہ اولاد کا نفع ہوتا ہے کہ ان کی مستقل خوشی کے لیے عارضی خوشیوں کو قربان کر دیا جائے ۔۔
ہر چیز کی سمجھ تجربے سے آتی ہے اور جس عمر میں آپ ہیں نا اس میں تجربہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔
سنار کو جتنی پرکھ ہوتی ہے اصلی نقلی سونے کی ،، اتنی عام انسان کو تو نہیں ہوتی۔۔۔
انہوں نے بہت پیار سے سمجھایا
آج ان کو آیت پر حیرانی ہو رہی تھی آج تک اس نے ایسی کسی بھی بات پر بحث نہیں کی تھی۔۔
ایک اور بات جب پاؤں پھسلتا ہے بیٹا تو انسان کو اسے قابو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ، کیچڑ سے خود کو بچانا چاہیے نہ کے کیچڑ کے رحم و کرم پر سب کچھ چھوڑ کر بیٹھ جانا چاہیے۔۔۔
جتنی آپ سمجھدار ہیں اس اعتبار سے اتنی باتیں کافی ہونگی آپ کو سمجھانے کے لیے۔۔۔
آخر میں انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا
جی سر تھینک یو ۔۔۔
اس نے بھی مصنوعی مسکان سے کہا اور کال کاٹ دی۔۔۔
اس کے دل کو کچھ ہو رہا تھا بے چینی سی تھی جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہے۔۔۔
بلا وجہ اسے غصہ آ رہا تھا شاید وہ امڈ آنے والی خواہشوں پر پل باندھنے کی کوشش کر رہی تھی جو وہ نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔
آپی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے آیت آپی کو بلائیں۔۔۔
شایان نے روتے ہوئے کہا
وہ دونوں ایک دوسرے کو چپک کر بیٹھے تھے اندھیرا ہو گیا تھا نورین بیگم کا موبائل گھر تھا وہ لوگ ایک دوسرے سے بھی بات چیت نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ نہ کھانے کا پتہ تھا کسی کو اچانک سے مصیبت آ گئی تھی جس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا تھا ۔۔۔
شان آپی کا نمبر بند ہے میں کیسے بلاؤں انکو؟؟
اس کی بھی آواز بھرائی ہوئی تھی وہ کوئی سینکڑوں مرتبہ اس کا نمبر ملا چکی تھی مگر وہ مسلسل بند تھا۔۔۔بے یارو مدد گار وہ دونوں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔
کتنی خوبصورت جگہ ہے نا یہ ایسا لگ رہا ہے کہ جنت میں ہیں ہم لوگ۔۔۔
شاہ صاحب اپنے قدموں پر سب سے آگے چل رہے تھے
ہاں واقع بہت حسین نظارہ ہے۔۔۔ ایسا پہلے تو کبھی نہیں دیکھا
نورین بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا
وہ سب لوگ ایک خوبصورت ، پھولوں پھلوں سے لدے جنگل میں سے گزر رہے تھے ہلکی ٹھنڈی ہوا ،، سوندھی خوشبو ،، ہلکی بارش کی پھوار ،، پرندوں کی چہچہاٹ روح کو بہت بھلی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
وہ واقع جنت کا کوئی گوشہ لگ رہا تھا۔۔۔ چلتے چلتے اچانک بشیر صاحب رکے۔۔
آیت ،
آیت ،، آیت کہاں ہے؟؟
انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سبھی پیچھے مڑے مگر وہاں آیت نہیں تھی۔۔۔
آیت کہاں ہے؟؟؟
انہوں نے پریشانی سے چلاتے ہوئے کہا
سب ہی پریشان ہو چکے تھے کہ اچانک ان کی نظر سامنے گئی اس سر سبز جنگل سے بہت دور ایک ویران جنگل کی طرف جہاں اس جنگل جیسا کچھ نہیں تھا۔۔
سامنے آیت کھڑی تھی۔۔۔ آنکھیں ذرا ایسی تھیں جیسے وہ اداس ہے ،، رو رہی ہے۔۔۔
شاہ صاحب کا اس کو ایسے دیکھ کر کلیجہ کٹ رہا تھا وہ آگے جانا چاہتے تھے آیت کو واپس بلانا چاہتے تھے مگر کوئی چیز تھی جس نے آیت کو کھینچنا شروع کیا۔۔۔
یہ لوگ بلاتے رہ گئے مگر وہ وہیں ویرانے میں غائب ہو چکی تھی۔۔۔۔
آیتتتتتت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاہ صاحب ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھے تھے نورین بیگم نے فوراً کھڑے ہو کر ان کے بازو سے پکڑ لیا
کہاں ہے وہ ؟؟
کوئی تو بچا لو اسے۔۔۔
وہ رو رہے تھے ،، ہاتھ جوڑ رہے تھے کہ میری بچی کو بچا لو نورین بیگم کے بھی آنسو جاری ہوگئے تھے۔۔۔ وہ اپنے تینوں بچوں کی وجہ سے پریشان تھی دو گھر پر بھی تو اکیلے تھے۔۔۔اور اب شاہ صاحب کی یہ حالت تھی۔۔
سسٹر نے آکر دوبارہ ان کو سکون کا انجکشن لگا دیا اور وہ پھر سو گئے۔۔
یہ آیت کی وجہ سے پریشان ہیں وہ جو کوئی بھی ہیں انہیں بلائیں۔۔۔ وہ آئیں گی تو ہی یہ ریلیکس ہونگے ۔۔۔
ڈاکٹر انکو ہدایت کرتا یہ جا وہ جا۔۔۔
اور وہ سوچتی رہی کہ آیت آٸی بھی ہوگی یا نہیں۔۔۔
تم یہیں گاڑی میں بیٹھو ، میں بیکری سی مٹھائی لے کر آتا ہوں۔۔۔
سجاول آیت کو گاڑی میں بٹھا کر باہر نکلا۔۔ ۔
رات ہو رہی تھی ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔
سردیوں کی راتیں تھی تو کوئی اِکا دُکا دکانیں کھلی تھیں۔۔۔ کیونکہ وہ لوگ مارکیٹ والی سائیڈ سے کافی دور تھے۔۔۔
وہاں دور ایک ریڑھی پر قرآن پاک کی تلاوت چل رہی تھی جس کا ترجمہ کچھ یوں تھا ۔۔۔۔
” یقیناً یہ قرآن وہ راستہ دکھاتاہے جو بہت ہی سیدھا ہے اور ایمان والوں کو جو نیک اعمال کرتے ہیں اس بات کی خوشخبری دیتا ہے کہ ان کیلیے بہت بڑا اجرہے ۔۔۔ “ (بنی اسراٸیل 9)
آیت نے بے اختیار اُدھر دیکھا تو اسے وہی خواب والا سفید پوش ، سفید داڑھی والا بابا نظر آیا
اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہاتھ جوڑ رہا ہو آیت کے سامنے اور سر داٸیں باٸیں ہلا کر منع کر رہا ہو۔۔۔
اس نے فوراً سے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔ اس کا پورا وجود لرزنے لگا تھا آنکھوں سے سیلاب جاری ہوگیا تھا۔۔
جانے یہ سب کچھ کس وجہ سے ہو رہا تھا؟؟
شاید وہ اس کا ضمیر تھا جو بار بار اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا یا پھر اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی اللّہ اسے راہ راست کی دعوت دے رہا تھا لیکن ہم انسان ناقص العقل اور ناقص العلم ہیں ہمیں جب تک ٹہوکر نہیں لگتی ہماری آنکھ نہیں کھلتی۔۔۔۔
اسے بار بار قرآن کی آیت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفید پوش بابا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پروفیسر کی باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سب ایک ساتھ یاد آ رہا تھا اور وہ بری طرح الجھ رہی تھی۔۔۔۔
