264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 16)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

کیا ہوا آیت ؟؟

پریشان کیوں ہو اور ڈاکومینٹس بھی نکالے ہوئے ہیں ؟؟؟

شاہ صاحب کافی دیر سے اسے کاغذ كهنگالتے ہوئے دیکھ رہے تھے بلآخر پوچھ لیا

جی ابو ۔۔۔۔بس ویسے ۔۔۔۔

اسکا منہ لٹکا ہوا تھا

بتاؤ بیٹا کوئی بات ہے تو ۔۔۔؟؟؟

انہوں نے دوبارہ پوچھا

آیت کی شکل دیکھ کر لگتا تھا کے وه بہت پریشان ہے ۔۔۔

ابو وه ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وه نا ۔۔۔۔۔۔۔

جلدی بتاؤ آیت ۔۔۔میرا تو دل بیٹھا جا رہا ہے ۔۔۔۔

نورین بیگم نے پریشان ہوتے ہوۓ پوچھا

میری بہت بڑی جاب لگ گئی ہے ۔۔۔۔

اس نے جان بوجھ کے بہت ہی نارمل انداز میں بتایا

اچھا نوکری لگ گئی ہے ۔۔۔۔

امی نے بھی منہ میں دوہرايا

جی ہاں نوکری لگ گئی ہے ۔۔۔۔

آیت نے اب کی بار جوش سے چِلا کر بتایا

امی نے خوش گوار حیرت سے منہ کھولا اور منہ پہ ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔انکے انگ انگ سے خوشی کی رمک پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔

ماشاءاللّه میرا بیٹا ۔۔۔۔

ابو نے خوش ہوتے ہوئے بازو کھولے اور آیت انکے گلے لگ گئی ۔۔۔۔

تینوں کی آنکھیں آبدیدہ ہو گئی تھیں۔۔۔۔امی نے پیچھے سے آیت کو گلے لگایا تھا کسی میں بھی بولنے کی طاقت نہیں تھی۔۔۔

انکےلیے بہت بڑی خوشخبری تھی ۔۔۔

اور انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کے اتنی بری خوشی کو کیسے سمیٹیں۔۔۔۔

اچھا یہ تو بتاؤ کہاں لگی نوکری ؟؟

شاہ صاحب نے پوچھا تو وه سیدھی ہو کے ان کے ساتھ بیٹھ گئی ۔۔۔

جس يونی سے میں نے ماسٹرز کیا ہے نہ اسی میں پروفیسر ہیں ۔۔۔۔انہوں نے مجھے کہا کے میں ان کی سیٹ پہ بیٹھوں ۔۔۔وه ریسٹ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی سیٹ پہ کسی اپنے جیسے کو بِٹهانا چاہتے ہیں اس لئے مجھے آفر کی اور میں نے قبول کر لی ۔۔۔

وه خوشی سے تفصیل بتا رہی تھی ۔۔۔

اچھا اللّه بھلا کرے اس آدمی کا ۔۔۔اللّه خوش رکھے انھیں ۔۔۔۔

امی نے دعا دی ۔۔۔

کیا نام ہے انکا ۔۔۔؟؟

شاہ صاحب نے پوچھا

سید فخر الدین بخاری صاحب ۔۔۔۔

اچھا یہی عفا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ابھی انکی بات منہ میں ہی تھی کہ آیت کا موبائل بجا

وہ اٹھ کر دوسری چارپائی تک گئی اور کال ریسیو کر کے سائیڈ پہ ہو گئی۔۔۔۔

اچھا شکر آیت کی نوکری پکی ہوگئی۔۔۔اب یہ فکر تو ختم ہو گئی۔۔۔

نورین بیگم نے شاہ صاحب سے کہا

ہاں الحمداللّہ ۔۔۔۔

يونی سے ایڈمن کی کال تھی۔۔۔ڈاکومینٹس کا پوچھ رہے تھے اور یہ کہ کل آ جاؤں۔۔۔۔

آیت نے آ کر بتایا۔۔۔

اچھا تو ابھی سے ہر چیز ٹھیک کر کے رکھ لو ۔۔۔صبح جلدی سے خیر سے پہنچ جانا۔۔۔۔

انہوں نے کہا تو وہ ڈاکومینٹس سیٹ کرنے لگی۔۔۔۔

سر آپ نے وہاں پہ پڑی لاشوں کے بارے میں پوچھا تھا ۔۔۔

میں نے جب پولیس کو کال کی اور ان کے ساتھ اس جگہ پہنچے تو پوچھیں نا جو میں نے دیکھا

وه اپنے کمرے میں بیڈ پہ لیٹا موبائل چَلا رہا تھا جب اس کے سیکرٹری کی کال آئی

پھر مجھے پتہ کیسے چلے گا اگر پوچھوں گا نہیں تو۔۔۔؟؟

اس وقت اسکا موڈ خوشگوار تھا اس لیے بات کو مذاق میں ٹال گیا

نہیں میرا مطلب ایک بھی چہرہ پہچان میں نہیں آ رہا تھا بہت بگڑی ہوئی شکلیں تھیں انکی۔۔۔

پولیس نے انکے شناختی کارڈ سے پہچان کی سب کی اور ڈیڈ باڈیز انکے گھر والوں کے حوالے کر دیں۔۔۔۔۔

اس نے تفصیل بتائی جو عفان سنجیدگی کے ساتھ سنتا رہا

کوئی سراغ ملا کہ وہاں کیا ہوا تھا اور کیسے؟؟

عفان نے آنکھیں سُکیڑے یہ سوال کیا

جی سر ایک کے موبائل میں ویڈیو بنی ہوئی تھی شاید وہ کہیں اپلوڈ کر کے مدد لینا چاہتا تھا مگر کر نہیں پایا۔۔۔

اس وقت وہ بہت کھنچاؤ کی حالت میں لگتا تھا اور صرف یہ کہہ رہا تھا کہ یہاں پر بہت طوفان آ گیا ہے۔۔۔

عذاب نازل ہو رہا ہے ۔۔۔پلیز ہماری مدد کرو۔۔۔

پیچھے کچھ اور لوگوں کی چیخنے کی آوازیں تھیں مگر ویڈیو میں تو ہوا بھی چلتی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔۔

ہنممم۔اللّہ معاف کرے۔۔۔یہ عذاب انہی کیلیے تھا تو انہیں ہی نظر آ رہا تھا اور انہی کو لے ڈوبا۔۔۔

تم وہ ویڈیو سینڈ کرنا مجھے۔۔۔۔

اور بس دفع کرو اب ان کاموں کو۔۔۔میں نے اس لیے بتایا تھا کہ وہاں سے گزرتا تو کوئی ہے نہیں اور انکی لاشیں وہیں گل سڑ جانی تھیں۔۔۔۔

عفان ایک ہاتھ سے پیشانی مسل رہا تھا اور آنکھیں بند کیے بول رہا تھا۔۔۔

جی ٹھیک ہے سر۔۔۔

ٹیک کئیر۔۔۔اللّہ حافظ۔۔۔

اللّہ حافظ۔۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی اور پُر سوچ انداز میں دارڑھی کھجانے لگا۔۔۔۔

وه اپنے ازلی انداز میں تیار ہو کے صبح سویرے یونی پہنچ گئی تھی۔۔۔اسی آفس میں انہی کی سیٹ پر وہ بیٹھی کچھ کنفیوز سی تھی۔۔۔اسے لگ رہا تھا کہ بہت بڑی ذمہ داری اس کے سر پر ہے۔۔۔۔

ساری پروفیسرز کی پروفائلز کھول کر وہ معائنہ کرنے میں مصروف تھی کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور پھر تھوڑا سا اندر کی طرف دھکیلا۔۔۔۔

Yes come please

آیت کے جواب دینے پر وه اندر آیا اور بہت ادب سے کھڑا ہوا

میم عفان سر ملنے آٸے ہیں آپ سے ۔۔

اس نے بتایا تو آیت کافی حیران ہوئی کے وه یہاں کیسے؟ ؟

اور اسے کیسے پتہ چلا کے میں آج ادھر ہوں ۔۔۔۔؟؟

بھیج دوں میم ۔۔۔؟؟

اس نے دوبارہ پوچھا تو وه چونکی

جی بھیج دیں۔۔۔

وہ یہ سنتے ہی باہر نکل گیا اور آیت کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے پسینہ نکل آیا۔۔۔۔

جانے وہ کیا کہنے آیا ہو۔۔۔۔آیت نے عفان سے بہت کچھ پوچھنا تھا مگر ابھی ہمت نہیں کر پا رہی تھی۔۔۔۔

دروازہ ناک ہوا تو آیت نے اجازت دی اور وہ اندر داخل ہوا۔۔۔۔

تھری پیس سوٹ میں وہ بہت خوبصورت لگ رہا تھا بالوں کا اسی طرح جیل کے ساتھ پف بنایا ہوا اور ہاتھ میں لیپ ٹاپ کا بریف کیس۔۔۔۔۔

اسلام علیکم۔۔۔۔

اس نے اندر داخل ہوتے ہی سلام کیا تھا اور جب سامنے دیکھا تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔۔۔۔

آیت تب تک سلام کا جواب دے چکی تھی۔۔۔۔

آیت آپ یہاں۔۔۔۔۔؟؟

مم۔۔۔۔۔۔میرا مطلب پاپا نے بتایا نہیں کہ انہوں نے یہ سیٹ آپکو دی ہے۔۔۔۔۔

اب حیران ہونے کی باری آیت کی تھی۔۔۔

وہ اپنی سیٹ سے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

پاپا۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟مطلب؟؟؟؟

جنہوں نے آپکو یہاں بٹھایا وہ میرے پاپا ہیں۔۔۔

اس نے زیرِ لب مسکراتے ہوۓ جواب دیا

کچھ آپ میرے بارے میں نہیں جانتیں اور کچھ میں آپ کے بارے میں۔۔۔۔

اس لیے بات چیت سے سب کلئیر ہو جاۓ گا۔۔۔

وہ مسکراتا ہوا آگے آیا اور لیپ ٹاپ میز پر رکھ دیا

بیٹھیں پلیز۔۔۔۔اس نے آیت کی کرسی کی طرف اشارہ کیا تو وہ متذبذب سی کرسی پر بیٹھی اور اسکی سامنے والی کرسی پر عفان بیٹھ گیا۔۔۔

بات شروع کہاں سے کرنی ہے اور کیا کرنی ہے دونوں میں سے کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

کیونکہ دونوں ہی حیران تھے۔۔۔قسمت نے کیسے دونوں کو اکھٹا کر دیا تھا دونوں میں سے کوٸی نہیں جان پایا تھا۔۔۔

اس رب کے کام ہوتے ہی نرالے ہیں ہم انسانوں کی سمجھ سے باہر۔۔۔۔

مجھے اچھا نہیں لگے گا کہ مالک اس سیٹ پہ بیٹھے اور میں اس سیٹ پہ۔۔۔۔

کافی دیر چپ رہنے کے بعد آیت بولی

میں نے تو نہیں کہا کہ میں مالک ہوں۔۔۔جو اُس سیٹ پہ بیٹھا ہے وہی مالک ہے۔۔۔۔

اور مجھے آپکی سربراہی میں کام کرنا اچھا لگے گا۔۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوۓ کہا تو آیت بھی مسکرا دی۔۔۔اسکی جھجھک کم ہو رہی تھی۔۔۔

دیکھیں مس آیت۔۔۔۔آج ہمارا تعارفی دن ہے تو ہمیں پورا تعارف ہونا چاہیے۔۔۔۔

میں تو خیر ۔۔۔۔۔۔ آپکے بارے میں بہت پہلے سے اور بہت کچھ جانتا ہوں۔۔۔آپ شاید نہیں جانتیں۔۔۔۔

عفان نے آیت کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا

آپ کیسے جانتے ہیں۔۔۔؟؟

اور چھپ کر کیوں جانا؟؟

آیت کو جو سوال شروع سے پریشان کر رہا تھا آج اس نے صحیح جگہ سے جواب مانگا تھا۔۔۔

جیسا کہ آپ کو پتہ ہے کہ یہ ادارہ ہمارا ہے تو میرا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے۔۔۔اور پہلی بار بھی میں نے آپکو یہیں دیکھا تھا۔۔۔فنکشن تھا جس میں بہت سے لوگوں نے شرکت کی تھی ان میں سے ایک میں بھی تھا۔۔۔۔

تب میں نے آپکو سب سے الگ پایا۔۔۔حجاب اور عبایا میں۔۔۔۔اور اسی دن میں آپکی طرف ایٹریکٹ ہوا تھا۔۔۔۔

پھر میں نے تھوڑے ذرائع استعمال کیے اور آپکے بارے میں پتہ لگایا تو معلوم ہوا کہ آپ ہمارے پڑوسی ہیں۔۔۔۔

وہ سانس لینے کو رکا۔۔۔۔تو کمرے میں بالکل خاموشی چھا گئی تھی۔۔۔

اتنی کہ گھڑی کی ٹِک ٹِک ڈسٹرب کرنے لگی تھی وہ دوبارہ شروع ہوا

آپ نے اسد آفندی کے آفس کام شروع کیا تو میں نہیں جانتا تھا۔۔۔

ایک رات سو رہا تھا تو کوئی نور نظر آیا مجھے۔۔۔

جس نے مجھے آپکی رکھوالی سونپی اور مجھے بتایا کہ آپ بہت اکیلی ہیں ،،

آپ بہت پریشان ہیں اور مجھے آپکا مدد گار بننا ہے۔۔۔۔

بنا آپکو بتاۓ۔۔۔۔کیونکہ آپکو پتہ چلتا تو آپ احسان سمجھنے لگتیں اور یہ تو اللّہ کی طرف سے تھا میں نے خود تو نہیں ڈھونڈا تھا آپکو۔۔۔۔

بس تب سے آپکے ساتھ رہا ساۓ کی طرح بنا کسی کو بھی پتہ چلاۓ۔۔۔

مگر یہ باتیں چھپی نہیں رہتیں اور آپکو پتہ چل گیا۔۔۔

وہ آخر میں ہلکا سا مسکرایا

آیت ابھی تک خاموش بیٹھی تھی۔۔۔وہ عفان کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

میں اتنی نیک تھی یا آپ۔۔۔۔؟؟

بہت انہماک سے اس نے سوال کیا

آپ۔۔۔۔۔۔

تبھی آپکی رکھوالی مجھے دی گئی۔۔۔۔

اور شاید کہیں نہ کہیں میں بھی کیونکہ میری محبت کی ہی رکھوالی مجھے دی گئی ، کسی اور کو نہیں۔۔۔۔

وہ اپنی دھن میں کیا بول گیا وہ سمجھ نہیں پایا۔۔۔۔

جب سمجھ آئی تو ہلکا سا شرمندہ ہو کر سر میں ہاتھ پھیر کر نظریں چرا گیا۔۔۔۔

بس ایک بات آپ کو پتہ نہیں چل سکی جو میں خود بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔

آیت اسکی بات سمجھ چکی تھی اور اب وه نظریں نہیں ملا پا رہی تھی ۔۔۔۔

عفان خود ہی بولے جا رہا تھا جیسے آج سوچ کے آیا تھا کے آج سب کچھ کہہ کے ہی جاؤں گا ۔۔۔۔

میں آپ سے محبت نہیں عشق کرنے لگا تھا وجہ جو بھی تھی نہ مجھے معلوم ہوٸی اور نہ میں نے معلوم کرنی چاہی ۔۔۔۔بس میں اظہار کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔

اور آج موقع ملا تو سوچا جانے نہ دوں ۔۔۔۔

گھر بات کر چکا ہوں بہت جلدی حاضری لگاٸیں گے ان شا اللّه ۔۔۔۔

اس نے بات ختم کر کے آیت کی طرف دیکھا جس نے شرم سے نظریں جھکا رکھی تھیں اور وہ اسکی حالت دیکھ کر محظوظ سا مسکرایا تھا۔۔۔۔

عفان ، کیسا گزرا آج پہلا دن ۔۔۔؟؟

وه ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھے رات کا کھانا کھا رہے تھے جب بخاری صاحب نے عفان سے پوچھا

دونوں بڑی کرسیوں پہ آمنے سامنے اسکے امی ابو بیٹھے تھے۔۔۔

دائیں طرف دونوں بڑے بھائی اور ساتھ عفان بیٹھا تھا اور بائیں جانب دو بھابیاں اور ایک چھوٹی بہن بیٹھی تھیں۔۔۔ایک بہن کی شادی ہو چکی تھی۔۔۔۔

سب نے اپنی پلیٹ میں بریانی اور شامی لیے ہوۓ تھے۔۔۔

بہت اچھا ۔۔۔۔

اس نے بہت جوش سے جھومتے ہوئے بتایا

اتنا اچھا ۔۔۔؟؟؟

بڑے بھائی نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔

وه خود بھی اپنے انداز پہ چونکا تھا مگر اب تو تیر میان سے باہر تھا تو بات سنبھالنی تھی۔۔۔

جی مطلب جس طرح کچھ لوگوں کا کام کا پہلا دن اچھا نہیں ہوتا نا تو اس لحاظ سے میں نے بولا کہ بہت اچھا۔۔۔

اس نے بڑی مشکل سے اٹکتے ہوۓ بات بنائی تو سب مسکراہٹ دباۓ سر ہلا کر واپس اپنی پلیٹس پہ جھک گئے اور اس نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔

ملے تھے آیت سے ۔۔؟؟

بخاری صاحب نے پوچھا

جی۔۔۔

اس نے یک لفظی جواب دیا کیونکہ ابھی وہ بے خبر تھا کہ میرے پاپا کا مان بھی میرا پیار ہی ہے۔۔۔۔

برخوردار کل ہم نے جانا ہے آپکے متوقع سسرال کی طرف۔۔۔آپ کے دیے ہوۓ نمبر پر آپکی امی نے کال کر کے ان لوگوں کو مطلع کر دیا ہے۔۔۔۔

پھر بخاری صاحب کچھ توقف کے ساتھ بولے تھے۔۔۔

سبھی نے عفان کے بدلتے خوشنما تاثرات دیکھے تھے۔۔۔اور اس نے آنکھیں نکال کر سب کو دیکھا۔۔۔۔

فی الحال اسکے بس میں نہیں تھا کہ وہ خوشی سے جھوم اٹھتا۔۔۔

اب کھانا حلق سے اترنا نا ممکن تھا اس لیے وہ سب کو باۓ بولتا اٹھ کر کمرے کی طرف دوڑ گیا۔۔۔۔

اسکے پیچھے سبھی کے ہنسی کے فوارے پھوٹے تھے۔۔۔۔

آیت آپ صبح آف کر لیں کیونکے آپ کے دیکھنے والے صبح تشریف لا رہے ہیں ۔۔۔۔

وه اپنے کمرے میں لیٹا تھا اور مسکراتے ہوئے میسج لکھ رہا تھا ۔۔۔۔

وه سینڈ کر کے اس کے رپلائے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔

آیت کو میسج ملا ، وه پڑھ کر مسکرائی پھر لکھا

کل تو ہم کہیں جا رہے ہیں ۔۔۔

اس نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا ہوا تھا اور مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

اللّہ نے کیسی کیسی آزمائشیں دے کر اس میں سے نکال لیا تھا۔۔۔اور اب وہ روشن صبحوں میں سانس لے رہی تھی۔۔۔۔

عفان کی مسکراہٹ میسج پڑھتے ہی غائب ہوئی تھی اس نے فوراً میسج لکھا

نہیں نہیں پلیز کل نئی ۔۔۔

کہاں جانا ہے ۔۔؟؟

کسی اور دن چلے جائیے گا ۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کے کیا لکھے ۔۔۔

آیت نے کچھ دیر اسے تنگ کیا پھر بلآخر مان گئی ۔۔۔۔

ابھی وه بات کر رہا تھا کے پاپا کی آواز آئی

وه جلدی سے موبائل رکھ کے بیڈ سے اٹھ کھڑا ہوا

پاپا مجھے بلا لیا ہوتا ۔۔۔۔

نہیں کوئی بات نہیں ۔۔۔

وه اس کے ساتھ بیڈ پے بیٹھ گئے ۔۔۔۔

ایڈریس نہیں بتایا تم نے ۔۔؟؟

اس وقت تو بڑی جلدی تھی تمہیں ۔۔۔؟؟

جی پاپا جلدی تو ابھی بھی ہے اور ایڈریس میں نے ڈرائیور کو سمجھا دیا ہے اور پھر بھی کوئی مسٸلہ ہو تو مجھے بلوا لیجئے گا ۔۔۔۔

اس نے تابعداری سے بتایا ۔۔۔۔

پھر وه دونوں بزنس کی باتوں میں مصروف ہو گئے۔۔۔عفان بے چینی سے پہلو بدلتا رہا کیونکہ آیت کے میسج آ رہے تھے۔۔۔۔