264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 15)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

یار تم ابھی پولیس کو رپورٹ کرو ، یہاں سے تھوڑی دور گاؤں میں ایک حویلی ہے اس کے پاس کچھ لاشیں پڑی ہیں ۔۔۔۔وہاں پتا کرواؤ کے ہوا کیا ہے ۔۔۔۔؟؟صائم نے آفندی کے ساتھ دھوکہ کیا کہیں اس نے تو حملہ نہیں کروایا ؟؟؟

وه ہسپتال میں آیت کے بیڈ کے پاس کھڑا فون پے کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔

نہیں سر وه یہ نہیں کر سکتا ۔۔۔جب سے انکو اٹیک آیا تھا تب سے دماغی حالت بھی سہی نہیں ہے ۔۔۔

آپ کو پتہ ہے جب بھی انکو دیکھو انہوں نے ایک ہی رٹ لگائی ہوتی

آیت میری بیٹی ، مجھے معاف کردو ۔۔۔

دوسری طرف سے آواز آئی ۔۔۔

ہاں اسی لئے تو میں نے کیس واپس لے لیا ۔۔۔۔

جب اللّه کی طرف سے اسے اتنی بڑی سزا مل گئی ۔۔۔

اولاد نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ، بزنس بھی چلا گیا اور دماغ بھی۔۔۔۔

خیر انکا پتہ کرو ۔۔۔کچھ راز ہے اس میں ۔۔۔

عفان بہت تشویش کا شکار لگ رہا تھا ۔۔۔

سر آپ اچانک واپس کیسے آ گئے ؟؟

سامنے والے نے سوال کیا

پتہ نہیں میں واپس کیسے آیا ۔۔۔۔؟؟

بغیر وجہ کے میں دو مہینے تک وہاں رہا ۔۔۔جو وجہ تھی بھی تو معمولی ۔۔۔اور اب اچانک وه وجہ ختم ہو گئی ۔۔۔۔

جیسے مجھے کسی نے کہا کے میں واپس آ جاؤں اور یہاں آ کر لگا کے بلکل سہی وقت پر آیا ہوں آیت کو میری ضرورت تھی ۔۔۔شاید اسی لئے مجھے واپس بلایا گیا ۔۔۔

خیر میں تم سے بعد میں بات کروں گا ۔۔۔وہاں کی جیسے ہی کوئی خبر ملے مجھے بتاؤ ۔۔۔۔

یہ کہہ کر اس نے کال کاٹ دی ۔۔۔۔اور مڑ کر آیت کو دیکھا جو ویسے ہی آنکھیں بند کے لیٹی تھی ۔۔۔

حلانکہ وه عفان کی ساری باتیں سن چکی تھی ۔۔۔۔

لیکن آنکھیں بند رکھیں تا کے عفان کو پتہ نہ چلے کے اس نے کچھ سنا ہے ۔۔۔۔۔

انکل آپ یہاں ؟؟؟

کیا ہوا ہے آپ کو ؟؟

عفان آیت کیلئے ڈاکٹر سے کچھ پوچھنے گیا تھا تو شاہ صاحب کو ان کے سامنے والے بیڈ پر لیٹے دیکھا ۔۔۔

شاہ صاحب سے آگے دو بیڈ چھوڑ کر آیت لیٹی تھی ۔۔۔۔

ہاں بیٹا طبیعت خراب ہو گئی تھی ۔۔۔

انہوں نے کھانستے ہوئے بتایا

تو آپ اکیلے کیوں ہیں ؟؟

مجھے فون کیا ہوتا ۔۔۔

وه فکر مندی سے کہتا آگے آیا ۔۔۔

شاہ صاحب کو بہت کھانسی آنے لگ گئی تھی ۔۔۔انکی آواز آیت تک پہنچ گئی تھی ۔۔۔

وه اٹھ کر بیٹھی اور اِدھر دیکھا کے شاید اسکا وہم ہو ۔۔۔

مگر بشیر شاہ سچ میں وہاں تھے ۔۔۔

ابو ۔۔۔۔

اس نے زور سے آواز لگائی اور بیڈ سے نیچے اتری ۔۔۔

اسے بھی کمزوری بہت ہو گئی تھی اس لئے چکر آ رہے تھے ۔۔۔

ابو کیا ہوا آپ کو ۔۔۔؟؟

وه روتے ہوئے بھاگی آ رہی تھی کے پاؤں پھسل گیا اور وه نیچے گر پڑی ۔۔۔

عفان بھاگ کر اسکی طرف گیا

آیت آرام سے ۔۔۔

کچھ نہیں ہوا انکل کو ۔۔۔۔

وه اسے پکڑ کر اٹھانا چاہتا تھا مگر وه آس پاس کی ، عفان کی پرواہ کے بغیر اٹھی اور گرتی پڑتی ، روتی ہوٸی شاہ صاحب کے بیڈ تک پہنچ گئی ۔۔۔

وه ابو کے سینے سے جا لگی تھی ۔۔۔سب لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ایسا لگتا تھا کے صدیوں کے بعد آمنا سامنا ہو رہا ہے باپ بیٹی کا ۔۔۔

وه شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور خاموشی سے آنسو بہا رہے تھے ۔۔۔۔

آیت باقاعدہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔۔عفان کے دل کو کچھ ہو رہا تھا اسکی بھی آنکھیں بھیگ رہی تھیں۔۔۔۔

وہ اس طرح اسے روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ سنبھل کر اٹھی۔۔۔۔آنکھیں بے دردی سے رگڑیں۔۔۔

آپ کب سے ادھر ہیں؟؟

امی کہاں ہیں؟؟

کیا ہوا ہے آپکو؟؟

وہ لاکھ کوشش کر رہی تھی آنسو روکنے کی مگر رک نہیں رہے تھے۔۔۔

آیت۔۔۔۔

سب ٹھیک ہے۔۔۔

تم ریلیکس کرو ۔۔۔تمہاری اپنی بھی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ۔

عفان آگے ہوا تھا۔۔۔

ہاں بیٹا۔۔۔ایسے بے حوصلے نہیں ہوتے۔۔۔

آیت تو میری بہادر بیٹی ہے نا۔۔؟؟

سب ٹھیک ہے ابھی گھر چلتے ہیں۔۔۔۔

انہوں نے بہت پیار سے کہا

مگر وہ بہت بہادر بیٹی آج بری طرح ٹوٹی تھی۔۔۔

وہ عفان کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی مگر جو اس نے کیا تھا اس کے آگے شکریہ بہت چھوٹا لفظ تھا۔۔۔۔

وہ گُھٹنوں میں سر دیے زور زور سے رونے لگی۔۔۔۔

امی ۔۔۔۔

شکر ہے آپ آ گئی ہیں ۔۔۔۔

مجھے اب بہت ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔

ثانیہ ماں کے سینے سے لگی روتے ہوئے کہہ رہی تھی ۔۔۔۔

جانے وه لوگ کتنے ہی آنسو بہا چکے تھے ۔۔۔

شایان سو گیا ۔۔۔۔؟؟

انہوں نے اس کے اور اپنے آنسو صاف کیے اور آگے آئیں ۔۔۔

جی ۔۔۔

اس نے رندهی ہوئی آواز میں جواب دیا ۔۔۔

ثانیہ ۔۔۔

بہن کا نمبر نہیں ملایا ؟؟

انہوں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا تھا ۔۔۔

ملایا امی ۔۔۔

بہت بار ، مگر آپی کا نمبر بند تھا ۔۔۔

اس نے فوراً بتایا

اچھا ایک بار پھر ملاؤ ۔۔۔

وه شایان کے ساتھ چارپائی پر بیٹھ گئی تھیں ۔۔۔۔

ثانیہ نے انھیں پانی پلایا اور پھر آیت کا نمبر ملانے لگی ۔۔۔

عفان نے اپنی گاڑی میں دونوں کو گھر چھوڑا تھا ۔۔۔

شاہ صاحب اب بلکل ٹھیک ہو گئے تھے۔۔۔۔

نورین بیگم بیٹی کو دیکھ کر پھولے نہیں سماتی تھیں۔۔۔۔

ابو آپ انکو پہلے سے جانتے ہیں۔۔؟؟

اس نے بُجھی ہوئی آواز سے عفان کے بارے میں پوچھا تھا

ہاں بیٹا ، اسی گلی میں دو گھر چھوڑ کر انکا گھر ہے۔۔۔

بڑا اچھا لڑکا ہے۔۔جب میں باہر آتا جاتا تھا تو یہ کبھی مل جاتا تو حال چال پوچھ لیتا تھا۔۔۔

انہوں نے تفصیل بتائی

آیت نے اثبات میں سر ہلا دیا۔۔۔اپنے سوالوں کے جواب اسے نہیں مل رہے تھے اور وہ خود عفان ہی دے سکتا تھا۔۔۔

وہ ابو کے ساتھ والی چارپائی پر بیٹھی تھی۔۔۔آنکھوں کے ساتھ ساتھ چہرہ بھی سوجا ہوا لگتا تھا۔۔۔

آیت اب بھی پہلے والی آیت نہیں لگتی تھی ۔۔۔بلکل خاموش ، گم صم سی ۔۔۔۔

اسے اندر ہی اندر احساسِ جرم کھاۓ جا رہا تھا ۔۔۔

اپنے رویے کی معافی وہ گھر والوں سے مانگ چکی تھی۔۔۔اور وہ بھی ماں باپ تھے کب تک ناراض رہتے۔۔۔

اللّه اپنے بندوں کو آزماتا ہے مگر صرف وہاں تک جہاں تک وه اس آزمائش پہ کھرے اترتے ہیں۔۔۔۔

پروفیسر فخرالدین بخاری صاحب سے ملنا ہے۔۔۔۔

وہ ایڈمن بلاک میں کھڑی تھی۔۔۔

میم سر اپنے آفس میں ہونگے۔۔۔میں ان سے پتہ کر لیتا ہوں۔۔۔

Your good name please??

اس نے شائستگی سے پوچھا

جی ۔۔۔آیت شاہ۔۔۔

اس نے اسی طرح جواب دیا اور اِدھر اُدھر نظر دوڑا کر آفس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔

باہر موسم ابر آلود ہو رہا تھا اور کافی ٹھنڈ پڑ رہی تھی جبکہ اندر ہیٹر چلا ہوا تھا جسکی گرمی ٹھنڈ کو زائل کر رہی تھی۔۔۔

اس نے فون پہ بات ختم کی اور آیت کو انکے آفس کا بتا دیا ۔۔۔وہ شکریہ ادا کرتی وہاں سے نکل گئی۔۔۔

ایڈمن بلاک کے آگے راہداری بنی تھی۔۔۔جس کے دونوں طرف کمرے تھے وہ درمیان میں سے چلتی جا رہی تھی۔۔

آج ایک تبدیلی تھی کہ اس نے سر جھکایا ہوا تھا۔۔۔پہلے وہ ہمیشہ سر اٹھا کر چلتی تھی مگر اب اسے لگتا تھا کہ وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہی۔۔۔۔

خیر وہ انکے آفس کے دروازے پر پہنچی تو وہ لفظ اکھٹے کر رہی تھی ان سے مخاطب ہونے کیلیے۔۔۔

پھر اس نے دروازہ بجایا۔۔تھوڑا سا اندر کو دھکیلا تو انکی آواز اس تک پہنچی اور یہ اندر چلی آئی۔۔۔

آیت کو دیکھتے ہی انکے پر سکون چہرے پر مسکراہٹ رینگ گئی۔۔۔آفس کو بہت سادگی مگر خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر نہایت ادب سے سلام کیا اور انکے کہنے کے بعد وہ انکی سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔

بڑی لمبی عمر ہے آپکی۔۔۔

انہوں نے مسکراتے ہوۓ کہا

ابھی بھی عینک اتار کر انہوں نے سائیڈ پر رکھ دی تھی اور پوری طرح آیت کی طرف متوجہ تھے۔۔۔

مجھے اتنی لمبی نہیں چاہیے۔۔۔

آیت نے افسردگی سے کہا

انسان کو ہمیشہ ایک بہترین سامع چاہیے ہوتا ہے نا اور جب وه سامع مل جاۓ تو پھر بولا نہیں جاتا۔۔۔بولنے کیلیے لفظ ہی نہیں ملتے۔۔۔تب صرف آنسو بہانے کا دل کرتا ہے۔۔۔اور اس وقت آیت کا بھی یہی حال تھا وہ ساری داستان سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرنے آئی تھی۔۔۔

ایسا نہیں کہتے بیٹا۔۔۔

ہمیشہ اچھا سوچنا اور بولنا چاہیے۔۔۔پھر چاہے اسکا نتیجہ جو بھی نکلے لیکن ہم نے تو کوشش کرنی ہے نا ۔۔؟؟

اچھا کیا لیں گی آپ؟ ؟

انہوں نے اسی محبت سے پوچھا

بس میں آپ سے باتیں کرنے آئی تھی ۔۔۔سر آج دل بہت اداس تھا ۔۔۔۔

وه بس رو دینے کو تھی ۔۔۔

ضرور ۔۔۔آپ کے آنے سے کچھ ہی دیر پہلے میں نے سوچا کے آپ کو فون کر کے بلاٶں اور آپ آ گئیں ۔۔۔

جی سر آپ حکم کریں ۔۔۔

آیت نے گلا صاف کرتے ہوئے کہا

حکم نہیں ، میں نے تو درخواست کرنی تھی ۔۔۔

اصل میں بیٹا۔۔۔آپ شاید یہ نہیں جانتی کہ یہ ادارہ ہمارا اپنا ہے۔۔۔اپنا تو ویسے کچھ بھی نہیں ہے سب یہیں چھوڑ جانا ہے۔۔۔لیکن یہ ہم نے ہی بنایا ہے۔۔۔

اور اب میں تھوڑا ریسٹ کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

اپنی سیٹ خالی کر کے اس پر اپنے ہی جیسے کسی بندے کو بٹھانا چاہتا ہوں تا کہ یہ میرے بعد بھی ویسے ہی چلتا رہے جیسا کہ میری موجودگی میں۔۔۔

اور آپ سے بہتر اس سیٹ کو کوئی نہیں سنبھال سکتا۔۔۔۔

انہوں نے سنجیدگی سے ساری بات کہی اور آخر میں وہ مسکراۓ تھے۔۔۔۔

آیت بہت سنجیدگی سے انکی بات سن رہی تھی ۔۔۔وہ واقع نہیں جانتی تھی کہ یہ یونی سر کی اپنی ہے۔۔۔خیر ابھی تو وہ بہت کچھ نہیں جانتی تھی۔۔۔

سر میں۔۔۔۔؟؟؟

اپ۔۔۔۔۔آپ کی سیٹ کیسے سنبھال سکتی ہوں۔۔۔؟؟

آپ کی طرح کوئی کام نہیں کر سکتا۔۔۔

اس نے مارے حیرت کے بس اتنا ہی کہا

ماں باپ اور استاد اپنے بچوں کو بہت اچھے سے جانتے ہیں کہ انکا بچہ کس قابل ہے۔۔۔

میرے اپنے بھی بچے ہیں مگر مجھے سب سے زیادہ بھروسہ آپ پر ہے۔۔۔۔

انہوں نے فخریہ انداز میں بات کی کہ انہیں آیت پر فخر ہے۔۔۔

یہاں وہ قابو نہیں کر پائی اور اس کے آنسو آنکھوں سے ٹوٹ کر گود میں گرنے لگے۔۔۔۔

ارے ارے بیٹا کیا ہوا؟؟

میں نے کچھ غلط کہا کیا؟؟

اچھا یہ پانی پئیں شاباش

روتے نہیں میرا بچہ۔۔۔

شاباش

وہ واقع پریشان ہو گئے تھے۔۔پھر انہوں نے پانی کا گلاس آگے کیا اور بہت پیار سے چپ کروایا۔۔۔۔

سر میں اس قابل نہیں ہوں کہ آپ مجھ پر اتنا بھروسہ کریں۔۔۔میں کسی کا مان نہیں رکھ سکتی۔۔۔۔

میں بہت بے وقوف ہوں۔۔۔میں آسانی سے کسی پر بھی اعتبار کر لیتی ہوں۔۔۔۔

بہت آسانی سے شیطان کے بہکاوے میں آ جاتی ہوں۔۔۔۔

وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی اور وہ چپ چاپ آیت کی آنکھوں کی سچائی دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

وہ واقع بہت قابل تھی۔۔۔

انسان پر شیطان کی کی گئی ساری سرمایا کاری اس وقت مکمل طور پر ڈوب جاتی ہےجب انسان سچی توبہ کر کے اپنے رب کے در پر جھک جاتا ہے ۔۔۔۔

اور کسی پر بھروسہ کرنا بھی غلط نہیں ہے ۔۔۔دل کے سچے اور اچھے لوگ ہی بھروسہ کرتے ہیں ہر کسی میں یہ ظرف بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔

غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے اور غلطی سے ہی انسان سبق لیتا ہے اور آٸندہ وه نہیں دوہراتا ۔۔۔۔یہ نہیں کے بس اسی غلطی کو پکڑ کر بیٹھ جاٸیں کے ہم تو کبھی کچھ اچھا کر ہی نہیں سکتے۔ ۔۔۔۔۔

انکی پرسنیلٹی واقع باوقار تھی اور وہ بہت اچھے طریقے سے اسکا ذہن صاف کر رہے تھے۔۔۔

وہ ہمیشہ دھیمے اور ٹھہرے ہوۓ لہجے میں بات کرتے اور سمجھاتے تھے۔۔۔

آیت میری بیٹی ہے۔۔۔۔اور جب آپ کے دونوں باپ کو اپنی بیٹی پر فخر ہے تو آپ کو سر اٹھا کر چلنا جاہیے۔۔۔۔

سر آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔اللّہ آپ کو ہمیشہ سلامت رکھے اور آپ ہمیشہ ہمیں گائیڈ کرتے رہیں۔۔۔۔

میں نے اپنے کیرئیر میں بہت کوشش کی کہ کم از کم ہر سال ایک بچہ آپ کی طرح ٹرین کروں مگر میں نہیں کر پایا کیونکہ گھر کی تربیت کا اس میں بہت بڑا کردار ہوتا ہے۔۔۔۔

آیت صرف مسکرائی تھی۔۔۔یہاں آنے سے پہلے وہ خود کو کوئی مجرم سمجھ رہی تھی اور اب وہ ایک نیک ، باکردار اور پارسا لڑکی تھی۔۔۔

کوئی غلطی بھی تو نہیں کی تھی بس کچھ وقت کیلیے بھٹک گئی تھی اور جتنے دن وہ گھر پر رہی ، مسلسل نماز میں ، تہجد میں رو رو کر معافیاں مانگی تھیں۔۔۔

تو میں ہاں سمجھوں نا؟؟

انہوں نے دوبارہ پوچھا

سر آپ کو انکار نہیں کیا جا سکتا۔۔۔آپ مجھے اس قابل سمجھتے ہیں یہ آپ کا بڑا پن ہے۔۔۔

مجھے مستقل جاب مل جاۓ گی ، در در کے دھکے کھانے سے بچ جاؤں گی۔۔۔مجھے اور کیا چاہیے۔۔۔

وہ دونوں ہنس دیے تھے۔۔۔۔

ایک بیٹا میرا ہے جس نے کچھ وقت کیلیے بزنس چھوڑا ہوا تھا تو میں سوچ رہا ہوں کہ اسے بھی یونی میں بلا لوں۔۔۔باقی بچے باقی بزنس سنبھال لیں گے۔۔۔۔

جی سر جیسے آپکو مناسب لگے۔۔۔۔

اب اس کے دل کا سارا غبار نکل گیا تھا ۔۔۔وه بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔

عفان ۔۔۔۔

جی پاپا ۔۔۔۔

وه سیڑھیاں چڑھ رہا تھا جب اسے ابو نے آواز دی۔۔۔

وہ واپس آیا خوبصورت لاٶنج میں خوبصورت صوفے پر وہ بیٹھے کسی کتاب کے مطالعے میں مصروف بیٹھے تھے۔۔۔

وہ آرام سے چلتا ہوا انکے پہلو میں آ بیٹھا تھا۔۔۔۔

پروفیسر فخرالدین صاحب نے کتاب بند کر کے سائیڈ پہ رکھی اور عفان کی طرف دیکھا

اب کب تک اپنے بزنس میں نہیں آنا؟؟

انہوں نے سنجیدگی سے پوچھا

بس اب آ گیا ہوں پاپا۔۔۔

اپنا بزنس سنبھالوں گا۔۔۔۔

اس نے انکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا

میں سوچ رہا تھا تم یونی کو سنبھالو۔۔۔

باقی بزنس تمہارے بہن بھائی دیکھ لیں گے۔۔۔

جی جیسا آپ مناسب سمجھیں۔۔۔۔

اس نے تابعداری دکھائی

اچھا تو اب وجہ بتانا پسند کریں گے صاحب زادے وہ معمولی نوکری کرنے کی۔۔۔؟؟

انہوں نے مسکراہٹ دباۓ بظاہر سنجیدہ ہوتے ہوۓ پوچھا

جی پاپا اب تو وقت آ گیا ہے کہ سب بتا دوں۔۔۔مزید دیر نہیں کر سکتا۔۔۔

اچھا تو بتائیں۔۔۔کون سی ایسی خاص وجہ تھی۔۔۔

پاپا۔۔۔۔

میں نے ایک لڑکی کو دیکھا تھا اور پھر اسکے بارے میں پتہ کیا تھا۔۔۔تو مجھے پتہ چلا کہ اسے باہر مطلب اس آفس میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔

میں اسکی مدد کا سوچ ہی رہا تھا کہ مجھے خواب میں کوئی ملے اور انہوں نے کہا کہ اسکی رکھوالی تمہارے حوالے۔۔۔

تم اسکے مدد گار ہو اللّہ کی طرف سے۔۔۔

بس پھر میں خود کو روک نہیں پایا۔۔۔وہ غیر مرئی نقطے پر نظر جماۓ تفصیل بتاتا جا رہا تھا۔۔۔

پسند میں پہلے ہی کرتا تھا اور قریب رہ کر تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت ہو گئی ہے۔۔۔۔

اس نے بخاری صاحب کی طرف دیکھ کر پھر نظریں جھکا لیں اور مسکرایا۔۔۔۔

واہ صاحبزادے۔۔۔۔۔تو محبت کے چکروں میں پڑ گئے۔۔۔۔

خیر میں نے بھی تمہارے لیے ایک لڑکی دیکھی ہے۔۔۔اور میری دل سے خواہش ہے کہ وہ تمہاری جیون ساتھی بنے۔۔۔۔

اس جیسا کوئی نہیں ہے۔۔۔چراغ لیکر بھی ڈھونڈو گے تو نہیں ملے گی۔۔۔۔

انکے لہجے میں وہی مان اور فخر تھا۔۔۔

یوں نہ کریں نا پاپا۔۔۔۔

مجھے پھر آپکا مان ہی رکھنا پڑے گا۔۔۔۔

اس نے چہرے پر معصومیت سجاتے ہوۓ کہا

چلو پہلے آپ کے پیار کو دیکھ لیتے ہیں پھر میرے مان کو دیکھیں گے۔۔۔۔

جیت کا فیصلہ بعد میں۔۔۔۔

عفان بھی مسکراتے ہوۓ باپ کے سینے سے لگا تھا اور وہ بھی بہت محبت سے مسکراۓ تھے۔۔۔۔