Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 8)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 8)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
سر اب کس طرف مڑنا ہے ۔؟؟
ڈرائیور نے سنسان راستہ دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا تھا ۔۔
یار پتا نہیں یہ لوکیشن کہاں لے جا رہی ہے ۔۔؟؟
یہ جگہ تو پہلے کبھی نہیں دیکھی ۔۔۔
اس نے موبائل میں کھلے میپ پر سر جھکاے ہوئے کہا
کالے سیاہ چمک دار بالوں کا بہترین انداز میں پف بنایا ہوا تھا اور جب چہرہ اٹھایا تو ماشاءاللّه ۔۔۔
ہر دیکھنے والے کی نظر اس پر ٹھہر جاتی تھی۔۔۔قدرت نے اسے بڑے پیار اور بڑی فرصت سے بنایا تھا ۔۔۔
موٹی کالی آنکھیں ، کھڑی ناک ، عنابی ہونٹ اور ہلکی ہلکی سی داڑھی ، مونچھ اس پر بہت سجتی تھی ۔۔
اس وقت اس کے تاثرات بہت پریشان کن تھے ۔۔۔
Now its time to take a step..
اس نے کہتے ساتھ ہی موبائل پر کوئی نمبر ملا کر فون کان سے لگایا ۔۔۔
السلام و علیکم آئی جی صاحب ۔۔۔
کیسے مزاج ہیں آپ کے؟ ؟
اس نے خوش مزاجی سے پوچھا
جی آپ کی دعا ہے ۔۔۔بس ایک چھوٹی سی مدد درکار ہے ۔۔۔
دوسری طرف سے کچھ سننے کے بعد وه بولا تھا
اغوا کا کیس درج کروانا ہے اور لڑکی مجھے شام سے پہلے پہلے صحیح سلامت چاہیے ۔۔۔
جی مجھے شک نہیں یقین ہے ۔۔۔
مسٹر اسد آفندی ۔۔
ان کے پوچھنے پر اس نے جواب دیا ۔۔۔
جی لوکیشن میں بھیجتا ہوں آپ کو۔ ۔۔
اور کال کاٹ دی۔ ۔۔
گاڑی اسی جنگل کی طرف لے لو۔ ۔اس نے لوکیشن بھیجنے کے بعد ڈرائیور کو ھدایت دی ۔۔۔
اگر اُنکو کھروچ بھی آئی نا تو چھوڑونگا نہیں میں تمہیں اسد آفندی۔۔۔
وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا تھا۔۔۔
مس آیت کوئی تکلیف تو نہیں آپ کو یہاں پر ۔۔۔؟؟
مسٹر اسد نے کمرے میں آتے ہی اسے مخاطب کیا تھا۔ ۔
وه ان آدمیوں کو باہر کھڑا کر آیا تھا ۔۔۔
وه نیچے گُھٹنوں میں سر دیے بیٹھی تھی جب اسکی آواز پر سر اٹھایا۔۔
مسلسل رونے کی وجہ سے اسکی آنکھیں بہت سرخ ہو رہی تھیں۔۔بے بسی سے اسکا برا حال تھا۔۔۔
ایک لمحے کو اسے ڈر بھی لگا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کہ مسٹر اسد کے قدموں میں گر کر روۓ ، گڑگڑاۓ ۔۔
اس سے کہے کہ مجھے معاف کر دو۔۔۔چھوڑ دو۔۔۔
جانے دو۔۔۔
مگر اگلے ہی لمحے اس نے اس خیال کو جھٹلا کر خود کو مضبوط کر لیا کہ وہ غلط ہو کر جب پیچھے نہیں ہٹ رہا تو میں صحیح ہو کر ہار کیوں مانوں۔۔؟؟
میں کیوں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں؟؟
اللّه میری مدد کریں گے ۔۔۔اور اس شیطان سے رہائی دلوائیں گے۔۔۔۔
کیا ہوا؟؟آپ خاموش کیوں ہیں؟؟
ارے ارے آپ تو رو رہی ہیں۔۔۔
وہ اسکے سامنے گُھٹنوں کے بل نیچے بیٹھا تھا اور اپنے ہاتھ سے اسکے آنسو صاف کرنے کیلیے ہاتھ آگے بڑھایا جسے اس نے برہمی سے جھٹک دیا
ہاتھ لگانے کی کوشش بھی مت کرنا۔۔۔ورنہ توڑ کے رکھ دونگی۔۔
آیت کی آنکھوں سے ، لہجے سے آگ برس رہی تھی۔۔۔
ہاہاہاہا۔۔۔
تمہارا نخرہ تو ابھی بھی برقرار ہے۔۔
اگر میں چاہوں نا تو ابھی تمہاری یہ ہمت ، جرأت اور خود اعتمادی کو چکنا چور کر دوں۔۔۔
اسد آفندی کو کبھی انکار سننے کی عادت نہیں ہے۔۔
اس نے قہقہہ لگایا اور پھر یک دم کھڑے ہو کر آیت کا منہ دبوچ کر دھمکی دی۔ ۔۔اور پھر ایک جھٹکے سے چھوڑا کے وه نیچے جا گری ۔۔۔
تھو ہے اسد آفندی کی سوچ پر ، مردانگی پر اور تربیت پر ۔۔۔جو ایسی چیزوں پر خرچ کر رہے ہو ۔۔۔
ارے توڑ کر تو میں نے رکھ دیا ہے تمہیں ۔۔۔۔
صرف ایک انکار کر کے تمہیں تمہاری اوقات یاد دلا دی ہے ۔۔۔اور اتنے ٹارچر کی تمہیں سزا نہ دلواٸی تو میرا نام بھی آیت شاہ نہیں ۔۔۔۔
کر ہی کیا سکتے ہو تم كهوكهلی دهمكیوں کے علاوہ ۔۔۔
میرے ماں باپ کی دعاؤں کا مضبوط حصار ہے میرے گرد۔۔۔جسے تم چاہ کر بھی نہیں توڑ سکتے۔۔۔
اگر ہے ہمت تو ہاتھ لگا کر دکھاؤ۔۔۔
جو تمہیں نظر آتا ہے ایسا نہیں ہے۔۔۔آیت شاہ بے یارو مدد گار نہیں ہے۔۔۔
میرے پاس دنیا کی وہ دولت ہے جسے پانے کا تم تو سوچ ہی نہیں سکتے۔۔۔
میرا مان ، میری عزت ، میرے گھر والے اور سب سے بڑی دولت میرا
” الله “
ہے میرے ساتھ ۔۔۔۔
وه بہت طیش سے بولے جا رہی تھی اور وه بُت بنا اسے سن رہا تھا ۔۔۔
پھر اچانک وه باہر نکل گیا۔ ۔۔
وه خود اپنے اس عمل کو سمجھ نہیں پایا۔ ۔۔۔
وه نہیں جان پا رہا تھا کے وه کچھ کر کیوں نہیں پا رہا شاید وه واقع کبھی اس کے گرد بندھے حصار کو تورڑ نہیں سکتا تھا ۔۔۔
وه پھر سے سر جھکاے زار و قطار رونے لگی ۔۔۔
اچانک اسے محسوس ہوا کے ٹیرس کی طرف والی ونڈو خود بخود کھلی ہے۔۔۔
اس نے اوپر دیکھا ، آنسو پونچھے اور ونڈو کی طرف آئی۔۔۔
آیت کی ماں کوئی بات ہوئی ہے آیت سے؟ ؟؟
شاہ صاحب کافی مضطرب سے بیٹھے تھے ۔۔۔
اب تو تین بج رہے ہیں کیوں نہیں آئی ابھی تک ۔۔؟؟
نہیں ابھی تو کوئی رابطہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی آیت آپی کا میسج آیا ہے ۔۔۔
ثانیہ انکی بات کاٹ کر بولی تھی ۔۔۔
کیا لکھا ہے ؟؟
امی ابو دونوں نے ایک ساتھ پوچھا تھا ۔۔۔
وه کہہ رہی ہے کے آج وه آفس کا کام کر رہی ہیں یہاں نیٹ ورک بھی کام نہیں کر رہا ۔۔۔انھیں آنے میں دیر ہو جائے گی تو پریشان نہ ہوں ۔۔۔
اور یہ میسج بھی انہوں نے 12 بجے کا بھیجا ہوا ہے جو اب مل رہا ہے ۔۔۔
ثانیہ نے بتایا تو انھیں کچھ تسلی ہوئی ۔۔۔
یا اللّه ہماری بچی کی حفاظت کرنا ۔۔۔
دونوں نے آنکھوں میں نمی لئے ہاتھ اٹھا کر دعا کی ۔۔۔
اور وہ جب بھی اس تڑپ سے مانگتے تھے انکی دعا قبول ہوتی تھی ۔۔۔
”وہی تو ہے جو دعاؤں کے سننے اور قبول کرنے والا ہے۔۔۔“
سر کچھ معلوم ہوا ؟؟
وه جنگل میں چلتے ہوئے اسے ڈھونڈ رہا تھا اور فون پر بات کر رہا تھا ۔۔۔
سر مجھے وه آفس ٹائم میں ہی واپس چاہیے۔۔۔اسکی عزت پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے ۔۔۔اسکے گھر والے برداشت نہیں کر پائیں گے۔۔۔
وہ فون پر مسلسل آئی جی کو تاکید کر رہا تھا ۔۔۔ اور پھر کال بند ہو گئی۔۔۔پتہ نہیں وہ تب سے اب تک کتنی کالز کر چکا تھا۔۔۔
اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔آج کیوں وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔۔۔
سر گاڑی میں ہی چلتے ہیں۔۔۔ایسے آپ تھک جائیں گے۔۔۔
وہ ایک گھنٹے سے پیدل چل رہے تھے تب ڈرائیور نے کہا
ہممم؟؟
نہیں ٹھیک ہے ایسے۔۔۔
میں نہیں تھکتا۔۔۔
وہ پرسوچ انداز میں بس اِدھر اُدھر دیکھتے ہوۓ چلتا جا رہا تھا۔۔۔
