264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 7)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

اچانک آیت کو محسوس ہوا کے موبائل وائیبریٹ کر رہا ہے۔۔اس نے فوراً سے موبائل نکالا ، آنسو صاف کیے ۔۔۔

کسی انجان نمبر سے کال آ رہی تھی ۔۔۔اس نے جلدی سے ریسیو کی کہ کوئی بھی ہو مدد کیلیے بلاؤں گی وہ کہاں جانتی تھی کہ اسکا مدد گار ہی ہے۔۔

ہیلو ، ہیلو مس آیت آپ کہاں ہیں ؟؟

آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟

مجھے لگ رہا ہے آپ کسی مشکل میں ہیں ۔۔۔

اس نے جیسے موبائل کان سے لگایا دوسری طرف سے اضطرابی میں ڈوبی آواز آئی ۔۔۔

آیت کے آنسو اور زیادہ بہنے لگے ۔۔۔

پلیز مجھے بتاٸیں آپ ٹھیک تو ہیں؟؟

خاموشی پر اس نے پھر پوچھا

نہیں میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔پلیز مجھے یہاں سے نکال لو۔۔پتہ نہیں کون مجھے یہاں زندان میں بند کر گیا ہے۔۔

اس نے زار و قطار روتے ہوۓ کہا

کیاااا ؟؟؟

آ ۔۔۔۔آپ کو کچھ اندازہ ہے کے کہاں ہیں ۔۔۔؟؟

نہیں مطلب لو ۔۔۔۔۔لوکیشن بتا سکتی ہیں؟ ؟

اسے ہڑبڑاہٹ میں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا پوچھے

یہاں صرف اندھیرا ہے کچھ نظر نہیں آ رہا۔۔

کوئی سٹور روم لگتا ہے جگہ کا مجھے نہیں پتہ۔۔

وہ آنسو صاف کرتے ہوۓ بول رہی تھی

اچھا۔۔۔اچھا آپ پریشان نہ ہوں اپنے موبائل کی لوکیشن آن کریں۔۔۔

میں خود ہی ڈھونڈ لونگا۔۔۔

اور کال بند ہو گئی ۔۔

آیت نے لوکیشن آن کی اور موبائل پاکٹ میں رکھ لیا کیوں کے کبھی بھی کوئی بھی دروازہ کھول کر اندر آ سکتا تھا ۔۔۔

یہ کون ہو سکتا ہے ۔۔۔؟؟

ایسا لگتا ہے میں نے اس کی آواز پہلے بھی سن رکھی ہے ؟؟

یا میں اس کو جانتی ہوں ۔۔۔مگر کیسے ؟؟

وه خود سے سوال کر رہی تھی ۔۔۔کچھ یاد نہ آنے پر وه خیال جھٹک کر دوبارہ کارٹن ہٹانے لگی۔۔۔

وہ بہت بھاری تھے اور پوری طاقت لگانے کے باوجود اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں رہے تھے۔۔

تھوڑی دیر کوشش کرنے کے بعد وه تھک کر بیٹھ گئی اسکا سانس پھول گیا تھا ۔۔۔

کچھ دیر سوچنے پر اسے ایک ترکیب سوجهی وه خود کو نارمل کرنے کے بعد اٹھی اور دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر ٹانگوں کی مدد سے انہیں دھکیلنے لگی۔۔۔

اسکا زور بہت لگ رہا تھا مگر اس بار فائدہ ہو رہا تھا۔۔۔کارٹن اپنی جگہ سے ہلنے لگے تھے۔۔اس کے پورے جسم سے پسینہ نکل رہا تھا ۔۔۔مگر اس نے زور لگانا نہیں چھوڑا اور پھر ایک کارٹن لڑھکنے لگا اور پھر دھڑام سے نیچے جا گرا۔۔۔

وہ جیسے ہی ونڈو کے سامنے سے ہٹا تو سورج کی کرنیں اندر آنے لگیں یکدم روشنی پڑنے سے اسکی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔۔پھر اس نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں اور ونڈو سے پار دیکھا تو اسے حالات کی سنگینی کا احساس ہوا ۔۔۔

ہر طرف درخت نظر آ رہے تھے ۔۔۔جسکا مطلب تھا وه کوئی گھنا ، ویران جنگل ہے ۔۔۔آیت نے یہ جگہ پہلے نہیں دیکھی تھی اب اسے صحیح معنوں میں ڈر لگ رہا تھا۔۔وہ سمجھ چکی تھی کہ بری طرح پھنس چکی ہے۔۔

اس لیے اس نے پہلے سے زیادہ کوشش کی اور ایک اور کارٹن گرانے میں کامیاب ہوئی۔۔

کارٹن کافی بڑے تھے اور اب اتنی جگہ بن چکی تھی کہ وہ ونڈو سے باہر نکل سکے۔۔مگر نکلے کیسے۔۔؟؟

ونڈو تو کافی اونچی تھی اور اسے کودنا پڑتا۔۔

ڈر لگ رہا تھا مگر وہاں پرواہ کسے تھی۔۔۔

وہ نیچے پڑے کارٹن پر پاؤں رکھ کر ونڈو میں بیٹھ گئی۔

کالا عبایا مٹی کی وجہ سے سفید لگ رہا تھا پورا حجاب پسینے سے گیلا تھا آنکھوں میں آنسو اور لالی تھی۔۔دماغ میں گھر والوں کی ، اپنی آزادی کی ٹینشن تھی اس لیے اب چھلانگ لگانے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔

اللّہ کا نام لیکر چھلانگ لگاٸی۔۔اور زمین پہ جا گری۔۔نیچے گرتے ہی پاؤں میں موچ آ گئی اور اتنی شدید کہ اسکی آنکھوں سے آنسو نکل آۓ۔

یا اللّہ اتنا امتحان کیوں؟؟

اس نے آسمان کی جانب دیکھا ہی تھا کہ اسے آہٹ محسوس ہوئی۔۔۔

تیز چلتے پھر بھاگتے ہوۓ قدم اسی جانب آ رہے تھے۔۔وہ پاؤں میں درد کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہی تھی۔۔ایک بار اٹھی تو پاؤں نے وزن برداشت نہیں کیا اور وہ دوبارہ گر گئی۔۔۔

پھر وہ پاؤں کو گھسیٹ کر آگے بڑھی اور گھنے پودوں کے پیچھے چھپ گئی۔

وہ ایک حویلی تھی اور اسکی پچھلی سائیڈ پر لان سا بنا ہوا تھا جہاں اب اس نے پناہ لی ہوئی تھی ۔۔۔

قدموں کی آواز قریب آتی گئی اور پھر اچانک رُک گئی ۔۔

اس نے جھانک کر دیکھا تو دو ہٹے کٹے آدمی یونیفارم میں بندوقیں اٹھاۓ اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے وه فوراً سے پیچھے ہو گئی۔ ۔۔۔۔۔

آیت نے آج تو جلدی آنا تھا نہ ؟؟

استعفٰی جو دے رہی ہے۔۔

شاہ صاحب نے نورین بیگم سے پوچھا

ہاں کہا تو تھا اس نے۔۔۔شاید کوئی سواری نہیں ملی ہو گی۔۔

نورین بیگم نے بھی پریشانی سے جواب دیا

تو کال کر کے پتہ کر لیں تسلی تو ہو جاۓ گی۔۔

بشیر شاہ نے مشورہ دیا

کئی بار کال کر چکی ہوں۔۔نمبر نہیں مل رہا۔۔

اچھا کوئی ہو گا مسئلہ۔۔آ جاۓ گی۔۔۔ سمجھدار بچی ہے میری۔۔

وہ ان سے زیادہ شاید خود کو تسلی دے رہے تھے۔۔

پتہ نہیں میرا۔دل بہت گھبرا رہا ہے۔۔اللّہ خیر کرے۔۔

انکی آواز بھرا گئی تھی۔۔

اللّہ ہماری بچی کی حفاظت کریں گے۔۔اور جو چیز اسکی حفاظت میں دے دی جاۓ پھر اسکی فکر نہیں کرتے۔۔اللّہ بہترین محافظ ہے۔۔۔

شاہ صاحب۔نے کہا تو نورین بیگم نے آنسو صاف کرتے ہوۓ اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

ں کوئی نہیں ہے ، چلو۔۔

ایک نے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا

تو آیت نے شکر کا سانس لیا مگر وہ دوسرا ابھی تک گہری نظروں سے اردگرد دیکھ رہا تھا۔۔۔

آیت کو لگا وہ دوبارہ پکڑی جاۓ گی اسکی یہ کوشش ناکام ہو جاۓ گی۔۔تبھی اسے ایک چھوٹا سا پتھر نظر آیا اس نے دھیرے سے اسے اٹھا کر اپنی مخالف سمت میں زور سے پھینکا۔۔

آیت کی طرف انکے بڑھتے قدم رکے اور وہ اسی طرف بھاگے۔۔وہ فوراً سے کھڑی ہوئی اور خارجی دروازہ ڈھونڈنے لگی۔۔

لان کے دائیں طرف اسے دروازہ نظر آیا جسکے دروازے پر ایک چوکیدار آنکھیں بند کیے کرسی سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔

دروازہ بھی بند نہیں تھا وہ تیزی سے قدم جما جما کر رکھتی آگے بڑھی تا کہ آواز پیدا نہ ہو۔۔

وہ دروازے تک پہنچنے ہی والی تھی جب اسکی سانس اٹکی

وہ بھاگ رہی ہے۔۔۔پکڑو اسے۔۔۔

دور سے کسی آدمی کی آواز آئی اور چوکیدار نے اسکی کلائی سے پکڑ لیا جسکا مطلب تھا وہ سو نہیں رہا تھا صرف آنکھیں بند تھیں۔۔۔

تب تک وہ دونوں بھی وہاں آ پہنچے اور اسے گھسیٹ کر دوبارہ اندر لے جانے لگے۔۔۔

مجھے چھوڑ دو پلیز،،

مجھے جانے دو۔۔۔میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔

وہ روتے ہوۓ کہہ رہی تھی اور اپنا ہاتھ آزاد کرانے کی کوشش بھی کر رہی تھی۔۔۔

چپ کرو بی بی،،

ورنہ ہمارے پاس اور بہت طریقے ہیں۔۔

ایک آدمی نے اسکے بازو کو زور سے جھٹکا دے کر کہا

وہ خاموشی سے آنسو بہاتی اور دل میں اللّہ سے مدد مانگ رہی تھی۔۔۔

اب کی بار ان لوگوں نے اسے ایک دوسرے کمرے میں بند کیا جو دوسری منزل پر تھا۔۔۔

انہوں نے اسے پھینکنے کے سے انداز میں دھکا دیا تو وہ دور جا گری۔۔۔اسکے گھٹنے ، ہاتھ سارے چھل چکے تھے۔۔

وہ دروازہ بند کر کے چلے گئے اور وہ گھٹنوں میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔

سر اس لڑکی نے بھاگنے کی کوشش کی ہے۔۔

وہاں دروازے سے پکڑا ہے۔۔

وہ دونوں مسٹر اسد کے دونوں طرف تیزی سے چلے آ رہے تھے جب ایک نے اسے آگاہ کیا تو اسکے قدم تھمے۔۔

کیااااا؟؟

تم لوگ سو رہے تھے؟؟

حرام خورو کس چیز کے پیسے لیتے ہو؟؟

ایک لڑکی نہیں سنبھالی جاتی تم لوگوں سے۔؟؟

وہ دونوں پر چِلا رہا تھا

سر وہ بہت تیز لڑکی ہے۔۔۔

اتنے بھاری کارٹن اس نے کھڑکی کے سامنے سے ہٹا لیے تھے۔۔۔

اب وہ بھیگی بلی بن چکا تھا اور مدھم آواز میں بول رہا تھا

بکواس بند کرو۔۔۔اسے قابو کرنا تم لوگوں کا کام ہے۔۔

چاہے جیسے بھی کرو اگر وہ لڑکی اس قید سے آزاد ہو گئی نا تو پھر تم لوگ بھی دنیا سے آزاد ہو جاؤ گے۔۔۔

اس نے دونوں کو تنبیہہ کی

جب ایک بار میں نے قابو کر لیا تو پھر اسکے پَر کَٹ جائیں گے۔۔پھر وہ کہیں نہیں جاۓ گی۔۔

اس بات پہ وہ خباثت سے مسکراتا ، داڑھی کھجاتا آگے بڑھا۔۔۔