264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 6)

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

ارے واہ آج بڑی چہل پہل ہے گھر میں کوئی آ رہا ہے کیا ؟؟

آیت نے گھر کو معمول سے زیادہ صاف ستھرا پایا اور سب کا موڈ بھی بہت اچھا تھا تو اس نے پوچھا وه ابھی ابھی چینج کر کے باہر آئی تھی ۔۔۔

ہاں جی آج مہمان ہیں ہمارے ۔۔

ثانیہ نے مسکراتے ہوئے کہا

اچھا ؟؟؟

بڑی بات ہے مجھے بھی تو پتا چلے کے کس نے ہم غریبوں کے گھر کا رخ کیا ؟؟

آیت نے بشیر شاہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا

جو صاف ستھرے لباس میں کافی اچھے لگ رہے تھے۔۔

ہاں چل جائے گا پتا ۔۔

انکو آ تو لینے دو ۔۔۔

شاہ صاحب نے کہا تو سب ہنسنے لگے ۔۔۔

آج ان کے گھر عید کا سا سماں تھا سچ کہتے ہیں غریب جس دن پیٹ بھر کر کھانا کھائے یا جس دن وه خوش ہو اسی دن اس کی عید ہوتی ہے ۔۔۔

وه لوگ ایک دوسرے میں ہی مکمل تھے کسی دولت کی انکو ضرورت نہیں تھی ۔۔ماں باپ کیلئے ان کے بچے سب سے بڑی دولت تھے اور اولاد کیلئے والدین ہی ان کی دنیا تھے ۔۔۔

شام تک آیت کو بھی زبردستی نیا جوڑا پہنا کر ہلکا سا میک اپ کرایا گیا آج بہت دنوں بعد وه بھی سب کے ساتھ كِهلكِهلا کر ہنس رہی تھی ۔۔

صبح والی بات تو وه بھول بھال چکی تھی اور اب تک اپنی سالگرہ بھی اسے یاد نہیں آٸی تھی ۔۔

شاہ صاحب اور نورین بیگم بچوں کو خوش دیکھ کر بہت خوش ہو رہے تھے بار بار ان کی آنکھوں میں نمی آ رہی تھی اور وه جلدی سے صاف کر دیتے کے آج کے دن نہیں ۔۔۔

یہی وه موقعے ہوتے جب آیت محسوس کرتی کے زندگی بہت حسین ہے اسے دولت کیلئے کیوں لُٹا دیا جائے ۔۔جتنا اللّه نے دیا اسی میں راضی رہیں اور جو نہیں ہے اس کیلئے تگ و دو کریں مگر موجودہ نعمتوں کا شکر ادا کرنا نہ بھولیں۔۔۔

آیت کو باہر ابو نے باتوں میں لگائے رکھا اور ان تینوں نے مل کر کمرے کو اپنی بساط کے مطابق سجایا۔۔۔

آیت واش روم گئی تو وه لوگ بشیر صاحب کو بھی اندر لے گئے اچانک باہر خاموشی ہوگٸی تو وه جلدی سے باہر آئی کمرے کی بتی بھی بند تھی وه جلدی میں ہاتھ دھو کر اندر کی جانب بھاگی ۔۔

آج وه بہت خوبصورت لگ رہی تھی ہلکا گلابی رنگ اس پر بہت جچ رہا تھا ساتھ لمبے کالے بال کھلے تھے اور ہلکے سے میک اپ میں وہ بَلا کی حسین لگ رہی تھی۔۔جب مسکراتی تو سامنے والے کا دل ایک بار تو دھڑکنا بھول جاتا۔۔۔

ابھی اس نے پہلا قدم اندر رکھا ہی تھا کے وه اندھیرا فوراً سے روشنی میں تبدیل ہو گیا انہوں نے لائٹ جلا دی تھی اور ایک ساتھ سب کی آواز گونجی

Happy birthday to you

سب مسکرا کر اسے مبارک دے رہے تھے اور وه خوش گوار حیرت سے منہ کھولے سب کچھ دیکھ رہی تھی ۔۔

آج کمرے کو دیکھ کر لگ ہی نہیں رہا تھا کے یہ وہی چھوٹا سا کمرہ ہے ۔۔

بہت صاف ستھرا , غباروں سے سجا ہوا ، سامنے پلاسٹک کی میز پر چھوٹا سا کپڑا بچھا کر کیک رکھا ہوا تھا۔۔آس پاس سرخ گلاب کی پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور کیک پر چھوٹی چھوٹی سی موم بتیاں جل کر جیسے انکی اندھیری زندگی میں روشنی کر رہی تھیں۔۔۔

آیت بھاگ کر سب کے گلے لگی ، پیار کیا ، آنکھیں بھی برسی مگر یہ خوشی کے آنسو تھے اسلئے انہیں بہا دیا گیا ۔۔۔

پھر انہوں نے مل کر بہت مزہ کیا کیک کاٹا ، آیت کی پسند کا کھانا تھا جو سب نے رغبت سے کھایا ۔۔

انہیں دیکھ کر ہر جاگیر دار بھی اپنی جاگیریں لٹا دیتا کیونکہ ایسا لگتا تھا کے اسی کچے مکان میں ہی زندگی کا لطف ہے ۔۔۔

بڑے محل نما گھروں میں تو زندگی پھیکی ہے۔۔بس اس ایک کمرے کے مکان۔میں زندگی حسین تھی ، مکمل تھی۔۔۔ہر سال اس ایک دن کی چھوٹی سی تقریب آیت کو اتنی انرجی مہیا کرتی تھی کہ وہ سارا سال بنا تھکے محنت کر سکتی تھی۔۔

کسی اضافی رشتے کی فلحال انکی زندگی میں کوئی جگہ نہیں تھی اور شاید اسی لئے وہاں معمولی رقم سے بھی وه سکون ملتا تھا جو قسمت والوں کو ملتا ہے ۔۔۔

آزمائشیں تو سبھی پر آتی ہیں اور کوئی کوئی ان پر کھرا اترتا ہے ابھی تک تو ہر آزمائش پر کھرے اترے تھے لیکن ابھی سب سے بڑی آزمائش کا سامنا کرنا باقی تھا ۔۔۔۔

وقت بہت تیزی سے گزرتا ہے اور یہی اسکی عادت بہت اچھی ہے ۔۔لیکن جب کوئی کسی وقت کے گزر جانے کا انتظار کرنے لگتا ہے تو یہی وقت کچھوے کی سپیڈ پکڑ لیتا ہے ۔۔۔

کم از کم انتظار کرنے والے کو ایسا ہی لگتا ہے ۔۔۔اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا ہر رات سونے سے پہلے دن گِن کر سوتی تھی اور ہر صبح پھر سے گِنتی تھی ایسا لگتا تھا وقت تھم گیا ہے ۔۔۔

ان تین ماہ میں اسد آفندی نے بہت کوشش کی اسے ٹریپ کرنے کی ، لالچ دینے کی۔۔مگر اس نے حامی نہیں بھری۔۔

بھرتی بھی کیسے ؟؟

وہ حامی بھر ہی نہیں سکتی تھی۔۔۔

اس دوران وہ کئی جگہوں پر اپلائی کر چکی تھی مگر کہیں بھی کام نہیں ملا ۔۔

اسد صاحب جیسے ہی لوگ کام دینے کو تیار تھے اور جو ان جیسے نہیں تھے وہاں کوئی کام نہیں تھا ۔۔۔

وه مایوس تھی ، ابھی کام چھوڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھی مگر اب یہاں مزید کام نہیں کر سکتی تھی آج اسکا اس جہنم میں آخری دن تھا تین ماہ پورے ہو۔ چکے تھے ۔۔۔۔

اس لئے آج وه بہت ہلکا محسوس کر رہی تھی ۔۔صبح سویرے ہی وه اپنا استعفیٰ دے کر ، تنخواہ لے کر آفس سے نکل آئی تھی ۔۔۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے آج کوئی ٹریفک ہے ہی نہیں۔۔وہ فُٹ پاتھ پر چلنے لگی ۔۔مگر دُور دُور تک کوئی ٹیکسی نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔

وہ چلتے چلتے کافی آگے نکل آئی تھی۔۔مگر ابھی بھی بہت فاصلہ تھا گھر پہنچنے کو۔۔کچھ دور اور چلنے کے بعد اسے محسوس ہوا کہ کوئی غیر محسوس انداز میں اسکے پیچھے چل رہا ہے مگر اس نے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔

وہ ڈر گئی تھی اس لیے سیدھی چلتی رہی مگر تھوڑی قدموں کی سپیڈ بڑھا لی۔۔۔اس آدمی نے بھی تیز قدم اٹھانے شروع کر دیے۔۔اسے ایسا لگا کہ وہ آدمی بالکل سر پر پہنچ گیا ہے اس لیے آیت نے بے اختیار ہی گردن پیچھے مُڑی اور اس نے ایک رومال آیت کے منہ پر رکھ دیا ۔۔۔

اس نے ہاتھ پیر مار کر خود کو آزاد کرانے کی کوشش کی مگر یہ کوشش آہستہ آہستہ کم ہوئی اور پھر ختم ہوگئی ۔۔وه اس آدمی کی بانہوں میں جھول گئی ۔۔۔اسکی آنکھیں بند ہو چکی تھیں۔ ۔۔

روڈ پر ایک گاڑی آئی اور وه لوگ آیت کو اس کے اندر ڈال کے گاڑی بھگا لے گئے ۔۔۔وه جگہ اتنی آبادی والی نہیں تھی اسی لئے کسی کی نظر بھی نہ پڑی ۔۔۔

اس نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں مگر وه کھل نہیں رہی تھیں۔ ۔ایسا لگ رہا تھا جیسے سر اور آنکھوں پر بہت وزن ہے ۔۔۔

کچھ دیر کوشش کرتے رہنے کے بعد آنکھ کھل گئی مگر اندھیرے میں کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔۔

اس نے آنکھوں کو مَسلتے ہوۓ کوشش کی دیکھنے کی مگر بے سود۔۔۔

پھر اس نے اپنے جسم کو چھوا وہ ویسے ہی عبایا میں تھی۔۔پرس بھی گلے میں لٹک رہا تھا لیپ ٹاپ وہ واپس کر کے آ رہی تھی پھر بچا موبائل ۔۔۔

ہاں موبائل ۔۔۔اس نے عبایا کے اوپر سے ہاتھ لگایا تو اسے محسوس ہوا کے موبائل بھی اس کے پاس ہے ۔۔۔

وه ہمیشہ موبائل کو عبایا کے اندر قمیض پر پاکٹ سی بنا کر اس میں رکھتی تھی اور وه بھی کسی چھوٹے کپڑے میں لپیٹ کر تا کے اگر کبھی کچھ ایسا ہو۔ بھی جائے تو تلاشی لینے والے کو لگے کے یہ کپڑے ہی ہیں اور آ ج ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔

اس نے جلدی سے موبائل نکال کر ٹارچ آن کی تو اس نے دیکھا کہ وہ نہایت ہی کسی گندے کمرے میں بند ہے جیسے کوئی سٹور روم ہو۔۔۔

اسکے سر کے پچھلے حصے سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں اور چکر بھی آ رہے تھے۔۔۔ہر طرف ٹوٹا پھوٹا فرنیچر اور بڑے بڑے سے کارٹن پڑے تھے جو بالکل ونڈو کے سامنے لگاۓ گئے تھے۔۔۔شاید اس طرف کا راستہ بند کرنے کیلیے۔۔۔

پھر اسے خیال ہوا کہ کیا وقت ہو گا موبائل پر دیکھا تو بارہ بج رہے تھے مطلب وہ دو گھنٹے تک بے ہوش رہی۔۔

گھر کال کرنے کا سوچا تو نیٹ ورک غائب ۔۔۔

بہت بار کوشش کی مگر کامیابی نہیں ہوئی۔۔بلآخر اس نے ایک میسج چھوڑ دیا

مجھے آنے میں دیر ہو جاۓ گی اس لیے پریشان۔نہ ہونا۔۔۔ کہ کبھی تو نیٹ ورک آۓ گا اور میسج چلا جاۓ گا۔۔۔

بہت دیر سوچنے کے بعد اس نے ونڈو والا راستہ صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔۔

موبائل کو سائلینٹ کر کے دوبارہ اسی پوزیشن میں اپنی پرانی جگہ رکھا لائٹ بند۔ہونے سے دوبارہ اندھیرا ہو گیا تھا مگر اب وہ ونڈو کے قریب تھی۔۔اس نے كارٹن کو دھکیلنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ وہ کتنے بھاری ہیں۔۔وہ کم از کم آیت سے تو ہلنے والے نہیں تھے۔۔۔

اگر ہلکے رکھنے ہوتے تو وہ لوگ یہاں رکھتے ہی کیوں؟؟

پھر اس نے رُک کر سوچا کہ ہر چیز صحیح سلامت ہے نہ پرس لیا گیا ، نہ موبائل تو مطلب اس وجہ سے تو کسی نے اغوا نہیں کیا۔۔۔

پھر کس لیے؟؟

کہیں مسٹر اسد نے تو نہیں۔۔؟؟

اس سے آگے وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور نہ سوچنا چاہتی تھی۔۔۔

پریشانی سے متلی ہونے لگ گئی تھی۔۔۔

یا اللّه مجھے بچا لے۔ ۔میری عزت کو محفوظ رکھنا ۔۔۔

یا اللّه پلیز میری مدد کر ۔۔۔وہاں موت کا خوف نہیں تھا صرف اپنی عصمت کی فکر تھی ۔۔

آنسو اسکی آنکھوں سے ٹوٹ کر گرنے لگے ۔۔اس اندھیرے میں ایسی گھٹن ہو رہی تھی جیسے کسی زِندان میں قید ہو گئی ہو۔ ۔۔۔

فلحال اسے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا تھا مگر ہمت بھی نہیں هارنی تھی ۔۔۔۔