Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 4)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 4)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
وه دس بجے ہی آفس سے نکل آٸی تھی اسکا دماغ خطرے کا الارم بجا رہا تھا مگر وه اس پر توجہ نہیں دے رہی تھی ۔۔
راستے میں بازار سے اس نے گھر کا سارا سامان لے لیا جس کی لسٹ اس نے اپنے پاس رکھی ہوٸی تھی ۔۔اس سب میں اسے ایک گھنٹہ لگا ہوگا ۔۔
جب گھر آئی تو سب حیران ہوئے کے اتنے جلدی کیوں آ گئی ۔۔آیت نے پارٹی کا بتایا تو امی ابو کو بھی تشویش ہوٸی کیوں کے رات کے فنکشن کی وه عادی نہیں تھی ۔۔
سب آفس کے لوگ ہوں گے ، باہر کا کوئی نئی ہوگا اور رات 9 بجے تک میں واپس بھی آ جاؤں گی ۔۔
آیت نے یہ کہ کر سب کو مطمئن کیا تھا بلکہ مطمئن کرنے کی کوشش کی تھی مگر اطمینان کسی کو بھی نئی ہوا تھا ۔۔۔
کچھ تو تھا جو بہت غلط تھا۔ ۔
مگر آیت کو خود پر اور اپنے اللّه پر بھروسہ تھا وه سمجھتی تھی ایسے کسی بھی معاملے کیلئے وه اکیلی کافی ہے ۔۔۔
فنکشن کیلئے اس نے کوئی خاص تیاری نہیں کی تھی کیوں کے عبایا میں ہی جانا تھا اور ویسے بھی گھر کے اخراجات کے بعد جو معمولی رقم بچتی تھی اس سے پورا مہینہ چلانا ہوتا تھا ۔۔
مسٹر اسد نے جان بوجھ کر اسکی تنخواہ کم رکھی ہوٸی تھی کیوں کے وه ضرورت مند تھی کچھ بھی ہوتا وه نوکری نہیں چھوڑ سکتی تھی اور وه اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی کا غلط استمال چاہتا تھا ۔۔
لیکن وہاں کوئی تھا جو اسد آفندی کے ناپاک ارادوں سے واقف تھا اور کٸی بار آیت کی چھپ کر مدد بھی کر چکا تھا مگر کون تھا وه جس کے وجود سے سب ہی نہ واقف تھے ۔۔
شاید اللّه کی طرف سے بھیجا گیا مدد گار تھا ۔۔وه کہتے ہیں نہ جس کا کوئی نہیں ہوتا اسکا اللّه ہوتا ہے ۔۔
اور جسکا اللّه ہو پھر اسے کسی کی طلب نہیں رہتی ۔۔۔
ارے آیت کم از کم آج تو عبایا پہن کر نہ آتی یار ،
خاص تمہارے لئے فنکشن رکھا گیا ہے جب اسٹیج پر جاٶ گی تو کتنا عجیب لگے گا ۔۔
اسکی ایک كولیگ نے اسے دیکھتے ہی کہا تھا ۔۔
مگر آیت نے صرف مسکرانے پر اكتفا کیا کیوں کے ایسے تبصرے وہ اکثر سنتی رہتی تھی۔۔
اسکا نقاب میں بھی چہرہ دمک رہا تھا یہ شاید اسکی پاکیزگی کی وجہ سے اس پر اتنا نکھار آتا تھا ۔۔
آیت نے اسٹیج پر جانے سے پہلے تصویریں لینے سے منع کیا تھا اور اس ایک مدد گار نے نا معلوم انداز میں اس بات کا دھیان بھی رکھا کے کسی کیمرے میں اسکی تصویر نہ ہو مگر کچھ تھا جو اس سے بھی چھوٹ گیا تھا ۔۔۔
آیت کو اس شہر کے سب سے بڑے بزنس مین نے اپنے ہاتھ سے ٹرافی دی تھی۔۔سب نے خوب تالیاں بجا کر اسے داد پیش کی تھی۔۔باہر سے صرف وہ اور چند کیمرہ مین ہی آۓ تھے.
ایک گھنٹے کے اندر تقریب ختم ہو گئی تھی۔۔اسکے بعد کھانے کا انتظام کیا گیا تمام لیڈیز کی جگہ الگ بنائی گئی تھی۔ اس لیے مدد گار وہاں نہ پہنچ سکا مگر شیطان پہنچ گیا تھا۔۔
آیت نے سب کے ساتھ مل کر کھانا کھایا ہنسی مذاق بھی چلتا رہا پھر وه سب سے پہلے باس کا شکریہ ادا کرتی وہاں سے نکل گئی ۔۔
اس نے شکر ادا کیا تھا کے اسکا ڈر غلط ثابت ہوا اور سب کچھ اچھے سے ہو گیا مگر کاش کے ایسا ہی ہوا ہوتا ۔۔
کل آیت کی سالگرہ ہے تو میں سوچ رہی تھی کے اس کیلئے ایک چھوٹا سا کیک لے لیں اور اچھا سا کھانا پکا لیں وه کتنی خوش ہو جائے گی ۔۔
نورین بیگم نے کہا
رات کے اس وقت سب اپنی اپنی رضائی میں گھس کر بیٹھے تھے ۔۔شایان سو چکا تھا وه سب بھی بس آیت کے انتظار میں بیٹھے تھے سب پریشان سے تھے تو انہوں نے ماحول کو نارمل کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
ہاں مجھے تو یاد نہیں تھا ہر وقت وه بیچاری پریشان رہتی ہے اس بہانے خوش ہو جائے گی ۔۔
بشیر صاحب نے کہا
ہاں یہی چھوٹی چھوٹی خوشیاں تو ہوتی ہیں ہم غریبوں کے پاس تو انہیں کیوں جانے دیں ۔۔
نورین بیگم نے کہا
اور ہم آپی کو نہیں بتائیں گے ، اچانک دیکھ کر وہ زیادہ خوش ہونگی۔۔کچھ پیسے میں نے بھی جمع کر کے رکھے ہوۓ ہیں ان سے غبارے اور موم بتیاں لے لیں گے۔۔
کب سے خاموش بیٹھی ثانیہ نے کہا
اچھا ٹھیک ہے پھر کل فرید کے لڑکے کو پیسے دے کر سب کچھ منگوا لیں گے کل اسکے ڈیوٹی سے واپس آنے کے بعد کریں گے سب کچھ۔۔
سب اس کی خوشی کا سوچ کر بہت خوش ہو رہے تھے۔
تبھی دروازے کی آواز آئی تو انہوں نے موضوع بدلا تا کہ ابھی آیت کو پتہ نہ چلے اور جو اسکے ساتھ ہونیوالا تھا اس سے تو اسے سالگرہ یاد بھی نہیں رہنی تھی۔۔
گھر آ کر اس نے سب کو خوش ہو کر ٹرافی دکھائی اور پارٹی سے متعلق ہر ایک بات بتائی وه ایسی ہی تھی کچھ بھی نہ چھپا کر رکھنے والی ۔۔
مگر جس بات سے کسی کو تکلیف پہنچنے کا خدشہ ہو اسے ہمیشہ چھپا کر رکھتی تھی ۔۔ایک گھنٹے کے بعد اسکی تفصیلات ختم ہوئیں تو سب سونے کیلئے لیٹ گئے ۔۔
وه اور ثانیہ ایک ساتھ سوتے تھے کیوں کے کمرہ ایک تھا تو جگہ کم پڑتی تھی ۔۔وه بھی لیٹ تو گئی مگر نیند نہیں آ رہی تھی عجیب طرح سے اسکا دل گھبرا رہا تھا ۔۔
وه بار بار کروٹ بدل رہی تھی اتنی ٹھنڈ میں بھی اسے ٹھنڈ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔۔اچانک اسکا موبائل بجا
واٹس ایپ کھولو۔۔
ایک میسج اسد آفندی کے نمبر سے تھا۔
اسکے ہاتھ کانپنے لگے تھے کہ اس وقت ایسا میسج کیوں؟
واٹس ایپ کھولتے ہی اسکا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔۔
اسکی آنکھیں پھیل گئی تھیں۔۔وہ بس موبائل کی سکرین کو گھورے جا رہی تھی۔۔
مسٹر اسد کی واٹس ایپ سے آیت کی تصویریں بھیجی گئی تھیں اسٹیج والی بھی اور کھانا کھاتے ہوئے ، ہنستے ہوئے صرف اسی کو فوکس کیا گیا تھا ۔۔
وه پریشانی کے عالم میں کسی روبوٹ کی طرح چلتی ہوئی کمرے سے باہر آ گئی۔۔
یہ آپ کی پاک دامنی کا تحفہ میری طرف سے۔
اسی کی وجہ سے تم نے اسد آفندی کو انکار کیا تھا نہ تو اس پر انعام تو بنتا ہے ۔۔
یہ اس نے میسج بھیجا تھا اسکی باتوں سے غرور ٹپک رہا تھا اور غرور کا سر تو ہمیشہ نیچا ہوتا ہے ۔۔
آیت میں فلحال نہ رونے کی سکت تھی نہ کچھ کہنے کی وه چپ چاپ اپنی تصویروں کو دیکھے جا رہی تھی ۔
اور ہاں جانِ من ، کل تک کا وقت ہے تمہارے پاس اگر میری بات مان لو تو ٹھیک ہے خوش رہو گی،
ورنہ تمہاری خوبصورتی کا چرچا پوری دنیا دیکھے گی اور تم پھر کہیں کی نہیں رہو گی۔۔
یہ اس نے وائس میسج بھیجا تھا اور آخر میں زوردار قہقہہ لگایا تھا۔۔اس کی آواز سے لگ رہا تھا کہ اس نے نشہ کر رکھا ہے۔۔
آج خوبصورت بہت لگ رہی تھی میں چاہتا تو تمہیں روک سکتا تھا مگر میں چاہتا ہوں تم خود چل کر میرے پاس آؤ۔۔آخر کو تمہیں بھی تو پتہ چلے کہ اسد آفندی کس بلا کو کہتے ہیں۔۔
وه خباثت سے نشے میں ڈوبی آواز میں کہہ رہا تھا۔۔
آیت کی آنکھ سے دو آنسو ٹوٹ کر گرے تو اسکا سکتہ بھی ٹوٹا
اس نے فوراً واٹس ایپ آف کر دیا اور دونوں ہاتھوں میں منہ چھپاۓ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔
کچھ دیر روتے رہنے کے بعد اس نے وضو کیا اور جاۓ نماز لے کر باہر صحن میں آ گئی۔۔
ابو دوائی کھا کر سوتے تو رات کو کم ہی جاگتے تھے اور باقی سب بھی گہری نیند سو رہے تھے۔۔
اس نے حاجت کے نفل ادا کیے اور دعا کیلیے ہاتھ اٹھاۓ۔۔
اسکی آنکھوں سے سیلاب جاری تھا ابھی وہ کچھ بھی مانگ نہیں رہی تھی مگر وہ عظیم رب تو خاموشیاں بھی سن لیتا ہے اس نے بھیگی پلکوں سے آسمان کی جانب دیکھا۔۔
