Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 2)
Rate this Novel
Sirat-E-Mustaqeem (Episode 2)
Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas
امی آپ فکر نہ کریں آج يكم ہے تو آج تنخواہ بھی مل جائے گی ۔۔
وه آتے ہوئے اپنی ماں کو تسلی دے کر آٸی تھی اور اب آفس میں بیٹھی یہی بات سوچ رہی تھی کے آٸمہ کی پھر کال آنے لگی
السلام و علیکم ۔۔کیسی ہو آئمہ ؟؟
اس نے خوش دلی سے پوچھا
وعلیکم سلام ۔۔
ٹھیک نہیں ہوں یار
دوسری طرف سے مایوس آواز ابھری
کیوں کیا ہوا؟؟
آیت نے فکر مندی سے پوچھا
یار مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں سب کچھ جتنا ٹھیک کرنے کی کوشش کرتی ہوں سب اتنا ہی الٹا ہو جاتا ہے۔۔
وہ پریشانی سے بتا رہی تھی جبکہ آیت خاموشی سے سن رہی تھی۔
تمہیں میں نے ایک بار عمر کے بارے میں بتایا تھا ، اسکے متعلق میں نے گھر بھی بات کر لی ہے مگر اسکی عجیب ہی ضد ہے۔۔
کیسی ضد؟؟
آیت نے یہاں اسے ٹوک کر پوچھا
وہ چاہتا ہے کہ کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے پہلے ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہو گا اور اسکے لیے ہمیں ملنا پڑے گا۔۔
وہ مدھم آواز میں بولی
کیااا؟؟
سمجھنے کیلیے اتنا عرصہ کافی نہیں تھا جتنا تم دونوں نے بات کرتے گزارا؟؟
آیت کی تیوری چڑھ گئی تھی
نہیں وہ کہتا بات کرنے کے علاوہ بھی بہت سی چیزیں ہوتی ہیں جو سمجھنی ضروری ہیں جب تکآمنے سامنے بیٹھ کر بات نہیں ہوتی تب تک میں گھر والوں کو نہیں بھیج سکتا۔۔
ابھی بھی اسکی آواز مدھم تھی
اوہ گاڈ!!
تمہیں یاد ہے آئمہ ایک بار میں نے تم سے یہی بات کی تھی کہ کسی انجان نمبر والے انجان بندے کے چکر میں مت پڑو وہ کبھی تمہارے ساتھ مخلص نہیں ہو گا۔۔
مگر تم نے میری بات کو مذاق میں اڑا دیا تھا اور اب دیکھو۔
آیت نے کرسی کی بیک سے ٹیک لگائے آنکھیں موند لیں تھیں۔۔
نہیں یار وہ مجھ سے پیار کرتا ہے اور اب وہ ناراض ہے کہ میں اس پہ ٹرسٹ نہیں کرتی تبھی ملنے سے انکار کر رہی ہوں۔۔
اوہ پلیز ، اپنی آنکھوں سے یہ پیار کی پٹی اتار پھینکو۔۔
تبھی تمہیں سب صاف دکھائی دے گا۔آئمہ اپنے لیے کسی ایسے ساتھی کا انتخاب کرو جو تم سے صرف اپنے نفس کی تسکین نہ چاہتا ہو بلکہ وہ تم سے زندگی میں سکون چاہتا ہو۔۔
آیت پہلے غصے سے پھر پیار سے بولی
تو کیا سچ میں وہ مجھ سے پیار نہیں کرتا۔؟؟
آئمہ کی باتوں سے دکھ صاف جھلک رہا تھا
میں یہ نہیں کہہ رہی مگر تم اس سے ملنے سے انکار کرو گی اور وہ تم سے شادی سے انکار کر دے گا تو اسکا کیا مطلب ہوا۔۔؟؟
آیت اسکی ہاں میں ہاں ملا کر اسکا دل نہیں توڑنا چاہتی تھی کہ وہ لڑکا اس سے پیار نہیں کرتا۔۔
پہلے خود کو سنبھالو اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو کہ تم کسی کل کے آۓ لڑکے کے پیچھے اپنی بائیس سال سے سنبھالی عزت کو خاک کر سکتی ہو؟؟
میں یہ نہیں کہتی کہ ہر ملاقات یا ہر ملنے والا ہی غلط ہو مگر کسی نا محرم شخص سے اکیلےمیں ملاقات غلط نہیں ، گناہ ہے۔۔
Think about it..
ابھی وقت ہے سوچ لو اور پھر فیصلہ کرو۔۔
آیت نے بہت نرمی سے سمجھایا اسکی اسی سمجھداری کی وجہ سے وہ اپنی دوستوں میں ہر کسی کیلیے عزیز تھی اور وہ ایسی کئی باتوں کیلیے آیت سے ہی مشورہ لیتی تھیں۔۔۔
چند دوسری باتوں کے بعد کال منقطع ہو گئی۔۔
کسی لڑکے سے بات اور پھر اس سے ملنے جانا۔۔
لا حول ولا قوة۔۔
میں تو ایسا کچھ کرنے سے پہلے مر جاؤں گی۔۔
آیت کو یہ سوچ کر ہی جھر جھری آ گئی تھی۔۔
لیکن ایسا ضروری نہیں نہ کہ جو سوچ ایک وقت میں آپ کے لیے نا قابلِ قبول ہو وہ ہمیشہ ہی ایسی رہے کبھی کبھی انسان دھوکہ کھا جاتا ہے اور دنیا کی رنگینیوں میں کھو کر اندھا ہو جاتا ہے۔۔
یار یہ عجیب لڑکی ہے ۔۔اس کے گھر اتنی غربت ہے کے کبھی کبھی دو وقت کی روٹی بھی نہیں ملتی اور میں نے اسکو کئی بار گھر ، گاڑی تک آفر کی ہے مگر یہ ٹس سے مس نہیں ہوتی۔۔
الٹا جو ہم نے اسے موبائل اور لیپ ٹاپ لے کر دیا ہوا ہے یہ اسکی بھی قسطیں ادا کر رہی ہے۔۔
اسد آفندی اپنے دوست سے بات کر رہا تھا جو اسکی سامنے والی کرسی پر براجمان تھا۔۔
تیرے پاس تو کتنے طریقے ہیں۔
کتنی لڑکیوں کو تو اپنی لائن پر لا چکا ہے تو یہ کیا چیز ہے؟؟
جبکہ اسکے پیچھے تو کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔۔
اس نے آفندی کو مزید شہہ دی۔۔
ہمم ۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر میں اسکا یہ پاک دامنی کا بھرم توڑنا چاہتا ہوں۔
یہ جس بنا پہ اتنا اکڑتی ہے اسے اسی جگہ سے توڑ دینا چاہتا ہوں۔۔
اور تب یہ خود چل کر میرے پاس آۓ گی۔۔
اس نے ہاتھوں کو آپس میں مضبوطی سے بھینچتے ہوۓ کہا
تو اس کےلیے میرے پاس ایک آئیڈیا ہے ۔۔
صائم نے شیطانی مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوۓ کہا اور پھر وہ دونوں اپنے شیطانی عزائم کو پورا کرنے کیلیے پلان ترتیب دینے لگے۔۔
کیا ہوا آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے ؟؟آج صبح سے آپ بہت خاموش ہیں؟؟
نورین بیگم نے بشیر شاہ سے پوچھا
آیت کی ماں مجھے اپنی بچیوں کی فکر ہوتی ہے۔۔خاص طور پر آیت کی۔۔
اس پر بہت ذمہ داری آ گئی ہے۔۔سارا دن باہر رہتی ہے پتہ نہیں کیسے کیسے حالات کا سامنا کرتی ہو گی میری بچی۔۔
انکی باتوں میں، آنکھوں میں پریشانی واضح دیکھی جا سکتی تھی۔۔
ہاں یہ بات تو ہے لیکن ہماری بچی بہت بہادر ہے وه ہر مشکل حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے ۔۔
بس دعا کیا کریں کہ ہمارے بچے کبھی سیدھی راہ سے نہ بھٹکیں۔۔
وہ خود بھی افسردہ تھیں مگر انہوں نے شاہ صاحب کو تسلی دی۔۔
ہاں آمین۔۔
کتنا وقت ہے ابھی آیت کے آنے میں؟؟
بس آتی ہو گی۔۔آج پڑوس سے دو سو روپے ادھار لے کر آپ کی دوا لی تھی۔۔
آج آیت کو تنخواہ مل گئی ہو گی تو راشن بھی لے لیں گے اور آپکی دوا بھی۔۔
انہوں نے شاہ صاحب کو دوائی اور پانی کا گلاس دیتےہوۓ کہا
ہاں انشا اللّہ ۔۔
اللّہ ہماری مشکلات آسان کرے۔۔
انہوں نے دوا لی۔۔
دعا کی اور دوبارہ لیٹ گئے۔۔
ادھر سے دروازہ بجنے کی آواز آئی۔۔
شایان بھاگ کر دروازے کی طرف گیا۔۔
دروازہ کھولا تو آیت کو دیکھ کر اس سے لپٹ گیا۔۔
مگر آج آیت پہلے کی طرح ہشاش نہیں تھی اور یہ اسکے امی ابو نے دیکھتے ہی محسوس کیا تھا۔۔۔
