Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas Readelle 50383 Sirat-E-Mustaqeem (Episode 17) 2nd Last Episode

264.1K
18

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Sirat-E-Mustaqeem (Episode 17) 2nd Last Episode

Sirat-E-Mustaqeem By Shumaila Abbas

گاڑی یہاں کیوں روک رہے ہو ۔۔۔؟؟

بخاری صاحب نے اپنی ہی گلی میں دو گھر چھوڑ کر رکتی گاڑی دیکھ کے ڈرائیور سے پوچھا

عفان سر نے یہیں کا بولا تھا ۔۔۔۔

اس نے پیچھے مڑ کر انھیں بتایا

کیا ۔۔؟؟

تمہیں اچھے سے یاد ہے کے عفان نے ادھر کا ہی کہا تھا ؟؟

وه بہت حیران تھے ۔۔۔

وه سوچ رہے تھے کے پہلے تو عفان کی بتائی جگہ پہ جانا تھا ۔۔۔۔جو میں نے لڑکی کہی تھی وه تو بعد میں دیکھنی تھی تو عفان نے یہاں کا کیوں کہا ؟؟

جی سر اچھے سے یاد ہے ۔۔۔انہوں نے یہی گھر بتایا تھا

اتنا بڑا اتفاق کیسے ہو سکتا ہے کے عفان بھی اسی کو پسند کرے جس کا میں نے کہا ۔۔۔۔؟؟

کہیں عفان جان تو نہیں گیا کے میں اِسی کے بارے میں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔؟؟؟

مگر کیسے ؟؟؟؟

کیا ہوا ۔۔؟؟

یہاں نہیں رکنا کیا ؟؟

رقیہ بیگم نے انہیں اپنے خیالوں میں گم پایا تو وہ بولیں

نہیں۔۔۔۔ایک منٹ۔۔۔۔

وہ انکے بولنے پر چونکے پھر موبائل نکالنے لگے۔۔۔۔

انہوں نے کوئی نمبر ملایا اور فون کان سے لگا لیا

ڈرائیور نے گاڑی گلی کے ایک طرف لگا دی ، رقیہ بیگم نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں۔۔۔انہوں نے بخاری صاحب کو ڈسٹرب نہیں کیا

ہیلو ، عفان بیٹا بزی تو نہیں ہو۔۔؟؟

دوسری ہی بیل پہ کال اٹھا لی گئی تھی۔۔۔

نہیں پاپا بولیں۔۔۔۔

اسکی آواز سے لگا تھا کہ وہ مصروف ہے۔۔۔

تم نے بشیر شاہ کے گھر جانے کا کہا تھا۔۔؟؟

وه آنکھیں سکیڑے ، دھڑکتے دل کے ساتھ جواب کے منتظر تھے۔۔۔اس وقت وہ چاہ رہے تھے کہ سوال سے پہلے ہی جواب مل جاۓ اور وہ بھی ہاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔

جی پاپا۔۔۔۔۔

انکا جواب سننا تھا کہ ان کے چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیل گئی۔۔مگر اگلے ہی لمحے وہ مسکراہٹ غائب ہوئی اور اسکی جگہ سختی نے لے لی۔۔۔

تم فوراً سے پہنچو ذرا وہاں۔۔۔۔

انہوں نے سختی سے کہا

کیا ہوا پاپا۔۔۔؟؟

وہ ڈر سا گیا تھا اور مدھم آواز میں بولا

میں نے کہا نا یہیں آؤ۔۔۔۔

آؤ تو بات ہو گی۔۔۔۔

یہ کہہ کر انہوں نے کال کاٹ دی۔۔۔۔

رقیہ بیگم حیرت سے انکی طرف دیکھنے لگیں۔۔۔۔

چلو اندر چلتے ہیں۔۔۔۔

وہ یہ کہہ کر گاڑی سے اترنے لگے۔۔۔وہ بھی انکے پیچھے گاڑی سے باہر نکلی تھیں۔۔۔

میں سوچ رہی تھی کے اتنے امیر گھر میں آیت کا رشتہ کر دیں ۔۔۔۔؟؟

تو ایسے ۔۔۔۔۔ہی ۔۔بس دل ڈر رہا تھا ۔۔۔۔

نورین بیگم نے اپنا خدشہ ظاہر کیا

نہیں آیت کی ماں ، یہ اُن امیروں جیسے نہیں ہیں جو غریب کی بیٹی کو لُوٹ کا مال سمجھتے ہیں ۔۔۔۔

بھت اچھے لوگ ہیں ۔۔۔۔

عفان خود بہت اچھا بچہ ہے ۔۔۔۔میری تو بہت پہلے سے یہی خواھش تھی اور اب بخاری صاحب نے کہا تو مجھے بہت خوشی ہوئی ۔۔۔

وه واقع بہت خوش لگ رہے تھے ۔۔۔۔

آیت دروازے کی اوٹ میں کھڑی انکی باتیں سنتی مسکرا رہی تھی ۔۔۔۔

ادھر عفان کی تو جان پہ بنی تھی ۔۔۔وه گاڑی بھگا کے آ رہا تھا ۔۔۔۔پیشانی سے بار بار پسینہ صاف کرتا کے جانے کیا ہو گیا پاپا کو ۔۔۔۔؟؟

امی ابو بیٹھے یہی باتیں کر رہے تھے کے دروازہ بجا ۔۔۔

شایان نے بھاگ کر دروازہ کھولا تو سامنے عفان کے والدین تھے ۔۔۔۔

وه مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے تو شایان نے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔

شاہ صاحب تو کھڑے نہیں ہو سکتے تھے نورین بیگم نے کھڑے ہو کر انکا استقبال کیا ۔۔۔۔

آنے والے بھی اور بیٹھے ہوئے دونوں ہی بہت پر تپاكی سے ایک دوسرے کو ملے ۔۔۔۔۔

اتنی محبت اور خوشی سے رشتے بھی قسمت والوں کے جڑتے ہیں ۔۔۔۔

آیت آج خوش تھی اور کتنی وه یہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔۔۔ہلکے فیروزی رنگ کا شلوار قمیض اس نے زیب تن کر رکھا تھا۔۔۔مسکراہٹ اسکے لبوں سے جدا نہیں ہو رہی تھی۔۔۔۔

وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے سراپے کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔

ماتھے پہ تھوڑے سے بال آگے کو نکالے ، باقی چھوٹا سا پف بناۓ ۔۔۔۔نیچے لمبے بالوں کی ڈھیلی سی چٹیا بنا لی تھی۔۔۔۔

گہری کالی آنکھوں میں کاجل لگاۓ اور ہلکی سی نیچرل پنک لپ اسٹک سے وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔۔۔

وہ دوپٹہ سر پہ لے رہی تھی جب اسے ٹھوکر لگی اور وہ گرتے گرتے بچی۔۔۔۔

یا اللّہ خیر۔۔۔۔اسکا دل بھی ڈوب کر ابھرا تھا۔۔۔۔

یار تم لوگ مجھے بار بار ڈسٹرب مت کرو۔۔۔۔میں ابھی بہت بزی ہوں۔۔۔۔

عفان نے فون پہ یہ بات کر کے اسے ساتھ والی سیٹ پر اچھالا تھا۔۔۔

اور اچانک گاڑی کا ٹائر کسی گڑھے میں جا لگا اور اسکا سر سٹئیرنگ پر لگتے لگتے بچا تھا اس نے فوراً سے بریک پر پاؤں رکھا تھا اور عین اسی وقت آیت کو بھی ٹھوکر لگی تھی۔۔۔۔

عفان بہت فکر مند تھا کہ جانے کیا بات ہو گئی ہو۔۔۔۔

وه سب لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں کر رہے تھے جب ایک بار پھر دروازہ بجا اور ذرا زور سے ۔۔۔۔

شایان جا ہی رہا تھا کے دروازہ پھر سے بجا ۔۔۔۔

اس نے جلدی سے کنڈی کھولی تو عفان نے اجازت لینے کا بھی تكلف نہیں کیا جلدی جلدی قدم اٹھاتا اندر آیا ۔۔۔۔

پاپا ۔۔۔۔۔

اس نے دور سے پکارا تھا ۔۔۔۔

وہیں رک جاٶ عفان ۔۔۔۔

انہوں نے اسی سختی سے کہا

اس کے اٹھتے قدم وہیں تھم گئے تھے ۔۔۔۔

اب انھیں اٹھانے کی اس میں سکت ہی نہیں تھی ۔۔۔

بخاری صاحب اٹھ کر اس کی طرف آنے لگے ۔۔۔۔

ان کے چہرے پہ سنجیدہ تاثرات تھے۔۔۔

عفان کا دل بیٹھ گیا تھا۔۔۔اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔

تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔۔؟؟

ہر بات میں اپنی مرضی کرنے لگے ہو۔۔۔۔

باپ کہیں ہے بھی یا نہیں۔۔۔؟؟

مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔۔۔

وہ مدھم آواز سے غصے سے کہہ رہے تھے۔ ۔۔۔

اندر آیت کا دل بھی کہیں دور جا گرا تھا۔ ۔۔اسکا دل چاہ رہا تھا کہ وہ بھی بھاگ کر باہر آۓ اور خود سر سے پوچھے ایسی کیا بات ہو گئی۔ ۔۔؟؟

مگر وہ مجبور تھی ابھی باہر نہیں آ سکتی تھی۔ ۔۔

پا۔۔۔۔۔پا۔ ۔۔۔

وہ منہ میں بڑبڑایا

ہاں ۔۔۔

عفان مجھے تمہارا یہ رشتہ بالکل بھی۔۔۔۔۔۔۔۔قبول ہے۔۔۔۔

نہیں پاپا آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں۔۔۔؟؟

وہ اپنا ڈر زبان پہ لے آیا بنا انکی بات سنے۔۔۔۔

عفان۔۔۔۔

اس نے دوبارہ انکی بات پر غور کیا تو باپ کے چہرے کی طرف دیکھا

تم میرا فخر ہو۔۔۔تم نے یہ بات ثابت کر دی۔۔۔۔

اتفاق ہوتے ہیں ، یہ سنا بھی تھا اور دیکھے بھی تھے مگر اتنے حسین اتفاق ہوتے یہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔۔۔۔

وہ خوشی سے کہہ رہے تھے جبکہ عفان باپ کے گلے لگ گیا اور بہت زور سے۔۔۔۔۔

“تمہارا پیار ہی میرا مان ہے۔۔۔”

بخاری صاحب نے کہا تو عفان کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔کتنا خوش قسمت ہوتا ہے وہ انسان کہ جس کا پیار سب کا مان ہو۔۔۔۔جس پر سب کو فخر ہو۔۔۔۔

وہ لوگ حویلی کے دروازے کے پاس کھڑے تھے اور آواز بھی مدھم تھی تو کوئی اور انکے بیچ ہونے والی باتیں سن نہ پایا۔۔۔

وہ ہنستے مسکراتے آگے آۓ تو آیت نے ذرا سا جھانک کر دیکھا انکی ہنسی دیکھ کر وہ مطمئن ہوئی اور اسکا ڈر ختم ہوا۔۔۔۔۔

عفان بہت محبت اور احترام سے سب کو ملا۔۔۔۔

انہوں نے اسے ساتھ ہی بٹھا لیا۔۔

وہ شرما شرما کر اٹھنا چاہ رہا تھا مگر کسی نے جانے نہ دیا۔۔۔۔

آیت کو چاۓ اور دیگر لوازمات کے ساتھ باہر بلایا گیا۔۔۔

عفان کے والدین نے اسکی توقع سے زیادہ اسے محبت دی اور اپنے پاس بٹھایا۔۔۔۔

اس نے تو آنکھیں اوپر ہی نہ اٹھائیں البتہ عفان کی تو عید ہو گئی تھی۔۔۔۔

شاہ صاحب !!

آپ یوں سمجھیں کہ میں بھکاری ہوں اور یہاں آپکی چوکھٹ پہ دامن پھیلاۓ بھیک مانگنے آیا ہوں۔۔۔۔

ہمیں کچھ نہیں چاہیے سواۓ اپنی بیٹی آیت کے۔۔۔

وہ ہمارے گھر کا سب سے بڑا مان ، فخر اور دولت ہے۔۔۔۔

بخاری صاحب نے سر جھکاۓ کہا تو رقیہ بیگم نے بھی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔

ہاں بالکل ، ہم جلد از جلد شادی کرنا چاہتے ہیں اور سارا خرچ ہماری طرف سے ہو گا۔۔۔

رشتوں میں دیر وہاں ہوتی ہے جہاں جان پہچان نہ ہو یا کسی ایک کی بھی مرضی نہ ہو۔۔۔ہم سب ایک دوسرے کو اچھے سے جانتے بھی ہیں اور سب دل سے راضی بھی ہیں تو دیر نہیں ہونی چاہیے۔۔۔

آیت سے مزید برداشت نہیں ہوا وہ اٹھ کر اندر چلی گئی اسکی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھیں اور معمول سے بہت تیز۔۔۔۔

عفان تو ڈھیٹ بن کر بیٹھا رہا اور مٹھائی بھی کھائی۔۔۔

آیت کے گھر والے کچھ وقت لینا چاہتے تھے تا کہ وہ خود تیاری کر سکیں مگر وہ لوگ انکی بات ہی نہیں سن رہے تھے بلآخر انکو ہتھیار ڈالنے پڑے۔۔۔۔

شادی کی تیاری نے زور پکڑا اور آخر عفان کا انتظار ختم ہوا ۔۔۔آج منہدی کا فنکشن تھا اور رونقیں اپنے عروج پر تھیں۔۔۔

لڑکی والوں کی طرف بھی اور لڑکے والوں کی طرف بھی مہمان جمع ہو گئے تھے۔۔۔۔

ہر طرف خوشگوار چہل پہل تھی۔۔۔۔عفان کے گھر پورے ہفتے سے یہی سین چل رہا تھا۔۔۔ہفتے سے مہمان بھی وہیں رہ رہے تھے تو مصروفیات بھی سب کی بڑھ گئی تھیں۔۔۔۔مگر کوئی تھکاوٹ ظاہر ہی نہیں کر رہا تھا ۔۔۔۔

عفان کے آج پاؤں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔۔۔وہ خود بھی سارے انتظامات دیکھ رہا تھا۔۔۔۔بخاری صاحب کا بھی سر اونچا تھا۔۔۔۔۔

عفان نے ابھی محبت کا اظہار نہیں کیا تھا اور نہ آیت نے ایسی کوئی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔۔انکی محبت پاکیزہ تھی اور وہ مثال قائم کرنا چاہتے تھے۔۔۔

رات کے وقت شور اٹھا کہ دلہن کی طرف جانا ہے جلدی سے نکلو۔۔۔۔

ہر کسی کو جلدی تھی آیت کو سورج مکھی کے پھول یعنی پیلے جوڑے میں ملبوس دیکھنے کی۔۔۔۔۔

گھر چونکہ پاس ہی تھے تو سب پیدل ہی چل پڑے اور دو منٹ کے اندر وہ سب شاہ صاحب کے گھر تھے۔۔۔۔

کسی نے انکی کم دولت پر اعتراض نہیں کیا تھا کیونکہ انہیں اصلی ہیرے کی پہچان تھی۔۔۔وہ مل رہا تھا اور کیا چاہیے تھا۔۔۔۔

آیت کیلئے بہت خوبصورت کا لفظ تو بہت چھوٹا ہے ۔۔۔۔

اس پہ محبت کا بھی رنگ آیا تھا اور پاكیزگی اور شرم و حیا کا بھی۔۔۔۔

پیلے رنگ کا غرارہ اور ہاتھوں ، پاؤں پہ مہندی سجاۓ آج واقع وہ کوئی آسمان سے اتری پری لگ رہی تھی۔۔۔

پھولوں سے بنے زیور پہنے نظریں اس نے جھکائی ہوئی تھیں۔۔۔۔۔

جو نظر اسکی طرف اٹھتی وہ وہیں ٹھہر جاتی۔۔۔۔سب لوگ عفان کی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔۔۔۔رشک تو اس نے بھی کیا تھا جب اسے پہلی بار آنکھوں کے سامنے بنا حجاب کے رشتے والے دن دیکھا تھا۔۔۔۔

سب نے باری باری آیت کے ہاتھوں پہ رکھے نوٹ پر مہندی لگا کر رسم پوری کی۔۔۔رقیہ بیگم نظر اتارتے نہیں تھک رہی تھیں۔۔۔۔

وہ بار بار اسکے سر سے نوٹ وار کر کسی کو دے دیتیں۔۔۔۔

ثناء۔۔۔۔۔۔

سب کی ملی جلی پریشان سی آوازیں ثناء کو پکارتی سنائی دیں۔۔۔۔

آیت پریشان ہوئی مگر وہیں بیٹھی سب سے پوچھتی رہی کہ کیا ہوا ہے۔۔۔۔

آخر اسے کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ عفان کی چھوٹی بہن ثناء بے ہوش ہو کر گر پڑی۔۔۔۔

کیوں۔۔۔؟؟

ابھی کسی کو پتہ نہیں تھا۔۔۔۔سب چیخ رہے تھے مگر کوئی اسکی طرف نہیں بڑھ رہا تھا۔۔۔۔

وہ بھاگ کر اٹھی۔۔۔اپنا موبائل ڈھونڈا اور ایمبولینس کو کال ملائی۔۔۔۔

اپنا حجاب سیٹ کیا اور ثناء کی بہن کو ساتھ ملا کر اوپر اٹھایا۔۔۔اسکے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے مگر بے سود۔۔۔۔

ہر طرف قہقہوں کی جگہ آنسوؤں نے لے لی تھی۔۔۔۔

آیت بھی بار بار اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔۔کچھ لوگ بھاگ کر بخاری صاحب کے گھر پہنچے تھے۔۔۔۔

اسکے بھائیوں کے پہنچنے تک ایمبولینس آ گئی تھی اور آیت اسے پکڑ کر دروازے تک لے آئی تھی۔۔۔

ساتھ اسکی بڑی بہن صائمہ بھی تھی۔۔۔۔

اسے سب نے منع کیا مگر وہ ضد کر کے ساتھ گئی۔۔۔

کچھ مہمان انکے گھر اور کچھ عفان کی طرف تھے۔۔۔سارے چہرے اداس اور پریشان تھے۔۔۔

آیت بہت رو رہی تھی ، ثناء کو اس سے بہت محبت تھی اور وہ بھابھی بھابھی کہتی تھکتی نہیں تھی۔۔۔۔

جو جتنی محبت دیتا ہے اسے خود بخود محبت دینے کا دل کرتا ہے۔۔۔۔

ایمبولینس ہاسپٹل تک پہنچی تو اسے اسٹریچر پر اندر لے جایا گیا۔۔۔آیت نے اترتے ہی آسمان کی جانب دیکھا تھا۔۔۔اسکی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر گر رہے تھے۔۔۔

وہ اپنا خوبصورت دلہنوں والا سراپا لیے ہاسپٹل کی طرف بڑھی تھی عفان نے رک کر اسکا ہاتھ تھاما اور زور سے دبایا۔۔۔۔

وہ اپنی طرف سے اسے تسلی دے رہا تھا حالانکہ اسکا خود بھی منہ اترا ہوا تھا۔۔۔۔

سب ان دونوں کو رشک اور محبت سے دیکھ رہے تھے۔۔

وہ خود بھاگ کر ڈاکٹر کو بلا رہی تھی ، ڈرپس لا رہی تھی۔۔۔۔

کیونکہ اسکے گھر والوں میں تو اتنی ہمت ہی نہیں بچی تھی۔۔۔۔انکی ہنستی کھیلتی بیٹی اچانک سے ایسی حالت میں پڑی تھی۔۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا تھا کہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے بس تھکاوٹ کی وجہ سے کمزوری ہوئی ہے۔۔۔شوگر اور بلڈ پریشر کم ہو گیا تھا تو وہ بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔

اور جب ایک ہفتے سے مہمانوں کا جمِ غفیر تھا اور وہ تھی بھی سب سے چھوٹی۔۔۔بھاگتے بھاگتے نہیں تھکتی تھی اس لیے ایسا جھٹکا لگا اسکو بھی اور باقی سب کو بھی۔۔۔۔۔

اب ایک گھنٹے بعد وہ ہوش میں آئی تھی تو پھر سے ہنسنے لگی تھی۔۔۔۔

آیت نے اسے دیکھتے ہی سکون کا سانس لیا تھا اور اب باقی سب کی توجہ آیت کی طرف ہوئی تھی۔۔۔۔

ثناء کو ڈرپ لگی تھی اور ابھی واپسی میں کچھ وقت تھا تو اسے سب سسرال والے کہہ رہے تھے کہ وہ گھر چلی جاۓ۔۔۔صبح بارات کا فنکشن تھا تو اسے ریسٹ کرنا چاہیے۔۔۔۔

مگر وہ مان نہیں رہی تھی۔۔۔اس نے واقع ثابت کر دیا تھا کہ وہ انکے گھر والوں کیلیے سب سے بڑی دولت ہے۔. ۔

ایک پل میں سب کے دلوں کے تخت پر سب سے اونچی آیت بیٹھی تھی اور عفان کے دل کا تو پورا تخت وتاج اسی کے نام تھا۔۔۔۔

آج ثناء نےاگر کسی کی وجہ سے آنکھیں کھولی تھیں تو وہ آیت تھی اور ان سب کی سب سے بڑی محسن۔۔۔

اگر انسان سمجھے کہ ایک آزمائش کے بعد پھر کبھی آزمائش نہیں آتی تو یہ غلط ہے۔۔۔ہر انسان کی زندگی میں کسی نہ کسی وقت میں اور کسی بھی شکل میں آزمائش آ سکتی ہے۔۔۔

اور اپنے ساتھ کچھ نہ کچھ اچھا بھی لیکر آتی ہے۔۔۔

وہ کہتے ہیں نا کہ ہر چیز میں کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے تو یہاں بھی تھی۔۔۔۔

اسے پہلے سے بھی کہیں زیادہ پیار محبت ، مان مل رہا تھا کیونکہ سب جان گئے تھے کہ اس سے جڑے سبھی رشتے اس کیلیے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔۔۔۔