Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode (Watching)
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
تین سال بعد
فطرت کو قریب سے دیکھنے کا شوق اور تجسس اسے پتہ نہیں کیا کچھ سوچنے پہ مجبور کردیتا تھا
وہ اکثر سوچتی تھی کہ لڑکیاں شادی کے بعد تبدیل ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ پاک کو وقت نہیں دے پاتی ،،
انسان کو ہر حال میں اللہ پاک سے جڑ کر رہنا چاہیے
اسی لیے وہ روزانہ رات کا کچھ پہر پچھلے لان میں گزارتی تھی جیسے یہ وقت اس نے اپنے رب کے لیے مخصوص کیا ہو
پہلے پہل تو اسے اندھیرے سے خوف آتا تھا لیکن پھر آہستہ آہستہ اسے سکون ملنے لگا،،
وہ رب کو پکارتی تھی اسے سناتی تھی بتاتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔
گرمیوں کی کڑکتی دھوپ سے لان میں لگے پھول مرجھا رہے تھے پتیوں کو ہاتھ میں لیے اسے بےحد افسوس ہوا
لیکن موسم تو سب اللہ کے بنائے ہوئے ہے نا وہ جانتا ہے انکے لیے کیا بہتر ہے کیا نہیں ،،؟؟ بس یہی سوچ کر وہ کچن میں چلی آئی ،،
کچھ لمحوں بعد کچن کا کام ختم کرکے وہ کچھ دیر لیٹنے کی غرض سے روم میں آئی لیکن روم کی حالت دیکھ کر اسکا دل کیا کہ وہ کہی بھاگ جائے
”اللہ جی۔۔۔۔ ایک یہ لڑکی …. پتہ نہیں اس نے ساری عادتیں اپنے بگڑے باپ اور اس چڑیل زویا سے ہی کیوں لی ہیں۔۔؟؟؟“وہ سر پیٹ کر رہ گئی
روم میں بکھرے کھلونے، بیڈ کی شیٹ جو کہ اسکی جمپنگ کی وجہ سے تہس نہس ہوچکی تھی
اسکی بک جسے وہ بےدھیانی میں سائیڈ ٹیبل پہ ہی چھوڑ گئی تھی اور اجتاب کی کچھ امپورٹنٹ فائلز جو کہ نواب صاحب کے سائید ٹیبل سے نکالی جاچکی تھی اور اب انکی لاڈلی کے ہاتھ انکی دھجیاں بھی اڑ چکی تھی
کیا ہوگا میرا۔؟؟ میں پاگل ہوجاوں گی!! اسکا دل چاہا اپنے بال کھینچے
”ابیرہ۔۔؟؟ یار یہ کیا کردیا ہے تم نے۔؟“ اس نے کوفت سے پوچھا
”(اب یہ نان سٹاپ بولیں گی ننھے دماغ نے گہری نظروں سے آبیہہ کا جائزہ لیا اور پھر شوہی بن کر خود ہی کچھ سمجھ کر مسکرا دی”)
اور آبیہہ کو یہ دیکھ کر مزید تپ چڑھ گیا
”آبی ایک منٹ رکو ذرا….. “ابیرہ نے ہاتھ سے رکنے کا اشارہ کیا اور ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی
”یہ کیا کررہی ہو۔؟؟“ آبیہہ کو حیرت ہوئی
”کانوں میں کاٹن ڈال رہی ہوں“
”کاٹن کیوں۔؟“
”بابا کا قول : جنگ سے پہلے انسان کو اپنی سیفٹی کا انتظام کرلینا چاہیے“ اس نے بڑی بےباکی سے کہا تھا
”ہا۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی بھلا ۔؟“ آبیہہ کا منہ کھل گیا
”بات نہیں یہ بابا کا قول ہے۔!!“ وہ ڈٹی تھی
”ایک تم اور ایک تمہارے بابا کے قول ……. آلیں وہ بھی آج گھر تم دونوں باپ بیٹی کی آج خیر نہیں پٹو گے میرے ہاتھوں۔۔“ اس نے دونوں ہاتھ دکھائیں
”آبی۔۔ مجھے جو بھی کہو خبردار میرے بابا کو کچھ کہا“ انداز دھمکی بھرا تھا
”اگر کہوں تو۔؟“
”تو میں تمہیں پولیس کو دیدوں گی“ آخری دفعہ وارن کررہی ہوں …… ابیرہ نے انگلی دیکھائی
”ہائے اللہ یہ لڑکی۔۔!!“ اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا
”ہائے اللہ یہ لڑکی …..“ ابیرہ نے بھی ویسے ہی نقل اتاری
وہ اسے پکڑنے کے لیے بھاگی
”سہی کہتے ہیں بابا #ظالم_عورت“ وہ منہ چڑا کر باہر بھاگ گئی
”ہن ۔۔۔۔ سہی کہتے ہیں تمہارے بابا ،،“ مسکراہٹ خودبخود چہرے پہ سمٹ آئی
۔۔۔۔۔
وہ اگلی سہ پہر اجتاب کی موجودگی کو مکمل طور پہ نظر انداز کیے خاموشی سے اپنے ڈریسنگ ٹیبل پہ جھکی تھی
”سنو ۔؟؟“
”سنائیں….“ اس نے فورا کہا
”دیکھو ۔؟ “
”دیکھ بھی رہی ہوں“
”جھوٹی ۔!! “لہجے میں بےرخی در آئی
اس نے کوٹ اتار کر بیڈ پہ پھینکا اور صوفے پہ بیٹھ گیا
”آپکو کچھ چاہیے۔؟؟“ اس نے اس کے پاس آکر پوچھا
”ہمممممم۔۔۔۔۔ ایک کپ کافی اور تمہاری کمپنی“
”ایک چیز مل سکتی بس۔۔!!“ لہجہ دو ٹوک تھا
”پھر تم میرے پاس بیٹھ جاٶ“ اس نے ہاتھ کھینچا
”رکیں میں کافی بھی لے کے آتی ہوں“
زہے نصیب ہم پہ بڑے مہربان ہیں آج۔۔!!
کیوں ۔؟؟ آپکو اتنی عزت راس نہیں آرہی کیا۔؟؟
بس کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔!!
”میری لاڈلی کدھر ہے۔؟“ اس نے پیچھے سے اسے پوچھا
”یا تو کسی کمرے کا نقشہ بگاڑ رہی ہوگی یا اپنی ہنی کے ساتھ کارٹون دیکھ رہی ہوگی“ وہ جاچکی تھی
۔۔۔۔۔
آبیہہ نے تفسیر اور تجوید مکمل کرلی تھی اور اب وہ قرآن سنٹر میں پڑھاتی تھی
جبکہ زویا کا ابھی کچھ رہتا تھا
۔۔۔۔۔
وہ دو کپ لے کر آئی تھی
”ویسے بتاو نا اتنی مہربانی اور وہ بھی مجھ پہ …. کیوں۔۔؟؟“
”ہضم نہیں ہورہی مجھے۔؟؟“
”سب باتوں کو چھوڑ کر پہلے اپنی لاڈلی کے کارنامے سنیں…. “وہ اسے کل والا واقعہ سنانے لگی
اور اجتاب ہنس ہنس کر بےحال ہورہا تھا
”یہ آپ اسکو اپنے عظیم اقوال کی ٹیوشن نا دیا کریں پلیززز میرا دماغ خراب کردیتی ہے“
وہ آبیہہ کے بالوں سے کھیل رہا تھا انکو کبھی چہرے پہ بکھیر دیتا اور کبھی پیچھے کرتا،،
”اچھا کرتی ہے نا تمہیں میری کمی محسوس نہیں ہونے دیتی“
”جی بہت شکریہ !!“ میں ایسے ہی ٹھیک ہوں
”آبیہہ،،، ہر گزرتا دن میرے دل میں تمہاری عزت کو…. مان کو مزید بڑھا رہا ہے “
تین سال …. یار تم نے جس طرھ مجھے ….. میرے مما بابا اور میرے پورے گھر کو سمبھال رکھا ہے یار میں کبھی بھی تمہارا شکر ادا نہیں کرسکتا۔۔!!
آبیہہ نے اسے گھورا یہ آپ سے زیادہ میرا گھر ہے …. اسی کو میں محبت سے بناتی اور سنوارتی ہوں اور آپکے مما بابا میرے بھی ماما بابا ہیں اسلیے میں کچھ الگ تو نہیں کررہی بس اپنا فرص پورا کررہی ہوں ،،
اسی لیے تو “اجتاب حسن ” آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتا ہے
اس نے چاہت سے اسکا ہاتھ تھام رکھا تھا
ابیرہ وہاں کھڑی سب سن رہی تھی
”بابا ….. رکیں ذرا میں یہ دادا کو بتاکر آتی ہوں“ کمر پہ ہاتھ رکھے وہ کسی جاسوس کی طرح کھڑی تھی
اجتاب کے دیکھنے کی دیر تھی وہ وہاں سے ہوا سے بھی تیز بھاگ گئی
اور اجتاب کو اپنی باتوں پہ آج بھی شرمندگی ہوئی
آبیہہ تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہی تھی
”یار تمہیں منع بھی کیا تھا کہ پریگننسی میں ہر دوسرے روز زویا سے ملنے نا جایا کرو۔۔ لیکن تمہیں تو اپنی دوست کے بغیر روٹی ہضم نہیں تھی نا ہوتی
اسکی ایک ایک حرکت زویا سے ملتی اب بتاٶ میں کیا کروں اب۔؟“
”اب کرنا کیا ہے سنبھالیں جاکے اپنی صاجزادی کو۔۔۔ نہیں تو وہ بابا کو آپکی محبت کا بتادے گی “آبیہہ کو اسکی بیچاری شکل پہ ترس آیا
”افففف،،، یہ دونوں ماں بیٹی !!!“
”بابا اپنی لاڈلی کے لیے چاکلیٹس لائے ہیں جلدی آٶ میرے پاس۔۔۔۔“ اس نے زور سے آواز لگائی
دادا کے پاس آکر ۔۔۔۔ وہ انھیں ایک سانس میں ہی اپنی بات سنا کر دوبارہ ہوا کی طرح واپس بھی چلی گئی
ابھی وہ بابا کی گود میں گھسی (سارے کارنامے سے فرار پائے) بڑے مزے سے بیٹھی چاکلیٹس کھارہی تھی
۔۔۔۔۔۔
اگلے دن انیلہ بیگم نے گھر میں قرآن خانی رکھی تھی
زویا اور شہیر آج آبیہہ کی طرف آئے تھے
قرآن خانی سے فارغ ہوکر وہ دونوں پچھلے لان میں اجتاب کے پاس بیٹھے تھے
قرآن ابھی بھی زویا کے ہاتھ میں ہی تھا
آبیہہ سب کے لیے پکوڑے اور جوس لے آئی
”خالہ ۔؟ “دور سے ہارون(زویا کا بیٹا) بھاگتا ہوا آیا
”خالہ! ابیرہ کہتی ہے وہ اپنے بابا سے بہت محبت کرتی ہے
خالہ میں بھی اپنے بابا سے بہت محبت کرتا ہوں نا “اس نے تصدیق چاہی
”بالکل میری جان ،،،“ آبیہہ نے اسکا گال چوما
”اچھا شہیر ایک بات تو بتاٶ۔؟“
”یہ محبت بھلا ہے کیا چیز ۔؟“ اجتاب نے شرارتی نظروں سے آبیہہ کو دیکھا
”بھئی ہم تو لٹے پٹے عاشق ہیں ہم سے زیادہ کون محبت کو جان سکتا ہے“
”چھچھوری حرکتیں چھوڑو اور تمیز سے جواب دو “ زویا نے کہا
”محبت وہ جو کسی انسان میں ٹھہراٶ پیدا کردے
جیسے ایک پرسکون سمندر
جیسے چلتی خاموش ہوائیں
جیسے درخت کی ٹھنڈی چھاٶں
جو بدلہ نہیں مانگتی…. جتاتی نہیں…!!
محبت کا کام تو بس محبت کرنا ہے
بنا کسی روک کے …. بنا کسی ٹوک کے کسی کا بن کے رہنا
کسی کی خوشی کے لیے کسی کی رضا کے لیے،، “
اس نے مسکراہٹ اجتاب کی طرف اچھالی
”اور آپکی بیوی صاحبہ کی کیا رائے ہے۔؟“ اجتاب نے سنجیدگی سے زویا کی طرف رخ پھیرا
”کیا میں بتاٶ؟؟“ سوالیہ نگاہیں
”جی محترمہ،، ہم آپ ہی سے مخاطب ہیں “فورا جواب آیا
”میرے نقطہ نظر سے محبت قرآن ہے کیونکہ یہ بنا کسی معاوضے اور طلب کے ہمیں ہمارے رب سے جوڑتا ہے
ہمیں ہمیشہ ایک امید اور روشنی کی کرن دیکھاتا ہے“
”اور …….آبیہہ…… آپکے مطابق ۔؟؟“
اس نے نگاہیں اسکی گہری آنکھوں پہ مرکوز کیں
”مجھے نہیں پتہ…. میں ذرا کچن دیکھ کے آتی ہوں“
وہ جان چھڑا کر موقع سے فرار ہوگئی
”میں جانتا تھا اسکا جواب۔۔!!“ اجتاب نے سر جھکالیا
”اجتاب …. آبیہہ……. تم سے بہت محبت کرتی ہے “زویا نے بڑی رسانیت سے کہا
”تمہیں کیسے پتہ ۔؟؟ کیا اس نے تم سے کہا“ نیلی آنکھیں پوری کھلیں
”کہنے کی کیا ضرورت ہے اسکی ہر بات سے … ہر کام سے تمہارے لیے محبت جھلکتی ہے
لیکن وہ مجھ سے کبھی کچھ نہیں کہتی !!
کیونکہ اسے ڈر لگتا ہے“
”کیسا ڈر ۔؟ کیا اپنے شوہر سے محبت کرنا غلط ہے ۔؟“
”اجتاب تم نہیں جانتے عورت بہت نازک ہوتی ہے وہ سب کچھ برداشت کرسکتی ہے لیکن ایک دفعہ اگر وہ ٹوٹ جائے تو کبھی سنبھل نہیں پاتی
وہ تم پہ بھروسہ کرتی ہے تم پہ اسے مان ہے
بس وہ تمہارے ہاتھوں ٹوٹنے سے ڈرتی ہے“
وہ سمجھ گیا تھا
”جانتے ہو عورت صرف عزت کی بھوکی ہوتی ہے عزت مل جائے تو کسی چیز کی گنجائش نہیں رہتی اور تم تو اس سے بہت محبت بھی کرتے ہو
اس سے کبھی کوئی غلطی ہوجائے تو اپنی محبت کی خاطر اسے معاف کردینا“ وہ بہن کی طرح اسے سمجھا رہی تھی
”یہ آج تم میں آبیہہ والی روح کہاں سے آگئی جو اتنی فلاسفی جھاڑ جارہی ہو“ اجتاب نے پہلے شہیر اور پھر زویا کی طرف دیکھا
”بدتمیز ۔۔۔۔ اتنی اہم بات تمہیں فلاسفی لگتی ہے“ زویا نے اسکا کان مڑوڑا
”سوری … مادام بندہ ناچیز ابھی آپکی طرح سمجھدار نہیں “
”شہیر…. یار کیسے جھیلتے ہو اس چڑیل کو۔؟ “
”بس گوگل سے ٹپس لیتا ہوں“ اس نے قریب ہوکر اسکے کان میں سرگوشی کی
جو کہ زویا سن چکی تھی
آگے بڑھی اور شہیر کی کمر میں زور سے مکا مارا
”یہ تمہاری چول مارنے کا انعام“ اور کچن کی طرف بڑھی
”ایک یہ عور۔۔۔رررررت“ وہ کہتے کہتے رکا شکر ہے آگے کچھ نہیں کہا
((اب بیٹا غلطی سے عورت کہہ دیا ہے نا تو گھر جاکر تم خوب پٹنے والے ہو. اسے سوچ کر ہی ہول پڑنے لگے ))
۔۔۔۔۔۔
رمضان کا چاند نظر آگیا تھا
اگلی شام میں وہ اجتاب کے ساتھ بالکونی میں بیٹھی ٹائم ٹیبل بنارہی تھی
ابیرہ آج جلدی ہی سوگئی تھی ہانیہ ماما کے ساتھ کسی رشتے دار کے ہاں گئی تھی ، انوشے سبق پڑھ رہی تھی کیونکہ اسکے پیپر تھے
اور اجتاب ستاروں بھرے آسمان کو گھور رہا تھا
”اجتاب….. “لہجے میں خلوص تھا
”دنیا میں کوئی ایسا پیمانہ نہیں جو ایک بیوی کی اپنے شوہر کے لیے محبت کو ماپ سکے
میں بتانے پہ یقین نہیں رکھتی میں ….. کرکے دکھانے پہ یقین رکھتی ہوں آنکھوں میں چمک ابھری
اور بقول زویا کے …. میرے ہر کام اور ہر بات سے آپکی محبت سے جڑی ہے“
لہجے میں بلاکی چاہت تھی
”(ہاں یہی تو وہ سننا چاہتا تھا )“ اسکا دل چاہا صدقے واری جانے کو ……….. اپنی بیوی کے ان لبوں کو … جو آج اس پہ مہربان تھے، ،
اسکی بیوی اسکے سامنے اس سے اقرار کررہی تھی ، اس پہ احسان کررہی تھی
کاش وقت تھم جائے وہ ان لفظوں کو باربار سن سکیں
”چاہے کچھ بھی ہوجائے میری آپکے لیے محبت کبھی کم نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ ایک عام لڑکی نہیں ایک خاص بیوی کہہ رہی ہے“ وہ مسکرائی
آج لبوں کے ساتھ ساتھ اسکی آنکھیں بھی بول رہی تھیں
آج وہ ان آنکھوں میں جھانک سکتا تھا
جنہوں نے اس میں اترنے کا ہر اسے راستہ بتادیا تھا
وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی دھیرے دھیرے اسکے سحر میں کھورہا تھا ،،
”تمہاری آنکھیں بہت خوبصورت ہیں۔!! آبیہہ “
اس نے دبی آواز میں کہا
”اب تو آپکو مجھ سے کوئی شکایت نہیں نا۔؟؟“ وہ آگے کو جھکی
”مائے کیوٹ لیڈی ۔۔۔ مجھے تم سے کبھی کوئی شکایت نہیں رہی“ اس نے وضاحت دی
”اچھا اب بتاٶ نا …. تمہارے لیے محبت کیا ہے۔؟“ لہجہ تجسس بھرا تھا پلیززززززز…..!!
میرے لیے ”#اللہ_محبت_ہے“ اس نے نگاہ اوپر اٹھائی جہاں اسکا رب تھا
اچھا وہ کیسے ؟؟ تجسس مزید بڑھا
ایک وقت تھا …. جب میں حوصلہ ہار رہی تھی بےبس تھی ناامید تھی میرا ہر پہلو میرا ہر سانس درد میں ڈوبا تھا(اسے وہ رات یاد آئی )
اس رات میں نے کس کس کو نہیں پکارا تھا؟؟ امی کو دوستوں کو لیکن کوئی نہیں تھا کوئی بھئ نہیں تھا
جو میری سنتا جو میرے درد کا مداوا کرتا ۔۔۔
لیکن جب میں نے اسے پکارا روتے بلکتے ہوئے….. اس نے میری سن لی
وہ میرے زخموں پہ مرہم بنا …..اس نے …. مجھے سکون دیا
مجھے کھینچ لیا اپنی طرف ،، مجھے دوسرا موقع دیا …… اپنی ذات دے دی
اشک خودبخود آنکھوں سے بہہ نکلے تھے آج اجتاب نے بھی انھیں روکنا مناسب نا سمجھا۔
کیا میں اس قابل تھی کہ وہ مجھے دیکھتا۔؟؟ مجھے دوسرا موقع دیتا۔؟؟
کیا میں اس لائق تھی کہ وہ مجھے نوازتا۔؟؟
”آج میں جو ہوں اسی کی وجہ سے ہوں جو میرے پاس ہے وہ بھی سب …… اسی کی عطا ہے
آپ ….. آپکی محبت…. ابیرہ ..سب اسی نے تو دیا ہے مجھے ……. سب اسی محبت کی وجہ سے ہی تو ملا ہے
مین جب بھی یہ سوچتی ہوں سجدہ شکر کے لیے سر خودبخود اسکے آگے جھک جاتا ہے
وہ جو میرا رب ہے رب کریم …..
“وہ میرے لیے کافی ہے”
جسطرح ہمیشہ اس نے سنبھالا ہے آگے بھی وہ دیکھ لے گا
اب زندگی سے کبھی خوف نہیں آتا،،
اس پہ بھروسہ کیے کہ وہ رب اس زندگی کو جہاں موڑ کر لے جائے اب ڈوبنے کا ڈر کیسا۔۔؟؟
قبول ہے بس یہ کہ وہ کبھی خود سے دور نا کرے“
وہ آسمان کو دیکھ رہی تھی
ستاروں سے بھرے روشن آسمان کو،،
اسکے چہرے سے نور پھوٹ رہا تھا سکون بھرا نور ،، ایک خاموش چمکتی گڑیا کی طرح ،،
اس نے دیکھا وہ روتے ہوئے بھی مسکرا رہی ہے
گالوں پہ بہتے شفاف آنسوں چاند کی کرنوں میں موتیوں کی طرح چمک رہے تھے
”میرے لیے #محبت_میری_زندگی_ہے میری جان “ اس نے اجتاب کا ہاتھ تھاما
میرے لیے بھی …. اس نے لب اسکی پیشانی پہ رکھ دئیے
کیا ہم یہ رمضان مکہ میں گزارے۔؟؟ معصوم سی خواہش ابھری
جیسے آپ چاہیں ڈئیر ….. ہمیشہ کی طرح آپ جہاں کہیں گی یہ آپکا خادم آپکو لے جائے گا …… اس نے سر جھکایا اور وہ ہنس دی
”مجھے رشک ہے خود پہ کہ
(مجھے تم جیسی پاکباز نیک سیرت بیوی ملی)“
اجتاب کی نم آنکھیں مسکرائی
قدرت مہربان ہوئی آسمان سے انکے لیے رحمتیں اور برکتیں اتر رہی تھی
اور بادلوں کو پرے کرتے ہوئے چاند نے چاہت سے اس شب ان دونوں کی نظر اتاری
سفر تو اب بھی جاری ہے… صراط مستقیم کا سفر،،
اسکی محبت کا سفر،،
اس رب تک کا سفر،،
ختم شد …
