Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06

آج وہ آفس سے جلدی آچکا تھا
اور انیلہ بیگم کے کمرے میں بیٹھا سوسائٹی کی سیاسی گفتگو سن رہا تھا
انوشے ٹی وی پہ لگے پروگرام پہ متوجہ تھی اور ہانیہ ماما کی جھولی میں سر رکھے لیٹی تھی
”آج کل کی لڑکیاں بھی عجیب ہیں نہ سر پہ دوپٹہ نہ کھلے کپڑے ، حد ہوتی ہے ہر بات کی“ انھیں افسوس ہوا
”میں تو اپنی بہو بڑی سلجھی لے کر آوں گی جو اتنی ماڈرن تو بالکل بھی نہ ہو “
اجتاب مسکرایا جس سے بائیں گال میں پڑتا ڈمپل ابھرا
”تم ذیادہ توجہ سے سنو ایسی ویسی کوئی لڑکی پسند کی تو میں بالکل بھی تمہاری شادی اس سے نہیں کرواوگی“ انھوں نے اپنا فیصلہ صادر کیا
” (جیسی مجھے پسند ہے ماما تو اسے سامنے دیکھ کر ہی گولی مار دیں گی )“ یہی سوچ کر وہ ہنس ہنس کر پاگل ہورہا تھا
انوشے پروگرام چھوڑ کر بھائی کو دیکھنے لگ گئی
”یہ بھائی کو کیا ہوگیا ۔؟ “
”اتنا تو کبھی نہیں ہنسے۔۔۔۔۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے“ وہ بھی اسی کی بہن تھی سمجھدار ۔۔
”ماما یہ آپ کیا سوچتی رہتیں ہیں ہر وقت
میں شادی صرف اور صرف آپکی ہی مرضی سے کروں گا“
اس نے ماما کو مکمل مطمئن کیا
۔۔۔۔۔
گھر پہنچ کر اس نے نماز ادا کی اور رب کے حضور سرجھکائے بیٹھ گئی
آسمان کی طرف رخ کیے اس نے آسمان والے کو دیکھا
آج اسکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا کچھ کہنے کی ہمت کہاں تھی
وہ بس روتی رہی ،، اور ان آنسو سے اپنے دل کو پاک کرتی رہی
ناجانے کب اسے کب سکون ملا اور وہ وہی سوگئی
۔۔۔۔۔
صبح کی بارشں دل کو موہ لینے والی تھی
جیسے یہ اپنے اندر اسکے وجود کی اذیت کو سمیٹے ہوں
انکے برسنے سے اسکا درد کم ہورہا تھا
تیز ہوا اسکے بالوں کو بکھیر رہی تھی
وہ خاموش بیٹھی زمین پہ پڑتی بوندوں کو دیکھنے میں مصروف تھی قطرہ گرتا اور جذب ہوجاتا پھر گرتا اور پھر جذب ہوجاتا۔۔۔۔ یہ عمل جاری تھا
(”کتنا عجیب ہے نا مٹی میں مل کر اس قطرے کا کوئی وجود نہیں رہتا اور اس قطرے کے بغیر مٹی بھی سوکھی رہتی ہے“ )
اسکے ساتھ بیٹھا شہیر اپنے کام میں مصروف تھا اور زویا سامنے کھڑے گروپ سے لڑ رہی تھی
اس نے آبیہہ کو دیکھا جو دنیا جہاں سے مافیہا ہو کر پانی کے کھیل کو دیکھ رہی تھی
”پتہ ہے انسان کا دل بھی ایسے ہی ہوتا ہے بالکل مٹی کی طرح لیکن اسے بارش کے یہ قطرے نرم نہیں کرتے،
اسے شرمندگی توبہ اور محبت کے آنسوں نرم کرتے ہیں
شہیر نے بک پہ جھکے ہی کہا
کیا اسی طرح دل نرم ہوجاتا ہے ۔؟؟ “
شہیر نے سر اثبات میں ہلایا
”لیکن میرے آنسو تو سوکھ چکیں ہیں “اس نے بےبسی سے کہا
”جیسے اس بارش کے برسنے سے سوکھی مردہ زمین سرسبزوشاداب ہوجاتی ہے
ویسے ہی مجھے لگتا ہے اس بارش کا انسان کے دل سے بھی تعلق ہے اس بارش سے انسان کے گناہ بھی دھل جاتے ہیں یہ بارش ہمارے لیے ہمارے رب کی خوشی کی نوید لاتی ہے
کیونکہ بارش تبھی آتی ہے جب اللہ جی خوش ہوں“ وہ آسمان کو دیکھ رہا تھا
اور آبیہہ ہاتھ پھیلائے ان بوندوں کو خود میں جذب کرنے کی کوشش میں لگی تھی
”یہ تمھارے لیے آبیہہ ،“ شہیر نے شاپنگ بیگ اسکی طرف بڑھایا
”کل مال گیا تھا زویا کے لیے ڈائری پسند آئی تو سوچا اپنی بہن کے لیے بھی لے لو ،“
”تم بہت اچھا بولتے ہو شہیر اور اس خوبصورت تخفے کے لیے بہت شکریہ !!“اس نے مسکراہٹ شہیر کی طرف اچھالی
”لیکن یار یہ تمہاری دوست پورا نان سٹاپ سپیکر ہے دیکھو ذرا کب سے لڑ رہی ہے ان بیچاروں سے۔“ اس نے سامنے کھڑے گروپ اور زویا کی طرف دیکھا
”ہاں جیسے آپکی تو کچھ لگتی نہیں ،،“ اس نے چڑانے والے انداز میں کہا
”لگتی تو خیر بہت کچھ ہے لیکن یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے تو بلی کا بکرا میں بنتا تھا لیکن آج صبح صبح کن معصوموں کی شامت آئی ہے؟
کون اسکے ہتھے چڑھ گیا آج ؟“ وہ ابھی بھی انکو ہی دیکھ رہا تھا
آبیہہ منہ پہ ہاتھ رکھے کھلکھلا کر ہنس دی
اسکے قہقہے کی آواز سن کر زویا نے پلٹ کردیکھا وہ دونوں اسی طرف ہی دیکھ رہے تھے
”دونوں نمونے،،،، میرے کمینے پن کے قصیدے پڑھ رہے ہوں گے اسی لیے بتیسی اندر نہیں جارہی“ وہ منمنائی
”لڑکی تم پٹواو گی مجھے “شہیر نے مسکین شکل بنائی
”آپ ڈرتے ہیں زویا سے؟؟“ آبیہہ نے پوچھا
”ڈرتا تو اپنے بابا سے بھی نہیں ہوں
لیکن یہ مجھے انسانوں کی دوسری دنیا سے آئی لگتی ہے
کیا کروں اب پلے باندھ لیا ہے۔۔۔ اب ڈرنا تو پڑے گا نا“
شہیر نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
”کوئی حال نہیں آپکا ویسے وہ دل کی بری نہیں ہے آپ پہ جتنا بھی غصہ کرلے ناراض ہولے۔۔۔ آپکے بغیر پھر بھی نہیں رہ سکتی“ آبیہہ نے اپنی دوست کی طرفداری کی
”ڈئیر سسٹر میں جانتا ہوں “ شہیر کہتے ہوئے کھڑا ہوگیا
”زویا ،،، زویا “شہیر نے اسے آوزیں لگانا شروع کردی
”واپس آو مجھے بات کرنی ہے تم سے“وہ چلایا
زویا نے پہلے غصے بھری نگاہوں سے دیکھا لیکن پھر غصہ جھٹک کے واپس آگئی
”ان سب کو تو میں بعد میں دیکھ لوں گی“وہ خود سے مخاطب تھی
”ہاں بتاو اب کیا بات ہے۔؟“ وہ چلائی
”تمھارے بغیر دل نہیں تھا لگ رہا بس“اس نے اسے چھیڑا
”اچھا ساری رات تو گھوڑے گدھے بیچ کے سوئے رہتے ہو تب لگ جاتا ہے تمہارا دل؟؟
کل تمہیں UHU لا کے دوں گی اس سے جوڑنا پھر لگ جائے گا“
”میں تمہارے لیے کچھ لایا ہوں“ شہیر نے اسے گفٹ دکھایا
”واو شہیر تم کتنے اچھے ہو بہت پیاری ڈائری ہے“ وہ خوشی سے پھول گئی
اس کی نظر پاس بیٹھی آبیہہ پہ پڑی ”میں نے کتنی دفعہ کہا ہے کہ اگر میرے لیئے کوئی چیز لاو تو اسکے لیے بھی لایا کرو ورنہ نہیں“ وہ پھر اس سے لڑنے لگی
”کیا یار یہ پھر لڑنا شروع ہوگئے؟“ آبیہہ نے روئی نکال کر اپنے کانوں میں ٹھونس لی
”یار کیا تم بھی عجیب ہو اب آبیہہ کے لیے میں کیوں گفٹ لاوں۔؟“ شہیر نے منہ بنایا
”وہ میری دوست ہے بس اس لیے، اور میرا خیال ہے یہ جواز کافی ہے“
”زویا یہ دیکھو“ آبیہہ نے شاپنگ بیگ زویا کی طرح بڑھایا
زویا نے اندر جھانکا ایک نظر آبیہہ اور ایک نظر شہیر کو دیکھا اب وہ شرمندہ تھی
لیکن وہ کیوں جتاتی کہ وہ شرمندہ ہے مسئلہ انا کا تھا
”چھوڑو اسے مجھے بھوک لگ رہی ہے کنٹین چلو “وہ آبیہہ کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ گئی
”یہ لڑکی کبھی نہیں سدھرے گی لیکن وہ جیسی ہے مجھے ویسی ہی پسند ہے“ شہیر نے دل سے اعتراف کیا
۔۔۔۔۔۔۔
آج اتنے دنوں بعد وہ چہرہ اسے نظر آیا تھا
آج اسے احساس ہوا کہ خوشی کیا ہوتی ہے۔؟
آبیہہ بارش میں گراونڈ میں چکر لگا رہی تھی کبھی چلتی رہتی اور کبھی رک کر زمین کو گھورتی اور کبھی آسمان کو نگاہ بھر کے دیکھتی
اور پھر چلنے لگ جاتی
”ہمیشہ کی طرح یہ آج بھی مجھے الجھا رہی ہے“ وہ ہاتھ باندھے بہت فرصت سے اسے دیکھ رہا تھا جیسے اسے برسوں بعد دیکھا ہو،،
وہ چلتے چلتے رکی آج پھر اسے لگا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے
وہاں اسکے لیے مزید کھڑا رہنا عجیب تھا کیونکہ وہ اسکی وجہ سے بار بار ڈسٹرب ہورہی تھی اور وہ ایسا نہیں چاہتا تھا اسی لیے وہ واپس آگیا
۔۔۔۔۔۔۔
شہیر اپنی فیملی میں سے بڑا تھا اس کے بعد دو بہنیں اور ایک بھائی، والد کی وفات کے بعد اس نے بہت ہمت دکھائی اور گھر کی ساری ذمہ داری خود سنبھالی اور وہ ایم فل کا سٹوڈنٹ تھا
وہ پڑھائی کے ساتھ ساتھ جاب بھی کرتا تھا
جب وہ زویا سے پہلی بار ملا تھا تبھی وہ اسے بہت اچھی لگی تھی خود میں مست رہنے والی کسی چیز کی ٹینشن نہ لینے والی
جسکی ایک مسکراہٹ سب کو اچھا کردیتی تھی
وہ جیسی تھی اس نے اسے ویسے ہی قبول کیا
یہ کہنا بہتر ہے کہ وہ محبت سے زیادہ اسکی عزت کرتا تھا
۔۔۔۔
اختر شیرانی اور حسن صاحب کالج کے زمانے کے بہت اچھے دوست تھے
جوں جوں وقت گزرا حسن صاحب نے اپنا الگ بزنس شروع کرلیا اور اختر صاحب نے گورئمنٹ کی ملازمت اختیار کر لی
دونوں ہمیشہ ایک دوسرا کا کندھا بن کے رہے تھے لیکن انکی یہ دوستی صرف ان تک ہی محدود تھی
نہ وہ اپنے گھر میں ذکر کرتے اور نہ کہیں باہر ،،
دونوں دوست اپنی دوستی کو بخوبی نبھا رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔
وہ کافی لیٹ تھکا ہوا آفس سے واپس آیا تھا ہال میں خاموشی تھی جسکا مطلب کہ سب سوچکے تھے
ٹائی ڈھیلی کیے وہ کمرے میں آگیا
اسکا کمرہ بھی اسی کی طرح بہت نفاست سے سجا تھا ہر چیز اپنے مقام پہ تھی وہ اپنی زندگی میں بھی ایسا ہی تھا ہر رشتے کو ویسے ہی اہمیت دیتا جیسی اسکی ہوتی تھی
فریش ہونے کے بعد وہ کچن میں آیا بھوک سے برا حال تھا کھانے میں پاستا اسکا پسندیدہ تھا وہ وہی بنانے لگ گیا 15 منٹ کے بعد وہ پاستا اور کافی کا مگ لیے اپنے کمرے میں آیا
”کبھی کبھی مجھے لگتا ہے زندگی کی دوڑ ایک سی ہے روزانہ آفس جاو گھر آو یہ کیا بات ہوئی کچھ تو نیا ہونا چاہیے نا“ وہ خود سے ہی کہہ رہا تھا
”اسی لیے تو کہہ رہی تھی کہ شادی کرلو “
آواز انیلہ بیگم کی تھی
”ماما آپ سوئی نہیں ابھی تک مجھے تو لگا سب سوگئے“
”بیٹا گھر نا ہو تو ماں کو کہاں نیند آتی ہے۔؟
میری جان شادی کرلو نا“ لہجہ التجائیہ تھا
”اچھا اس سے کیا ہوگا۔؟“ اجتاب کو تجسس ہوا
”اس سے تمہیں سمجھنے والی تمہارا خیال رکھنے والی ایک عدد بیوی تو آجائے گی
یوں اتنی لیٹ خود نہیں بناکے کھانا پڑے گا وہ بھی اکیلے بیٹھ کے“ انہوں نے سمجھایا
”ہاں ویسے آپ کہہ تو بالکل ٹھیک رہی ہیں “اجتاب نے ہتھیار ڈالے
”لیکن ماما ۔۔؟“ اس نے کہنا چاہا لیکن خاموش رہا
”لیکن کچھ نہیں میں لڑکی دیکھنا شروع کردوں گی
آخر اپنے بیٹے کے لیے کوہ نور لانا ہے “
وہ کہتے ہوئے اٹھ گئی
”چلو اب تم اسے جلدی ختم کرو اور پھر سوجاو“
”شب بخیر ،“ وہ دروازہ بند کرکے چلی گئیں
”کیا وہ مجھے سمجھے گی۔؟“
ایک سوال ابھرا تھا ذہن میں جو اس نے جھٹک دیا
خاموش رات نے سب کچھ خاموش کردیا تھا
بس روانی سے چلتی دھڑکن کی آواز تھی جو کہ بےچین تھی
_________
عصر کی نماز ادا کرکے وہ میم سامیہ کے گھر آگئی
آج اس نے تجوید بھی سیکھی تھی
جیسے جیسے وہ پڑھتی ویسے وسیے سکون اسکی رگوں میں اترتا رہا
میم سامیہ سورہ فاتحہ پہ بات کررہی تھیں
” ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں
بچے!! یہ ایک وعدہ ہے جو ہماری روحوں نے عالم ارواح میں اللہ سے کیا تھا جسے “عہد لست” کہتے ہیں
ہم نے وعدہ کیا کہ ہم اللہ جی آپ ہی کی عبادت کریں گے اور اسی وعدے کے تحت ہم اللہ کے سامنے قیامت والے دن جواب دہ بھی ہوں گے“
(((مجھے تو اس وعدے کے متعلق کچھ علم نہیں تھا اللہ جی سوری،، اب میں اس وعدے کو پوری کتنے کی کوشش کروں گی))
خوبصورت نسوانی آواز بہت چاہت سے اسے سمجھارہی تھی
”بچے یہاں عبادت محبت اور عاجزی کا مجموعہ ہے مراد عاجزی کے ساتھ اسکے سامنے سر بسجود کرنا
اسکا بن کے رہنا اور صرف اسی سے محبت کرنا
سب سے بڑھ کر دل میں اسکی محبت کا ہونا
بچے محبت ہم اپنی خواہشات سے، چاہتوں سے بھی کرتے ہیں اور بعض اوقات ہم ان سب کی چاہت میں اس رب کی چاہت کو بھول جاتے ہیں
(میں نے بھی تو یہی کیا ہے،، آنسوؤں کو روک پانا مشکل تھا)
انسان کو عاجز ہونا چاہیے“
انھوں نے اسکے چہرے کو دیکھا جہاں بےبسی کے ساتھ ساتھ شرمندگی بھی تھی
جیسے وہ اپنے اندر کوئی طوفان روکے ہوئے ہو
”عاجزی وہ کیسے آتی ہے۔؟“ جھکا سر اوپر اٹھا
”بچے عاجزی تقوی اختیار کرنے سے آتی ہے،
عاجزی عبادت سے آتی ہے ،،
عاجزی جھکنے سے آتی ہے،،
اپنی” میں” ختم کرنے سے آتی ہے“ انہوں نے بتایا
”میم “میں” کیسے ختم کی جاتی ہے۔۔؟ “ایک اور سوال اٹھا
”اللہ نے جو بھی کہا اسے بنا کسی سوال کے بنا کسی گلے کے مان لینا
اس نے کہا ایسے کرو تو ویسے ہی کرنا ،،
اپنی مرضی نہ کرنا،، میں ختم ہوجاتی ہے
بچے جب انسان کو یہ بات باور ہوجائے کہ اسکا وجود مٹی ہے وہ کچھ بھی نہیں ہے سوائے کائنات کے حقیر ذرے کے پھر اسے پتہ ہوتا ہے کہ اسے جھکنا ہے ماننی ہے اپنے رب کی پھر دل یہ نہیں کہتا کہ یہ مشکل ہے
پھر اللہ کی محبت میں سب ہوجاتا ہے“
وہ آگے بڑھیں
”ہمیں مدد بھی اسی سے مانگنی چاہیے
اللہ سے ہی مدد مانگنی چاہیے وہ خوش ہوتا ہے کہ میرے بندے کو میری ضرورت ہے
یہاں پر یہ بات بھی ہے کہ زندگی میں جیسے بھی حالات آجائیں آپ اس سے رجوع کریں صرف اللہ سے مدد مانگیں“ وہ سانس لینے کو رکیں
”اللہ کی مدد کیسے ملتی ہے۔؟“ آبیہہ نے پوچھا
”بچے قرآن پاک میں اللہ پاک نے اس بات کا بھی حل بتا دیا ہے کہ نماز اور صبر سے اللہ کی مدد مانگو
وہ انسان کو سمجھتا ہے اسکا دکھ دور کرتا ہے
اور یہ کسی انسان کے اختیار میں نہیں ہے پھر انسان اپنی تکلیف لوگوں سے کیونکر کہے
بس اس رب کے در پہ جھک جائے اسے کہہ دے “ کلاس ختم ہوگٸ
((”کیا میں نے کبھی اس سے اپنی پریشانی کہی ہے
اس سے مدد مانگی ہے میں بھی تو اس سے وعدہ کرکے آئی ہوں“ وہ گھر آکر بھی مسلسل یہی سوچ رہی تھی))
قرآن پاک ہاتھوں میں لیے وہ بالکونی میں آگئی اسے تجوید کی مشق دہرانی تھی
نگاہیں قرآن پہ مرکوز کیے اس نے تعوذ پڑھا
””پناہ مانگتی ہوں اللہ کی شیطان مردود کے شر سے “
پھر تسمیہ “شروع کرتی ہوں اللہ کے نام سےجو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے”“
خوبصورت آواز فضا میں بلند ہوئی
نسیم اختر کچن میں کھانا بنانے میں مصروف تھیں آبیہہ کی آواز سن کر وہ پہلے تو حیران ہوئیں پھر لبوں پہ مسکراہٹ در آئی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
”یااللہ تیرا بہت شکر ہے تو نے میری چندا کو ہدایت عطا کی اس پہ اپنی خاص رحمت کرنا“
وہ سورہ فاتحہ کی تلاوت کرر رہی تھی ایک تڑپ
ایک سکون سا تھا اسکی آواز میں کہ سننے والا مدہوش ہوجائے یہ اثر اسکی آواز کے ساتھ ساتھ اس کلام کا بھی تھا جس سے وہ جڑ چکی تھی
اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا آنسو رخسار پہ بہہ نکلے
جب اس نے سر اٹھایا نسیم بیگم اسکے سامنے کھڑی تھیں
وہ اٹھی اور امی کے سینے سے لگ گئی
جتنا رو سکتی تھی رو دی نسیم بیگم نے اس کو سامنے کیا اور اسکے ماتھے کو چوما
”بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں وہ رب اپنے لیے چن لیتا ہے
اللہ تمہیں استقامت دیں چندا“ انہوں نے بس اتنا ہی کہا
” چلو آو کھانا کھالو“
وہ اسکو تھامے ہال میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔
”تمہیں اندازہ ہے کہ ہمیں ملیں کتنا عرصہ ہوگیا ہے“ حسن صاحب نے اپنے دوست اختر سے شکوے بھرے لہجے میں کہا
”تم پتہ نہیں کہاں مصروف ہوتے ہو۔؟ یا ہم جیسوں سے تم اب بات نہیں کرنا چاہتے“ وہ منہ بنا کے بولے
”نہیں حسن ایسی بات نہیں ہے بس کام ہی کچھ ایسا ہے کہ میں نہ گھر ٹائم دے پاتا ہوں نا تمہیں“ انہوں نے وضاحت دی
وہ کافی پیتے ہوئے باتیں کررہے تھے
”ہماری پچھلی بات ادھوری رہ گئی تھی اب پوری کرلینی چاہیے تمہارا کیا خیال ہے۔؟ “حسن درانی نے کہا
”اس دوستی کو رشتہ داری میں بدلنے کی سوچ بہت اچھی ہے
لیکن بات یہ ہے کہ ابھی آبیہہ پڑھ رہی ہے اور شادی کا کہنا تو مشکل ہے “ انہوں نے اپنی پریشانی بتائی
”میں کونسا ابھی ہی شادی کی بات کررہا ہوں میں بس تم سے یہ کہہ رہا ہوں کہ آبیہہ میرے اجتاب کی امانت ہے“ حسن صاحب نے یقین دہانی چاہی
”میں اس بات سے پیچھے نہیں ہٹوں گا“ اختر صاحب نے پختہ یقین دلایا
”آبیہہ کا آخری سال ہے پیپرز 3ماہ میں ہیں پھر جب تم چاہوں آکر اپنے بیٹے کی امانت لے جانا“
حسن صاحب نے ایک مسکراہٹ اختر کی طرف اچھالی
Episode 6
اجتاب ،،“ کسی نے پارٹی میں اسے پکارا
وہ پلٹا سامنے کھڑا انسان دراز قد اچھی شخصیت کا حامل تھا ”کیسے ہیں سر ۔؟“اجتاب نے ہاتھ آگے بڑھایا
”ہمیشہ کی طرح بہت اچھا آپ سنائیں ۔؟“
وہ کافی دیر کھڑے بزنس کی باتیں کرتے رہے
فرخ نے اجتاب کا بازو کھینچا
” یس مائے لیڈی“
”کیا یار تم پارٹی میں بھی اپنی بورنگ باتیں لے کے بیٹھ جاتے ہو“ فرخ شارٹ شرٹ اور نیچے سے فولڈ ہوئی جینز پہنے تھی
اس نے دیکھا اسکا موڈ خراب ہے وہ ہجوم سے دور ایک ٹیبل پہ آکے بیٹھ گئے
” میں نے سنا میرا دوست شادی کررہا ہے۔؟
”کیا میں نے ٹھیک سنا؟“ فرخ مسکرائی
”جی سنا تو ٹھیک ہی ہے لیکن میں شادی خود نہیں کررہا میری شادی کروائی جارہی ہے“ اس نے معصوم شکل بنائی
”کوئی ہے کیا جو اجتاب کے ساتھ زبردستی کرسکے“ فرخ نے کہا
”نہیں ہے تو کوئی نہیں۔۔ “
”تو پھر میرا بیچارا دوست کس سے شادی کررہا ہے۔؟“ فرخ کو تجسس ہوا
”ٹینشن نہ لو شادی کے معاملے میں میری پہلی ترجیح ہمیشہ تم ہو“ وہ مسکرایا
”میں اور وہ بھی تم سے شادی کروں؟ مجھے کیا پاگل ہونا ہے ہر وقت بزنس کی باتیں۔۔۔۔۔ اففففف۔۔!!
میں تو اس لڑکی کے حال پہ رحم ہی کھاسکتی ہوں
کیسے جھیلے گی تمہیں؟؟“ وہ اسے چڑارہی تھی
”بڑا مزہ آرہا ہے تمہیں میری کھچائی کرکے ؟؟
وہ وہی بیٹھے پارٹی کا جائزہ لیتے رہے
چلو تم انجوائے کرو میں لیٹ ہورہی ہوں “
وہ اسے الوداع کہہ کر لوٹ آئی
ٹھنڈی ہوا نے اس رات کو مزید سرد بنادیا تھا
۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کے ٹیبل سے اٹھنے والی مولی کے پراٹھوں کی خوشبو ہوا میں بکھر رہی تھی
وہ تو بچپن ہی سے پراٹھوں کی شوقین تھی
آخر ہار مان کر اسے بیڈ سے اٹھنا ہی پڑا
دوپٹہ لیے وہ ہال میں آگئی
اختر صاحب بڑے مزے سے بیٹھے ناشتہ کررہے تھے اسے دیکھ کر مسکرائے
”آجاٶ چندا ناشتہ کرلو“ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی
امی نے گرم گرم پراٹھا لا کر اسکے سامنے رکھا
صبر کرنا مشکل تھا اس نے نوالا توڑا اور
”بسم اللہ” پڑھتے ہوئے اسے منہ کی طرف بڑھایا
”بابا آپ کہیں جارہے ہیں۔؟“ لہجے میں بےتابی تھی
”ہاں چندا مجھے کسی کام سے ایبٹ آباد جانا ہے دو دن تک آجاٶں گا“انہوں نے اسے تسلی دی
”لیکن آج تو باجی مریم کے بیٹے کا عقیقہ ہے نا
آپ نہیں چلیں گے۔؟“ اسکا منہ بن گیا
”بیٹے میں کیا کروں ،کام اگر ضروری نہ ہوتا تو نہ جاتا “ انہوں نے جواز پیش کیا
”بابا اگر آپ نہیں جارہے تو امی کو بتا دیں میں نے بھی نہیں جانا“ اس نے کہا
”بیٹے وہاں آپکی سب کزنز ہوں گی آپ کو مزہ آئے گا“ انہوں نے سمجھاتے ہوۓ کہا
”بابا آپکے بغیر مجھے نہیں مزہ آتا!!😔
پلیز میں نے نہیں جانا“ اس نے التجا کی
”بیگم! سنیں آبیہہ کو آج آپ گھر ہی چھوڑ جانا“انہوں نے بالآخر اسکی مان لی
وہ آرام سے پراٹھا کھانے میں جت گئی اور گاہے بگاہے نگاہ اٹھا کر بابا کو دیکھ لیتی
۔۔۔۔۔
”آپ نے بات کر بھی دی اور مجھے اب بتا رہے ہیں ؟؟
مجھے بتاتے میں ایک دفعہ لڑکی کو دیکھ لیتی
اگر وہ اجتاب کے ساتھ اڈجسٹ نہ ہو پائی تو۔؟؟“
انیلہ بیگم حسن درانی پہ برس رہی تھی
”انیلہ بیگم میری پوری بات تو سن لیں“وہ بولے
”کیا سنوں میں سب کچھ تو آپ کرچکے ہیں_
حسن میں کہہ رہی ہوں اگر مجھے کچھ غلط لگا تو میری طرف سے انکار سمجھیے گا“ انہوں نے حتمی انداز میں کہا
”یہ دیکھیں“ حسن صاحب نے موبائل انکے سامنے کیا
وہ خاموش ہوگئیں اور موبائل دیکھنے لگ گئی
”یہ آبیہہ ہے اختر شیرانی کی بڑی بیٹی،
بااخلاق ہے، پیاری ہے اور سب سے بڑھ کر عزت کرنے والی ہے“
چہرے پہ بلاکی معصومیت، گہری سیاہ آنکھیں اور عام سی رنگت،، انیلہ بیگم کے دل نے اقرار کیا
”لڑکی تو بہت اچھی ہے“ انیلہ بیگم نے تسلیم کیا
”انیلہ یہ سمجھ لو اگر ہمارا بیٹا ہیرا ہے تو یہ کوہ نور ہے
3 ماہ رہ گئے ہیں آبیہہ کی ایم ایس سی مکمل ہونے میں ،
میں سوچ رہا تھا منگنی ابھی کر لیں گے
شادی 3ماہ بعد ،، “وہ مسلسل بولے جارہے تھے
”چلیں ٹھیک ہے آپ جب کہیں گے ہم چلیں گے“
”آبیہہ اجتاب ،، “انہوں نے زیر لب دہرایا
” اللہ میرے بچوں کو ڈھیڑوں خوشیاں دے آمین۔۔!!“
۔۔۔۔۔
جھولے میں بیٹھی وہ قرآن کا سبق دہرا رہی تھی
”سورہ فاتحہ کے آخر میں بندہ اپنے رب سے دعا مانگتا ہے
کس قدر خوبصورت بات ہے“ وہ خود سے ہمکلام تھی
”اور کون ہے جو بےقرار کے دل کی دعا سنے (سورہ ملک)
اسکا مطلب ہے جس انسان کا دل بے چین ہو اسکی دعا اللہ جی دھیان سے جلدی سنتے ہیں “
وہ گھر میں اکیلی تھی امی اور ماہ نور عقیقہ پر تھے تلاوت وہ پہلے ہی کرچکی تھی اب ترجمے کو دیکھ رہی تھی
”دعا شدت سے مانگنی ہے تڑپ سے مانگنی ہے
لیکن میں شدت اور تڑپ کہاں سے لاوں کہ دعا قبول ہوجائے ۔؟“ وہ الجھی تھی
ہال میں رکھے فون کی بیل بجی
”اس وقت کس کا فون ہوگا ۔؟“
وہ اٹھی اور فون کی طرف بڑھی
”جی کیا یہ اختر شیرانی کا گھر ہے؟“دوسری طرف سے اجنبی آواز نے کہا
”جی یہی ہے کیا بات ہے ۔۔؟؟“وہ الجھی
”بات یہ ہے کہ اختر شیرانی کی گاڑی کا ایکسیڈینٹ ہوگیا ہے اور وہ وفات پاگئے ہیں“
اسے لگا اس نے غلط سنا ہے
”جی آپ نے کیا کہا ہے۔؟“ اس کے پاٶں تلے زمین کھسک رہی تھی
کانپتی آواز کے ساتھ اس نے دوبارہ پوچھا
”میم آپ سٹی ہاسپٹل آکر لاش لیں جائیں“
وقت رک سا گیا تھا ،، فون اسکے ہاتھ سے چھوٹ کے زمین پہ گرپڑا
اسے سینے میں تنگی کا احساس ہوا جیسے کسی نے گلے میں رسی ڈال دی ہو
اسکا دم گھٹنے لگا اور وہ گرتی پڑتی باہر لان میں آگئی
“اللہ” ٹوٹے دل نے آسمان کی طرف دیکھ کے اپنے ہمدرد کو شدت سے پکارا
وہ گھٹنوں کے بل گر گئی آنسو ٹپ ٹپ گالوں پہ بکھر گئے
””اللہ جی” یہ کیا ہوگیا ۔؟
بابا کو نہیں، نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا ۔؟ آپ ایسا نہیں کرسکتے ،،“
اس پراسرار سرد رات میں وہ چیخ رہی تھی لیکن اس رب کے سوا کوئی اسکی آواز سننے والا نہیں تھا
بےبسی اس لمحہ اس نے وجود کے ہر پہلو میں محسوس کی تھی
”میں مرجاٶں گی بابا کے بغیر“ وہ زاروقطار رو رہی تھی
”آپ کہیں نا یہ جھوٹ ہے۔؟ بولیں نا۔؟؟
میم کہتی ہیں آپ جواب دیتے ہیں بولیں نا۔۔
پلیز اللہ جی
میرا سینہ آگ بن رہا ہے میں کیا کروں۔؟؟
بابا آپ کہاں ہیں“ وہ بابا کو پکار رہی تھی
”نہیں ایسا نہیں ہوسکتا پلیز“ وہ ہاتھ جوڑے گڑگڑا رہی تھی پلیز ایسا نہ کریں
”امی ، میں امی کو کیسے بتاٶں گی؟؟ وہ تو ٹوٹ جائیں گی اور ماہ نور وہ ، وہ نہیں سہہ پائیں گی“
بادل گرجے تھے اور وہ سہم گئی یکلخت بارش برسنے لگ گئی
بارش اسے بھیگا رہی تھی
اسکے آنسوٶں کو آج پھر بارش نے چھپا لیا تھا
لیکن اسکے دل کا درد لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جارہا تھا
وہ یک ٹک آسمان کو دیکھ رہی تھی معجزات کا اس نے سنا تھا لیکن آج وہ التجا کررہی تھی کہ کاش کوئی معجزہ ہوجائے اور بابا کو کچھ نہ ہو ،،
آسمان کے اس پار مکمل خاموشی تھی
وہ ٹوٹ رہی تھی ،،بکھر رہی تھی
”میرے مولا آپ بےقرار کے دل کی دعا سنتے ہیں نا دیکھیں میرا دل بےقرار ہے میری دعا بھی سن لیں نا آپ تو سب جانتے ہیں نا “ہچکیاں لیتے ہوئے اس سے سانس لینا دشوار ہوگیا
اسے لگ رہا تھا شاید یہ قیامت کی رات ہے خوف بھری رات
”صبر اور نماز سے اللہ کی مدد مانگو“ کسی نے سرگوشی کی ،،وہ لمحہ بھر کو رکی
” اللہ جی یہ آپ نے کہا آپ مجھے سن رہے ہیں“
وضو کرکے اس نے جائے نماز بچھا لیا روتے ہوئے نماز ادا کی
وہ ابھی بھی اتنی ہی بےچین تھی
”اللہ جی ابو کو کچھ نہ ہوا ہو“ سرسجدے میں رکھے وہ التجا کرتی رہی
”مجھ سے صبر نہیں ہو پا رہا مجھے صبر عطا کردیں
مجھے ابو کے پاس جانا ہے“ سر اٹھاتے ہوئے اس نے خود سے کہا ،،
”ہاں انہوں نے سٹی ہاسپٹل کہا تھا “
دوپٹہ لپیٹے وہ اپنا والٹ اور موبائل لیے بارش میں باہر آگئی
سڑک سنسان تھی
فقط بارش اور تیز ہوا تھی اسکا سانس پھول رہا تھا اور سردی کی شدت سے وہ کانپ رہی تھی
”میرے لیے میرا رب کافی ہے“وہ بار بار دہرا رہی تھی
اس نے محسوس کیا کہ وہ گھر سے کافی دور آگئی ہے
بس اسٹینڈ بھی ویران تھا
وہ وہی ڈیسک پہ بیٹھ گئی
بارش ہلکی ہوگئی تھی لیکن درد اب بھی ویسا ہی تھا
کسی کے چھن جانے کا،، دور ہوجانے کا درد کیا ہوتا ہے یہ آج اس نے محسوس کیا تھا
اسکی ہر دھڑکن اس رب سے شدت سے دعا کررہی تھی
آج اس نے گڑگڑا کر اپنے رب سے دعا کرنا سیکھا تھا
سر کا درد بڑھا اس نے وہیں سر ڈیسک سے لگائے آنکھیں موند لیں
____________
سر کا درد بڑھا اس نے وہیں سر ڈیسک سے لگائے
آنکھیں موند لیں
لیکن سکون نہیں تھا،،
وہ اٹھی اور بھوجل قدموں سے چلنے لگی
یکلخت اسے اپنا وجود ہلکا ہوتا محسوس ہوا قدم لڑکھڑائے اور وہ دنیا سے بیگانہ،، وہی بیہوش ہوکر گرپڑی
وہ گھر واپس جارہا تھا جب اسکی نگاہ سڑک کنارے زمین پہ بےسدھ گرے اس وجود پہ پڑی
اس بارش میں کون ایسے پڑا ہے ؟ وہ قدرے پریشان ہوا
وہ جلدی سے گاڑی سے اترا اور اسکی طرف بڑھ گیا
اس نے آبیہہ کا سر اپنی گودی میں رکھا
”یہ کیا ہوگیا۔؟؟“ وہ اسے بیہوش دیکھ کر سٹپٹایا
”یہ تو وہی لڑکی ہے” وہ ساکت ہوگیا
اسے کیا ہوا ۔؟“ ناجانے کیوں اسکی آنکھیں بھر آئی
”سنیے آنکھیں کھولیں“ وہ اسکے ہاتھ رگڑ رہا تھا
نبض کی رفتار بہت تیز تھی بارش کی وجہ سے وہ پوری بھیگ چکی تھی اور اسکا جسم…… ٹھنڈا پڑ چکا تھا
اسے زیادہ دیر وہاں رکھنا نامناسب لگا اس نے ہڑبڑاہٹ میں جیب سے موبائل نکالا اور حرا کو کال ملائی
کال کافی دیر بعد رسیو ہوئی شاید وہ سوچکی تھی
”حرا سنو میں بس اسٹینڈ پہ ہوں تم جلدی یہاں آجاٶ“
اور کال کاٹ کر اپنی بانہوں میں پڑے اس وجود کو دیکھا
اس نے پیشانی پہ بکھرے بالوں کو ہاتھ سے پرے کیا جہاں تھکن کے واضح آثار تھے
جلد ہی وہ حرا کی مدد سے اسے سٹی ہاسپٹل لے آیا
اسکا دل شدت سے اللہ سے اسکی سلامتی کی دعا کررہا تھا
ڈاکٹر نے سارا چیک اپ کرلیا تھا ایسا کمزوری اور زیادہ سٹریس کی وجہ سے ہوا تھا،،
۔۔۔۔۔
آدھے سے زیادہ رات گزر چکی تھی
وہ اسکا ہاتھ تھامے اسکے پاس موجود تھا
خاموش لب اور چہرے پہ بکھری بےبسی،
آنکھیں درد کی شدت چیخ چیخ کر بتا رہی تھی کہ وہ شدت سے روئی تھی لیکن کیوں۔۔؟ ایک سوال ابھرا
اس نے ہاتھ لگا کہ دیکھا وہ ابھی بھی بخار سے تپ رہی تھی
”کیا ہوگیا ہے تمہیں مجھے کیوں اتنا درد دیتی ہو۔؟
تمہیں جب بھی دیکھتا ہوں اداس ہی نظر آتی ہو کیا تمہیں میرے حال پہ رحم نہیں آتا۔؟
پتہ نہیں ہر بار تمہیں خود سے دور کیا ہے لیکن تم ہر بار میرے سامنے آہی جاتی ہو…….
میں ناچاہتے ہوئے بھی محبت کرنے لگا ہوں تم سے ،،
وہ اقرار کررہا تھا، ،
میں تمہیں مسکراتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں تم مسکراتی کیوں نہیں۔۔؟“ وہ اس سے گلہ کر رہا تھا
وہ بڑی دیر تک یونہی اسے بےوجہ دیکھتا رہا ،، وہ اس چہرے کو یونہی ساری عمر دیکھ سکتا تھا،،
تھوڑی دیر بعد حرا آگئی
”یہ کون ہے۔؟“ پہلا سوال حرا کا یہی تھا
”بس یہ سمجھ لو یہ میری دنیا ہے“ ایک نظر اس نے اسکے چہرے کو دیکھا
”اسکو یہاں ایسے چھوڑنا مناسب نہیں ہے اسکے گھر والے فکرمند ہوں گے
تم اسکے والٹ میں دیکھو کچھ ہوگا اور اسکے گھر والوں کو اطلاع کردو پلیز۔۔ “ اس نے التجا کی اور وہ مان گئی
حرا نے اثبات میں سر ہلایا
وہ اسکا والٹ لیے باہر آگئی
والٹ میں صرف موبائل تھا
مجھے تو اس لڑکی کا نام بھی نہیں معلوم پھر میں کیا کہوں گی؟؟
سوچوں کو ذہن کے پردے سے ہٹا کر اس نے اسکے گھر کال ملا دی لیکن،،، کوئی جواب نہیں تھا
گہری سیاہ رات خاموش تھی وہ وہی سنسان رات میں بکھر سا گیا
درد الگ تھا لیکن یہ رات ان دونوں پہ بھاری تھی
۔۔۔۔۔۔۔
مریضہ کو ہوش آگیا ہے صبح نرس نے اطلاع دی،، آپ ان سے مل سکتے ہیں۔۔لیکن مریضہ ابھی گنودگی کی حالت میں ہیں آپ پلیز زیادہ باتوں سے پرہیز کیجیئے گا!! نرس کہہ کر چلی گئی
حرا تم دیکھو ذرا ،، مجھ ….میں ہمت نہیں ہے
“درد کی شدت ناقابل برداشت تھی وہ درد جو آبیہہ کی ذات کے ہر پہلو میں پیوست ہوچکا تھا “
آنکھیں بند کیے بھی آنسوں مسلسل بہہ رہے تھے
اس کی نگاہ اپنے پاس کھڑے انسان کے جوتوں پہ پڑی
وہ نگاہ اٹھانا نہیں چاہتی تھی اسکی آنکھیں سب کہہ دیتی وہ اپنے درد کا ہمراز کسی کو نہیں بنانا چاہتی تھی
مجھے جانا ہے۔؟ اسکی بےجان آواز آئی۔!!
”دیکھئے آپ ایسے بیمار حالت میں نہیں جاسکتی ،، جواب اسکی بجائے حرا نے ہی دیا تھا
آپ مجھے بتائیں آپ نے کہاں جانا ہے؟ میں آپکو چھوڑ دیتی ہوں“ اسکی بےتابی بڑھ رہی تھی
”میرے بابا………. مجھے…… با….با…..بابا کے پاس جانا ہے“ نم آواز لڑکھڑا رہی تھی
وہ دروازے میں کھڑا اسے سن رہا تھا ( اور دل جیسے کسی سمندر میں ڈوب چکا تھا)
”آپ ایڈریس بتائیں میں چھوڑ دیتی ہوں “لہجہ فکرمند تھا
”جہاں وہ ہیں وہاں…. م ..م….م…..میں….. کیسے جاؤں۔؟ مجھے کوئی وہاں نہیں لے کے جاسکتا“ آنسو مزید شدت سے بہنے لگے
اسکے لیے وہان مزید رکنا مشکل تھا وہ چلا آیا
حرا اسکے پاس بیٹھ گئی
”کیا ہوا ہے۔؟ آپ مجھے بتاسکتی ہیں۔؟؟“ لہجہ ہمدردی لیے تھا
اس نے کن اکھیوں سے اردگرد کا جائزہ لیا اور سامنے لگے بلب کو دیکھنے لگ گئی
”میں کیا بتاوں؟، بتانے کے لیے تو کچھ بھی نہیں بچا۔!!“
آپکے گھر کال کردی ہے آپکی والدہ کچھ دیر تک آجاتی ہیں
اللہ پہ بھروسہ رکھیں سب ٹھیک ہوجائے گا اس نے تسلی دی
(صرف اسی کی ذات پہ ہی تو بھروسہ ہے مجھے )
۔۔۔۔۔
لمحہ بھر کے لیے وہاں اسکے دل کو کچھ ہوا تھا وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنا چاہتا تھا کہ اسکے اندر موجود ہر درد کو اپنے اندر سمیٹ لے
”کاش میں اسکے آنسو پونچھ سکتا “شفاف چہرے پہ بکھرے آنسوٶں کا تصور ذہن میں ابھرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گھر لوٹنے پہ نسیم بیگم اور ماہ نور اپنے اپنے کمرے میں چلی گئیں
صبح فجر کی نماز ادا کرکے انھیں آبیہہ کا خیال آیا
وہ آبیہہ کے کمرے کی طرف بڑھی کہ ہال میں پڑا فون بجا
اتنی صبح کس کی کال ہوگی ؟ وہ خود سے بڑبڑا رہی تھی
آنٹی آپکی بیٹی سٹی ہاسپٹل میں ہے آپ پلیز جلدی آجائیں!! اس نے کال کاٹ دی
نسیم بیگم بوکھلائی، بغیر کچھ سوچے سمجھے آبیہہ کے روم کی طرف بھاگی
وہ وہاں نہیں تھی مطلب وہ ہاسپٹل تھی
اسے کیا ہوا۔؟ آبیہہ میری بچی۔۔!!
نسیم بیگم بہت صابر تھی لیکن یہاں بات انکی بیٹی کی تھی
میری بچی ؟؟ اسے کیا ہوا۔؟ یااللہ اسکی حفاظت فرمانا
وہ ماہنور کو لیے ہاسپٹل چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔
صبح کا سورج پورے آب وتاب سے چمک رہا تھا
انیلہ بیگم نے کمرے کے پردے پیچھے کیے
کھڑکیوں سے چھن کر آتی روشنی اسکی آنکھوں میں پڑی
”مما تھوڑی دیر اور سونے دے نا پلیز “ بمشکل آنکھیں کھولتے اس نے کہا
”اجتاب بارہ بج رہے ہیں
جلدی اٹھ جاٶ اب“ وہ حکم دے کر چلی گئیں
اب حکم کی پیروی کرنا اس پہ فرض تھا سو وہ اٹھ گیا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *