Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16
آبیہہ میری جان،، “وہ بیگ ٹیبل پہ چھوڑ کر آبیہہ کی طرف بڑھی اور اس سے گلے لگ گئ
”بہت زیادہ مس کیا تمہیں “اس نے چاہت سے کہا
”شہیر نہیں آیا ساتھ اسکو بھی لے آتی“ آبیہہ نے استفسار کیا
”شہیر مجھے واپسی پہ لینے آئیں گے تمہارے آنے کا سن کر مجھے سے رہا نہیں گیا اسلیے میں خود ہی آگئی“
انہوں نے شام تک ڈھیڑ ساری باتیں کی
شام کو سب نے ساتھ میں کھانا کھایا،،
پھر شہیر آیا اور وہ چلی گئی
۔۔۔۔۔۔
کچھ دنوں بعد وہ سب ساتھ میں عمرہ کے لیے گئے تھے
اور پورا ماہ اس نے اپنے رب کے ساتھ اسکے پاس گزاری
اللہ کے لیے اسکے دل میں محبت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی تھی
ایک احساس اسکے ساتھ ہونے اسکو ہر وقت مطمئن کیے رکھتا تھا
وہ ہر بار طواف اکیلے کرتی شاید وہ اپنے آنسوٶں کا ہمراز کسی اور کو نہیں بنانا چاہتی تھی
اسلیے بھی کہ اجتاب اسے رونے نا دیتا
اس کی ہر سانس اس رب کا شکر ادا کررہی تھی
کہ وہ اس قابل کہاں تھی جس قدر وہ نوازی گئی تھی
رب کی رحمت کی آغوش میں اس نے اپنے وجود کو پرسکون محسوس کیا
اور اپنی فیملی اور اجتاب کے لیے ڈھیڑ ساری دعائیں کیں
۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے زویا کا بخار اتر ہی نہیں رہا تھا
اسے فکر ہورہی تھی کہ کال کرے اور پوچھ لے
کال رسیو ہوگئی
”زویا تم ٹھیک ہو نا۔؟“ آبیہہ کی آواز فکر سے پُر تھی
”ہاں ٹھیک ہوں ابھی ڈاکٹر کے پاس سے ہی ہوکر آرہی ہوں“
”اچھا کیا کہا ڈاکٹر نے ۔؟“
”بس ہلکا سا بخار ہے اور ۔؟“ وہ رکی
”اور کیا “اسے بےچینی ہوئی
”اور میری جان تم خالہ بننے والی ہو“
اسے لگا اس سے سننے میں غلطی ہوٸ ہے
”ایک دفعہ پھر کہو پلیز“
”تم خالہ بننے والی ہو “
”زویا تم سوچ نہیں سکتی میں تمہارے لیے کتنا خوش ہو اب حرم شریف جاٶں گی تو بےبی اور تمہارے لیے بہت ساری دعائیں مانگوں گی“
۔۔۔۔
رات میں اجتاب کے پاس بیٹھے وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اجتاب کو اپنے دن بھر کی روداد سنا رہی تھی
اور وہ خاموشی سے لیٹا اسکے چہرے سے جھلکتی خوشی کو بخوبی دیکھ رہا تھا
”ویسے آج کی سب سے اچھی بات کیا تھی۔؟“
”زویا کو کال کی تھی اس نے بتایا کہ میں خالہ بننے والی ہوں“
”یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے بھئی“
”ہن بالکل میں خود بہت خوش ہوں “
۔۔۔۔
گھر لوٹ کر مہمانوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا
بادلوں کی سورج کے ساتھ آنکھ مچولی جاری تھی
ہلکی ہلکی دھوپ لان میں بکھری تھی
اجتاب کے چچا کی فیملی ان سے ملنے آئی تھی
سب ڈرائنگ روم میں بیٹھے باتوں میں مشغول تھے
وہ معزرت کرکے اٹھ آئی کیونکہ دوپہر کے لیے ابھی کھانا بھی بنانا تھا
اجتاب کو کچھ ہفتوں کے لیے یورپ جانا تھا وہ دو دن سے اسی پیکنگ میں لگی تھی
۔۔۔
”سنو۔؟“ وہی اسکو مخاطب کرنے والے الفاظ تھے
”مجھے ایک چھوٹی سی کیوٹ سی پیاری سی خوبخو تمہارے جیسی بیٹی چاہیے“ وہ اپنی پسند بتارہا تھا
جو کسی اور بات کی توقع کرتے ہوئے اس کے پاس جاکر بیٹھی تھی سٹپٹا گئی
”ہائے یار یہ تم بات بات پہ اتنا بلش کیوں کرتی ہو۔؟“
”مجھے بیٹا چاہیے “اس نے بات بدلی
”بیٹا کیوں۔؟“
”میں نے آپ سے پوچھا کیا کہ آپ کو بیٹی کیوں چاہیے۔؟“
”پوچھ لو میں بتادوں گا“ وہ بتانے کو تیار تھا
”جب میں چلا جاٶں گا تو ۔۔۔۔۔ کیا ۔۔۔۔۔ تم۔۔۔۔۔ مجھے مس کرو گی“ وہ رک رک کر کہہ رہا تھا
”ہرگز نہیں ۔۔۔ بھلا آپکو یاد کرنے سے مجھے کونسا ثواب ملنا ہے“ انداز دوٹوک تھا
”سوچ لو پھر بعد میں مجھے یاد کرکے مت رونا “اس نے آنکھ ماری
”کوئی اور کام نہیں آپکو“ اسکے سر پہ تکیہ مار کر وہ باہر بھاگی
۔۔۔۔۔۔
اس نے اجتاب کی فائلز میں ایک چٹ رکھ دی اس غرض سے کہ وہ جب وہاں جاکر پیپرز کھولے گے تو پڑھ لیں گے
جانے سے پہلے وہ کمرے میں آیا تھا
وہ صوفے پہ خاموش بیٹھی تھی
”میں جاٶں؟ “سینے پہ ہاتھ باندھے وہ اسکے سامنے کھڑا تھا
”پوچھ رہے ہیں یا بتا رہے ہیں ۔؟“ سوال کے بدلے سوال تھا
”پوچھ رہا ہوں۔۔۔“ وہ سنجیدہ تھا
”ٹکٹ کروانے سے پہلے مجھ سے پوچھا تھا “اس سے ضبط مشکل ہورہا تھا
”آبیہہ مجھے لیٹ ہورہا ہے “وہ اسکے جواب کا منتظر تھا
اسکے پہلے کہ وہ کچھ اور کہہ پاتا اس نے رونا شروع کردیا
وہ جو صبح سے پتھر بنے گھوم رہی تھی اب اجتاب کے سامنے وہ صبر کھو چکی تھی
”آبیہہ “ وہ آگے بڑھا اور اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا
”اگر تم ایسے روو گی تو میں نہیں جاپاٶں گا“ اس نے بے بسی سے کہا
”تو مت جائیں ۔۔۔۔ پلیز۔۔۔!! “ لہجہ التجائیہ تھا
اس نے نظریں جھکا لی
اسکے لیے وہاں رکنا مشکل تھا اور وہ اٹھ کر کمرے سے آگیا
_________
اپنے فلیٹ میں پہنچ کر وہ کافی دیر یونہی کھڑکی کے اس پار پرندوں کو دیکھتا رہا،،
اسکے ذہن میں ابھی بھی آبیہہ کا خاموش چہرہ اور آنسوں بھری آنکھیں تھیں
”یار مجھے اسے چھوڑ کے نہیں آنا چاہیے تھا“ اسے برا لگا
وقت گزر رہا تھا
سامنے پڑی فائلز کا سوچ کر وہ شاور لینے چلاگیا
فریش ہوکر وہ اپنی فائلز کو پریزینٹیشن کے لیے ریڈی کرنے کی غرض سے نیچے کارپٹ پہ بکھیر کر بیٹھ گیا
اس نے سب سے پہلے وہی فائل نکالی جس میں وہ چٹ تھی
یہ کیا ہے اسکی نظر چھوٹے سے کاغذ پہ پڑی
(خیر کھول کر دیکھنے میں کیا ہے)
وہاں خوبصورت لکھائی سے کچھ لکھا تھا
”آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ آپ کے جانے کے بعد میں آپکو مس کروں گی کیا۔؟
مجھے لگتا ہے مس تو بہت چھوٹا لفظ ہے
آپ نے مجھے اپنے ہر پل ساتھ ہونے کی اتنی بری عادت ڈال دی ہے کہ اب اگر میں چاہوں تب بھی اس عادت کو چھوڑ نہیں سکتی
کیونکہ کبھی کبھار عادت محبت سے زیاہ جان لیوا بن جاتی ہے
((میری جان ،، میں بھی کہاں رہ پاوں گا۔؟؟ ))
میرے کیوٹ ہزبینڈ …. جلدی لوٹ آئیے گا کیونکہ اس بار میرے ساتھ ساتھ کوئی اور بھی آپکا
شدت سے منتظر ہے
فقط آپکی آبیہہ“
پہلے وہ اس پہیلی کو سمجھنے سے قاصر تھا
اور جب سمجھ آئی تو فوراً موبائل کی طرف بھاگا
اور کال ملادی
۔۔۔۔۔
وہ موبائل ہاتھ میں لیے اسکی کال کی منتظر تھی وہ جانتی تھی وہ چٹ پڑھ کر ضرور کال کرے گا
”نہیں اٹھاٶں گی ،، مجھے چھوڑ کے گئے ہیں نا اب رہیں وہی پہ ترستے اپنے کام کے ساتھ“ اس نے مسکراتے ہوئے موبائل کو دیکھا
میسج سینڈ کرکے موبائل وہی چھوڑ کر چلی گئی
”(اللہ جی یہ لڑکی بھی نا ))
جانتی ہے میں کتنا بےتاب ہورہا ہوں اس سے بات کرنے کے لیے اور ایک یہ ہے،،“ وہ کافی دیر ٹرائے کرتا رہا لیکن وہ بھی ضدی تھی
۔۔۔۔۔
عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ سکون سے بیٹھی تھی کہ موبائل پھر بجا
اب کے اسے اپنے بیچارے شوہر پہ ترس آیا تھا
”تم بہت بری ہو “اجتاب نے موبائل کان سے لگاتے ساتھ کہا
”ہا۔۔۔میں نے کیا کیا۔؟ اتنی معصوم تو ہوں میں ۔!! “اس نے بڑی رسانیت سے جواب دیا
”اللہ بچائے ایسی معصومیت سے“
”لڑنے کے لیے فون کیا ہے کیا۔۔؟؟“ بات بدلی
”نہیں محبت بھری باتیں کرنے لیے“ اس نے اسی کے انداز میں جواب دیا
”اگر ایسی بات ہے تو آپکا مطلوبہ نمبر بہت تھک چکا ہے تھوڑا آرام کرنا چاہتا ہے مہربانی کرکے ….. بعد میں رابطہ کریں “ اسس نے اپنی ہنسی روک رکھی تھی
”آبیہہ ۔“وہ سنجیدہ ہوا
”اگر آپکو بتادیتی تو آپ نا جاتے،، بس …. اسی لیے نہیں بتاپائی کیونکہ کام سب سے پہلے ،،
آپ کام ختم کریں اور جلدی سے ہمارے پاس واپس آجائیں“
”(میں تمہیں کیسے بتاو کہ ابھی میں کیسا فیل کررہا ہوں تم سے دور ہونے کا دکھ اپنی جگہ اور اس نئے آنے والے مہمان کی خوشی اپنی جگہ)“ وہ خاموش تھا
”سنو سورہ ملک کی تلاوت سنادو پلیز “لہجہ خواہش سے بھرا تھا
”اچھا ٹھیک ہے سنادیتی ہوں“
ہاتھ میں قرآن لیے موبائل سائیڈ پہ رکھ کر وہ تلاوت کرنے لگی
ٹھہر ٹھہر کر خوبصورت آواز سپیکر سے آرہی تھی
آنکھیں موندے وہ پوری توجہ سے سن رہا تھا
”الحمداللہ۔۔۔۔۔“ دونوں نے بیک وقت کہا اور دونوں مسکرادئیے
”مجھے یہ خوشی دینے کے لیے تمہارا بہت شکریہ“
وہ قدرے پرسکون تھا
”شکریہ اکسیپٹڈ اب آپ کام کریں جاکر اللہ حافظ“
اس نے فون کاٹ دیا
”مس یو “سکرین پہ اسکا مسیج ابھرا
”(می ٹو بٹ مور دین یو)“ آنکھیں بند کیے وہ نیند کی گہری وادیوں میں چلی گئی
۔۔۔۔۔
اگلی صبح کام والی سے سارے کام کرواکرچکی تھی
اور ابھی ہانیہ کو کوئی ٹاپک سمجھارہی تھی
انیلہ بیگم نے آج روزہ رکھا تھا بس اسی وجہ سے وہ اپنے روم میں قرآن خوانی کررہی تھی
ہال میں پڑا فون بجا جب تک وہ فون تک پہنچی فون کٹ چکا تھا
وہ واپس ہانیہ کے پاس آگئی
کچھ گھنٹوں بعد ہاسپٹل سے حسن صاحب کے سیکٹری نے کال کی
اسکی سانسیں تیز ہوگئی
”ما۔۔۔ما۔۔۔ماما “اس سے کہنا مشکل ہورہا تھا
وہ بھاگتی ہوئی انیلہ بیگم کے کمرے میں آئی
”ماما جلدی کریں ہمیں ہاسپٹل جانا ہے وہ بابا۔۔“ اس نے گھبراۓ ہوۓ انداز میں کہا
”کیا ہوا بابا کو ۔؟؟“
”وہ آفس میں آگ لگ گئی تھی اور بابا ہاسپٹل ہیں آپ پلیز جلدی کریں“
عبایا پہن کر وہ ہاسپٹل چلی آئی
حسن صاحب ایمرجنسی وارڈ میں تھے
”اللہ جی میں صرف آپ پہ بھروسہ کرتی ہوں،،
ہمیشہ کی طرح آج بھی میں صرف آپ سے مدد مانگتی ہوں پلیز میری پکار سن لیں
بابا کو کچھ نا ہو پلیز“ وہ خالق کے سامنے گڑگڑا رہی تھی اور وہ آج بھی جانتی تھی اس کا رب اسے ناامید نہیں موڑے گا
منہ ہاتھوں میں دئیے وہ کتنی دیر یونہی اللہ کو پکارتی رہی اور روتی رہی
آدھے گھنٹے بعد ڈاکٹر باہر آئے
حسن صاحب کی ٹانگیں کافی جل چکی ہیں جسم پہ بھی کافی جگہ زخم ہیں
”اتنے سخت حادثے کے بعد ہوسکتا ہے کہ انکے دماغ پہ بھی کچھ اثر ہوا ہو آپ کو انکا پورا خیال رکھنا ہوگا“ ڈاکٹر نے تاکید کی
اس نے سب کو منع کردیا کہ کوئی اجتاب سے کچھ نہیں کہے گا
۔۔۔۔۔
ایک ہفتے بعد حسن صاحب کو ڈسچارج کردیا گیا
اسکی ذمہ داری اب پہلے کی نسبتاً بڑھ گئی تھی
اور اوپر سے اسکی ناساز طبعیت۔۔۔ تھوڑے سے کام سے ہی وہ تھکنے لگتی
آج بھی اجتاب سے بات کرکے وہ تھوڑی دیر کر لیے صوفے پہ بیٹھی اور وہی سوگئی
انیلہ بیگم روم میں آئی اسے یوں بےسود پڑے دیکھ کر انھیں اس پہ بہت پیار آیا تھا
ایسی حالت میں بھی بنا آرام کے سارا دن لگی رہتی ہے
”آبیہہ اٹھو بیٹا ،، چلو ادھر بیڈ پہ جاکر آرام سے سوٶ“
وہ ہڑ بڑاہٹ میں اٹھ بیٹھی
اور گنودگی میں ہی بیڈ پہ جاکر سوگئی
۔۔۔۔۔
اگلی صبح بابا کے پاس بیٹھ کر وہ بابا کو نیوز سنا رہی تھی
تبھی انیلہ بیگم سوپ لے کر آئی
”میری بیٹی کو دے دو وہ مجھے پلادے گی “حسن صاحب نے ایک نظر سوپ کو دیکھ کر آبیہہ کی طرف رخ پھیرا ،،
تبھی آبیہہ کے پیٹ میں درد کی لہر سی ابھری اور اسے لگا اس پل اسکی جان نکل گئی ہو
وہ بےہوش ہوکر فرش سے جالگی
انی۔۔۔ انیلہ حسن صاحب نے ٹوٹے لفظوں میں پکارا
۔۔۔۔۔
وہ ابھی بھی بےسود پڑی تھی
”فکر کی کوئی بات نہیں ہے ایسی حالت میں چکر آنا معمول کی بات ہے آپ انکا خیال رکھیں
آپکو انھیں مکمل آرام دینا ہوگا “
ڈاکٹر اختیاطی تدابیر بتا کر چلی گئیں
اور انیلہ بیگم وہی بیٹھی کتنی دیر آبیہہ کا چہرہ دیکھ کر روتی رہیں
”سارا دن لگی رہتی ہے تھوڑا سا آرام بھی نہیں کرتی یہ تو ہونا ہی تھا نا اب بس میں اجتاب کو کال کر کے سب بتادوں گی“ انیلہ بیگم نے ہمت باندھتے ہوئے سوچا
۔۔۔۔۔
کچھ گھنٹوں کے مجبوراً ریسٹ کے بعد اسکا کمرے میں دم گھٹنے لگا
آہستہ سے چلتی ہوئی کچن میں آگئی اور اپنے لیے فریج کھول کر فریش جوس نکالنے لگی
”آبیہہ بچے میں نے کہا بھی تھا نا کہ بیڈ سے ہلنا بھی نا
تمہیں کسی چیز کی ضرورت تھی تو مجھے آواز دیتی یا ملازمہ کو“ انیلہ بیگم جھنجلائی ہوئی تھی
”چلو اب کمرے میں ،،“ وہ اسکا ہاتھ تھام کر اسے کمرے میں واپس لے آئیں
۔۔۔۔۔
عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ کھڑکی میں آکھڑی ہوئی
رات کے وقت موسم قدرے پرسکون تھا
ٹھنڈی ہوا کو وہ اپنے اندر اتار رہی تھی جیسے وہ اس رات کے سکون کو خود میں سمانا چاہتی ہو
تبھی دروازہ بجا
”آجاٶ راشدہ “اس نے بنا دیکھے کہا
”آبیہہ باجی یہ بی بی جی نے آپکے لیے دودھ بھیجا ہے“
وہ سائیڈ ٹیبل پہ رکھ کر چلی گئی
باہر ہر طرف اندھیرا تھا لمحہ بھر کو اسے اس اندھیرے سے خوف آیا لیکن جب نگاہ آسمان کی طرف اٹھی تو پھر لبوں پہ مسکراہٹ بکھر گئی
”آپ نے میری ہمیشہ مدد کی ہے میرے بنا کہے بنا پکارے ،، اور میں جانتی ہوں میری اس آزمائش میں بھی مدد کریں گے
اللہ جی میں چاہتی ہوں میں بابا کا خیال خود رکھ سکوں بس کبھی کبھی حالت تھوڑی سی خراب ہوجاتی ہے
اگر آپ ساتھ ہو تو میں اس آزمائش سے بھی نکل جاٶں گی“
اس نے کچھ کلمات پڑھنا شروع کردئیے
ہوا میں بھینی بھینی سی خوشبو پھیل رہی تھی
وہ خوشبو جس سے اسے محبت تھی
اس نے گہرا سانس لیا
آنکھوں کی قید سے دو موتی آزاد ہوکر گرے
اس کے دل کے ساتھ ساتھ لبوں نے بھی شدت سے اسے پکارا
”مجھے ضرورت ہے آپکی!!
پلیز واپس آجائیں ۔؟“ لہجے میں افسردگی تھی
تبھی کسی نے اسے اپنے حصار میں لیا
وہ حصار جو فرحت بخش تھا چاہت بخش تھا
پھر سے وہی خوشبو ، اسکے وجود کی خوشبو جسکو وہ پہچانتی تھی
”اجتاب !!“ اس نے پہلی دفعہ اسے اسکے نام سے پکارا تھا
اس نے آنکھیں زور سے بند کرلی اس ڈر سے کہ اگر آنکھیں کھولی تو یہ خواب یہی ٹوٹ جاۓ گا
اس نے اسکا چہرہ اپنی جانب کیا
آنکھیں آج بھی ویسی ہی تھی جیسی وہ چھوڑ کے گیا تھا خاموش بھیگتی جھکی ہوئی
اس نے اسکی پیشانی پہ ہونٹ رکھ دئیے
”اجتاب“ اس نے پھر پکارا
”یس مائے لیڈی “اب کے اس نے بھی جوابا کہا
”آپ کب آئیں گے واپس مجھ سے نہیں رہا جارہا آپکے بغیر پلیز واپس آجائیں نا“ آنسوٶں میں شدت ہوئی
”اگر نا آٶں تو۔۔؟ “
”تو میں مرجاٶں گی “اس نے اسکے کندھے پہ سر رکھ دیا
”پاگل ہوگئی ہو کیا اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو میرا کیا ہوگا۔؟“
”آپ رہ لیں گے وہاں بھی تو رہتے ہیں نا ……. نا صبح سے کوئی کال نا میسج آپ کے لیے بس کام ضروری ہے،،“
اسے آبیہہ کے انداز پہ حیرت سے زیادہ پیار آرہا تھا
”چلو آٶ زیادہ دیر کھڑے رہنا ٹھیک نہیں“
رات دیر تک وہ سب کچھ ایک حسین خواب سمجھ کر اس سے ڈھیر ساری باتیں کرتی رہی۔
