Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz

رات کے پچھلے پہر اسکی آنکھ موبائل کی روشنی سے کھل گئی ”کیا یار سکون سے سونے تو دیا کرو“ وہ بڑبڑائی اور موبائل نگاہوں کے سامنے کیا۔۔
یکلخت سکرین پہ بابا کے میسج کا دیکھ کر چہرے پہ مسکراہٹ بکھری اور دوبارہ آنکھیں موندے وہ فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگی
اذان کی آواز کے ساتھ ساتھ ایک اور آواز اس کے حواسوں سے ٹکرائی
”بھائی اٹھ جائیں نماز پڑھ لیں“ آنکھوں کو مسلتے ہوئے وہ اٹھ گیا اور وضو کرنے کیلیے واش روم کا رخ کیا
نماز ادا کی اور دعا مانگے بغیر ہی اٹھ گیا وہ ٹائم کا بہت پابند سہی لیکن نماز سے بھاگتا تھا
وہ سوچتا تھا کہ جب دھیان نماز میں رہتا ہی نہیں تو نماز پڑھنے کا کیا فائدہ۔۔؟؟
آفس کے لیے تیار ہوکر وہ نیچے آگیا
ڈائننگ ٹیبل پہ سب موجود تھے
” گڈ مارننگ ایوری ون۔۔“ اس نے مشترکہ کہا
اسکو دیکھ کے سب کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری
”دیکھ رہے ہیں حسن صاحب_ اپنے لاڈلے کو، سلام کی بجائے گڈ مارننگ کہا جارہا ہے_“ انیلہ بیگم نے کہا
”لاڈلے کی ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں انسان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے_“
جواب حسن صاحب کی طرف سے تھا
”انگریز چلے گئے پر ہمارے بچوں کے دماغ خراب کرگئے “ وہ سر پیٹ کے رہ گئیں
”ماما سوری نیکسٹ ٹائم خیال رکھو گا پلیز۔۔“
”بھائی آپ مجھے لینے آرہے ہیں نا“ بہن نے اپنا مدح بیان کیا
”انوشے،، کوشش کروں گا لیکن میں ابھی لیٹ ہورہا ہے“
آفس کی فائلز لیے وہ باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کے اسے کالج کے لیے تیار ہونا تھا جلدی جلدی میں اپنا دوپٹہ اور بیگ لیے وہ نیچے آگئی
”بابا“ سامنے ڈائننگ ٹیبل پہ اختر شیرانی کو دیکھ کر وہ بھاگی اور پیچھے سے بابا کے گلے لگ گئی
”گھر پہنچ کے بھی مجھے نہیں تھا بتایا کہ میں آچکا ہوں_ بابا آپ ہربار ایسے کیوں کرتے ہیں؟؟_“ آبیہہ نے منہ بنایا،
”میرا بیٹا جو سرپرائز دینے کا مزہ آتا ہے_ بتا کے آنے میں_ ویسا نہیں آتا_“
وہ مسکرادی ناراضگی تو بس لمحے بھر کی تھی
”آبیہہ سنو،، فاطمہ تمہیں قرآن سنٹر ساتھ لے جانے کیلئے کل بھی آئی تھی انہوں نے بھی کل بھی زور دیا
بیٹا ٹائم نکال کے چلے جانا اسکے ساتھ"
”اچھا امی“،
آج لیٹ نہ ہوجاوں بریڈ سلائس ہاتھ میں پکڑے وہ باہر کی طرف بھاگی
”آبیہہ ڈھنگ سے ناشتہ تو کرلیا کرو “
امی پیچھے سے کہتی رہ گئیں
کالج گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا اور یہ راستہ عموما وہ پیدل ہی طے کرتی صبح کی خاموش سڑکیں اسے اچھی لگتی تھی حالانکہ دوپہر کو تو یہاں پاوں رکھنے کی بھی جگہ نہ ہوتی_
خاموشی سے چلتے ہوئے وہ اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی
”زندگی تو آج بھی ویسی ہے سارے کام بھی ویسے ہی ہیں کتنا عجیب ہے نا “اسکی نگاہیں سگنل پہ رکی گاڑی تک گئی جہاں ایک بوڑھے انکل ہاتھ پھیلائے مانگ رہے تھے
”بیٹا کچھ پیسے دے دو کل سے کچھ نہیں کھایا،،
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ_“ انکے لہجے میں عاجزی تھی
سگنل بدلا اور وہ گاڑی آگے بڑھ گئی بوڑھے انکل کی آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا
شاید انھوں نے رب سے شکوہ کیا
” مولا دیکھ اپنے بندوں کو کیسے ہیں۔؟“ لیکن آسمان کے اس پار خاموشی تھی
وہ سر جھکائے آگے بڑھے،،
آبیہہ کے پاوں تھم گئے اب وہ کیا کرے؟؟ ذہن الجھا
”میرے پاس پیسے ہیں میں دے دیتی ہوں“
وہ ان تک پہنچی اور اور انھیں پیسے دے دئیے
بوڑھے بابا اسے غور سے دیکھنے لگ گئے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری
” پتر اللہ تیرا بھلا کرے“
ایک سکوں جو اسکے وجود پہ اترا تھا
جسکی لذت اسے سب سے الگ لگی تھی
وہ کالج کی طرف بڑھ گئی اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا بوڑھے بابا آسمان والے کو بڑی چاہت سے دیکھ رہے تھے شاید وہ شکر ادا کررہے تھے
”ہماری زندگی کتنی آسان ہے ہم پھر بھی شکر ادا نہیں کرتے۔؟ انسان کتنا ناشکرا ہے“ بےبسی سی لہجے میں آگئی
کالج پہنچ کر وہ کلاس روم میں چلی گئی__!!
کلاس میں جاکر وہ خاموشی سے زویا کے پہلو میں بیٹھ گئی
سر حسب عادت اپنی گپ شپ میں لگے تھے لیکن کلاس میں سکوت دیکھ کر لگا کہ ٹاپک سنجیدہ چل رہا ہے
”زندگی کا سفر آسان نہیں ہے ہر ایک اپنے مقصد کے لیے جی رہا ہے اپنی منزل کو پانے کیلئے،،
آج کل کے لوگوں کا مقصد بینک بیلنس ہے اور
بچے اسکے لیے کمپیٹیشن بہت بڑھ چکا ہے ہر طالب علم دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی تگ و دو میں لگا ہے_
کہتے ہیں اگر منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریاں کون دیکھتا ہے؟؟
پھر نگاہیں صرف حاصل پہ مرکوز ہوتی ہیں آپ بھی اسی بات کو سامنے رکھے اور محنت کرے مسلسل محنت_“ سر نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوۓ کہا_
بات گہری تھی لیکن عمل پیرا ہونا مشکل تھا--
لیکچرز سے فارغ ہوکر وہ کنٹین کی طرف جارہی تھی -
اسکے قدم رکیں سامنے کی کلاس روم سے خوبصورت نسوانی آواز آرہی تھی وہ بڑھی اور رک کر سننے لگ گئی
”منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریوں کو سامنے نہیں رکھا جاتا“
”یہ تو سر احمد نے بھی کہا تھا_ کیا یار آج سب ایک ہی ٹاپک پہ بات کررہے ہیں!! لیکن میم سامیہ تو ہماری تفسیر کی ٹیچر ہیں _“وہ الجھی
”ہم سب کو اللہ پاک کی طرف لوٹنا ہے وہی ہماری آخری منزل ہے، پھر سکون ہی سکون ہے منزل کی چاہ میں سب ہوجاتا ہے
اس تک پہنچنے کےلیے کی گئی کوششوں کو وہ قبول کرلیتا ہے وہ ہمیں تھکنے نہیں دیتا ہمیں ہمت دیتا ہے
ہم گرتے ہیں وہ ہمیں اپنی ذات کا سہارا دیتا ہے
وہ ہمیں لوگوں کے سہارے پہ نہیں چھوڑتا وہ اپنے بندے کی خود حفاظت کرتا ہے
ہر بار ٹوٹنے پہ وہ اپنی محبت سے ہمیں جوڑتا ہے ہم بےبس ہوجاتے ہیں بھروسا ڈگمگا جاتا ہے
امید کھو دیتے ہیں ہمارے اندر موجود ہمارا رب ہمیں حوصلہ دیتا ہے ”دیکھو میں ہوں نا پریشان کیوں ہوتے ہو؟“
وہ ذات امید ہے بس اسکے لیے جی کر دیکھیں اسکے راستے پہ اسکے لیے نکل کے دیکھیں_“ کلاس میں خاموشی کے ساتھ ساتھ اسکے اندر بھی خاموشی چھاگئی
”انسان کے نظریات کتنے مختلف ہیں کوئی دنیا کے راستوں پہ بھاگ رہا ہے اور کوئی دنیا کے پار اس ذات تک پہنچنے کی کوشش میں ،،
پھر ٹھیک راستے پہ کون ہوا۔۔؟“ اس بات نے اسے الجھا دیا
”پوچھنا تو پڑے گا کسی سے ، پر کس سے۔؟“ وہ بےچین تھی
میم سامیہ کلاس روم سے نکل کر اپنے آفس کی طرف جارہی تھیں وہ پیچھے لپکی
”مے آئی کم ان میم۔۔“اس نے دروازے پہ کھڑے پوچھا
” یس،، بیٹا آجائیں“اجازت مل گٸ
”میم دراصل وہ مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔؟“
اس نے ساری بات کہہ ڈالی
”میم آپ بتائیں نا کہ ٹھیک راستے پہ کون ہے۔؟“ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
”بچے ٹھیک راستہ پر وہی ہے- جسکے پاس ہدایت ہے-
جسکے دل میں اللہ کی محبت ہے- جو اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول کے اصولوں کے مطابق گزارتا ہے
وہی ٹھیک راستے پہ ہے--“میم نے تسلی بخش جواب دیا_
”لیکن میم سر نے تو دنیا کی بات کی تھی پھر۔؟“ اس نے اپنی الجھن بیان کی
”دنیا کے کام تو دنیا کے لیے ہیں جو ادھر ہی رہ جائیں گے
کیا آپکی ڈگریاں آپکی قبر میں رکھی جائیں گی۔؟
نہیں نا، تو پھر یہ ٹھیک راستہ تو نا ہوا نا_
ہم ساری عمر ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں جو ہماری آخرت میں کچھ کام نہیں آئیں گے_“
میم سامیہ مسکرائیں،
” آپ یہ بتائیں آپ نماز پڑھتی ہیں۔؟ “ میم نے پوچھا
”میم کبھی کبھی پڑھ لیتی ہوں“ اس نے شرمندگی سے
سر جھکاتے ہو ۓ کہا
”اچھا آپ فاتحہ پڑھتے ہوئے اللہ سے سیدھا راستہ مانگتی ہیں آپکو نہیں پتہ کہ وہ سیدھا راستہ کونسا ہے۔؟“ سوال پوچھا گیا
اس نے کوئی جواب نہ دیا
(مجھے تو ترجمہ بھی نہیں آتا، نا میں نے ترجمے پہ کبھی غور کیا ہے جھکا سر مزید جھک گیا)
”سیدھا راستہ اللہ کی طرف جاتا راستہ ہے_
وہ راستہ جس پہ نبیﷺ تھے جسکو اللہ پاک نے قرآن میں واضح کیا ہے
حق کا راستہ ،،
صراط مستقیم کا راستہ،،
اور صرف اسی پہ نجات ہے!!“
میم کے چپ ہوجانے سے خاموشی چھا گئی
”بچے باقی سارے راستے تو اس کے بعد ہیں“ وہ پرسکون انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
”شکریہ میم“ وہ باہر آگئی،،
چہرے پہ معصومیت اور الجھاو لیے وہ راہداری میں موجود ایک بینچ پہ بیٹھ گئی
جانے کیوں اسکا دل کررہا تھا وہ رو دے
”مجھے تو سورہ فاتحہ کا ترجمہ بھی نہیں آتا اللہ جی یہ کیا ہوگیا“
آنکھیں بھر آئیں۔۔ ضبط مشکل تھا-

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *