Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09

دیکھا ہے اختر کی بیٹی کو۔۔؟؟“ فریدہ (جوکہ آبیہہ کی ہمسائی تھی) نے طنزیہ کہا
”کیسے بس سٹاپ پہ کھڑے ہوکر کسی لڑکے سے ہنس ہنس کے باتیں کرتی ہے۔!!“
چلتے ہوئے وہ ماں بیٹی ایک دوسرے کے کان میں کھسر پھسر کررہی تھیں
”امی اب بس بھی کریں میں جانتی ہوں اسے ماہ نور ایسی بالکل نہیں ہے آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے“
وہ ماں کو سمجھا رہی تھی
”تمہیں تو ہمدردی ہوگی نا تمہاری دوست جو ٹھہری
لیکن میں بھائی صاحب سے ضرور بات کروں گی کہ انکی بیٹیوں کی وجہ سے ہماری بیٹیوں پہ بھی اثر پڑتا ہے
سمجھاکے رکھیں انھیں“ انہوں نے نخوت سے کہا
اور صبا سر جھٹک کررہ گئی
۔۔۔۔۔۔
”پاسپورٹ بنوانے دینے ہیں بس باقی تیاریاں تو ہم ساتھ ساتھ کرہی لیں گے “
نسیم بیگم نے اختر صاحب کو کہا
”آبیہہ تم اپنے اور ماہ نور کے ڈاکومنٹس نکال کے اپنے بابا کو دے دو“ امی نے تاکید کی
”لیکن امی مجھے عمرے پہ نہیں جانا پلیز “آبیہہ نے احتجاج کیا
”اور ماہ نور کے بھی پیپرز ہیں بابا آپ اپنا اور امی کا پاسپورٹ بنوالیں نا“
اختر صاحب کچھ دیر سوچتے رہے اور پھر کچھ سمجھ کر مان گئے
کمرے میں آکر وہ بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹ گئی اور زاروقطار رونا شروع کردیا
”اللہ جی میں کیسے آپکے سامنے آپکے روبرو آجاٶں۔؟؟
مجھ میں حوصلہ نہیں ہے ،،
میں اتنی نافرمان ہوں ساری عمر غفلت میں رہنے والی
آپکے در کی مستحق نہیں ہوں
نہیں میں نہیں آٶں گی۔۔؟؟“ اس نے دل کو سمجھالیا
موبائل بجا سکرین پہ موجود نمبر غیر شناسا تھا
اس نے کال رسیو کرلی
”جی اسلام علیکم “فون کے اس پار کسی نے کہا
”وعلیکم السلام!!“ جواب حتمی تھا
وہ اگلی بات کی منتظر تھی
”کیسی ہیں آپ۔۔؟؟ “اس نے ہمت کرکے پوچھا
”یہ الفاظ تو کسی نے پہلے بھی مجھ سے کہے تھے
کون ہے یہ انسان۔۔؟؟“ اسکا ذہن الجھا
”سوری میں نے آپکو پہچانا نہیں “ آبیہہ نے جواب دیا
”کیا کہوں اب !! خیر بتادیتا ہوں کونسا وہ مجھے کھانے لگی ہیں !!
اس رات بس اسٹینڈ پہ آپ بیہوش پڑی تھی می۔۔۔میں ہی آپکو ہاسپٹل لے کے گیا تھا“ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا
”او اچھا۔۔۔۔۔۔!! وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔آپکا بہت شکریہ …..شاید شکریہ کے الفاظ بہت کم ہیں“ لہجے میں خلوص تھا
”نہیں شکریہ کی بالکل ضرورت نہیں یہ تو میرا فرض تھا
آپ نے بتایا نہیں آپ کیسی ہیں؟؟“ اس نے بات کا رخ بدلا
دونوں کے درمیان خاموشی ٹھہر سی گئی
اسے اسکی خاموشی چبھی تھی
وہ کال پہ ہی تھی لیکن کوئی جواب کیوں نہیں وہ فکرمند ہوا
”آپ رو رہی ہیں ۔۔؟؟“ اس نے دوبارہ مخاطب کیا
اور عین اسی وقت آبیہہ نے کال کاٹ دی
”شاید وہ برا مان گئی ہے مجھے۔۔۔۔۔ ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی“ وہ ہاتھ میں موبائل لیے وہیں شرمندہ بیٹھا رہا
مجھے خود نہیں معلوم کہ میں کیسی ہوں،، بس اتنا جانتی ہوں کہ میں زندہ ہوں ، سانسیں ابھی بھی چل رہی ہیں
لیکن یہ مجھے کیا ہورہا ہے یہ درد یہ بےچینی خختم کیوں نہیں ہوتی۔۔؟؟
۔۔۔۔۔
”ہم کل تمہاری منگنی کرنے جارہے ہیں “وہ اپنے بیٹے کو ختمی فیصلہ سنا رہی تھی
وہ اپنے کام میں مصروف تھا ماما کی بات سن کر انھیں دیکھنے لگ گیا
”ماما یہ آپ مجھے کیوں بتا رہی ہیں۔؟؟ “اجتاب کے ابرو تنے
”حد ہے اجتاب !!“ انیلہ بیگم سر پکڑ کر بیٹھ گئی
”ادھر میرے سر پہ اتنی ذمےداریاں ہیں اور تمہارے کان پہ جوں تک نہیں رینگ رہی“ انہوں نے اچنبھے سے کہا
”اچھا اس میں اب میں کیا آپکی مدد کرسکتا ہوں“ وہ سب کام چھوڑ کے سیدھا ہوا
”کچھ زیادہ نہیں نیکلس تو میں لے آئی تھی بس آبیہہ کے لیے رنگ لادو پلیز “انھوں نے امید بھری نگاہوں سے دیکھا
”اوکے ماما جیسا آپ کہیں شام تک رنگ آپکو مل جائے گی“ اجتاب نے تسلی دی
”بڑی مہربانی ہوگی اجتاب صاحب۔۔!!“ انیلہ بیگم مسکرائی
۔۔۔۔۔
”فجر کی نماز کے بعد روزانہ سیر کا پروگرام آپکی صحت کے لیے بہت مفید ہے “وہ امی کو تاکید کررہی تھی
”اب چونکہ میں بھی گھر پہ ہی ہوں تو میں آپکے ساتھ جایا کروں گی“
”اچھا بیٹا چلوں گی۔۔!!“ نسیم بیگم نے جان چھڑانے والے انداز میں کہا
”چلیں پھر آج سے شروع کرتے ہیں میں ذرا اپنی شال لے آٶں “یہ کہہ کر وہ اپنے روم کی طرف بڑھ گئئ
وہ دونوں چلتے چلتے پارک تک آگئیں
ابھی اندھیرا ہی تھا اور ساتھ ہر طرف خاموشی بھی
پھولوں اور پتوں پہ گری شبنم موتیوں کی طرح چمک رہی تھی
اس نے جوتے اتار لیے اور وہی گھاس پہ ننگے پاوں چلنا شروع کردیا
پارک میں ہر سو پھولوں کی بھینی بھینی خوشبو پھیلی تھی اس نے گہرا سانس لیا
لمحہ بھر کو اسے اپنا وجود بہت پرسکون محسوس ہوا
”آبیہہ بیٹا یہ کیا کررہی ہو کہیں کچھ چبھ جائے گا واپس آٶ جوتا پہنو“۔۔ امی نے اسے پیچھے سے آواز دی
لیکن اس نے ایک نا سنی یہ خوبصورت احساس بہت منفرد تھا
”آپکی کائنات بہت خوبصورت ہے اللہ جی“
اس نے آسمان کی طرف دیکھا امید بھری نگاہوں سے جیسے اسکا دوست اسکی طرف ہی متوجہ ہو،،
“میں نے سنا ہے پھول درخت پتے سب آپکی حمدو ثنا کرتے ہیں لیکن میرا دل کررہا ہے کہ کاش میں انکو سن پاتی “
اس نے پہلے کبھی کسی چیز پہ غور نہیں کیا
آج اسکا دل کررہا تھا کہ وہ ہر ایک چیز کو باریکی سے سمجھے
”امی اللہ نے یہ کائنات کیوں بنائی ہے۔۔؟؟ “وہ چلتے ہوئے نسیم بیگم سے پوچھ رہی تھی
”اللہ نے ہر چیز اپنی عبادت کے لیے بنائی ہے “ امی نے جواب دیا
”اور یہ آپکو کیسے پتہ ۔۔؟؟ “
”چندا یہ قرآن پاک میں اللہ نے خود بتایا ہے “ امی نے تسلی بخش جواب دیا
”پھر ٹھیک ہے “ اس کی تسلی ہو گٸ
واپسی پہ اسے نظیر چچا کی حویلی نظر آئی
”امی آئیں آپکو کچھ دکھانا ہے
نظیر چچا وہ گھوڑا کدھر ہے ۔؟ “
”بیٹا وہ رہا۔۔۔۔۔۔ اصطبل میں “ انھوں نے ہاتھ سے اشارہ کیا
”امی دیکھیں کتنا پیارا گھوڑا ہے نا “ آبیہہ نے خوشی خوشی بتایا
”گھوڑا تو بہت پیارا ہےلیکن۔۔۔۔۔
ابھی جلدی چلو ،، مجھے ماہ نور کے لیے ناشتہ بھی تیار کرنا ہے“ امی نے عزر پیش کیا
اور وہ خاموشی سے امی کے پیچھے چلتی گھر آگئی
___________
منگنی کی رسم میں کچھ زیادہ اہتمام نا کیا گیا
اجتاب کی فیملی اور بس وہ خود ہی تھے
اس نے کئی بار زویا کو کال ملائی لیکن نمبر بند جارہا تھا
میں نہیں جانتی تمہارا نمبر کیوں بند ہے لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ آج کے دن تمہیں میرے ساتھ ہونا چاہیے تھا
وہ سسک اٹھی
آنسوں کے ساتھ اپنے جذبات کا بھی گلا گھونٹ دیا
سب کے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی وہ وہاں نہیں تھی
ذہن ابھی بھی زویا میں الجھا تھا
اسے کسی بھی چیز میں دلچسپی نا تھی نا اس رسم میں اور نا اجتاب کی فیملی میں
اسے تو رہ رہ کر زویا کی کمی کھا رہی تھی
تمہیں میری ذرا پرواہ نہیں زویا۔۔!! اس نے خفگی لیے سوچا
رنگ پہننے کے بعد …. وہ نماز کا کہہ کر وہاں سے چلی آئی
پھر وہ بس …. انھیں خداخافظ ہی کہنے گئی
۔۔۔۔۔۔
پاسپورٹس جلد ہی تیار ہوگئے
امی عمرہ کی پیکنگ میں مصروف تھیں کبھی کبھی وہ بھی مدد کردیتی
اور دل میں اٹھنے والے درد کو ہمیشہ فراموش کرادیتی یہ کہہ کر کہ( ”نہیں میں بہت گنہگار ہوں …اس ذات کے در پہ جانے کا مجھے کوئی حق نہیں“)
لبوں کو ایک دوسرے میں ہمہ وقت پیوست کیے وہ خاموش نگاہوں سے امی کو دیکھ رہی تھی جو کہ کپڑوں کو سلائی کررہیں تھیں
”تم بھی چلی جاو نا ساتھ پلیز“ دل نے منت کی
وہ خود نہیں جانتی تھی کہ اتنا صبر اسے آیا کہاں سے ہے۔۔؟؟
”امی آپ میرے لیے ادھر دعا کریں گی۔۔؟؟ “اس نے لبوں کو کھولا
”کروں گی اور وہ بھی بہت ساری !!“ امی نے محبت سے جواب دیا
ٹپ ٹپ آنسو برسنے لگے نسیم بیگم جو کام میں مصروف تھی نگاہ اٹھا کر اسکو دیکھنے لگ گئیں
”آبیہہ بیٹے کیا ہوا ہے۔۔؟؟“
وہ بھاگ کر امی کے پاس گئی اور گودمیں سر رکھ کر خوب روئی
”چندا کیا بات ہے۔۔؟؟ “لہجے میں خلوص تھا
”مجھے کچھ نہیں چاہیے ((آپ اللہ سے میرے لیے کچھ نا مانگنا پلیز بس یہ دعا کرنا کہ وہ مجھے معاف کردیں مجھے خود سے جوڑ لیں اور مجھے اپنی محبت دیں دیں پلیز))“
وہ فقط سوچ کر رہ گئی
”امی میں آپکے بغیر کیسے رہوں گی ؟؟“وہ بس یہی کہہ پائی الفاظ کہیں اندر ہی اٹک گئے تھے
”چندا صرف ایک ماہ کی ہی تو بات ہے “امی نے دلاسہ دیا
”تم ایسا کرنا کہ زویا کو اپنے پاس بلالینا“
زویا کا نام سن کر وہ مزید اداس ہوگئی
اس نے کچھ نہ کہا بس یونہی خاموش رہی
”میرے ساتھ بازار چلو گی ….. تمہارے بابا کے لیے کچھ لینا ہے اور پھر تمہارا موڈ بھی ٹھیک ہوجائے گا“
کمرے میں آکر وہ کافی دیر تک زویا کو کال ملاتی رہی لیکن ابھی بھی کوئی جواب نہیں تھا
۔۔۔۔
”اٹھ جاٶ زویا!!“امی اسے پچھلے ایک آدھے گھنٹے سے اٹھا رہیں تھیں
”اللہ یہ لڑکی پھر سلیپنگ پلز لے کے سوئی ہے“
انکی نظر سائڈ ٹیبل پہ رکھی پلز پہ پڑی
اب کی بار انھوں نے اس پہ پانی کے چھینٹے پھینکی
”اٹھ جاٶ نماز کا ٹائم نکل رہا ہے۔۔؟؟“ وہ پھر گویا ہوئی
کیا امی سونے بھی دیا کریں!! آنکھیں ملتے ہوئے وہ اٹھ گئی
”ڈئیر نماز نیند سے بہتر ہے چلو جلدی وضو کرکے آو،،
اور یہ تم سلیپنگ پلز کس خوشی میں لے کر سوئی تھی۔۔؟؟“
”امی نیند نہیں آرہی تھی“ میں پھر اور کیا کرتی۔؟؟
امی کے سوالات سے بچنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ وہ چپ کرکے وضو کرنے چلی جائے یہی سوچ کر وہ واش روم کی طرف بھاگی
بےدھیانی میں نماز ادا کی اور یونہی جائے نماز پہ بیٹھے سامنے لگی پینٹنگز کو گھورنے لگ گئی
”زندگی بھی عجیب ہے نا اس موڑ پر لاکر کھڑا کردیتی ہے کہ بندہ نہ آگے کا رہتا ہے نہ پیچھے کا
میں نے تو کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا
کبھی کسی کا دل نہیں توڑا پھر میرے ساتھ کیوں برا ہوا میرا دل کیوں توڑا گیا۔؟؟“ دو آنسو پلکوں کا دامن چھوڑ کر دامن میں آگرے
”کیوں ہوا ایسا میرے ساتھ کیوں۔۔؟؟
بتائیں نا آپ تو سب جانتے ہیں نا آپکو تو سب پتہ ہے نا پھر میرے ہی ساتھ ایسا کیوں۔؟؟
ایک ماہ گزر گیا ہے لیکن آج بھی لگتا ہے کہ درد ویسے کا ویسا ہی ہے آج بھی اتنی ہی شدت ہے
میرےوجود کی اذیت مجھے ہر پل مار رہی ہے
میں جانتی ہوں آپ مجھ سے محبت نہیں کرتے۔؟؟
آپکو کیا فرق پڑتا ہے میں مروں یا جیوں“
اٹھا سر جھک گیا
دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپائے وہ زاروقطار رو رہی تھی خاموشی چیخ چیخ کر اس رب کو پکار رہی تھی
((میرے ساتھ ہی ایسا کیوں۔؟ کیوں کیا میرے ساتھ ایسا۔۔؟؟ ))
۔۔۔۔۔
”دیکھئیے بھائی صاحب اپنی بیٹیاں سب کو عزیز ہوتی ہیں
میں نے خود ماہ نور کو بس اسٹاپ پہ کسی لڑکے کے ساتھ ہنس ہنس کر باتیں کرتے دیکھا ہے
اب یہ نہ کہیے گا !! وہ بیچاری تو معصوم ہے اسے کچھ پتہ نہیں ہے
کون باپ کہتا ہے کہ ہماری اولاد میں عیب ہے لیکن سچ کو کون جھٹلا سکتا ہے“
وہ جو کچن میں امی کے پاس کھڑی ساری باتیں سن رہی تھی اسکا ضبط ٹوٹا
”امی آپ کچھ کہتی کیوں نہیں انٹی فریدہ کو،
کب سے فضول بولے جارہی ہیں
چندا تمہارے بابا بات کررہے ہیں نا انکو یہ مسئلہ اپنے طریقے سے دیکھنے دو“ انہوں نے تسلی دی
تم جلدی کر لو بازار بھی جانا ہے
”اللہ جی آپکی دنیا کے لوگ بھی عجیب ہیں ۔۔؟؟ “وہ منمنائی
”بہن مجھے اپنی بچیوں کا پتہ ہے وہ کیا کرتی ہیں
اور کیوں کرتی ہیں۔؟؟
آپ تربیت کی بات کررہی ہیں
اور میں فخر سے کہہ سکتا ہو کہ میری بیگم نے میری غیر موجودگی میں میری بچیوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے
آپکو فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں،،
اور آپکی بات کے بارے میں میں خود ماہ نور سے بات کروں گا“ وہ اٹھ کر باہر چلے گئے
فریدہ انٹی بھی پیر پٹختے اپنے گھر چلی گئی
۔۔۔۔۔۔
وہ امی کے ساتھ بازار آئی تھی
آئس کریم شاپ کو دیکھ کر وہ رکی
”امی آپ رکیں …… میں ذرا آئسکریم لے کر آئی“
”اتنی سردی میں اب تم آئسکریم کھاٶ گی“
”آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ زویا کو لے آنا آپ تو جانتی ہیں اسے آئسکریم کس قددر پسند ہے بس یہی سوچا کہ بعد میں نا آنے ہوا تو ابھی لے آوں،، وہ امی کو وضاحت دے کر شاپ کی طرف آئی
کیسی ہیں آپ۔۔؟؟“ الفاظ گونجے
یہ آواز ، یہ الفاظ کس نے پہلے بھی ایسے ہی بولے تھے اس نے دماغ پہ زور دیا
”ہاں یاد آیا وہ لڑکا، جس نے مجھے کال کی تھی اسی نے یہ کہا تھا یہ آواز اسی کی ہے“
وہ پلٹی، وہاں لوگوں کے ہجوم میں وہ کیسے اسے پہچان لیتی
”امید ہے آپکی نگاہیں مجھے ہی ڈھونڈ رہی ہیں “کسی کی نرم گرم آواز سماعت سے ٹکرائی
”اور یقیناً آپ وہی ہیں جنہوں نے میری جان بچائی تھی“ اس نے رخ اسکی جانب کرتے ہوئے کہا
”جی مادام بندہ آپکی خدمت میں ہر لمحہ حاضر ہے “وہ مسکرایا
وہ بلیک شرٹ اور گرے کلر کی پینٹ پہنے تھا
چہرے پہ بکھری مسکراہٹ دل کو موہ لینے والی تھی
لمحہ بھر کو آبیہہ کو اسکی مسکراہٹ اچھی لگی
ماتھے پہ بکھرے بال اور پسینہ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ جلدی میں کہیں سے آیا ہے
”اس رات کے لیے آپکا بہت شکریہ لیکن …. ابھی مجھے جانا ہے کیونکہ میری امی میرا انتطار کررہی ہیں “ لب ہلے
وہ خوش تھا ہاں یوں کہنا بہتر ہے کہ خوش ہونے سے زیادہ وہ حیران تھا کہ آج وہ اپنی محبت کے روبرو ہے
لمحے کے لیے اسے فلموں والی فیلنگ آئی
کہ کاش وقت تھم سا جائے،،
لیکن وہ اسکے سامنے اس سے دور جارہی تھی یوں لگا جیسے جان نکل رہی ہو
وہ روکنا چاہتا تھا سنو …. مت جاٶ …. لیکن الفاظ گلے میں ہی کہیں اٹک سے گئے
وہ جاچکی تھی محبت بھرا ایک لمحہ عنایت کرکے
اسے لگا زندگی واقعی بہت خوبصورت ہے
”ایسا تو کبھی نہیں تھا میں…… دیکھو کس قدر پاگل کردیا ہے تم نے ؟؟“
اسکو اپنی حالت پہ ہنسی آئی،،
”ہائے یہ ہجر کی راتیں تو کروٹیں بدلتے ہی گزرجاتی ہیں
لیکن آج تو وصال یار کے بعد بڑے مزے کی نیند آئے گی
اتنی گہری باتیں لڑکے اف کچھ شرم کرو اور سوجاٶ۔۔؟؟“
وہ بیڈ پہ لیٹے خود ہی سے مخاطب تھا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *