Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07
جب نسیم بیگم وہاں پہنچی وہ وہاں سے جاچکا تھا
صرف حرا وہاں موجود تھی
ماں کی ممتا جوش میں آئی انہوں نے آبیہہ سے لپٹ کر رونا شروع کردیا
ماں کا لمس پاکر اس نے آنکھیں کھولی
اب وہ قدرے بہتر تھی
کیا ہوگیا میرے بیٹے کو۔؟؟ اتنی طبعیت خراب تھی تو مجھے بتاتی ،،مجھے فون کرلینا تھا نا میں واپس آ جاتی۔؟؟
”امی کو کیا بتاوں بابا کا۔؟؟“ چہرے پہ تناو بڑھا
وہ پھر سے رودی نہیں مجھ میں حوصلہ نہیں کہ میں بتاسکوں
اس نے آنکھیں موند لی
یونہی آنکھیں بند کیے اس نے کہنا شوع کیا …….امی وہ بابا کا ایکسیڈینٹ ہوگیا وہ اور وہ بابا …….بابا کی ڈیڈ باڈی سٹی…… ہاسپٹل….. میں ہے۔۔!! الفاظ لبوں پہ ٹوٹے
بابا کا ایکسیڈینٹ ،، آبیہہ یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔؟ انہوں نے اسے ہلایا لیکن وہ بیہوش ہوچکی تھی
(ایسا سٹریس کی وجہ سے ہوا تھا)
انھیں لگا آسمان انکے سر پہ آگرا ہے اللہ یہ کیا ہوگیا۔؟؟
نہیں ایسا نہیں ہوسکتا میرا دل یہ سب ماننے سے انکاری ہے
انھیں حواس باختہ ہوتے دیکھ کر حرا انکی طرف بڑھی
آنٹی حوصلہ رکھیں اسے انکی حالت پہ ترس آیا
انھوں نے حرا کو ساتھ لیا اور رسیپشن پہ آگئیں(اس علاقے میں واحد سٹی ہاسپٹل وہی تھا جہاں وہ اس وقت موجود تھے)
کافی دیر رسیپشنسٹ دیکھتی رہیں لیکن اختر صاحب نامی کسی ڈیڈ باڈی کا ریکارڈ وہاں موجود نہیں تھا
ذہن نے ایک اور حل دیا
نسیم بیگم نے موبائل نکالا اور اختر صاحب کو کال ملادی
کال پہلی بیل پہ ہی رسیو کرلی گئی
جی بیگم کیا بات ہے۔؟ اختر صاحب کی آواز سن کر نسیم بیگم کی جان میں جان آئی
آپ ٹھیک ہیں نا کچھ ہوا تو نہیں ۔؟ انہوں نے ضبط کرتے ہوئے پوچھ لیا
میں تو بالکل ٹھیک ہوں بس ابھی آفس سے نکل رہا تھا
آپ واپس کب آرہیں ہیں۔؟؟
پرسوں دوپہر تک آجاوں گا۔!! بچیاں ٹھیک ہیں نا۔؟؟
ہممم….. ہاں ٹھیک ہیں (کال پہ کچھ بھی کہنے سے آبیہہ کے بابا مزید پریشان ہوجائیں گے انھیں نا بتانا ہی بہتر ہے)
بعد میں کال کرتا ہوں انہوں نے خداحافظ کہہ کر فون رکھ دیا
اور نسیم نیگم شکرانے کے نوافل ادا کرنے چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر آچکی تھی لیکن نا کسی سے بات کرتی نا کچھ ،
ابھی بھی وہ خاموش بیڈ پہ لیٹی چھت کو گھور رہی تھی
دروازہ کھلا نسیم بیگم کے ہاتھ میں چائے کا مگ تھا
”آبیہہ چلو اٹھو تمہیں دوا بھی لینی ہے“ فکر مندی سے کہا گیا
وہ بیڈ پہ اسکے پاس آکر بیٹھ گئیں
”کیا سوچ رہی ہو میری چندا ۔؟“ امی نے پوچھا
”امی وہ بابا۔۔!!“ الفاظ لبوں میں ہی دم توڑ گئے
”ایک تو تم باپ بیٹی بھی نا،، نہیں رہ سکتے ایک دوسرے کے بغیر ،، آجائیں گے تمہارے بابا چلو اٹھو بھی“ وہ گویا ہوئیں
”کب آئیں گے بابا ۔؟“ آواز کہیں دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ
” صبح کہہ رہے تھے کہ کل تک آجاٶں گا__!!
بابا ٹھیک ہیں نا۔؟
ہممم وہ بالکل ٹھیک ہیں کوئی ایکسیڈینٹ نہیں ہوا
اور انھیں بھی کچھ نہیں ہوا،، تم بےفکر رہو
آپکی بابا سے ابھی بات ہوئی ہے کیا۔؟“
ہاں تھوڑی دیر پہلے ہوئی ہے،،
اسکا ذہن کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا
”کیا ہوا ہے آبیہہ ۔۔؟“ وہ آبیہہ کی سوجی آنکھیں دیکھ کر پریشان ہو گئیں
”کچھ نہیں امی رات بھر نیند نہیں آئی ابھی مجھے نیند آرہی ہے“اس نے منہ پہ کمبل لے لیا
”آج تمہیں دیکھنے تمہارے بابا کے دوست کی فیملی آرہی ہیں تیار ہوجانا“
اور وہ ہر بات کو پس پشت ڈال کے سوگئی
۔۔۔۔۔
اسکی آنکھ ظہر کی آذان سے کھلی
سر ابھی بھی بھاری تھا
میں پرسوں رات بس اسٹینڈ پہ تھی پھر ہاسپٹل کیسے پہنچی ۔؟؟
وہ سب یاد کررہی تھی
لیکن اسے ابھی یہ یاد نا آیا کہ کس نے اسے وہاں دیکھا تھا ؟
امی کیا آپکو پتہ ہے کہ مجھے ہاسپٹل کون لے کے گیا تھا۔؟
ہاں چندا جب ہم ہاسپٹل پہنچے تھے تو حرا نامی کوئی لڑکی تمہارے پاس موجود تھی اسی نے بتایا کہ اسکے دوست نے تمہیں ہاسپٹل پہنچایا ہے
اس نے دماغ پہ زور ڈالا ہاں ایک لڑکی وہاں تھی،
”مطلب کسی لڑکے نے مجھے بس اسٹینڈ پہ بیہوش دیکھا تھا پتہ نہیں وہ کون تھا۔؟
رات کے اس پہر وہ مجھے ہاسپٹل لے کے گیا ….اگر اللہ جی آپ اسے نا بھیجتے تو میرا کیا ہوتا؟؟
الحمداللہ ۔۔۔ اللہ جی۔۔!!
کاش میں اسکا بھی شکریہ ادا کرسکوں“
وہ وضو کر آئی پھر نماز ادا کی اور قرآن کو لے کر بیٹھ گئی
___________
”شہیر میرا فون اٹھاٶ پلیز“ وہ بار بار شہیر کو کال کر رہی تھی لیکن آگے سے نمبر بند تھا
صبح شہیر کا میسج آیا تھا
”زویا میں مزید اس رشتے کو نہیں نبھا سکتا اگر ہوسکے تو پلیز مجھے معاف کردینا
اور مجھ سے آج کے بعد کبھی رابطہ نہ کرنا
میں ہر بات کے لیے معافی چاہتا ہوں“
وہ کبھی ایسا تو نہیں تھا محبت کے دعوے کرنے والا یونہی راہ میں تنہا چھوڑ جائے گا،، اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا
وہ کافی دیر تک روتی رہی
” شہیر مجھے ایک دفعہ بتادو کہ تم نے ایسا کیوں کہا۔؟“
ایک انسان جس سے اس نے محبت کی تھی وہ اس سے خود ہی دور چلا گیا
اور وہ روک تک نہ پائی
”میری غلطی ہے تو میں معافی مانگ لوں گی اسے منا لوں گی
لیکن وہ میرے ساتھ ایسے تو نہ کرے
شہیر پلیز فون اٹھاٶ !!“
وہ سسکیاں لیتے ہوئے التجا کرتی رہی
”زویا باہر آٶ مجھے کچھ کام ہے تم سے “
اسکے بھائی محسن نے اسے آواز دی
لیکن کوئی جواب نہیں تھا
وہ دروازہ کھول کر خود ہی اندر چلا آیا
کمرے کی حالت بہت بری تھی ہر چیز بکھری تھی
بیڈ سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی
”زویا یہ کیا حال بنا رکھا ہے کمرے کا“؟؟
زویا ،،، ؟؟؟؟؟ وہ اسکے پاس گیا اور اس نے اسکا ہاتھ ہلایا
لیکن پھر بھی کوئی جواب نہیں تھا
اس نے دیکھا کہ وہ بیہوش ہوچکی ہے
(زویا اپنی فیملی میں اکلوتی اور چھوٹی ہونے کی وجہ سے سب کی لاڈلی تھی ماں بابا کے لاڈ پیار اور دولت نے اسے ہر آسائش دی تھی)
”امی دیکھیں زویا کو کیا ہوا ہے۔؟“ محسن اسے بےسدھ دیکھ کر چلایا
امی بھاگتی ہوئی آئیں
دونوں نے اسے بیڈ پہ لٹایا
اور پانی کی چھینٹے مارے لیکن وہ اسی طرح پڑی رہی
جلد ہی اسے ہاسپٹل ایڈمٹ کردیا گیا
۔۔۔۔۔۔
دونوں اسکے سرہانے فکرمند کھڑے تھے
ڈاکٹرز کے مطابق بی پی اور شوگر لیول زیادہ کم ہوگیا تھا جسکی وجہ سے وہ بیہوش ہوگئی
”کیا ہوگیا میری بچی کو۔؟ “ وہ مسلسل روتے ہوئے اللہ سے اسکی صحت یابی کے لیے دعائیں کررہی تھی
کچھ گھنٹوں بعد اسے ہوش آگیا
”زویا کیا ہوا ہے۔۔؟؟“ محسن نے فکر مندی سے پوچھا
ابھی امی کمرے میں موجود نہیں تھیں
اس نے آج تک سب کچھ محسن سے شئیر کیا تھا ابھی بھی وہ امید بھری نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا
”بھائی وہ شہیر“ آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے
”کیا ہوا شہیر کو ۔؟“ اس نے استفسار کیا
”اس نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔!!“
رات کا درد پھر سے جسم میں خون کی طرح گردش کرنے لگ گیا
”میری گڑیا ….. ایسا کچھ نہیں ہے اس نے مذاق کیا ہوگا تمہارے ساتھ ؟، میں جانتا ہو ۔۔۔ شہیر بہت اچھا لڑکا ہے
میں خود اس سے بات کروں گا تم بےفکر رہو“ محسن نے تسلی دی
وہ چھت کو گھور رہی تھی
”یہ ہی تو میں کہتی ہوں لیکن اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا…؟؟“ وہ فقط سوچ کر رہ گئی
۔۔۔۔۔۔
کمرے میں اندھیرا تھا
ماں کی گود میں سر رکھے وہ رو رہا تھا
”میں نے آج تک اپنے بیٹے کو اتنا ٹوٹتے نہیں دیکھا“ وہ فکرمندی سے سوچ رہی تھیں
”کیا ہوا ہے۔؟ “بالآخر انہوں نے پوچھ ہی لیا
”مما وہ لڑکی جسکا میں نے آپ کو بتایا تھا
کل رات وہ بس اسٹینڈ پہ بیہوش پڑی تھی اسکی طبعیت بھی اس قدر خراب تھی
میں حرا کے ساتھ اسے ہاسپٹل لے کے گیا“ وہ انہیں چھوٹے بچے کی طرح اپنی پریشانی بتا رہا تھا
”یہ تو بہت اچھی بات ہے “
”مما وہ بہت معصوم ہے
اسکی آنکھیں مما مجھ ان سے بےپناہ محبت ہے“ اس نے اقرار کیا
”جو اسکے اندر کے سارے راز کہہ رہی ہوتی ہیں میں اسے پڑھنا چاہتا ہوں
میں اسے سمجھنا چاہتا ہوں
مجھے لگتا ہے وہ بہت اکیلی ہے میں اسے تھامنا چاہتا ہوں
اسکا ہمدرد بننا چاہتا ہوں
((کل رات وہ کیوں اتنا رورہی تھی ۔؟ ))
میں اسکے آنسوں کو اس سے دور کرنا چاہتا ہوں“ وہ بتاتا گیا
”اگر تمہاری یہی مرضی ہے تو میں اس لڑکی سے مل لیتی ہوں “ اسے خوش کرنے کی کوشش کی گئی
”مجھے نہیں پتہ وہ کون ہے
کہاں رہتی ہے۔۔؟؟“ وہ بےبس تھا
”اور پھر بھی تم اس سے اس قدر محبت کرتے ہو“ انہیں حیرت ہوئی وہ کھڑا ہوگیا
”محبت کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے “جاتے ہوئے اس نے بس یہی کہا
”دیکھو نا تمہاری وجہ سے میری ہر سانس اذیت میں ہے
تم مل جاٶگی تو سکون آجائے گا
نہیں ملو گی تو تمہارے خوش رہنے کی دعا کروں گا
دعا ،، ذہن میں روشنی ابھری ہاں میں اسکے لیے دعا تو کرہی سکتا ہوں“ آسان حل مل گیا
وہ وضو کر آیا اور جائے نماز بچھا کر رب کے حضور کھڑا ہوگیا
اس نے تو کبھی باقی نمازیں بھی نہیں پڑھیں اور آج نماز میں وہ اللہ کے اتنے پاس کھڑا تھا
وہ اکثر مما کو نماز پڑھتے دیکھتا تھا
لیکن آج وہ ایک لڑکی کی وجہ سے اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوا
دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
”پتہ نہیں اللہ آپ مجھے خودغرض کہے یا کچھ اور لیکن میں کیا کروں۔؟
وہ لڑکی مجھے خود سے بڑھ کر عزیز ہوگئی ہے
اسکی خوشی میں میری خوشی ہے
میں آپ سے اسکی خوشیاں کا سوال کرتا ہوں پلیز“ آنسو ٹوٹ کر گرے
وہ سجدے میں گیا جہاں سکون تھا وہ مطمئن ہوگیا کہ اب سب ٹھیک ہوگا
وہ اٹھا اور آکر سوگیا
۔۔۔۔۔۔
حرا کی مدد سے وہ آبیہہ کا نمبر لے چکا تھا
بار بار نمبر ڈائل کرتا اور پھر مٹا دیتا
”کیا کروں۔؟ وہ کیا سوچیں گی میرے بارے میں۔؟
مجھے تو اسکا نام بھی نہیں پتہ پھر میں اس سے کیا کہوں گا۔؟؟
بس حال ہی تو پوچھنا ہے “دل نے دہائی دی
آخر وہ مان گیا اور نمبر ڈائل کرلیا
۔۔۔۔۔
انیلہ بیگم کو تو آبیہہ بہت پسند آئی
”اختر یہاں ہوتا تو اور بھی اچھا ہوتا“ حسن صاحب نے کہا
”بھائی صاحب ضروری کام تھا اسی لیے نہیں آپائے
وہ کل تک آجائیں گے“
آبیہہ سر جھکائے دنیا جہاں سے بےخبر اپنی سوچوں میں کھوئی تھی
وہ تو کل رات میں ہی اٹکی تھی نہ کسی کی بھی طرف متوجہ تھی جیسے اسکا دل ہر طرح کی خوشی سی اچاٹ ہوگیا ہو
مہمانوں کے جانے کے بعد وہ کمرے میں آگئی کیونکہ فون کافی دیر سے وقفے وقفے سے بج رہا تھا
آنکھیں موندے وہ سر بیڈ سے لگائے بیٹھی تھی
آنسوں رخساروں پہ بہہ نکلے
”بابا آپ جلدی آجائیں نا؟؟ وہ بابا کو دیکھنا چاہتی تھی
فون پھر بجا اس نے آنسو پونچھے نمبر غیر شناسا تھا
”جی اسلام علیکم!!“نم آواز گونجی
”وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ ۔؟“ انداز سوالیہ تھا
”الحمداللہ میں ٹھیک ۔!!“وہ شاید بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھی اسلیے صرف مختصر جواب دیا۔۔!!
فون کاٹ دیا گیا وہ موبائل کی سکرین کو دیکھا
پھر سب کچھ بھلا کر سوگئی
میڈیسن کی وجہ سے اسے زیادہ نیند آرہی تھی
۔۔۔۔۔
بالکونی میں وہ فائلز بکھیرے بیٹھا تھا
ماما کو آتا دیکھ کر فائلز کو سمیٹنے لگ گیا
”میرے پاس تمہارے لیے گڈ نیوز ہے “انہوں نے کافی سے بھرا مگ اجتاب کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
”اچھا کیا۔؟“ اسے تجسس ہوا۔!!
”میں اور تمہارے بابا آج تمہارا رشتہ دیکھ کے پکا بھی کر آئے ہیں،، ہے نا گڈ نیوز۔۔؟؟“ انہوں نے تصدیق چاہی
”ماما آپ خوش ہیں۔؟“ اس نے پوچھا
”میں تو بھئی بہت خوش ہوں
تم خوش ہو۔؟؟
آپ خوش ہیں تو پھر یہ سمجھ لیں میں بھی خوش ہوں۔۔!!
اختر صاحب کی بیٹی بہت اچھی اور بہت سلجھی ہوئی ہے“ آج کل کی لڑکیوں سے بہت مختلف،، انہوں نے تعریف کی
”اچھا ٹھیک ہے ۔!!“ وہ سر نیچے کیے مسکرایا
”کدھر جارہی ہیں ۔؟“ انیلہ بیگم اٹھ کے جانے لگیں جب اجتاب نے پوچھ
”کمرے سے موبائل لینے جارہی ہوں تمہیں آبیہہ کی تصویر دیکھانی ہے“
”ماما رہنے دیں مجھے بالکل بھی نہیں دیکھنی پلیز“ مجھے آپکی چوائس پہ بھروسہ ہے
”اچھا ٹھیک ہے نہیں دکھاتی“ یہ کہہ کر وہ چلی گئیں..
