Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03
کلاس میں آکر بھی وہ بجھی بجھی سی تھی زویا نے غور کیا ”آبی کیا ہوا ہے۔؟ “
کچھ نہیں جواب ختمی تھا
”پھر آج تمہارا موڈ کیوں اتنا آف ہے؟ “ زویا کی تسلی نہ ہوٸ
”(میں کیا بتاوں زویا کو، وہ مجھے سمجھتی ہے لیکن جو بےچینی میرے اندر ہے اسے نہیں سمجھ پائے گی اس نے دل میں سوچا)
نہیں ایسی بات نہیں سر میں صبح سے درد ہے بس“
”اچھا چلو آو کینٹین مں چائے پیتے ہیں “اور وہ خاموشی سے چلے گئی
وہاں شہیر اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا تھا ان دونوں کو آتا دیکھ وہ انکی طرف بڑھا
” کیسی ہو تم دونوں۔؟“
”میں بہت پیاری ہوں اور آبی کے سر میں درد ہے“
”تم سناو کدھر غائب ہو؟؟ تمہیں پتہ ہے میں دو دن سے اتنا پریشان ہوں بندہ جواب تو دے دیتا ہے“ زویا نے دو دن کا سارا غصہ پل بھر میں نکال دیا
”رئیلی سوری زویا وہ دراصل امی کا بائیک سے سخت ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا گھر میں سب بہت پریشان تھے
مجھے تو سمجھ ہی نہیں تھا آرہا کہ میں کیا کرو“ اس نے تفصیلی جواب دیا
”(عجیب ہے نا انسان زندگی پر چاہ کہ بھی بھروسہ نہیں کرسکتا) ، آبیہہ نے سوچا
دو آنسوں آبیہہ کی آنکھ سے گرے
شہیر آبیہہ کو دیکھنے لگ گیا
” آبیہہ تم رو کیوں رہی ہو۔؟“ زویا بھی اسکی طرف متوجہ ہوئی
” کچھ نہیں، شہیر آپ کی امی کیسی ہیں اب۔؟“ اس نے اس کی امی کے بارے میں پوچھا
” اللہ کا شکر اب وہ بہتر ہیں“ وہ وہی بیٹھے باتیں کرتے رہے اور آبیہہ خاموش بیٹھ کر ان سنتی رہی
اسے بس جلدی تھی قرآن سنٹر جانے کی گھر آکر وہ فاطمہ کی منتظر تھی
”اگر وہ مجھے نہ لے کر گئی تو؟؟“ ذہن میں بار بار خیال آتا اور وہ اسے جھٹک دیتی کہ سب ٹھیک ہوگا
اسکا انتظار ختم ہوا اور فاطمہ آگئی اسنے سکون کا سانس لیا
”آپی چلیں ؟“ فاطمہ نے آتے ہی پوچھا
”اچھا امی میں جارہی ہوں“ وہ خداخافظ کہہ کر آگئی
”آپی آج بڑا اہم لیکچر ہے
(( اللہ کی محبت اور انسان ))“ اس نے ساتھ چلتے ہوۓ بتایا
وہ چپ چاپ چلتی رہی وہاں پہنچ کر فاطمہ کے اصرار کرنے کے باوجود وہ ایک کونے میں جا بیٹھی
لیکچر شروع ہونے والا تھا
تلاوت کی گئی پھر نعت اور لیکچر میم نعیمہ کا تھا
مائیک انہوں نے سمبھالا
”اسلام علیکم !! آج بہت خوبصورت تعلق پہ بات کرنے والے ہیں جو کہ رب کا اپنے بندے کے ساتھ ہے جو بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہے
آپکو پتہ ہے بچہ جب ماں کے اندر ہوتا ہے تو ماں ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ بچے کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو پھر اسے اس دنیا میں لاتی ہے اسکی محبت چاہت سب بڑھ جاتا ہے وہ پہلے سے زیادہ اسکا خیال رکھتی ہے میرے بچے کو کچھ ہونا جائے بس۔۔ ماں کے اندر اتنے پردوں میں بھی وہ رب ہم سے غافل نہیں ہوتا ہم تو بولنے کے سننے کے قابل بھی نہیں ہوتے پھر بھی وہ رب سب جانتا ہے
ہمارا رب تو ہم سے ستر ماوں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے پھر وہ کیسے ہمیں بھول سکتا ہے؟؟
نہیں وہ ہم سے بیزار نہیں ہوتا وہ تو محبت سے بانہیں پھیلائے کھڑا ہے ہمارے انتظار میں۔۔ خدا تو سراپا محبت ہے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر،
(کیا وہ مجھ سے بیزار نہیں ہے کیا وہ ابھی بھی میرے منتظر ہے؟؟)
وہ کہتا ہے تم ایک قدم آو میں دس قدم آوں گا
تم چل کے آو میں دوڑ کے آوں گا
((کیا مجھے ایک موقع ملے گا کیا اللہ جی مجھے ایک موقع دے گے۔؟ ))
آگے تو ہمیں ہی بڑھنا ہے پھر وہ رب لپک کر بھی آئے گا اور دوڑ کر بھی پھر وہ رب قدر کرتا ہے کسی کی چاہت کو رائیگاں نہیں کرتا پھر وہ تھامتا ہے
پھر وہ سکون دیتا ہے
اپنی ذات کا سکون،“ پر تاثیر لہجہ میں درس جاری تھا
ایک ایک لفظ اسکے وجود پہ بھاری تھا
(”میں نے تو کبھی اللہ سے ایسی محبت کی ہی نہیں “) اسے شرمندگی محسوس ہوٸ آنسو دامن میں آگرے
”پتہ ہے کیا ہم لوگوں کی محبتوں پر رہتے ہیں ہمیں اس ذات کی محبت پہ یقین نہیں ہے
وہ کہتا ہے میں اپنے بندے کے لیے کافی ہوں
پھر ہم کیوں آسرے ڈھونڈتے ہیں؟؟
(میں نے بھی تو اپنی زندگی میں یہی کیا ہے)
وہ کہتا ہے میں بےقرار دل کی پکار سنتا ہوں پھر ہم اسے کیوں نہیں کہتے ۔؟
محبت کا حق بندگی ہے محبوب کے آگے جھک جانا
اسکی مان لینا اپنا وجود اپنی میں سب ختم کردینا
محبت تو خود کو کسی کے سپرد کرنے کا نام ہے
(کیا میں بھی اللہ سے ایسی محبت کر پاوں گی ؟)
اور کیا ہی خوبصورت احساس ہوتا ہے
اس محبت کا جو اس رب سے کی جائے
اللہ کی ذات اپنے بندے سے بہت محبت کرتی ہے
اللہ پاک کے بندوں کی سب آزمائشیں بندے کو اللہ کے قریب کرنےکے لیے ہوتی ہیں
اللہ کے معاملے میں بدلے کی چاہ تو صرف تاجر رکھتے ہیں محبت والے تو اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں
اس نے کہا یہ کرو تو کر لیا
اس نے کہا یہ چھوڑ دو
تو یہ چھوڑ دیا“ بات اس کے دل پہ اثر چھوڑ رہی تھی
((دل جیسا پتھر پگھل رہا تھااور اسے اس رب کی محبت پگھلا رہی تھی))
((میں نے تو ہمیشہ اپنی کی دل کی سنی اور عجیب و غریب خواہشات کو لیے جیتی رہی ہوں ))
”کیا میرا رب مجھ سے بھی محبت کرتا ہے۔۔؟“ اسکے دل نے چپکے سے سرگوشی کی
”حدیث قدسی ہے کہ
” اے ابن آدم ! میں تجھ سے محبت کرتا ہوں تجھے میرے حق کی قسم تو بھی مجھ سے محبت کر”
کس قدر خوبصورت بات ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کا نہیں کہا اپنے خاص بندوں کا نہیں کہا انبیاء کا نہیں کہا
اللہ نے کہا اے ابن آدم ! مراد ساری دنیا کے لوگ ہیں جن میں (ہندوؤں عیسائی سیکھ وغیرہ ) سب شامل ہیں
میرا رب تو ان سے بھی بہت محبت کرتا ہے پھر میں اور آپ تو اس رب کے آخری نبیﷺ( جسے اس نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے)کے امتی ہیں
ہماری محبتوں کا حاصل دنیا ہے دنیا کے لوگ ہیں
((ہاں وہ مجھ سے محبت کرتا ہے سانس شدت سے چل رہی تھی))
ہم اس سے منہ موڑ بھی لیں نا وہ تب بھی ہمیں گرنے نہیں دیتا
مشہور قول ہے نا((انسان کو ٹوٹے برتن کی طرح ہونا چاہیے لوگوں کی محبت آئے اور باہر نکل جائیں ))
کیا آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں کیا آپ اسکی محبت کا حق ادا کررہے ہیں ۔۔؟؟
یہ آپکو سوچنا ہے“
لیکچر ختم ہوچکا تھا
لیکن جو ہلچل اسکے اندر اٹھی تھی وہ اسکے وجود تک کو ہلا گئی فاطمہ کو لیے بنا وہ واپس آگئی
گھر آکر اس نے جائے نماز بچھایا اور زاروقطار رونا شروع کردیا
”اللہ جی ! میں نے تو کبھی آپ سے محبت نہیں کی
مین نے تو کبھی آپکو نہیں سمجھا میری ساری زندگی تو نافرمانی میں گزری ہے
میں کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا۔۔؟؟؟“
وہ گھنٹوں سر جھکائے روتی رہی ناجانے کب اسکے دل کو سکون ملا اور وہ گہری نیند وہی سو گئی
۔۔۔۔۔
صبح آنکھ فجر کی آذان پہ کھلی وہ پرسکون تھی نماز ادا کرکے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے آنسوں دامن میں آگرے
”بہت گزار لی اب ایسی زندگی! اللہ جی مجھے آپکی بن کے رہنا ہے پلیز میری مدد کریں نا“
صبح کی ہوا میں تازگی تھی کھڑکی میں کھڑے ہوکے اس نے گہرا سانس لیا اب وہ اللہ کے راستے پہ چلنے کے لیے تیار تھی اور پرسکون بھی کیونکہ اس کے لیے اس نے خود اللہ سے مدد مانگی تھی___
_________
وہ گھر آکر بھی مسلسل اسے ہی سوچ رہا تھا
آنسوں بھری آنکھیں، ٹوٹا لہجہ اسے مزید پریشان کررہا تھا
” اسے کیا ہوا تھا وہ کیوں اتنا رو رہی تھی۔؟“
”کاش میں اسے بتا پاتا کہ وہ مسکراتی ہوئی کتنی پیاری لگتی ہے “ وہ خود سے ہم کلام تھا
”پتہ نہیں وہ کون ہے.؟؟ پھر ملیں گی بھی یا نہیں اور میں کیوں بار بار سوچ رہا ہوں اسے؟؟“ وہ جھنجلایا
موبائل بجا ، انجم کی کال دیکھ کہ وہ مسکرایا
”مائے لیڈی، کیسی ہو ؟“
”ٹھیک تم سناو؟“ دوسری طرف سے جواب ملا
”ہمیں ساتھ ڈنر کیے کافی ٹائم ہوگیا ، چلو کہیں ملتے ہیں ؟“
”آجاو پھر (Kc Grand)“ انجم نے ایک سانس میں کہا
”اوکے ڈن میں نکلتا ہوں“ سارے خیالات کو جھٹک کر اس نے گاڑی کی چابی لی اور گیراج کی طرف بڑھ گیا
—-
اگلی صبح سہانی تھی گہرے کالے بادلوں نے موسم کو جوبصورت بنادیا تھا وہ تینوں چلتے چلتے راہداری تک آگئے
”شہیر“ ، زویا نے زیر لب کہا ،
”جی جان“
وہ زویا کی طرف دیکھ کے مسکرایا
”کیا یار تم دونوں تنگ نہیں آتے ہر وقت ایک دوسرے کو جان بےبی،، شونا کہہ کہہ کر،“
آبیہہ نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
”تم جو ہو نا،، کھڑوس ۔۔۔۔ محبت تو تمہارے پاس سے سلام لے کے گزر جاتی ہے
بہن تم کیا جانو محبت کا جذبہ کیسا ہوتا ہے۔؟“ زویا نے اسے چڑھاتے ہوئے کہا
”ہاں اگر یہ جذبہ ایسا ہے تو مجھے نہیں کرنی محبت ،،“
”شہیر“ زویا نے پھر پکارا ،
” مجھے پتہ ہے تمہیں کیا ہورہا ہے “اب کی بار جواب شہیر کی بجائے آبیہہ نے دیا ،
” اچھا کیا؟؟“ شہیر کاتجسس بڑھا
”محترمہ کو آئسکریم کھانی ہے وہ بھی شہیر تمھارے پیسوں سے،،، ظاہر سی بات اس موسم میں اس نے آئسکریم نہ کھائی تو یہ مر جائیں گی“
”کیا واقعی؟“ شہیر نے زویا کو تصدیقی نظروں سے دیکھا
زویا نے بتیسی دکھائی
”چلو اٹھو،، اب پتہ چل گیا نا تو میرے اور آبی کے لیے آئسکریم لے کے آو“ حکمیہ لہجے میں کہا گیا
”جی جان جیسا آپکا حکم“ وہ بیچارا کنٹین کی طرف چلا گیا
”کیوں اسے تنگ کرتی رہتی ہو۔؟“
”یار ،،،، کیا بتاوں؟؟ تجھے بڑا مزہ آتا ہے اسے تنگ کرکے“
5 منٹ بعد وہ آئسکریم لے آیا
” لیجئیے خواتین آپکی آئسکریم“ شہیر نے دونوں انکی طرف بڑھائی
”خواتین کس کو کہا؟؟ آبی کا تو پتہ نہیں لیکن میں بالکل نہیں ہوں“ زویا کو غصہ آیا
”اچھا پھر آپ کیا ہیں۔؟“
”رکو ابھی بتاتی ہوں“ وہ آگے بڑھی اور اسکے پیٹ میں مکا مار کے بھاگ گئی
” ہمت ہے تو پکڑ لو پھر آج،“
”ہائے اللہ !! کس ظالم لڑکی کے پلے باندھ دیا ہے
شادی سے پہلے یہ حال ہے مجھے تو لگتا ہے آبیہہ شادی کے بعد تمہاری دوست میرا قیمہ بنا کے مجھے کچا کھا جائے گی“ شہیر نے معصومانہ شکل بنائی
”بس پھر کیا کہا جاسکتا ہے آپ ہی کی چوائس ہے“ آبیہہ مسکرائی
”رکو زویا میں آرہا ہوں “وہ اس کی طرف بھاگا
انھیں خوش دیکھ کر وہ بھی پرسکون ہوگئی
”دونوں ساتھ میں کتنے اچھے لگتے ہیں“
۔۔۔۔۔۔
آج وہ بلیو جینز اور لائٹ پرپل کلر کی شرٹ پہنے اپنی گاڑی کی طرف جارہا تھا
لمحہ بھر کو اسے لگا کہ نہیں کوئی اور لڑکی سامنے بیٹھی ہے
لیکن وہ ہی تھی ہمیشہ کی طرح خاموش لہجہ اور آنکھوں میں چھپے آنسو،،
”کاش میں اسکی مسکراہٹ کی وجہ بن سکوں اور اسے اپنے سامنے مسکراتا دیکھ سکوں“ دل نے آرزو کی،
وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے دیر دیکھ رہا تھا
”چلیں بیسٹ بڈی پہلے ہی آپ بہت لیٹ آئے ہیں “
وہ فورا اپنے حواس میں لوٹا اور اسکا ہاتھ تھامے گاڑی کی طرف بڑھ گیا وہ اس سے دور ہوتی گئی بہت دور ،،
——–
”کل کی میٹنگ کیسی رہی صاجزادے کی ؟“
ڈائننگ ٹیبل پہ بیٹھتے ہوئے حسن صاحب نے گفتگو کا آغاز کیا
آج وہ کافی دنوں بعد لنچ ایک ساتھ کررہے تھے
”کچھ خاص نہیں بابا پروجیکٹ ہمیں مل چکا ہے اور اس پہ کام بھی شروع ہوگیا بہت جلد پورا بھی ہوجائے گا“
”آپ فکر نہ کریں میں ہوں نا سب سمبھال لوں گا“
اس نے باپ کو مطمئن کیا
”دیکھ رہی ہیں ہمارا بیٹا بڑا ہوگیا ہے اپنی ذمہ داریاں سمبھال سکتا ہے“ حسن صاحب نے فخر سے کہا
”مجھے بھی لگتا ہے اب اسکی شادی کردینی چاہیے !! “انیلہ بیگم نے موقع دیکھ کر بات کہہ دی
”اجتاب اگر تمہیں کوئی لڑکی پسند ہے تو بتادو“
لمحے بھر کے لیے اسکے دماغ میں(کئی) چہرے گھومے
لیکن اس نے اسے جھٹک دیا
”ماما مجھے ابھی شادی نہیں کرنی !! “ دو ٹوک انداز میں کہا گیا
”میں کب کہہ رہی ہوں ابھی کرو ،، منگنی کرلو نکاح بعد میں کرلینا “
”نہیں ماما ابھی نہیں “اس نے ختمی جواب دیا
اور انیلہ بیگم نے سوچا بعد میں بات کرلے گی
اب وہ انوشے کی طرف متوجہ ہوکر اس سے اسکے پیپرز کا پوچھ رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کھڑکی میں کھڑی آسمان والے کو دیکھ رہی تھی
”میں کس قدر گناہ گار ہوں ، نافرمان ہوں
کس منہ سے اللہ سے معافی مانگوں۔؟؟
میرے میں ہمت نہیں ہے میں کیا کہوں اللہ سے ۔؟؟
اگر انہوں نے مجھے معاف نہ کیا تو۔؟؟
اگر میرے گندے وجود کو نظر بھر بھی نہ دیکھا تو
مجھے واپس پھیر دیا تو“
وہ ہچکیاں لیے رونے لگ گئی
”نہیں میرے میں ہمت نہیں کچھ کہنے کی
لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں کیا کروں میری بےچینی ختم کیوں نہیں ہورہی۔؟؟ مجھے سکون چاہیے“
اللہ جی مجھے بس سکون چاہیے پلیز وہ گڑگڑارہی تھی
۔۔۔۔۔۔
وہ امی کے کمرے کی طرف چلی گئی امی آنکھیں موندے لیٹی تھی اسکے آنے پہ سیدھے ہوکے بیٹھ گئیں
وہ امی کی گود میں سر رکھے لیٹ گئی
”امی سکون کیسے ملتا ہے ؟“ اس نے آنکھوں پہ بازو رکھتے ہوئے کہا
”چندا سکون اللہ کی رضا میں ہے
سکون اللہ کی مان لینے میں ہے
سکون شکوہ نہ کرنے میں ہے
سکون اللہ پاک کے ذکر اسکی یاد میں ہے
سکون ہر وہ کام کرنے میں ہے جس سے اللہ پاک خوش ہوں“
”لیکن اگر انسان کے پاس ایسا کوئی کام نہ ہو تب ۔؟“
”اگر سکون نہ مل رہا ہو تو انسان کو چاہیے کہ
وہ اللہ پاک کا ذکر کرے
اسکے قرآن کو پڑھے سنیں سمجھیں سکون مل جائے گا
لیکن اگر پھر بھی نہ ملے تو
پھر اس رب سے رو کہ گڑگڑا کر مانگ لینا چاہیے سکون مل جاتا ہے“
”امی بعص دفعہ انسان کو سکون نہیں ملتا ایسا کیوں ہے۔۔؟؟“
”جب انسان اللہ کی ذات سے دور ہوجاتا ہے تو سکون اس سے لے لیا جاتا ہے کیونکہ سکون اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے اس سے جڑ کر ہی سکون ہے“
”پھر انسان اللہ کے ساتھ کیسے جڑا رہے ۔؟؟“ معصوم دل نے سوال کیا
”نماز اور قرآن کی مدد سے ، انسان اللہ کے ساتھ جڑا رہتا ہے
نماز میں انسان سب سے زیادہ اللہ پاک کے قریب ہوتا ہے رحمت خداوندی اسکی طرف اس قدر متوجہ ہوتی کہ اگر بندے کو اس بات کا اندازہ ہوجائے تو بندہ ہمیشہ نماز کی حالت میں ہی رہے“
”اور قران سے کیسے ۔؟“ آبیہہ کو تجسس ہوا
”اللہ پاک قرآن میں کہتے ہیں کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو یہاں رسی سے مراد قرآن ہے
ایک سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا بندے کے ہاتھ میں ، اس سے جڑنا لازمی ہے میرے بچے ،،
قرآن حق ہے جس پہ عمل کرکے ہی انسان سیدھی راہ پا سکتا ہے اللہ کا ساتھ پاسکتا ہے “
”امی اللہ پاک کی صفات بتائیں نا۔؟“
نسیم بیگم حیران تھی کہ آج آبیہہ کیا پوچھ رہی ہے لیکن انھیں اسکا شوق دیکھ کے اچھا لگا وہ اسکے اندر کی بےبسی سے ناواقف تھی
”وہ رحیم اتنا ہے کہ کسی کو بھوکے پیٹ سونے نہیں دیتا
ہمیشہ زندہ رہنے بہت حکمت والا میرا رب جس نے ساری کائنات کو چلا رہا ہے جسے نہ نیند آتی ہے نا اونگھ جو ہماری ذات کی ہر حرکت سے باخبر ہوتا ہے
رحمن اتنا ہے کہ اپنے بندے کے سارے عمر کے گناہ پل بھر میں معاف کردیتا ہے ایک آنسوں کے بدلے، ندامت کے بدلے وہ سب معاف کردیتا ہے “ امی اسے محبت سے بتا رہی تھیں
”امی اگر کوئی غلطی ہوجائے تو اللہ پاک سے معافی کیسے مانگے۔۔؟“آبیہہ نے الجھی نظروں سے دیکھا
”اللہ پاک کے آگے جھک جاو اور کہو یااللہ پاک یہ غلطی ہوگئی آپ جانتے ہو آپکی بندی بہت کمزور ہے بھٹک جاتی ہے اس انجان دنیا میں پلیز معاف کردے
کیا وہ مان جائیں گے۔؟
ہاں وہ رب مان جائے گا وہ دھتکارتا نہیں ہے
وہ صفائیاں نہیں مانگتا ، جتاتا نہیں ہے کہ تم ہر بار ایسا کرتی ہو ہمارے ماضی کو ہمارے منہ پہ نہیں مارتا کہ تم تو پہلے ایسے تھے
وہ تھام لیتا ہے اپنے بندے کو مضبوطی سے “
محبت سے چاہت سے وہ مسلسل اس کے سر کو دبارہی تھی
”
