Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08
احمد عرفان ،، ماہ نور کا کلاس فیلو تھا
وہ باقیوں سا نہیں تھا،،
لڑکیوں کی عزت کرنا اسے بخوبی آتا تھا اس میں اصل بات اسکی تربیت کی تھی
وہ دونوں بہت اچھے دوست تھے
ماہ نور پڑھائی میں ہوشیار تھی اور احمد کی….. اسکے کام میں خوب مدد کرتی تھی
احمد بھی ماہ نور کے ساتھ قدم بہ قدم کھڑا رہتا
وہ روزانہ اپنا فرض سمجھ کر چھٹی کے بعد اسے کالج سے سٹاپ تک پیدل چھوڑنے آتا تھا
۔۔۔۔۔
کافی سے بھرا مگ لبوں سے لگائے
سامنے بیٹھی فرخ(کالج کی دوست) کو مسلسل دیکھ رہا تھا
اور فرخ ہمیشہ کی طرح نان سٹاپ بولتے ہوئے اپنی ساری کہانیاں اسے سنا رہی تھی
”لڑکی کتنا بولتی ہو تم۔۔؟؟ بس کرو اب پلیز_“
اجتاب نے ہاتھ جوڑے
”ظاہر سی بات ہے جب تم نے منہ میں گھنگرو ڈالے ہوئے ہیں پھر مجھے تو بولنا ہی پرے گا نا“
فرخ نے منہ بنایا
”اب کیا دیکھ رہے ہو۔۔؟؟“ وہ اسکی نظروں سے جھنجھلائی
”دیکھ رہا ہوں تم کتنی خوبصورت ہو !!“وہ مسکرایا
اور تم کتنے دو نمبر کمینے ہو“ وہ دانت پیس کر رہ گئی
”ہیں نا مجھے بھی یہی لگتا ہے ویسے تعریف کے لیے بہت شکریہ !!“ اجتاب نے اسے تنگ کرنے کی کوٸ کسر نہ چھوڑی
”اجتاب اب اگر تم نے کوئی چول ماری تو تمہاری بتیسی میرے ہاتھوں ٹوٹے گی“ شانزے نے وارننگ دی
”مائی لیڈی اتنا غصہ ،، ویسے تم غصے میں مجھے اور بھی حسین لگتی ہو “اجتاب نے آنکھ ماری
”اللہ اللہ ،، اس پاگل لڑکے کا کیا ہوگا ۔؟؟ “وہ چلائی
”مجھے تو اس لڑکی کے حال پہ ترس آرہا جو اس کمینے کو جھیلے گی“ شانزے نے دہاٸ دی
”پھر تمہیں خود پہ ہی ترس کھانا چاہیے کیوں کہ صرف تم ہی جھیلو گی مجھے کسی اور کے بس کی بات ہی نہیں “ وہ اسے چھیڑ رہا تھا
”یہ میرے ہاتھ میں انگوٹھی دیکھ رہے ہو یہ میری منگنی کی ہے“ شانزے نے یاد دہانی کراٸ
”کیا یار ہر بار تو دیکھاتی ہو ایک ہی بورنگ ڈیزائن “وہ اکتایا
”شیروز کو کوئی اچھا سا ڈیزائن نہیں تھا ملا کیا۔؟؟“
”جناب یہ میری اپنی پسند کی ہے“ اس نے جتایا
”اور یقیناً تمہاری پسند بہت بری ہے “
”مت بھولو میری پسند تم بھی ہو۔۔!!“ وہ کھلکھلا کر مسکرائی
”پھر تو تمہاری پسند کی داد دینی پڑے گی “اجتاب کو ہتھیار ڈالنے پڑے
”تم جانتی ہو میں بس تمہارے ساتھ ہی اتنا فرینک ہو اور آئے دن تم پہ ہی لائنیں مارتا ہوں“ ڈمپل گہرا ہوا
”حالانکہ مجھے کسی اور سے بات کرنے سے کوئی غرض نہیں“ اجتاب نے اعتراف کیا
”میں تو چاہتی ہوں میرا دوست بس ہنستا مسکراتا رہے “ شانزے نےاجتاب کو خوش رہنے کی دعا دی
”اچھا سنو ماما نے لڑکی دیکھ کے فائنل کردی ہے“ اس نے کافی کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا
”اوہ واو دیٹس گریٹ نیوز یار،،“ وہ خوش ہوئی
”واقعی،، خبر تو اچھی ہے“ وہ کافی پہ جھکا ہوا تھا
”پھر تم سہرا باندھنے کے لیے تیار ہوجاٶ،،“
شانزے نے اسکا کندھا تھپتھپایا
اسکا نام کیا ہے۔۔؟؟
نام،، نام تو مجھے یاد نہیں ،،اس نے دماغ پہ زور دیا
نیلی گہری آنکھوں میں خاموشی واضح تھی
”کچھ دیر بعد وہ الوداع کہہ کر چلی گئی اور وہ وہی بیٹھا کھڑکی کے اس پار کے منظر کو دیکھتا رہا“
۔۔۔۔۔
قرآن کا سبق دہرا کر وہ بالکونی میں کھڑی تھی
کھڑکی سے آتی ٹھنڈی ہوا اسکے بالوں کو اڑا رہی تھی وہ بار بار دوپٹہ سر پہ لیتی لیکن کوشش ناکام تھی
”اللہ سے محبت کرنے والے اس پہ بھروسہ کرنے والے اپنا درد صرف اللہ ہی سے کہتے ہیں“
میم سامیہ کی بات ذہن میں گھومی
”میم سامیہ ٹھیک کہتی ہیں میرا رب ہی میرے درد کو جانتا ہے وہی اسے کم کرسکتا ہے“
اس نے نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی
”آپ سے میں کچھ نا بھی کہوں تب بھی سب جانتے ہیں میری ذات کی میرے وجود کی اذیت
اللہ جی دیکھیں نا مجھے درد ہورہا ہے ،،
میں کیا کروں کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا کاش ایسا کچھ ہوا ہی نا ہوتا
آپ جانتے ہو وہ کیا ہیں میرے لیے۔۔؟؟ بابا کے بغیر یہ زندگی اداس لگتی ہے“ وہ کب آئیں گے۔۔؟؟ وہ ہچکیاں لیے رو رہی تھی
زویا بھیہ تو کال رسیو نہیں کررہی میری… میں کیا کروں ۔؟؟
”آبیہہ،،“امی نے آواز دی
آنسو صاف کیے اور دوپٹہ صیحیح کرکے وہ ہال میں چلی گئی
”جی امی آپ نے مجھے بلایا “
”ہاں وہ اپنا موبائل لانا ذرا مجھے شگفتہ آپا سے بات کرنی ہے“
اس نے موبائل امی کو لا کے دیا اور وہیں ہال میں صوفے پہ بیٹھ گئی
سر صوفے سے ٹکائے وہ دروازے کو گھور رہی تھی
”کاش بابا ابھی آجائیں“
~ نظر دہلیز تک جائے ذرا سی سنسناہٹ پہ
دکھائی کچھ نہیں دیتا مگر ہیں کان آہٹ پہ
دروازہ کھلا اور اسے لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے سامنے سچ مچ بابا کھڑے تھے
”بابا“ اسکے منہ سے یکلخت نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ بابا سے لپٹ گئی
”بابا آپ کہاں چلے گئے تھے آپکو پتہ ہے میں آپکے بغیر نہیں رہ سکتی آپ کیوں کرتے ہیں ایسے“ وہ آنکھیں بند کیے بابا کے سینے میں منہ چھپائے روئی جارہی تھی
انہوں نے الجھی نظروں سے نسیم بیگم کو دیکھا
”بچے کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟“ بابا کو فکر ہوئی
اسے لگا وہ ابھی بھی خواب میں ہے آنکھیں کھولے گی تو یہ خواب ٹوٹ جائے گ
انہوں نے آبیہہ کو خود سے الگ گیا
”گڑیا ادھر میری طرف دیکھو ذرا ۔۔!!“ انہوں نے اسکی ٹھوڑی اوپر کی
”کیا حال بنا لیا ہے آپ نے اپنا ۔۔؟؟“انہوں نے اسکی پیشانی چومی
اور اسکا ہاتھ تھامے اندر آگئے
نہیں یہ حقیقت تھی اور یہ واقعی سب سے خوب صورت حقیقیت تھی وہ سمبھلی
”کچھ نہیں بس آپ اتنے دن بعد آئے میں اتنا اداس ہوگئی تھی“ آبیہہ نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
”میں چینج کرکے آتا ہوں“ اختر صاحب فریش ہونے چلے گئے
“وہ جو مجھے کال آئی تھی وہ کیا تھا ؟؟“ وہ وہیں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ بابا آگئے
”آپ تو کل شام آنے والے تھے؟؟“ نسیم بیگم نے پوچھا
”کچھ نہ پوچھو بیگم کل کا دن تو بہت ٹف رہا“ انہوں نے بیٹھتے ہوۓ جواب دیا
”کیوں کیا ہوگیا تھا؟؟“ نسیم بیگم سب کام چھوڑ کر صوفے پہ آکر بیٹھ گئی
”کچھ دن پہلے میں جس گاڑی سے ڈیپارٹمنٹ سے آفس جارہا تھا واپسی پہ اس گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا
بات یہ تھی کہ میرا والٹ اور کچھ ڈاکومنٹس اسی میں رہ گئے
بس وہی ڈاکومنٹس لیتے لیتے دیر ہوگئی ورنہ شام تک آجاتا “ انہوں نے تفصیلی جواب دیا
”اچھا تو یہ بات تھی وہ کال ان ڈاکومنٹس کی وجہ سے آئی تھی“ آبیہہ دل ہی دل میں شکر ادا کرتی ہوٸ اٹھی اور بابا کے کندھے پہ سر رکھ کے بیٹھ گئی
”بابا آپ کہیں نہیں جائیں گے“
”اب نہیں جانے لگا میری جان !!“ انھوں نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا
رات کا کھانا سب نے ساتھ کھایا
وہ پرسکون تھی صرف اپنے رب کی وجہ سے،،
۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح خوشگوار تھی
پھولوں پہ گری شبنم نے پھولوں کو دھو دیا تھا
آج وہ گھر سے یہی سوچ کر نکلی تھی کہ اب وہ کالج نہیں جائے گی اسی وجہ سے آج کالج میں اسکا آخری دن تھا
سرجھکائے سڑک کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اسکی نظر سامنے حویلی کی طرف گئی جہاں خوبصورت گھوڑا بندھا تھا وہ حویلی کے اندر چلی گئی
نظیر چچا یہ آپکا گھوڑا ہے ۔؟
جی بچے….. یہ میرے بیٹے کا پسندیدہ گھوڑا ہے کچھ دن کے لیے اسے ملک سے باہر جانا تھا اسلیے اسے یہاں چھوڑ گیا
اس نے سر اثبات میں ہلایا
بہت خوبصورت ہے بالکل بادشاہوں کے خاص گھوڑوں کی طرح یا پھر جیسے باربی موویز میں ہوتے ہیں
اسکے گھنے بھورے بال اسکو مزید دلکش بنا رہے تھے
اس نے گھوڑا کی کمر پہ ہاتھ پھیرا
اچھا چچا اب میں چلتی ہوں خداخافظ کہہ کر وہ کالج کی طرف بڑھ گئی
۔۔۔۔
کالج آکر وہ اپنے ڈپارٹمنٹ کے عین سامنے کھڑی تھی
پرسوں رات کی نسبت آج وہ اسے بہتر لگ رہی تھی
اسکی نگاہوں کا نقطہ نظر آج بھی وہی تھی وہ آج اسے جی بھر کے دیکھ سکتا تھا بنا کسی روک ٹوک کے۔۔!!
بہت اچھا ساتھ رہا ہے ہمارا بہت یادیں جڑی ہیں میری اس کالج سے…. وہ ماضی کے پلوں میں لوٹ چکی تھی اور انھی یادوں کو سوچ کر اسکے چہرے پہ مسکراہٹ آگئی
میری کل رات کی دعا قبول ہوگئی تم مسکراتے ہوئے بہت اچھی لگتی ہوں مائے لیڈی!! ایسے ہی مسکراتی رہا کرو
اس نے زیر لب کہا
ہائے ڈئیر۔۔!! کسی نے پیچھے سے اسے مخاطب کیا
وہ چہرے پہ مسکراہٹ لیے پلٹی کیسی ہو مدیحہ ۔؟؟
مجھے کیا ہونا ہے تمہارے سامنے ہوں تم سناو کدھر ہو آجکل ۔؟؟ کہی محترمہ کی شادی وادی کا تو کوئی چکر نہیں ۔۔؟؟
ارے نہیں نہیں،، اب ایسی بھی بات نہیں ہے گہری کالی آنکھوں میں چمک ابھری
وہ بس ایگزامز کی وجہ سے کافی مصروف ہوں
تم چھوڑو یہ بتاو زویا کدھر ہے۔۔؟؟
زویا کو میں نے نہیں دیکھا وہ بھی تمہاری طرح گھر بیٹھ کے رٹے مار رہی ہوگی
ہاں یہ بھی ٹھیک کہہ رہی ہوں!!
لیکن نا وہ میرے میسیجز کا ریپلائے کررہی ہے نا کال کا،، نمبر بھی زیادہ تر بند ہی ملتا،،
تو تم اسکے گھر جاکر پتہ کرلو ہوسکتا ہے وہ بیمار ہو
بیماری کا سن کر اسکا دل دہل سا گیا
اچھا۔۔۔۔۔ میں چلتی ہوں مجھے کچھ نوٹس لینے ہیں مدیحہ الوداع کہہ کر چلی گئی
وہ وہی کھڑی آسمان کو مسکرا کر دیکھنے لگ گئی
زویا یار۔۔۔۔ آج ہمیں ساتھ ہونا چاہیے تھا اس نے آنسوں پیی لیے اور آسماں کی طرف دیکھنے لگ گئی
الحمداللہ،، بیک وقت دونوں کے منہ سے نکلا
وہ جانتا تھا یہ اسی نے کہا ہے ۔!!
لیکن آبیہہ اردگرد دیکھنے لگ گئی وہاں کئی سٹوڈنٹس تھے کسی ایک کا کہنا مشکل تھا
وہ سر جھٹک کے راہداری میں چلنے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔
تمہیں لیٹ ہورہا ہے احمد میں چلی جاو گی ۔؟
آج بھی وہ اسی کے ساتھ تھا وہ کب سے کہہ رہی تھی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا
کچھ نہیں ہوتا بس 5منٹ کی بات ہے
تمہاری ماما بیمار ہیں انھیں تمہاری ضرورت ہے میں چلی جاوں گی
وہ گھوم کر سامنے آیا!!
دیکھو ماہ نور تم میری بہن ہو
اور بھائی اپنی بہنوں کی حفاظت کرتے ہیں اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو میں خود کو قصوروار سمجھو گا
اسلیے تم خاموش ہوکر میرے پیچھے چلو لہجہ تحکمانہ تھا
وہ جانتی تھی احمد کو کچھ بھی کہنے کا کوئی فائدہ نہ تھا
وہ خاموش ہوگئی اور اسکے پیچھے چلنے لگ گئی
وہ سٹاپ پہ کھڑا اس سے فئیر ویل کی باتیں کررہا تھا
فریدہ آنٹی ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ چکی تھی
اور وہ رخ پھیر گئی ایک ڈر سا اسکے ذہن میں بیٹھ گیا
تھوڑی ددیر بعد اسکی وین آگئی اور احمد واپس لوٹ گیا
۔۔۔۔۔
میم سامیہ کا آفس دیکھ کر اسکے قدم خودبخود انکی طرف بڑھ گئے
گڈ مارننگ میم !! کیا میں اندر آجاو۔؟ اس نے اجازت چاہی
بچے آجائیں ۔۔ ویسے یہ گڈ مارننگ کس خوشی میں مسلمان جب آپس میں ملتے ہیں تو سلام کرتے ہیں اور مصافحہ بھی
اسکے دو فائدے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ آپ سلام کے بدلے میں سلامتی پاتے ہیں اور دوسرا جب تک آپ مصافحے کہ حالت میں رہیں آپکے گناہ تیزی سے جھڑتے ہیں
اسلیے۔۔۔۔ وہ رکیں
آئندہ سے میں پورا دھیان رکھو گی بات اس نے پوری کردی
”آپ سے یہی امید تھی اللہ آپکا حامی و ناصر ہو
ویسے آپ یہ بتائیں آپ کل کیوں نہیں تھی آئیں۔۔؟“
آنکھوں میں پانی آگیا جیسے …. وہ برسنے کے لیے تیار ہو …..اس نے پرسوں والا واقعہ سنا ڈالا
وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی نظریں جھکائے رو رہی تھی
”سب ٹھیک ہونے کے بعد بھی بےچینی ہے۔۔؟؟
میم میں درد میں ہوں ۔؟؟“ وہ بلک بلک کسی بچے کی طرح رو رہی تھی
”بچے…. آپ جانتی ہیں درد کیا ہوتا ہے۔؟ “انھوں نے چئیر سے اٹھتے ہوئے پوچھا
”درد تو وہ تھا نا جب حضرت فاطمہؓ کے سامنے انکے بیٹوں کی لاشیں تھیں
درد تو وہ تھا جب امام حسینؓ نے اپنے جگر کے ٹکڑے اصغر کے مردہ ہوچکے وجود کو اپنی بانہوں میں محسوس کیا
درد تو وہ تھا جو کربلا کے میدان میں ہر ایک نے سہا “ میم کی آواز میں درد واضع محسوس ہو رہا تھا
وہ جو رو رہی تھی سر اٹھا کر میم کو سننے لگ گئی
”پتہ ہے میں اکثر سوچتی ہوں درد تو وہ تھا نا
پھر ہم کیسے درد کی بات کرتے ہیں
کہتے تو ہم بھی یہی ہیں کہ ہم درد میں ہیں۔؟
بچے…. ہمارے گھر میں سے کوئی چلا جائے ہم مرنے والے ہوجاتے ہیں تو…. کیا؟؟ تب بھی ہمارا درد انکے برابر ہوتا ہے۔؟ “انھوں نے سوالیہ نگاہوں سے آبیہہ کی طرف دیکھا
اس نے نفی میں سرہلایا
”تو پھر ہمیں کیوں لگتا ہے کہ ہمارا درد بہت ہے۔؟
قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ
“میں کسی جان کو اسکی برداشت سے زیادہ نہیں آزماتا”
پتہ ہے کیا۔۔!! انکا توکل صرف اپنے رب پہ تھا
اللہ پاک کے حکم کو مانا اور پھر صبر کیا
انھوں نے سرخم کیا کہ اللہ آپ نے ایسا کردیا تو ہم نے مان لیا
وہ بہت بہتر جانتا ہے کہ کس انسان کا ہماری زندگی میں رہنا بہتر ہے کیونکہ اللہ کہتے ہیں کہ
”میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے“
ہمیں اسکی رضا میں راضی رہنا چاہیے بندے کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ وہ انکاری ہو
بچے یہ دنیا عارضی ہے اسی لیے اسکے درد بھی عارضی ہیں“
میم نے سمجھاتے ہوۓ کہا
”لیکن…. میم میرے زخم نہیں بھر رہے“ وہ بےبس ہوئی
”بچے …. ہم اپنے زخم خود گہرے کرتے ہیں
ایک دفعہ اپنا آپ اسکو سونپ کر تو دیکھیں
آپ کو کسی سہارے کی کبھی ضرورت نہیں رہے گی
بچے ہمیشہ یاد رکھنا اللہ کی محبت ہر زخم بھر دیتی ہے
بس کامل یقین کی ضرورت ہے “ انہوں نے دریا کو کوزے میں بند کیا
”میم مجھے لگتا ہے اگر اب بابا کو کچھ ہوگیا تو میں انکے بغیر مر جاٶں گی ۔؟؟“ آبیہہ نے اپنی الجھن بیان کی
”بچے زندگی میں کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا
ہم نے خود پہ یہ سب سوار کیا ہوتا ہے
زندگی میں کچھ بھی ضروری نہیں رہتا
زندہ رہنے کے لیے صرف اللہ کی ذات اور اسکی محبت ضروری ہے اور کچھ بھی نہیں۔!!“
انھوں نے اسکی کمر تھپتھپائی
”اور آپ تو میری سمجھدار بچی ہیں پھر یہ آنسو کیوں۔؟
بچے اللہ سے صبر مانگیں“ انہوں نے اسکے آنسو پونچھے
”میم صبر کیسے کیا جاتا ہے ۔؟“ آبیہہ نے سوال کیا
”صبر صدمے کے آغاز میں کیا جاتا ہے“ میم بتانا شروع ہوئی
”مطلب۔؟؟ “وہ الجھی
”مطلب جب آپ آزمائش میں ہوں یا آپکو کوئی مشکل درپیش ہو تب زبان سے غلط نہ کہنا خاموش ہوجانا
اللہ کے فیصلے پہ دل سے راضی ہوجانا ۔۔!! یہ صبر ہے
اور یہ صبر کوئی کوئی کرتا ہے
اور میری دعا ہے کہ اللہ آپکو صبر عطا کریں “انہوں نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا
”کیا اللہ جی مجھ سے ناراض ہیں۔۔؟ “آبیہہ نے پوچھا
”بچے رب کو ناراض کرنا اتنا آسان کام نہیں ہے
وہ ہمارے شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں جو بہت مہربان بہت رحم کرنے والا ہے
آپ بتاٶ کیا وہ رب دنیا میں بھیج کر ہمیں بھول جاتا ہے ؟؟
کیا وہ ہمیں یونہی تڑپنے رونے کے لیے چھوڑ دیتا ہے کہ تم اپنے غم پکڑو اور جاٶ۔۔!!
میرا کام تھا تمہیں بنانا اب تم خود دنیا میں بھٹکو ذلیل و خوار ہو اور مجھ تک پہنچو۔۔
ہم جانے انجانے میں کوئی گناہ کردیں تو وہ تب بھی ہم سے منہ نہیں موڑتا
یہی ہے میرے اور آپکے رب کی ذات ….رب کل کائنات کی ذات،،“ میم کے لہجے میں اللہ سے محبت واضع محسوس کی جا سکتی تھی
”میم آپ بہت اچھی ہیں “وہ نم آنکھوں سے مسکرائی
”آپ بھی بہت اچھی ہیں ”میم سامیہ نے جواباً کہا
وہ اب پہلے سے بھی بہتر تھی
۔۔۔۔۔۔
”امی چاہتی ہیں کہ میں خالہ کی بیٹی سے شادی کرلوں بس….. اسی وجہ سے…. میں نے زویا سے رابطہ ختم کردیا۔ ہے “ وہ شرمندہ تھا
احسن : ”تم جانتے ہو تم نے کیا کیا ہے۔۔؟؟”
” زویا تم سے کس قدر اٹیچ ہے۔؟ پھر بھی۔۔؟؟“
شہیر : ”امی نے مجھ سے کبھی کچھ نہیں کہا اب اگر انہوں نے مجھے کچھ کہا ہے تو میں منع نہیں کرسکتا پلیز آپ میری مجبوری سمجھیں نا “اس نے التجائیہ نظروں سے احسن کو دیکھا
احسن : ”تمہاری وجہ سے میری بہن درد میں ہے۔؟“
شہیر :” آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ زویا سے میں بھی بہت محبت کرتا ہوں یہ میرے لیے کس قدر مشکل ہے یہ شاید کوئی نہیں سمجھ سکتا“ اس نے درد بھرے انداز میں کہا
احسن : ”تم امی کو سمجھاٶ ہوسکتا ہے وہ مان جائیں۔؟؟“ احسن نے آخری کوشش کی
شہیر: ”میں جانتا ہوں انھیں یہ جان کر بس تکلیف ہوگی اور اسی لیے میں نہیں چاہتا کہ وہ جانیں“
اس نے حلق میں اٹکے آنسو نیچے اتارے
احسن: ”تمہارے کہنے کا مطلب ہے کہ اب تم میری بہن کو یونہی چھوڑ دو گے۔۔؟؟ “ احسن کو پھر سے تاٶ آیا
شہیر: ”میں بےبس ہوں میں کچھ نہیں کرسکتا ۔۔!!
میں نے سب اللہ پہ چھوڑ دیا ہے وہ سب بہتر جانتا ہے“
اس نے چابی اٹھائی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا
”تم بہت اچھے ہو شہیر !!“ وہ بڑبڑایا
احسن اسے دور تک جاتا دیکھتا رہا..
