Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714

Author: Asma Parvaiz

Last updated:

1.0(1 ratings)
Episodes
16
Views
969.5K
Status
Completed

About this novel

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz

رات کے پچھلے پہر اسکی آنکھ موبائل کی روشنی سے کھل گئی ”کیا یار سکون سے سونے تو دیا کرو“ وہ بڑبڑائی اور موبائل نگاہوں کے سامنے کیا۔۔
یکلخت سکرین پہ بابا کے میسج کا دیکھ کر چہرے پہ مسکراہٹ بکھری اور دوبارہ آنکھیں موندے وہ فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگی
اذان کی آواز کے ساتھ ساتھ ایک اور آواز اس کے حواسوں سے ٹکرائی
”بھائی اٹھ جائیں نماز پڑھ لیں“ آنکھوں کو مسلتے ہوئے وہ اٹھ گیا اور وضو کرنے کیلیے واش روم کا رخ کیا
نماز ادا کی اور دعا مانگے بغیر ہی اٹھ گیا وہ ٹائم کا بہت پابند سہی لیکن نماز سے بھاگتا تھا
وہ سوچتا تھا کہ جب دھیان نماز میں رہتا ہی نہیں تو نماز پڑھنے کا کیا فائدہ۔۔؟؟
آفس کے لیے تیار ہوکر وہ نیچے آگیا
ڈائننگ ٹیبل پہ سب موجود تھے
” گڈ مارننگ ایوری ون۔۔“ اس نے مشترکہ کہا
اسکو دیکھ کے سب کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری
”دیکھ رہے ہیں حسن صاحب_ اپنے لاڈلے کو، سلام کی بجائے گڈ مارننگ کہا جارہا ہے_“ انیلہ بیگم نے کہا
”لاڈلے کی ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں انسان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے_“
جواب حسن صاحب کی طرف سے تھا
”انگریز چلے گئے پر ہمارے بچوں کے دماغ خراب کرگئے “ وہ سر پیٹ کے رہ گئیں
”ماما سوری نیکسٹ ٹائم خیال رکھو گا پلیز۔۔“
”بھائی آپ مجھے لینے آرہے ہیں نا“ بہن نے اپنا مدح بیان کیا
”انوشے،، کوشش کروں گا لیکن میں ابھی لیٹ ہورہا ہے“
آفس کی فائلز لیے وہ باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کے اسے کالج کے لیے تیار ہونا تھا جلدی جلدی میں اپنا دوپٹہ اور بیگ لیے وہ نیچے آگئی
”بابا“ سامنے ڈائننگ ٹیبل پہ اختر شیرانی کو دیکھ کر وہ بھاگی اور پیچھے سے بابا کے گلے لگ گئی
”گھر پہنچ کے بھی مجھے نہیں تھا بتایا کہ میں آچکا ہوں_ بابا آپ ہربار ایسے کیوں کرتے ہیں؟؟_“ آبیہہ نے منہ بنایا،
”میرا بیٹا جو سرپرائز دینے کا مزہ آتا ہے_ بتا کے آنے میں_ ویسا نہیں آتا_“
وہ مسکرادی ناراضگی تو بس لمحے بھر کی تھی
”آبیہہ سنو،، فاطمہ تمہیں قرآن سنٹر ساتھ لے جانے کیلئے کل بھی آئی تھی انہوں نے بھی کل بھی زور دیا
بیٹا ٹائم نکال کے چلے جانا اسکے ساتھ”
”اچھا امی“،
آج لیٹ نہ ہوجاوں بریڈ سلائس ہاتھ میں پکڑے وہ باہر کی طرف بھاگی
”آبیہہ ڈھنگ سے ناشتہ تو کرلیا کرو “
امی پیچھے سے کہتی رہ گئیں
کالج گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا اور یہ راستہ عموما وہ پیدل ہی طے کرتی صبح کی خاموش سڑکیں اسے اچھی لگتی تھی حالانکہ دوپہر کو تو یہاں پاوں رکھنے کی بھی جگہ نہ ہوتی_
خاموشی سے چلتے ہوئے وہ اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی
”زندگی تو آج بھی ویسی ہے سارے کام بھی ویسے ہی ہیں کتنا عجیب ہے نا “اسکی نگاہیں سگنل پہ رکی گاڑی تک گئی جہاں ایک بوڑھے انکل ہاتھ پھیلائے مانگ رہے تھے
”بیٹا کچھ پیسے دے دو کل سے کچھ نہیں کھایا،،
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ_“ انکے لہجے میں عاجزی تھی
سگنل بدلا اور وہ گاڑی آگے بڑھ گئی بوڑھے انکل کی آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا
شاید انھوں نے رب سے شکوہ کیا
” مولا دیکھ اپنے بندوں کو کیسے ہیں۔؟“ لیکن آسمان کے اس پار خاموشی تھی
وہ سر جھکائے آگے بڑھے،،
آبیہہ کے پاوں تھم گئے اب وہ کیا کرے؟؟ ذہن الجھا
”میرے پاس پیسے ہیں میں دے دیتی ہوں“
وہ ان تک پہنچی اور اور انھیں پیسے دے دئیے
بوڑھے بابا اسے غور سے دیکھنے لگ گئے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری
” پتر اللہ تیرا بھلا کرے“
ایک سکوں جو اسکے وجود پہ اترا تھا
جسکی لذت اسے سب سے الگ لگی تھی
وہ کالج کی طرف بڑھ گئی اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا بوڑھے بابا آسمان والے کو بڑی چاہت سے دیکھ رہے تھے شاید وہ شکر ادا کررہے تھے
”ہماری زندگی کتنی آسان ہے ہم پھر بھی شکر ادا نہیں کرتے۔؟ انسان کتنا ناشکرا ہے“ بےبسی سی لہجے میں آگئی
کالج پہنچ کر وہ کلاس روم میں چلی گئی__!!
کلاس میں جاکر وہ خاموشی سے زویا کے پہلو میں بیٹھ گئی
سر حسب عادت اپنی گپ شپ میں لگے تھے لیکن کلاس میں سکوت دیکھ کر لگا کہ ٹاپک سنجیدہ چل رہا ہے
”زندگی کا سفر آسان نہیں ہے ہر ایک اپنے مقصد کے لیے جی رہا ہے اپنی منزل کو پانے کیلئے،،
آج کل کے لوگوں کا مقصد بینک بیلنس ہے اور
بچے اسکے لیے کمپیٹیشن بہت بڑھ چکا ہے ہر طالب علم دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی تگ و دو میں لگا ہے_
کہتے ہیں اگر منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریاں کون دیکھتا ہے؟؟
پھر نگاہیں صرف حاصل پہ مرکوز ہوتی ہیں آپ بھی اسی بات کو سامنے رکھے اور محنت کرے مسلسل محنت_“ سر نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوۓ کہا_
بات گہری تھی لیکن عمل پیرا ہونا مشکل تھا–
لیکچرز سے فارغ ہوکر وہ کنٹین کی طرف جارہی تھی –
اسکے قدم رکیں سامنے کی کلاس روم سے خوبصورت نسوانی آواز آرہی تھی وہ بڑھی اور رک کر سننے لگ گئی
”منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریوں کو سامنے نہیں رکھا جاتا“
”یہ تو سر احمد نے بھی کہا تھا_ کیا یار آج سب ایک ہی ٹاپک پہ بات کررہے ہیں!! لیکن میم سامیہ تو ہماری تفسیر کی ٹیچر ہیں _“وہ الجھی
”ہم سب کو اللہ پاک کی طرف لوٹنا ہے وہی ہماری آخری منزل ہے، پھر سکون ہی سکون ہے منزل کی چاہ میں سب ہوجاتا ہے
اس تک پہنچنے کےلیے کی گئی کوششوں کو وہ قبول کرلیتا ہے وہ ہمیں تھکنے نہیں دیتا ہمیں ہمت دیتا ہے
ہم گرتے ہیں وہ ہمیں اپنی ذات کا سہارا دیتا ہے
وہ ہمیں لوگوں کے سہارے پہ نہیں چھوڑتا وہ اپنے بندے کی خود حفاظت کرتا ہے
ہر بار ٹوٹنے پہ وہ اپنی محبت سے ہمیں جوڑتا ہے ہم بےبس ہوجاتے ہیں بھروسا ڈگمگا جاتا ہے
امید کھو دیتے ہیں ہمارے اندر موجود ہمارا رب ہمیں حوصلہ دیتا ہے ”دیکھو میں ہوں نا پریشان کیوں ہوتے ہو؟“
وہ ذات امید ہے بس اسکے لیے جی کر دیکھیں اسکے راستے پہ اسکے لیے نکل کے دیکھیں_“ کلاس میں خاموشی کے ساتھ ساتھ اسکے اندر بھی خاموشی چھاگئی
”انسان کے نظریات کتنے مختلف ہیں کوئی دنیا کے راستوں پہ بھاگ رہا ہے اور کوئی دنیا کے پار اس ذات تک پہنچنے کی کوشش میں ،،
پھر ٹھیک راستے پہ کون ہوا۔۔؟“ اس بات نے اسے الجھا دیا
”پوچھنا تو پڑے گا کسی سے ، پر کس سے۔؟“ وہ بےچین تھی
میم سامیہ کلاس روم سے نکل کر اپنے آفس کی طرف جارہی تھیں وہ پیچھے لپکی
”مے آئی کم ان میم۔۔“اس نے دروازے پہ کھڑے پوچھا
” یس،، بیٹا آجائیں“اجازت مل گٸ
”میم دراصل وہ مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔؟“
اس نے ساری بات کہہ ڈالی
”میم آپ بتائیں نا کہ ٹھیک راستے پہ کون ہے۔؟“ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
”بچے ٹھیک راستہ پر وہی ہے- جسکے پاس ہدایت ہے-
جسکے دل میں اللہ کی محبت ہے- جو اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول کے اصولوں کے مطابق گزارتا ہے
وہی ٹھیک راستے پہ ہے–“میم نے تسلی بخش جواب دیا_
”لیکن میم سر نے تو دنیا کی بات کی تھی پھر۔؟“ اس نے اپنی الجھن بیان کی
”دنیا کے کام تو دنیا کے لیے ہیں جو ادھر ہی رہ جائیں گے
کیا آپکی ڈگریاں آپکی قبر میں رکھی جائیں گی۔؟
نہیں نا، تو پھر یہ ٹھیک راستہ تو نا ہوا نا_
ہم ساری عمر ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں جو ہماری آخرت میں کچھ کام نہیں آئیں گے_“
میم سامیہ مسکرائیں،
” آپ یہ بتائیں آپ نماز پڑھتی ہیں۔؟ “ میم نے پوچھا
”میم کبھی کبھی پڑھ لیتی ہوں“ اس نے شرمندگی سے
سر جھکاتے ہو ۓ کہا
”اچھا آپ فاتحہ پڑھتے ہوئے اللہ سے سیدھا راستہ مانگتی ہیں آپکو نہیں پتہ کہ وہ سیدھا راستہ کونسا ہے۔؟“ سوال پوچھا گیا
اس نے کوئی جواب نہ دیا
(مجھے تو ترجمہ بھی نہیں آتا، نا میں نے ترجمے پہ کبھی غور کیا ہے جھکا سر مزید جھک گیا)
”سیدھا راستہ اللہ کی طرف جاتا راستہ ہے_
وہ راستہ جس پہ نبیﷺ تھے جسکو اللہ پاک نے قرآن میں واضح کیا ہے
حق کا راستہ ،،
صراط مستقیم کا راستہ،،
اور صرف اسی پہ نجات ہے!!“
میم کے چپ ہوجانے سے خاموشی چھا گئی
”بچے باقی سارے راستے تو اس کے بعد ہیں“ وہ پرسکون انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
”شکریہ میم“ وہ باہر آگئی،،
چہرے پہ معصومیت اور الجھاو لیے وہ راہداری میں موجود ایک بینچ پہ بیٹھ گئی
جانے کیوں اسکا دل کررہا تھا وہ رو دے
”مجھے تو سورہ فاتحہ کا ترجمہ بھی نہیں آتا اللہ جی یہ کیا ہوگیا“
آنکھیں بھر آئیں۔۔ ضبط مشکل تھا-

Episodes

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01

اکتوبر کی حسیں شام ڈھل رہی تھی پرندے اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے
ہوا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس شام کو مزید حسیں بنادیا تھا ہوا کی تیزی سے کھڑکی کے پردے ہلنا شروع ہوگئے
اسے ہلکی سی سردی کا احساس ہوا لیکن آج اتنے دنوں بعد وہ فرصت نکال کر یونہی جائے نماز پہ سرجھکائے بیٹھی تھی
اسے اچھا لگتا تھا رب کے آگے خاموش بیٹھنا کیونکہ وہاں اسے ہمیشہ ہی ایک الگ سا سکون محسوس ہوا تھا
وہ اللہ سے انجان نہیں تھی لیکن اتنے قریب بھی نہیں تھی ،، یاد رہا تو وقت نکال کر عجلت میں نماز ادا کرلی ورنہ نہیں،، کبھی کوئی فرق ہی نہیں پڑا
آج کالج سے چھٹی تھی اسی لیے اس نے امی کی ڈانٹ پہ ساری نمازیں ادا کی
اللہ جی کچھ ماہ میں پیپرز ہیں کیا ہوگا پلیز مدد کرنا پلیز
بڑی خود غرض ہو ۔؟ دل نے سرگوشی کی
میں نے کیا کیا۔؟
تمہیں اللہ صرف اپنی ضرورت کے وقت ہی یاد آتا۔؟ دل نے بےرخی دکھائی
ہممممم……. وہ خاموش ہوگئی( بات تو ٹھیک ہے لیکن بات ہے رسوائی کی۔۔۔؟؟؟ )
بادل گرجے تھے …. آبیہہ ۔۔ آبیہہ،، امی نے آواز لگائی
وہ ساری سوچوں کو جھٹک کر اٹھ گئی
جائے نماز رکھ کر دوپٹہ ڈھیلا کیے وہ امی کی طرف لپکی
(آبیہہ بڑی تھی اس سے چھوٹی ماہ نور،،
دونوں سیرت وصورت کے اعتبار سے منفرد تھی
ماہ نور دودھیا رنگت کی حامل اور آبیہہ عام سے نقوش سی لیکن اسکی آنکھیں گہرے سمندر کی طرح گہری اور خوبصورت تھی
آبیہہ ایم ایس سی کی طلبہ تھی اور ماہنور سیکنڈائیر کی
انکا خاندان اتنا وسیع نہیں تھا ایک پھوپھو تھی جو کہ اپنی فیملی کے ساتھ یورپ میں مقیم تھی)
جی امی۔۔۔ آپکو کچھ کام تھا پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا
چندا ،، مجھے لگ رہا ہے بارش ہوگی تم لان سے کپڑے اتار لاو میں ذرا آٹا گوندھ لوں
اچھا امی جاتی ہوں اور بوتل رکھ کر لان میں آگئی
موسم بہت خوشگوار تھا جیسے یہ شام اپنے ساتھ سکون اور خاموشی لیے ہو
اسے اکتوبر کا موسم ہمیشہ سے ہی پسند تھی (نا زیادہ سردی اور نا زیادہ گرمی)
بانہیں پھیلائے اس نے سردی کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی کہ اچانک بادل گرجے اور بوندا باندی شروع ہوگئی وہ کپڑوں کو لیے اندر چلی آئی
کپڑوں کو امی کے حوالے کرکے،، اسائمنٹ کا سوچ کر اسکا موڈ بگڑا
اتنے اچھے موسم میں بھلا کون اتنا کام دیتا ہے؟؟ وہ بڑبڑائی 😭😭
کہ تبھی موبائل کی گھنٹی بجی
زویا کا نمبر دیکھ کر اسکے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری موبائل کان سے لگائے وہ اپنے کام میں مصروف تھی
” زویا یار کام بہت ہے تیرے بغیر یہ مجھ سے نہیں ہوگا آجا نا پلیز_“
لہجہ التجائیہ تھا
”میں تمہاری طرف ہی آرہی تھی بھائی کو کچھ کام تھا اور میں نے سوچا چل تجھ سے مل لوں گی پھر واپسی پہ اسی کے ساتھ آجاوں گی“ زویا نے ایک سانس میں ساری بات کہہ ڈالی
”چلو پھر آجاو “موبائل رکھ کے وہ کچن میں آگئی
_______
زویا اسکی کالج کی دوست تھی وہ پچھلے چار سال سے ساتھ تھیں
اس نے آبیہہ کی اچھے دوست کی طرح مدد کی_ آبیہہ کو بھی اس سے بہت محبت تھی
(زویا شوخ قسم کی تھی سب میں گھل مل جانے والی اور آبیہہ قدرے اس سے برعکس،،)
__________
اس نے موسم کی نوعیت کے مطابق پکوڑے اور سنیکس بنا لیے اور زویا کی پسندیدہ آئسکریم منگوالی۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد زویا آگئی۔۔
کمرے میں بیٹھی پکوڑے کھاتے ہوئے وہ دونوں اسائمنٹ بنارہی تھی_
” اچھا آبی سنو کل کوئی فری لیکچر ہے کیا۔؟ مجھے شہیر سے ملنا ہے زویا نے معصوم شکل بنائی
آبی…. وہ میرے میسجز کا جواب نہیں دے رہا“ 😔
”اچھا اب تم نے کیا کہہ دیا بیچارے کو “ آبیہہ نے گھورا
زویا مسکرادی
” کہاں سے لگتا ہے تمہیں بیچارا۔؟“
”تم جیسی چڑیل کو برداشت کرتا ہے یہ کیا کم غنیمت ہے“ آبی نے اسے چھیڑا
(بھئی اب تمہیں برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات تو ہی نہیں نا)
”مجھے تو اسے اکیس توپوں کی سلامی پیش کرنی چاہیے“ اس نے شہیر کے حوصلے کی داد دی
”ہاں نا ان توپوں کا منہ میں تمہاری طرف کردو گی“ زویا اسکی طرف جھپٹی
”آبی کی بچی تجھے میں بتاتی ہوں رک ذرا۔۔“ وہ چلائی
آبی کام چھوڑ کر بھاگی
”بچاو بچاو بچاو شوکت علی“ آبی آوازیں لگانے لگی
” ہیں رک ذرا یہ جناب شوکت علی کون ہے؟
زویا کو تعجب ہوا
“ارے وہی شوکت علی ،، اے ٹی وی کے ڈرامہ سیریل کا ہیرو” 😉 آبی نے آنکھ ماری
”ہائے شوکت علی دیکھو یہ ظالم عورت…. مجھے کھا جائے گی….. بچاو مجھے،،“
”نہیں میں تو کہتی ہوں….. آج تم اسکے باپ کو بھی
آواز دے لو “ میں چھوڑنے نہیں لگی تمہیں ،،
آبیہہ بھاگتی ہوئی چھت پہ آگئی مسلسل بھاگنے سے سانس اکھڑنے لگا
زویا نے پیچھے اسے سے پکڑ لیا
” اب بتاو کہاں جاوگی بچ کے_“ زویا نے ہاتھوں پہ گرفت مضبوط کی
اسے پتہ تھا اب وہ زویا سے پٹنے والی ہے اسلیے موقع دیکھ کر خود ہی ہتھیار ڈال دئیے
میں اپنی دوست کو بتاو گی!! تم مجھے تنگ کرتی ہوں، وہ میری جان ہے وہ تمہیں چھوڑنے نہیں لگی“ آبی نے دونمبری آنسوں بہاتے ہوئے کہا
بس یہ سننے کی دیر تھی زویا نے آبی کو کھینچ کے گلے لگا لیا
”میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ڈئیر
ہاں میں مرگئی تب کا پتہ نہیں،“
”بکواس کرنا تو عادت ہے محترمہ کی روٹی جو ہضم نہیں ہوتی“ اس نے منہ پھیرا
وہ وہی کھڑی رہیں
”موسم کتنا پیارا ہے نا زویا_
”میں کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر تم میرے ساتھ نہ ہوتی تو کیا ہوتا مجھ جیسی نکمی کا۔۔ تم نے تو مجھے زندگی کا مطلب بتایا ہے مجھے جینا سکھایا ہے“ الفاظ میں چاہت تھی
دوستی کے بغیر زندگی کچھ نہیں،،
کاش سوہنی اور مہیوال دونوں لڑکیاں ہوتی !!
بیچاری سکون سے مل تو لیتی نا روز ،، ہماری طرح 😂
آبیہہ بھی موقع دیکھ کر شروع ہوگئی
”چلو…. تم پھر شروع نا ہوجانا … 110 دفعہ تمہارے منہ سے انکے قصیدے سن چکی ہوں اب تو انکی روحیں بھی کانپتی ہوں گی
پلیز اب اپنی فلاسفی بند کرو …. مجھے نہیں سمجھ آتی یہ سب…. تمہارے پرانے زمانے کے پرانے قصے اور
اپنا اتنا دماغ نہ کھپایا کرو پلیز“ زویا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
(آج تو اچھی خاصی ہوگئی😄😃) آبیہہ منہ پھیر کر ہنس دی (ہائے میری جان ،،)
————
معمول کے مطابق وہ جاگنگ کے لیے پارک میں میں موجود تھا
شام کا وقت تھا آوازیں نہ ہونے کی برابر تھی
کبھی پتوں کے گرنے کی آواز تو کبھی کسی بلی کے میاوں کی
کانوں میں ہینڈ فری لگائے وہ کسی سے بات کررہا تھا
” نہیں انجم کمپنی کا پروجیکٹ تو بابا دیکھ لیں گے ضیاء کمپنی کو میں خود ڈیل کروں گا
وہ ویسے بھی مجھے کھسکے ہوئے لگتے ہیں
اچھا فاحد مجھے ضیا کی فائل بھجوادینا میں ریڈ آوٹ کرلوں گا“
خاموش اور بااثر طبعیت کا حامل وہ حسن رضا کا لاڈلا اکلوتا بیٹا تھا……. دو بہنوں سے بڑا،،
شکل و صورت کے اعتبار وہ پرکشش تھا
نفاست سے بنے بال اور نیلی گہری آنکھیں جو پل بھر میں کسی کو سحر کردیتی
اس سے منسلک ہر انسان اسکی اپنی زندگی میں موجودگی پہ فخر کرتا تھا
ماسٹر کرنے کے بعد اس نے اپنے والد کے بزنس کو بخوبی سمبھال رکھا تھا
اسلام آباد کی سڑکیں اسے بہت پسند تھی جیسے وہ اپنے اندر کوئی گہرے راز لیے ہوں ،،
بادل گرجے تھے
اور موسم کو خراب ہوتا دیکھ کر وہ گھر کی طرف لوٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر وہ فریش ہونے چلا گیا
کچھ دیر بعد سب ڈائننگ ٹیبل پہ موجود تھے
آج شام کے کھانے میں اسکا من پسند قورمہ بنا تھا
انیلہ بیگم اپنے بیٹے کے لاد اٹھاتے نا تھکتی اور وہ اپنی بہنوں کے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتا تھا
ہانیہ( اسکی چھوٹی بہن جو کہ دکھنے میں بظاہر چھوٹی تھی لیکن باتوں سے پٹاخہ ،، )اور انوشے ہانیہ سے بڑی(سلجھی اور سمجھدار)
ہانیہ ہمیشہ اپنے بھائی کے ہاتھ سے ہی کھاتی تھی(انیلہ بیگم لاکھ منا کرتی کہ ہانیہ اب تم بڑی ہوگئی ہو خود کھایا کرو لیکن وہ نہایت ضدی اپنی ہر بات منواکے چھوڑتی )
وہ ابھی بھی ہاتھ میں نوالہ لیے ہانیہ کے منہ کھولنے کا منتظر تھا
ہنی ،، سوری نا پلیز اس نے کان پکڑے
ہانیہ تو کچھ بھی سننے کے لیے تیار نا تھی
بھائی آپ ہر بار ایسے کرتے ہو اور بعد میں سوری،،
ابھی… ہنی پرومس… کل….. تو ….. نہیں ہاں پرسوں……… تم جہاں کہو گی ہم ضرور چلے گیں وہ سوچتے ہوئے بول رہا تھا
پکا نا۔؟ ہانیہ نے چاہت بھری نگاہوں سے بھائی کو دیکھا
یس مائے ڈئیر ،، اور وہ مان گئی
سب نے شام کا کھانا بڑے مزے سے ایک ساتھ کھایا
——
” زویا یہ بتاٶ شہیر سے واقعی پیار کرتی ہو۔؟ _”آبیہہ نے الجھی ہوئی نگاہوں سے پوچھا،
“کیوں تمہیں شک ہے “، اس نے تصدیق چاہی
“نہیں ویسے ہی،، پچھلے پانچ سال سے تمہارے ساتھ ہوں ہر کلاس میں ہر لڑکے سے تمہیں سچی محبت ہوئی ہے
اب میں کیا کہہ سکتی ہوں_”😂 آبیہہ نے چڑاتے ہوۓ کہا
زویا بھی مسکرادی” نہیں ابھی واقعی سچی ہے_”
(بڑی آئی😒 )
“اچھا تمہیں کیسے پتہ کہ یہ سچی ہے ؟؟”
“کیونکہ وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے مجھے ہرٹ نہیں کرتا اور سب سے بڑھ کر میری بہت عزت کرتا ہے” اس نے بڑے مان سے جواب دیا
“لیکن جو باعزت مرد ہوتے ہیں وہ رشتہ گھر لے کے آتے ہیں رشتے کو حلال بناتے ہیں اور….اور اس سے عزت کا ، محبت کا مان تو خود بخود ہی رہ جاتا ہے” آبیہہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا
((دماغ خراب کرنے لگی ہے اب ۔ میری بھی بکواس اسکے سامنے بند نہیں ہوتی))
“آبی یار تم نے پھر فلاسفی شروع کردی اتنی گہری باتیں کہاں سے لاتی ہوں؟؟،، زویا کو کوفت ہوئی
تمہیں محبت نہیں ہے تم نہیں جانتی نا” زویا نے رسانیت
سے کہا
“کس نے کہا مجھے محبت نہیں؟؟ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے، اپنی ماہی سے محبت ہے اور اپنی
چڑیل دوست سے بھی_ بس فرق دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے”
اچھا اماں جی اس نے سر جھکا کر ہار مانی
“چلو اب نیچے مجھے آئسکریم کھانی ہے مجھے پتہ ہے تم نے منگوائی ہوگی” زویا مسکرائی
“جی منگوائی ہے چلو آجاو،”
آئسکریم کھاتے ہوئے وہ سامنے بیٹھی آبیہہ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
کون کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جو بہت خاموش رہتی ہے اور کلاس میں پریزینٹیشن دیتے ہوئے بھی ہچکچاتی ہے کیا ہوگا اس لڑکی کا۔؟؟ اسکا ذہن اسے سوچ رہا تھا
آبیہہ نے نگاہوں کی تپش محسوس کی
“تمہارے ساتھ زندگی خوبصورت لگتی ہے اور خوشی محسوس ہوتی ہے پلیز ہمیشہ یونہی میرے ساتھ رہنا،،،
اور رہی بات میری…… تو مجھے کچھ نہیں ہونا …. تم ہو نا ساتھ”
“اچھا تمہیں کیسے پتہ کہ میں یہی سوچ رہی ہوں۔؟”
“میں فقط تمہیں ہی تو جانتی ہوں “
“بہت اچھی بات ہے محترمہ_” زویا نے مسکراہٹ آبیہہ کی طرف اچھالی
اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی
کھڑکی کے اس پار رات تھی،، گہری کالی رات،، جسکے بعد حسین سویرا تھا خوشیوں بھرا،،،
کون جانے ان دونوں کے لیے قسمت کے دامن میں کیا تھا؟؟
لکھنے والا تو بہترین لکھ چکا تھا
لیکن بہترین پانے کے لیے بدترین سے تو گزرنا ہی پڑتا ہے
ٹوٹنا پڑتا ہے،، اور ٹوٹنے سے بہت درد ہوتا ہے
جیسے کوئلے جلنے پہ کندن بنتا ہے
اور پتھر تراشنے پہ ہی ہیرا بنتا ہے جسکی چمک ہر ایک کی آنکھوں کو مات دے دے
اسی طرح انکو بھی آزمائشوں بھرا سفر درپیش تھا جس سے وہ انجان تھیں
“وہ سفر جہاں آزمائشیں … امید کی کرنوں کے ساتھ ساتھ پیاسے ہونٹوں کو بھی جھلسا دیتی ہیں”
صراط مستقیم کا سفر ، محبت کا سفر ،،
وہ محبت….. جو ہر محبت پہ حاوی ہوجاتی ہے
________
رات کی بوندا باندی نے صبح کے موسم کو خشگوار بنادیا تھا
اور سورج میاں کی بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی جاری تھی
وہ لائبریری میں بیٹھی پڑھائی میں مصروف تھی_کیونکہ سپورٹس گالا کی وجہ سے آدھی کلاسز آف تھی
” کیا یار ہر وقت پڑھائی،،
آبیہہ کبھی تو ان کتابوں کی جان چھوڑ دیا کرو _“مدیحہ دھپ سے اسکے پاس آکر بیٹھی
(مدیحہ آبی کی کلاس فیلو تھی اور اسکی اچھی دوست بھی_)
” چلو نا سب پریکٹس کررہے ہیں ہم بھی دیکھنے چلتے ہیں۔۔۔۔ لیکن اسکے کان پہ تو جوں تک نا رینگی،،
آبیہہ چلو بھی_“ مدیحہ نے اسے اٹھاتے ہوۓ کہا
”اچھا چلو تم کونسا مجھے سکون سے پڑھنے بھی دے رہی ہو۔۔“ آبیہہ ہار مانتے ہوۓ اٹھی_
وہ دونوں گراونڈ میں آگئے ….. جہاں زویا اور باقی کلاس فیلوز تھے
سپورٹ گالا میں سب سے اہم کھیل رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا جسکے لیے تمام اسٹوڈنٹس جی جان سے محنت کررہے تھے باقی ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی مدد بھی کررہے تھے
وہ انکو دیکھنے کیلیے دور کھڑی ہوگئی
”رکو گائیز،، ابھی آبیہہ کرے گی_“ آبیہہ کو دور کھڑا دیکھ کر زویا چلائی
”زویا تمہیں پتہ ہے مجھے نہیں آتا…. یہ سب پلیز مجھے نہیں کرنا یہ _“ آبیہہ نے اسے غضب وغصے سے گھورا
”یار دومنٹ کی بات ہے میں ادھر ہی ہوں نا_پلیز
پلیز دیکھ” نا“ مت کرنا پلیز“ اس نے منت کی اور
آبیہہ کو ماننا پڑا_
”کہاں پھنسا دیا تو نے مجھے،، زویا کی بچی _“ وہ بڑبرائی
پہلی اور دوسری رکاوٹ آسان تھی جو اس نے آسانی سے پار کرلی،، لیکن اگلی اسکے لیے مشکل تھی
” آبیہہ تم کرسکتی ہو_“ ریحان نے بھی حوصلہ بڑھایا
وہ آگے بڑھتی اور پھر رک جاتی پھر واپس جاتی اور پھر آگے آتی_ لیکن اس سے نہیں ہو پارہا تھا
دور کہیں کوئی بڑی چاہت کے ساتھ اسکو نرم گرم نظروں کے حصار میں لیے ہوۓ تھا_
چہرے پہ بکھرے بال پسینے میں بھیگا چہرہ اور دھوپ کی وجہ سے گلابی ہوچکے گال_ اسے نکھار رہے تھے
”عجیب لڑکی ہے کرکیا رہی ہے ۔؟ وہ دور کھڑا سوچ رہا تھا
کوئی آج کے زمانے میں کیسے ایسا ہوسکتا ہے !!
کیا ہوگا اسکا۔؟ “ اسکی کی نگاہیں اسکےلیے فکر مند تھیں_
”چلو اب کودو بھی“ وہ زیر لب منمنایا
اور آبیہہ کی کوشش کامیاب رہی لیکن جمپ لگاتے ہوئے وہ زور سے اوندھے منہ گری اور منہ، بازو چھل گئے
ہائے ،،، پاگل لڑکی اسے اسکے گرنے پہ افسوس ہوا
بیسٹ بڈی….. چلے اب،، کسی نسوانی آواز نے اسے پکارا اور وہ چلاگیا
”کیا ہوگا اس پاگل لڑکی کا؟؟_”آبی“ ”آبی“ زویا بھاگی
اسے تھامے وہ کلاس میں لے آئی ،
۔۔۔۔۔۔
آج کی روٹین تو بہت مصروفیت والی ہے،،
وہ اپنے کیبن میں بیٹھا اپنا میٹنگ پلین دیکھ رہا تھا
دروازے پہ دستک ہوئی ،، اور جھٹ سے دروازہ کھلا
آنے والا اسکا کولیگ ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا دوست بھی تھا ،،
کیا اجتاب ؟؟ تم تو اب اپنی شکل دیکھانے سے بھی گئے ہو۔؟؟ (شکووں کی بارش شروع ہوچکی)
کبھی ہم جیسے غریب لوگوں کے لیے بھی ٹائم نکال لیا کرو ،،
وہ مسکرایا …. جنید تم اور غریب ؟؟
ہننننن،، میرے ساتھ ساتھ یہ پوری انڈسٹری جانتی ہے کہ تم کس کدھر غریب ہو۔؟ لہجے میں شرارت تھی
طنز کررہے ہو۔۔؟؟
نہیں جناب آپکو ٹھیک بات بتارہا ہوں ….آج ہم پہ اس نظر کرم کی کوئی خاص وجہ۔؟؟
کچھ خاص نہیں…. بس سوچا پرانے دوست کے ساتھ کہی کافی پی جائے اور ساتھ کچھ کام کی بات بھی کرلی جائے،،
ہممممم،، اجتاب کا تو پہلے ہی اپنی میٹنگز کا سوچ کر موڈ خراب ہوچکا تھا
اب جنید کی آمد پہ وہ قدرے پرمسرت تھا
چلو پھر چلتے ہیں،، وہ اپنا کوٹ اور گاڑی کی چابی لیے اٹھ کھڑا ہوا
سنو نادیہ …… میری آج کی سارہ میٹنگز کینسل کردو ہاں اگر کوئی ضروری ہوئی تو اسکا بابا کو بتا دینا ،، وہ سب سمبھال لیں گے وہ انٹر کام پہ کہہ کر باہر کی طرف بڑھا
آج کا دن اسکے لیے کافی خوشگوار رہا ،،

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

1.0 / 5 · 1 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Forced marriageInnocent Heroinelove story basedRomantic Love StoryRomantic Urdu NovelsSocial IssuesSocial Romantic NovelUrdu Novels

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *