Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14
صبح کا ناشتہ سب نے ساتھ میں کیا تھا
آبیہہ اپنی پیکنگ میں مصروف تھی
اجتاب بیٹھا کسی سے کال پہ بات کررہا تھا
آج انھیں سیدھا گھر جانا تھا
اور پھر وہاں سے دو دن بعد مری ….. اجتاب کی وہاں میٹنگز تھی اور آبیہہ نے بھی اتنے دن اسکے ساتھ ہی رہنا تھا
۔۔۔۔۔۔
گھر آکر انیلہ بیگم کو تو منالیا کہ وہ آبیہہ کو ساتھ لے جائے لیکن ہانیہ اور انوشے نا مانی،، دونوں کے منہ پھولے ہوئے تھے
ہنی ….. صرف کچھ دنوں کی ہی تو بات ہے پھر آپکی بھابھی آپکے پاس آجائیں گئ اس نے ہانیہ کو اپنے پاس بٹھالیا
اور وہ خاموشی سے بھائی کے ساتھ لگی بیٹھی رہی ،،
آبیہہ کا بھی جانے کا بالکل موڈ نا تھا لیکن اجتاب کے بغیر رہنے کا تصور بھی اسکے لیے تکلیف دہ تھا
۔۔۔۔۔۔
”میں کب سے دیکھ رہا ہوں تم روئے جارہی ہو۔؟“ اسے فکر ہوئی وہ دونوں دامن کوہ پہ موجود تھے
وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا
”کیا میں تمہیں یہاں رونے کے لیے لایا ہوں۔؟
اب چپ بھی کر جاٶ نا ورنہ میں رونا شروع ہوجاٶں گا
اور جب میں رونا شروع ہوگیا نا تو تم جانتی نہیں
میرے آنسو آنکھ کے ساتھ ساتھ ناک سے بھی بہیں گے“
وہ جو سرجھکائے کھڑی تھی اجتاب کی بات پہ کھکھلاکر ہنسی
”تمہارے یہ آنسو مجھے کمزور کردیتے ہیں پلیز مت رویا کرو“ اس نے نرم گالوں پہ بہتی آبشار کو روکا
اس نے جواب میں سرہلایا
”دیٹس مائے سویٹ لیڈی“ اس نے اسے ساتھ لگا لیا
مسلسل رونے سے ناک سرخ ہوچکی تھی اور آنکھیں تو اس آنسو کی بارش کے بعد خوشگوار ہوچکی تھی
اس نے محبت سے اسکے گال کھینچے
”اس سے زیادہ خوبصورت نظارہ اور کہیں نہیں ہوسکتا کمال۔۔“ وہ کہے بنِا نا رہ سکا
”یہاں سے دور دور تک صرف اسلام آباد نظر آرہا ہے
اللہ کی کائنات کس قدر وسیع ہے
وہ یہاں بسنے والے ہر انسان ہر چرندپرند کے دکھ درد کو جانتا ہے وہ سمجھتا ہے ….. اپنے بندے کی سنتا ہے
لیکن وہ تو اس پوری کائنات کا مالک ہے
اسلام آباد اتنا بڑا ہے تو پاکستان اور اسکے باقی صوبے کس قدر بڑے ہوں گے ؟؟
اور پھر پوری دنیا اور پھر کائنات
وہ تو سب کو تھامے ہوئے ہے نا“
اسکے کندھے سے لگے وہ کہے جارہی تھی
”اگر کائنات اتنی بڑی ہے تو اس رب کی ذات
کس قدر بلند ہوگی۔؟
کس قدر شان و شوکت والی۔؟
ہم کس قدر ناشکرے ہیں ؟؟ کس قدر گنہ گار ہیں ؟؟
مجھے ڈر لگ رہا ہے “وہ اسکے قریب ہوئی
اور بچوں کی طرح بلک بلک کر دوبارہ رونا شروع کردیا
”آبیہہ میری جان ، ادھر دیکھو میری طرف“ اس نے اسکی تھوڑی اوپر کی
”یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہیں اور یہی دیکھ کر تو ہمارا ایمان اس پہ اور مضبوط ہوجاتا ہے
دل میں محبت بھی بڑھ جاتی ہوں ہے
جانتی ہو سورہ بقرہ کی آیت ہے کہ
“یہ سب میں نے تمہارے لیے پیدا کیا”
اس سے مراد ہر ایک انسان ہے کہ یہ اللہ نے ہمارے لیے بنائے ہیں ہم اسکی تخلیق دیکھ کر اسکی بڑائی بیان کرسکیں
اور شکر بجالائیں“
وہ کسی استاد کی طرح اسے شائستہ لہجے میں
سمجھا رہا تھا
وہ رکا آبیہہ اسے بنا پلک جھپکے دیکھ رہی تھی
”آپ بہت اچھا بولتے ہیں “آبیہہ نے نظریں جھکا لی
”جی نوازش جو آپ نے ہمیں تعریف کے قابل سمجھا
اگر آپکا رونا دھونا ہوگیا ہو تو کیا ہم چل سکتے ہیں ۔؟“
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی
اس نے اجتاب کا ہاتھ تھاما اور گاڑی کی طرف بڑھ گئے
۔۔۔۔۔۔۔
مری میں وہ فارم ہاوس میں رکے تھے
اسلام آباد کی نسبتا مری میں کافی سردی تھی
اور رات برف باری ہونے کا بھی امکان تھا
شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا
وہ باہر لان مین آگ کے پاس بیٹھی تھی
اجتاب گرم گرم کافی سے بھرے مگ لے کر اسکی طرف آیا
”تھینکس فار دس۔۔ “آبیہہ نے ہاتھ بڑھا کر مگ تھام لیا
”مائے پلیئر۔۔ مائے لیڈی“ وہ اسکے سامنے کرسی پہ بیٹھ گیا
”ویسے تم نے یہ نہیں بتایا کہ تمہیں یہ کیسے پتہ چلا کہ ہماری شادی ہورہی ہے۔؟“
لبوں پہ مسکراہٹ بکھری
”جب ہماری انگیجمنٹ ہوئی تھی تب میں کافی ڈسٹرب تھی سو اس بات پہ غور ہی نہیں تھا کیا کہ انگیجمنٹ ہو کس سے رہی ہے۔؟
بس اتنا پتہ تھا کہ آپ حسن انکل کے بیٹے ہیں“
”بس۔؟ “وہ حیران تھا
”بعد میں امی اور بابا عمرہ کے لیے چلے گئے اور زویا کی موجودگی میں میں اس بات کو بھول چکی تھی کہ آپکا نام جان پاتی۔؟
وہ تو ایک روز زویا آپکا نام لے کے مجھے تنگ کررہی تھی تبھی ماضی کے بکھرے اوراق کو کھولا اور معلوم ہوا کہ اجتاب نامی ایک شخص سے واسطہ پڑچکا ہے چہرے پہ مسرت بکھری
دل نے کہا آپ ہی ہو اور دماغ سدا کا میرا دشمن ماننے کو تیار ہی نہیں تھا“
”پھر آپکے دل کی جیت ہوئی۔“ اس نے شوخی سے کہا
”میں تو ویسے ہی آپکے دل ٹوٹنے کے غم میں نڈھال بیٹھی تھی آپ سوچ بھی نہیں سکتے جب آپ نے میرے دل کے کہے کہ تصدیق کی تھی
کس قدر خوش تھی میں۔؟“اس نے بتایا
”اچھا کس قدر ۔؟“ وہ آبیہہ کے دل کی خوشی چہرے پہ واضح دیکھ سکتا تھا
”کچھ نہیں“ اس نے آنکھیں پھیر لی
”ویسے ہماری جان اتنا بلش کیوں کررہی ہے۔؟“اجتاب نے اسے چھیڑا
”باز آجائیں جناب۔۔“ اس نے پلو اٹھا کر اجتاب کی طرف پھینکا
”آپ کو کیوں نہیں پتہ چلا کہ ہماری شادی ہورہی ہے ۔؟ “
اب کہ آبیہہ نے پوچھا ؟؟
_________
”آپ کو کیوں نہیں پتہ چلا کہ ہماری شادی ہورہی ہے ۔؟ “آبیہہ نے بھی تجسس سے پوچھا
”بھئی ہم تو پہلے سے ہی اک حسینہ کی محبت میں گرفتار مجنوں تھے
ہمیں تو دن رات تک کا علم نہیں رہا تھا
وہ تو ماما کے اتنا کہنے پہ میں بےدلی سے مان گیا تھا ورنہ مجھے خبر ہوتی کہ اختر صاحب کی بیٹی اس قدر حسیں ہیں تو اسی دن اٹھا لاتا “ اجتاب نے آنکھ ماری
اب تو تم جانتی ہو کہ تمہارے کالج میں انوشے پڑھتی ہے تو بس اسی کے سلسلے مین کبھی کبھار چکر لگتا اور کبھی کبھار مین خود لگا لیتا تھا اس نے بڑی سرعت سے نچلا لب دانتوں کے نیچے دباتے ہوئے کہا
”سنو ۔؟ ادھر آٶ۔؟ “ اور ادھر آکر بیٹھو اس نے ساتھ والی چئیر کہ طرف اشارہ کیا
اجتاب نے معصوم شکل بنائی
”کس خوشی میں۔؟ “
”ہماری شادی ہوجانے کی خوشی میں “ اجتاب نے یاد دلایا
”آپکی شادی اتنے دن پرانی ہوچکی ہے میاں جی“ اس نے لب بھینچے
میں روم میں جارہی ہوں۔۔!! وہ اٹھتے ہوئے بولی
ذہن میں شرارتی خیال گھوما
ارے سنو …… یہ تمہاری کمر پہ کیا لگا ہے۔؟؟ شاید کوئی کیڑا ہے یا کاکروچ ۔؟؟ لہجے میں انتہا حد تک سنجیدگی تھی
کاکروچ کا نام سن کر تو آبیہہ کے ہوش اڑ گئے
وہ اجتاب کی طرف بھاگی
دیکھیں …. پلیز جلدی دیکھیں!! وہ اسکے سامنے کھڑی تھی
اجتاب نے ہنسنا شروع کردیا
آپ ہنس رہیں ہیں۔؟؟ مطلب….. یہ سب مزاق تھا وہ جلد ہی سمجھ گئی
اس نے گہری کھا جانے والی نگاہوں سے اسے گھورا
اجتاب نے اسکا بازو کھینچا اور اپنے قریب کیا
دیکھو ….اب تمہیں اپنے پاس بلانے کے لیے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا ہے
پیشانی پہ بکھرے بال ، سردی سے سرخ پڑتی ناک ، گلاب سے نکھرے لب اور پورے چاند کی روشنی میں چمکتا اسکا وجیہہ چہرہ اور خفگی بھری نگاہیں جو وہ مسلسل اس پہ گاڑے تھی اسکے دل کو بھاگئیں
لبوں پہ خاموشی کا پہرہ لگائے وہ نظریں جھکا گئی
اس نے آبیہہ کے گرد بازو حمائل کردئیے
~تجھے سوچوں تو سر ورق تجھے پڑھنا چاہوں
تجھ کو دیکھو تو تیری روح میں اترنا چاہوں
اس نے اسکی طرف آنکھ بھر کے دیکھا
~ تو ہے سحرِ خاموشاں میں بکھری خوشبو
تجھ کو پاکر میں خود میں سنورنا چاہوں
~ ہوکبھی گزر میرا جو اس پار کی جنت سے
تیرے دامن کو فقط خوشیوں سے بھرنا چاہوں
کیا اس سب کے علاوہ آپکے پاس کوئی کام نہیں ؟؟
اونہوں….. بالکل نہیں ،، اس نے سر نفی میں ہلایا
رات کی رانی کی خوشبو ہر سو پھیل چکی تھی
یہ تاروں بھرا آسمان …. یہ چاند … یہ ٹھنڈی ہوا اور تمہارا یہ خوبصورت ساتھ بہت دلفریب ہے وہ اقرار کررہا تھا
اس سیاہ رات میں وہ اس پہ مہربان ہورہا تھا ہاں یہ اسکا حق تھا اسکی محبت پہ بھی اسی کا حق تھا
تمہیں …. تم سے بھی زیادہ چاہتا ہوں ،، وہ خاموش ہوگیا
جیسے جواب کا منتظر ہو
اتنییییییییی محبت کے لیے شکریہ ،، وہ ہنس دی
مطلب کوئی جواب نہیں ،، وہ روہانسی ہوا
آبیہہ یار یہ کیا بات ہوئی کوئی محبت کے بدلے میں شکریہ کہتا ہے کیا؟؟
ہاں میں کہتی ہوں نا اور میں ہمیشہ یہی
کہوں گی …. میری جان،، آبیہہ نے انداز بدلا
اور آپکے آج سے سب ڈرامے دیکھنا بند ،، افف بہت خراب ہوگئے ہیں آپ ،، وہ اسے چاہت سے نچلا لب دبائے دیکھ رہی تھی
”میں جارہی ہوں روم میں نماز ادا کرنے آپ یہاں اکیلے بیٹھ کے شاعری کریں“ اور گھسے پھٹے شعر بولیں
ایوے ای….. اجتاب بھی پیچھے لپکا
۔۔۔۔۔۔
پچھلے پہر کی خاموشی میں وہ سر بیڈ سے ٹکائے سامنے لگے کلاک کو گھور رہی تھی اور اجتاب خراٹے لیے بےخبر سورہا تھا
”اٹھیں نا۔؟“
”کیا ہے ….. آبیہہ ۔؟“ اس نے ناگوار لہجے میں پوچھا
”مجھے نیند نہیں آرہی چلیں اٹھیں باتیں کرتے ہیں“ اس نے بچوں کی طرح ضد کی
”رات کے اس پہر کون باتیں کرتا ہے۔؟ “اجتاب کو کوفت ہوئی
”مجھے نہیں پتہ۔!!“ لہجہ بےپرواہ تھا
وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا اور دوبارہ سے گہری نیند میں چلا گیا
”میرے پیارے میاں جی اچھا آپ یہ بتائیں محبت کیا ہے۔؟“ وہ اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگ گئی (وہ جانتی تھی اس بات پہ تو اجتاب کی آنکھیں ضرو کھل جائیں گی)
”وہی …. جو تمہیں مجھ سے نہیں ۔!!“ اس نے جھٹ سے جواب دیا
”اوہوں …… آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں ۔؟“
”اللہ یہ لڑکی کتنا بولتی ہے۔؟“ اجتاب نے ایک اور سرہانا اپنے کانوں پہ رکھا
”سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جائے تو کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ سورج تو نہیں ہے
اسی طرح محبت بھی نظر نا آنے والا دلفریب جذبہ ہے
جسکے ہونے سے ہم انکاری نہیں ہوسکتے یہ تو ایک احساس ہے جسے صرف محسوس کیا جاتا ہے“
وہ جو بلترتیب بولے جارہی تھی اجتاب کے بگڑے ہوئے تاثرات کو دیکھنے لگ گئی
”پلیز آبیہہ اپنی فلاسفی صبح سنا لینا ابھی سونے دو نا “
آبیہہ نے کچھ سوچ کر سر اسکے سینے پہ رکھ دیا
آیت الکرسی پڑھتے ہوئے اس نے سونے کی کوشش کی
آج بھی وہی خوشبو تھی اسکے وجود کی خوشبو جس سے اسے لمحہ بہ لمحہ محبت ہورہی تھی
اجتاب نے اسے محسوس کیا تھا اور اسکا ہاتھ زور سے تھام لیا
جیسے وہ اسے آنے والی ہر تکلیف سے بچانا چاہتا ہو اسکی حفاظت کرنا چاہتا ہو
اور وہ اپنے رب پہ سب چھوڑ چکی تھی
۔۔۔۔۔
اگلے کچھ دن اجتاب کے لیے مصروفیت بھرے تھے کیونکہ یہاں وہ آیا ہی کام کے لیے تھا جبکہ آبیہہ کا تو بوریت سے برا حال تھا
آج بھی وہ اپنے روم میں موجود تھی اور اپنے پیارے میاں کو (جوکہ اپنے کام میں مصروف تھا ) ترسی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی
اب کی بار اسے لگا کہ اس نے اگر کمرے کا ایک اور چکر لگایا تو وہ چکرا کر گر پڑے گی
بوجھل قدموں سے چلتے ہوئے وہ بیڈ پہ اوندھے منہ گری
سر اٹھا کر دیکھا لیکن اجتاب ابھی بھی لیپ ٹاپ میں گھسا ہوا تھا
لبوں کو آپس میں مضبوطی سے پیوست کیے وہ سرمئی کلر کی جرسی پہنے تھا بازوں کو کہنیوں تک فولڈ کیے وہ سب سے بیگانہ اپنے کام میں مگن تھا
”ہائے باہر اتنا رومانٹک موسم ہے اور ایک یہ جناب۔۔؟
(سنو فالنگ کو انجوائے کرنا تو میرا خواب تھا اور اب جب خواب تھوڑی سی کوشش پہ سچ ہوجائے گا تو کیا حرج ہے۔؟)
انھیں بس اپنا کام کرنا ہے اس نے“ کوفت سے سوچا
”یہاں میری کس کو پرواہ ہے۔؟“ ایک نظر اجتاب پہ ڈال کے وہ پیر پٹختی کچن میں چلی گئی
”ہفتہ ہوگیا ہے صبح میٹنگ دوپہر میٹنگ شام کو میٹنگ
رات کو کیوں آتے ہیں گھر واپس وہیں رہ لیا کریں
مر نہیں جانے لگی میں“
برتن سمیٹتے ہوئے وہ اونچا اونچا چلا رہی تھی
”اور اجتاب کانوں میں انگلیاں دئیے خاموشی سے کام میں مصروف رہا”
“پیوستہ راہ شجر سے امید بہار رکھ” دل نے تسلی دی
اب کے آبیہہ نے گلاس اٹھا کر سامنے دیوار پہ دے مارا
اور لمحہ بھر میں گلاس کرچی کرچی ہوگیا
”ہائے میری کیوٹ بیوی…… زیر لب منمنایا
( اب اگر تم اٹھ کر اسے منانے نا گئے تو اگلا نشانہ ضرور
تم ہی ہوگے دل میں سوچا )“
وہ کرچیاں اٹھا رہی تھی تبھی بےدھیانی میں ایک بڑی کرچی اسکے ہاتھ کے وسط میں لگی اور خون بہنا شروع ہوگیا
وہ ہاتھ کو تھامے وہی گھٹنوں کے بل بیٹھی گھور رہی تھی
درد ہورہا تھا لیکن اندر کا درد باہر کے درد پہ حاوی تھا
(( بس دو دن کی محبت تھی ))اشک رخساروں پہ بہہ نکلے
وہ جو بنا چاپ کیے کچن کی طرف بڑھ رہا تھا آبیہہ کا خون میں بھیگا ہاتھ دیکھ کر بوکھلایا
شیلف سے ٹشو باکس پکڑا اور زور سے اسکے ہاتھ پہ رکھ دیا
”پاگل ہوگئی ہو کیا۔؟ آبیہہ دھیان کہاں رہتا ہے تمہارا “وہ غصے میں تھا
اس نے ہاتھ کھینچا لیکن اجتاب نے مضبوطی سے پکڑا تھا
وہ اسے تھامے روم میں لے آیا
ہاتھ کو صاف کرکے عارضی سی پٹی باندھ دی
وہ ابھی بھی خاموش رو رہی تھی
”جان۔؟؟؟؟؟ ناراض ہو۔؟؟؟؟ “
وہ کچھ دنوں میں اتنا جان چکا تھا کہ اسے منانا بہت مشکل کام تھا
کیونکہ اگر آبیہہ ایک دفعہ شروع ہوجاتی تو پھر اگر وہ اسکے آگے ہاتھ بھی جوڑ لیتا وہ تب بھی چپ نہ ہوتی
”سنیے …. کیا آپ نے میری پیاری سی بیوی کو دیکھا ہے۔؟
ابھی …. یہی غصے سے چکر لگارہی تھی“ اس نے اسکے بال چہرے سے ہٹائے
”اسکی نشانی بتاٶ ؟ وہ بہت زیادہ کیوٹ ہے“ اس نے اسکا گال کھینچا
”ویسے وہ خود ہی لوٹ آئے گی کیونکہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی ہے “اب کے اس نے بتیسی دکھائی
”کیا مذاق کررہے ہیں۔؟ “ آبیہہ کو حیرت ہوئی
”نہیں میں تو سنجیدہ ہوں“
”بہت ہی فضول قسم کی سنجیدگی ہے آپکی،
کوئی محبت وحبت نہیں کرتی آپ سے۔!!“ اسنے پلو اٹھا کر اسکے سر میں مارا
”اور خبردار اب آپ نے مجھے منانے کی کوشش کی“
وہ ہاتھ چھڑا کر روم سے چلی گئی
۔۔۔۔۔
”سنو۔؟ “وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے اسے دیکھنے کی کوشش کررہا تھا اور وہ بک منہ پہ سجائے اسکی ہر کوشش پہ پانی پھیر رہی تھی
”بات نہیں کرنی ٹھیک ہے لیکن بک تو نیچے کرو “
وہ بھی ڈھیٹ بن کر اسکے سامنے بیٹھا تھا
” اچھا سنو .. میں نے اپنی میٹرک کی اسٹڈی ادھر سے ہی ایک سکول سے کی ہے
سوچ رہا ہوں ٹائم نکال کے سکول کا چکر لگا آٶ کچھ فنڈز وغیرہ بھی دینے ہیں
اگر تمہیں جانا ہے تو بتادینا “
اور اٹھ کر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف چلا گیا
”اگر تمہیں جانا ہے تو بتادینا“ وہ پیچھے سے اسی کے فقرے کو دوبارہ دہراتی ہوئی الٹے سیدھے منہ بنانے لگ گئی
اجتاب اسکا کوٹ اور کیپ لے آیا اور ٹیبل پہ رکھی
اسکا ہاتھ پکڑا کر اسے اٹھایا
”جلدی پہنو اسے” لہجہ تحکمانہ تھا
۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ مال روڈ سے کافی دور تھے
دونوں راہداری میں چلتے ہوئے سڑک پہ آگئے
رات کے اس پہر لوگوں کی چہل پہل معمول سے کم تھی ایک وجہ برف باری تھی اور دوسری وجہ اتنی رات تھی
چہرے پہ غصے کے آثار نمایاں تھے جبکہ دل خوشی سے جھوم رہ تھا
”(اجتاب آپ کتنے اچھے ہیں)“ اسے اس پہ جی جان سے پیار آیا
اور یہ بات اسے کہنا اپنے پاٶں پہ کلہاڑی مارنے کے برابر تھا
اجتاب نے دو آئسکریم لی اور ایک اس کی طرف بڑھادی
(ہاں یہی تو وہ چاہتی تھی اسکا خواب سچ ہورہا تھا)
اس نے دوبارہ سے اسکا ہاتھ زور سے تھام لیا
تبھی آبیہہ درد سے کراہی
”اففف سوری میں نے غلطی سے زور سے پکڑ لیا
سوری نا ،،
ادھر پاس ہی میں میں ایک ڈاکٹر کو جانتا ہوں چلو چلتے ہیں“
