Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02
امی پھر زویا نے مجھے جوس لاکے دیا
اور میرے پاس بیٹھی رہی“ اب وہ گھر آکے ساری روداد امی کو سناچکی تھی
”پتہ ہے آبیہہ ……. زندگی کی رکاوٹیں بھی ایسی ہی ہوتی ہیں کچھ آسان تو کچھ مشکل_ کچھ صبر مانگتی ہیں_ کچھ ہم سے ہمارا سب کچھ چھین لیتی ہیں اور
کچھ تو۔۔۔۔۔۔ انسان کو اتنا توڑ دیتی ہیں کہ ہر سانس اذیت بن جائے_“ وہ اسکے سر دباتے ہوئے سمجھا رہی تھیں
”اچھا امی پھر انسان کیا کرے۔؟“ آبیہہ کو تجسس ہوا
”انسان کو تو کچھ بھی نہیں کرنا_ ہر پریشانی
ہر تکلیف خاص مدت کےلیے ہوتی ہے_ہمیں کچھ سیکھانے کے لیے،،
سمجھانے کیلیے جب تک ہم نہیں سیکھیں گے تب تک ہم سنبھلیں گے کیسے۔؟“
”بس اللہ پاک پہ کامل یقین ہونا چاہیے اور….. صبر اور نماز کے ساتھ اسکی مدد مانگنی چاہیے“امی پیار سے بتا رہی تھیں
”پھر مدد ملتی ہے کیا۔؟“ وہ مبہوت سی پوچھ رہی تھی
”جب ہم اللہ پاک کو خلوصِ نیت سے پکارتے ہیں یہ مان کر کہ ہماری تکلیف کو اسکے علاوہ کوئی اور دور نہیں کرسکتا_پھر وہ بڑی چاہت اور توجہ سے سنتا ہے ہماری مدد کرتا ہے
اور پھر ہماری ساری باتوں کا جواب بھی دیتا ہے
وہ ہمیں خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا۔۔“امی محبت سے بول رہی تھیں
”امی اگر ایسا ہے کہ دعا قبول ہوجاتی ہے تو پھر ہمیں پہلے ہی آنے والی مشکلات سے چھٹکارا مانگ لینا چاہیے نا۔؟“
آبیہہ سیدھی ہوئی_
”بات تو یہ بھی ٹھیک ہے میری چندا_تم بتاو اگر زندگی میں صرف خوشیاں ہوں تو بندہ اپنے رب سے دعا کا رشتہ کیسے نبھاتا؟
ہم تو خوشیوں میں کھو کر اس رب کو ہی بھول جاتے
مشکلات بھی تو زندگی کا حصہ ہیں
یہی چیزیں انسان کو مضبوط بناتی ہیں ،
ہمت دیتی ہیں _
پھر انسان ہر طرح کے حالات سے مقابلہ کرسکتا ہے،
یہ ضروری بھی ہیں کیونکہ یہی بندے کو اس رب کے قریب لے جاتی ہیں_
انسان جھکتا ہے گڑگڑاتا ہے اپنے رب کے آگے _اس سے رجوع کرتا ہے صرف اسی سے مدد مانگ کر وہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایک ایسی ذات کے سامنے موجود ہے جو سب سے بڑی ہے اور وہ خود کچھ بھی نہیں،“امی نے تفصیلی جواب دیا
”امی پھر تو انسان کو مشکلوں میں ہی رہنا چاہیے کہ اللہ کا ساتھ تو مل جاتا ہے“ آبیہہ نے حل پیش کیا
”مشکل میں جہاں بندہ صبر کرتا ہے اپنے رب کے لیے وہی وہ اگر خوشی کے ملنے پر اللہ کا صدق دل سے شکر ادا کرے تب بھی اللہ جی بہت خوش ہوتے ہیں
کہ میرا بندہ خوشی میں مجھے نہیں بھولا اس نے مجھے یاد کیا_“ انہوں نے آبیہہ کی طرف دیکھا
یوں محسوس ہوا کہ وہ سو چکی ہے ”آبیہہ“ نسیم بیگم نے اسے ہلایا اور وہ گہری نیند سوچکی تھی_
ماتھے پہ بھوسا دے کر وہ آگئیں
________
رات کے پچھلے پہر اسکی آنکھ موبائل کی روشنی سے کھل گئی ”کیا یار سکون سے سونے تو دیا کرو“ وہ بڑبڑائی اور موبائل نگاہوں کے سامنے کیا۔۔
یکلخت سکرین پہ بابا کے میسج کا دیکھ کر چہرے پہ مسکراہٹ بکھری اور دوبارہ آنکھیں موندے وہ فجر کی اذان کا انتظار کرنے لگی
——-
اذان کی آواز کے ساتھ ساتھ ایک اور آواز اس کے حواسوں سے ٹکرائی
”بھائی اٹھ جائیں نماز پڑھ لیں“ آنکھوں کو مسلتے ہوئے وہ اٹھ گیا اور وضو کرنے کیلیے واش روم کا رخ کیا
نماز ادا کی اور دعا مانگے بغیر ہی اٹھ گیا وہ ٹائم کا بہت پابند سہی لیکن نماز سے بھاگتا تھا
وہ سوچتا تھا کہ جب دھیان نماز میں رہتا ہی نہیں تو نماز پڑھنے کا کیا فائدہ۔۔؟؟
آفس کے لیے تیار ہوکر وہ نیچے آگیا
ڈائننگ ٹیبل پہ سب موجود تھے
” گڈ مارننگ ایوری ون۔۔“ اس نے مشترکہ کہا
اسکو دیکھ کے سب کے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری
”دیکھ رہے ہیں حسن صاحب_ اپنے لاڈلے کو، سلام کی بجائے گڈ مارننگ کہا جارہا ہے_“ انیلہ بیگم نے کہا
”لاڈلے کی ماما ٹھیک کہہ رہی ہیں انسان چھوٹی چھوٹی باتوں سے ہی پہچانا جاتا ہے_“
جواب حسن صاحب کی طرف سے تھا
”انگریز چلے گئے پر ہمارے بچوں کے دماغ خراب کرگئے “ وہ سر پیٹ کے رہ گئیں
”ماما سوری نیکسٹ ٹائم خیال رکھو گا پلیز۔۔“
”بھائی آپ مجھے لینے آرہے ہیں نا“ بہن نے اپنا مدح بیان کیا
”انوشے،، کوشش کروں گا لیکن میں ابھی لیٹ ہورہا ہے“
آفس کی فائلز لیے وہ باہر نکل گیا
۔۔۔۔۔۔
نماز پڑھ کے اسے کالج کے لیے تیار ہونا تھا جلدی جلدی میں اپنا دوپٹہ اور بیگ لیے وہ نیچے آگئی
”بابا“ سامنے ڈائننگ ٹیبل پہ اختر شیرانی کو دیکھ کر وہ بھاگی اور پیچھے سے بابا کے گلے لگ گئی
”گھر پہنچ کے بھی مجھے نہیں تھا بتایا کہ میں آچکا ہوں_ بابا آپ ہربار ایسے کیوں کرتے ہیں؟؟_“ آبیہہ نے منہ بنایا،
”میرا بیٹا جو سرپرائز دینے کا مزہ آتا ہے_ بتا کے آنے میں_ ویسا نہیں آتا_“
وہ مسکرادی ناراضگی تو بس لمحے بھر کی تھی
”آبیہہ سنو،، فاطمہ تمہیں قرآن سنٹر ساتھ لے جانے کیلئے کل بھی آئی تھی انہوں نے بھی کل بھی زور دیا
بیٹا ٹائم نکال کے چلے جانا اسکے ساتھ”
”اچھا امی“،
آج لیٹ نہ ہوجاوں بریڈ سلائس ہاتھ میں پکڑے وہ باہر کی طرف بھاگی
”آبیہہ ڈھنگ سے ناشتہ تو کرلیا کرو “
امی پیچھے سے کہتی رہ گئیں
کالج گھر سے تھوڑے فاصلے پر تھا اور یہ راستہ عموما وہ پیدل ہی طے کرتی صبح کی خاموش سڑکیں اسے اچھی لگتی تھی حالانکہ دوپہر کو تو یہاں پاوں رکھنے کی بھی جگہ نہ ہوتی_
خاموشی سے چلتے ہوئے وہ اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی
”زندگی تو آج بھی ویسی ہے سارے کام بھی ویسے ہی ہیں کتنا عجیب ہے نا “اسکی نگاہیں سگنل پہ رکی گاڑی تک گئی جہاں ایک بوڑھے انکل ہاتھ پھیلائے مانگ رہے تھے
”بیٹا کچھ پیسے دے دو کل سے کچھ نہیں کھایا،،
بیٹا۔۔۔۔۔۔۔ تمہیں اللہ کا واسطہ_“ انکے لہجے میں عاجزی تھی
سگنل بدلا اور وہ گاڑی آگے بڑھ گئی بوڑھے انکل کی آنکھیں آنسووں سے بھر گئیں انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا
شاید انھوں نے رب سے شکوہ کیا
” مولا دیکھ اپنے بندوں کو کیسے ہیں۔؟“ لیکن آسمان کے اس پار خاموشی تھی
وہ سر جھکائے آگے بڑھے،،
آبیہہ کے پاوں تھم گئے اب وہ کیا کرے؟؟ ذہن الجھا
”میرے پاس پیسے ہیں میں دے دیتی ہوں“
وہ ان تک پہنچی اور اور انھیں پیسے دے دئیے
بوڑھے بابا اسے غور سے دیکھنے لگ گئے ہونٹوں پہ مسکراہٹ بکھری
” پتر اللہ تیرا بھلا کرے“
ایک سکوں جو اسکے وجود پہ اترا تھا
جسکی لذت اسے سب سے الگ لگی تھی
وہ کالج کی طرف بڑھ گئی اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا بوڑھے بابا آسمان والے کو بڑی چاہت سے دیکھ رہے تھے شاید وہ شکر ادا کررہے تھے
”ہماری زندگی کتنی آسان ہے ہم پھر بھی شکر ادا نہیں کرتے۔؟ انسان کتنا ناشکرا ہے“ بےبسی سی لہجے میں آگئی
کالج پہنچ کر وہ کلاس روم میں چلی گئی__!!
__________
کلاس میں جاکر وہ خاموشی سے زویا کے پہلو میں بیٹھ گئی
سر حسب عادت اپنی گپ شپ میں لگے تھے لیکن کلاس میں سکوت دیکھ کر لگا کہ ٹاپک سنجیدہ چل رہا ہے
”زندگی کا سفر آسان نہیں ہے ہر ایک اپنے مقصد کے لیے جی رہا ہے اپنی منزل کو پانے کیلئے،،
آج کل کے لوگوں کا مقصد بینک بیلنس ہے اور
بچے اسکے لیے کمپیٹیشن بہت بڑھ چکا ہے ہر طالب علم دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی تگ و دو میں لگا ہے_
کہتے ہیں اگر منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریاں کون دیکھتا ہے؟؟
پھر نگاہیں صرف حاصل پہ مرکوز ہوتی ہیں آپ بھی اسی بات کو سامنے رکھے اور محنت کرے مسلسل محنت_“ سر نے دریا کو کوزے میں بند کرتے ہوۓ کہا_
بات گہری تھی لیکن عمل پیرا ہونا مشکل تھا–
لیکچرز سے فارغ ہوکر وہ کنٹین کی طرف جارہی تھی –
اسکے قدم رکیں سامنے کی کلاس روم سے خوبصورت نسوانی آواز آرہی تھی وہ بڑھی اور رک کر سننے لگ گئی
”منزل خوبصورت ہو تو راستے کی دشواریوں کو سامنے نہیں رکھا جاتا“
”یہ تو سر احمد نے بھی کہا تھا_ کیا یار آج سب ایک ہی ٹاپک پہ بات کررہے ہیں!! لیکن میم سامیہ تو ہماری تفسیر کی ٹیچر ہیں _“وہ الجھی
”ہم سب کو اللہ پاک کی طرف لوٹنا ہے وہی ہماری آخری منزل ہے، پھر سکون ہی سکون ہے منزل کی چاہ میں سب ہوجاتا ہے
اس تک پہنچنے کےلیے کی گئی کوششوں کو وہ قبول کرلیتا ہے وہ ہمیں تھکنے نہیں دیتا ہمیں ہمت دیتا ہے
ہم گرتے ہیں وہ ہمیں اپنی ذات کا سہارا دیتا ہے
وہ ہمیں لوگوں کے سہارے پہ نہیں چھوڑتا وہ اپنے بندے کی خود حفاظت کرتا ہے
ہر بار ٹوٹنے پہ وہ اپنی محبت سے ہمیں جوڑتا ہے ہم بےبس ہوجاتے ہیں بھروسا ڈگمگا جاتا ہے
امید کھو دیتے ہیں ہمارے اندر موجود ہمارا رب ہمیں حوصلہ دیتا ہے ”دیکھو میں ہوں نا پریشان کیوں ہوتے ہو؟“
وہ ذات امید ہے بس اسکے لیے جی کر دیکھیں اسکے راستے پہ اسکے لیے نکل کے دیکھیں_“ کلاس میں خاموشی کے ساتھ ساتھ اسکے اندر بھی خاموشی چھاگئی
”انسان کے نظریات کتنے مختلف ہیں کوئی دنیا کے راستوں پہ بھاگ رہا ہے اور کوئی دنیا کے پار اس ذات تک پہنچنے کی کوشش میں ،،
پھر ٹھیک راستے پہ کون ہوا۔۔؟“ اس بات نے اسے الجھا دیا
”پوچھنا تو پڑے گا کسی سے ، پر کس سے۔؟“ وہ بےچین تھی
میم سامیہ کلاس روم سے نکل کر اپنے آفس کی طرف جارہی تھیں وہ پیچھے لپکی
”مے آئی کم ان میم۔۔“اس نے دروازے پہ کھڑے پوچھا
” یس،، بیٹا آجائیں“اجازت مل گٸ
”میم دراصل وہ مجھے آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔؟“
اس نے ساری بات کہہ ڈالی
”میم آپ بتائیں نا کہ ٹھیک راستے پہ کون ہے۔؟“ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
”بچے ٹھیک راستہ پر وہی ہے- جسکے پاس ہدایت ہے-
جسکے دل میں اللہ کی محبت ہے- جو اپنی زندگی کو اللہ اور اسکے رسول کے اصولوں کے مطابق گزارتا ہے
وہی ٹھیک راستے پہ ہے–“میم نے تسلی بخش جواب دیا_
”لیکن میم سر نے تو دنیا کی بات کی تھی پھر۔؟“ اس نے اپنی الجھن بیان کی
”دنیا کے کام تو دنیا کے لیے ہیں جو ادھر ہی رہ جائیں گے
کیا آپکی ڈگریاں آپکی قبر میں رکھی جائیں گی۔؟
نہیں نا، تو پھر یہ ٹھیک راستہ تو نا ہوا نا_
ہم ساری عمر ایسے کاموں میں لگا دیتے ہیں جو ہماری آخرت میں کچھ کام نہیں آئیں گے_“
میم سامیہ مسکرائیں،
” آپ یہ بتائیں آپ نماز پڑھتی ہیں۔؟ “ میم نے پوچھا
”میم کبھی کبھی پڑھ لیتی ہوں“ اس نے شرمندگی سے
سر جھکاتے ہو ۓ کہا
”اچھا آپ فاتحہ پڑھتے ہوئے اللہ سے سیدھا راستہ مانگتی ہیں آپکو نہیں پتہ کہ وہ سیدھا راستہ کونسا ہے۔؟“ سوال پوچھا گیا
اس نے کوئی جواب نہ دیا
(مجھے تو ترجمہ بھی نہیں آتا، نا میں نے ترجمے پہ کبھی غور کیا ہے جھکا سر مزید جھک گیا)
”سیدھا راستہ اللہ کی طرف جاتا راستہ ہے_
وہ راستہ جس پہ نبیﷺ تھے جسکو اللہ پاک نے قرآن میں واضح کیا ہے
حق کا راستہ ،،
صراط مستقیم کا راستہ،،
اور صرف اسی پہ نجات ہے!!“
میم کے چپ ہوجانے سے خاموشی چھا گئی
”بچے باقی سارے راستے تو اس کے بعد ہیں“ وہ پرسکون انداز میں اسے دیکھ رہی تھی
”شکریہ میم“ وہ باہر آگئی،،
چہرے پہ معصومیت اور الجھاو لیے وہ راہداری میں موجود ایک بینچ پہ بیٹھ گئی
جانے کیوں اسکا دل کررہا تھا وہ رو دے
”مجھے تو سورہ فاتحہ کا ترجمہ بھی نہیں آتا اللہ جی یہ کیا ہوگیا“
آنکھیں بھر آئیں۔۔ ضبط مشکل تھا–
۔۔۔۔۔۔
وہ ڈیپارٹمنٹ سے نکل رہا تھا
کہ چلتے چلتے اسکی نگاہوں نے ایک چہرے کو اپنے خصار میں لیا آج پھر وہ اس لڑکی کو دیکھ رہا تھا
ان نگاہوں میں اجنبیت تھی نا آشنائی،،
”یہ تو کل والی لڑکی ہے اسے کیا ہوا ۔؟
یہ رو کیوں رہی ہے۔؟“ جانے کیوں اسکا دل کیا کہ جاکر پوچھے لیکن وہ اس لڑکی کو جانتا بھی نہیں تھا
آبیہہ نے نگاہوں کی حدت محسوس کی اور سر اٹھایا
”مجھے ایسا کیوں لگا کہ کوئی مجھے دیکھ رہا ہے“ اردگرد تو کوئی نہیں تھا اس نے پھر سے سر جھکا لیا اور اٹھ کر کینٹین کی طرف چلی گئی
وہ دور تک اسے جاتا دیکھتا رہا جب تک وہ منظر سے پڑے نا ہٹی،، کچھ تو عجیب تھا
۔۔۔۔۔
شام کے وقت وہ تینوں بہن بھائی مل بیٹھے تھے وہ جتنا کم گو تھا اسکی بہنیں اتنا ہی اسکا دماغ کھاتیں
” بھائی کل آپ ہمیں آئسکریم کھلانے لے کے جارہے ہیں“ ہانیہ نے یاددہانی کروائی
”کیا ہانیہ تم اکتاتی نہیں آئسکریم کھا کھا کے، “
انوشے نے اسکی چٹیاں کھینچی
”مجھے تو بس گول گپے کھانے ہیں بھائی آج بہت کام ملا ہے یاد کرنے والا بھی اور لکھنے والا بھی__“
(وہ ایسی ہی تھی جب تک آکر سارے دن کی باتیں نا سنالیتی تب تک سکون نا ملتا اجتاب حسن کو اپنی بہنوں سے بلاکی محبت تھی وہ انکے سارے ناز نخرے اٹھاتا تھا انکو ہر ویک اینڈ پہ باہر لے کے جاتا اور انکی ساری داستانیں بھی سنتا تھا )
انیلہ بیگم منع بھی کرتی تھیں کہ اسطرح بچیوں کو عادت ہوجائے گی لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوتا اور کہتا ”ممی میری اور میری بہنوں کے درمیان آپ نہ آیا کریں“
ہانیہ فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ تھی اور انوشے بی اے کی ان تینوں نے خوبصورتی اپنی ماں سے لی تھی جبکہ اجتاب کی آنکھیں نیلے پانی کی طرح نیلی تھی کسی کو پل بھر میں گھائل کرنے والی،،
”ہانیہ بھائی کو تنگ نہ کرو جاو اور جا کر سوجاو“ انیلہ بیگم نے ہال سے آواز دی
”اچھا ماما“ ہانیہ بھائی کو پیار کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی
وہ لیپ ٹاپ لیے آفس کا کچھ کام کرنے لگ گیا
۔۔۔۔۔۔
گھر لوٹ کے بھی وہ باتیں اسکے ذہن میں گھوم رہی تھی اسکا ذہن پہلی دفعہ بری طرح الجھا تھا
اسکا اندر ٹوٹ کر بکھر چکا تھا_
”سیدھا راستہ اللہ کا راستہ ہے میں نے تو کبھی نماز بھی دھیان سے نہیں پڑھی قرآن کھولے بھی مدت ہوگئی ہے اور میں جو پڑھتی رہی ہوں وہ میرے کسی کام نہیں آئے گا “
یہ کیا ہوگیا مجھ سے۔؟ وہ پھر سے رو دی
” میم ٹھیک کہتی ہیں انسان کو دین کو پہلے رکھنا چاہیے پھر کچھ اور ،“
،اسنے وضو کیا اور نماز کے لیے رب کے حضور کھڑی ہوگئی
دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے لیکن کچھ سمجھ نا آیا کہ کیا کہے آنسو گر رہے تھے
” میں نہیں جانتی یہ کیا ہورہا ہے میرا دل اتنا بےچین کیوں ہورہا ہے پہلے کبھی نہیں ایسا ہوا –مجھے صراطِ مستقیم چاہیے مجھے آپکا راستہ چاہیے بس آپ میری مدد کرنا “وہ وہیں دیر تک بیٹھی رہی کیونکہ وہاں سکون تھا
آبیہہ نے فاطمہ کو کال کی
” اسلام علیکم فاطمہ سنو کل قرآن سنٹر جاتے ہوئے مجھے بھی ساتھ لے کے جانا“
” اچھالے جاو گی“ وہ پرسکون ہوگئی_
کھڑکی کے اس پار پورے چاند کی روشنی بکھری تھی
اندھیرت میں بھٹکے ہووں کو راستہ دکھانے کے لیے بندوں کو انکے رب سے ملانے کے لیے….
(( اسکا اندر ٹوٹ کر بکھر چکا تھا_ زندگی میں کچھ لمحات ایسے بھی درپیش ہوتے ہیں کہ ہم اپنا مالک حقیقی سے اصل تعلق پہچان سکیں اور اسکی طرف لوٹ سکیں اور پھر ان لمحات میں ہماری زندگی بدل جاتی ہے
ہاں،، ہمارا رب ہماری زندگی بدل دیتا ہے وہ رب …جو سب بدلنے پہ قادر ہے ))
۔۔۔۔۔۔
فجر میں اسکی آنکھ خودبخود ہی کھل گئی آج ایک الگ سی صبح تھی جو اپنے ساتھ ڈھیڑوں سکون باندھ لائی تھی
آبیہہ نے نماز ادا کی اور کالج کا کام لے کے بیٹھ گئی
ماہ نور اسکے کمرے میں آگئی(( کالج سے اکیڈمی اور اکیڈمی سے گھر، گھر آکے بھی ماہ نور کمرے میں گھسی کتابیں لیے بیٹھی رہتی دونوں کو ساتھ بیٹھنے کا بہت کم وقت ملتا تھا))
”آپی میرے کالج پارٹی ہے مجھے ڈریس لینا ہے آپ میرے ساتھ بازار چلیں گی ؟؟“ ماہ نور نے وضاحت دی
”اچھا جب جانا ہوا بتا دینا“ آبیہہ نے پرسکون انداز میں کہا،،
اور وہ وہی بیٹھی آبیہہ کو باتیں سناتی رہی
——
”اجتاب بیٹا کیا ہوگیا ہے ؟؟صبح سے ہی تم اتنے پریشان نظر آرہے ہو “انیلہ بیگم نے آخر پوچھ ہی لیا
”کچھ نہیں ممی بس آفس کا کچھ کام ہے “
وہ مسلسل لان میں چکر لگا رہا تھا اور بار بار کسی کو کال کررہا تھا
”اچھا ناشتہ تیار ہے آکے کرلو “
انیلہ بیگم یہ کہہ کر چلی گئی
وہ آپے سے باہر ہونے والا آدمی نہیں تھا وہ چیزوں کو سمجھتا اور پھر ڈیل کرتا تھا
موبائل بجا
”ہاں وارث__
آرڈر کی ساری تفصیلات مجھے ای میل کردو اور سب سٹاف کے ساتھ ایک میٹنگ بھی رکھو“ یہ کہہ کر فون بند کردیا اور کسی کو نمبر ملانے لگ گیا
کال پہلی بیل پہ ہی اٹھا لی گئی
”جی میں حسن انڈسٹری کا باس بات کررہا ہوں “اس نے موبائل کان سے لگاتے ہوئے کہا
”جب آپ نے یہ کنٹریکٹ ہمیں دینا ہی نہیں تھا تو ہمارے ساتھ ڈیل کیوں کی۔؟
یہ ٹھیک نہیں کیا نواز صاحب آپ نے۔؟؟“ اس نے خود کو نارمل رکھنے کی کوشش کی
”دیکھیئے اجتاب صاحب!! ہم نے کنٹریکٹ ابھی کسی کو نہیں دیا اور بات کنٹریکٹ کی نہیں ہے بات ہے مال کی ڈلیوری کی ہمیں 20 دن کے اندر مال چاہیے
آپ تیار کرسکتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراضات نہیں ہے؟؟؟“ انہوں نے اپنا مدح پیش کیا
”آج شام 5 بجے میٹنگ ہے اس کانٹریکٹ کے لیے آپ آجائیے گا “
فون بند ہوگیا
اسکی پریشانی کافی حد تک کم ہوئی
وہ کمرے کی طرف چلا گیا آفس جانے کے لیے تیار بھی ہونا تھا..
