Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17

اپنی عادت کے مطابق وہ اذان کی آواز پہ اٹھ گئی
آبیہہ دائیں کروٹ سوئی تھی اور وہ اسکی بائیں کروٹ تھا
سائیڈ لیمپ جلاکر بنا کوئی آواز کیے وہ وضو کرنے چلی گئی
نماز ادا کی اور وہی کتنی دیر سرجھکائے بیٹھی رات کے خواب کے بارے میں اللہ کو بتارہی تھی
6 بج رہے تھے،، اجتاب کا الارم بجا
وہ حیران تھی کہ اس نے تو آلارم نہیں لگایا پھر
”(شاید ماما میرے پاس سوئی ہوں گی انھیں نماز کے لیے اٹھادوں)“
اس نے اس سائیڈ کا لیمپ آن کیا اور تھوڑا سا کمبل ہٹایا
”ما ۔۔۔ “ابھی وہ کہنے ہی لگی تھی کہ خاموش ہوگئی
”(کیا وہ ابھی بھی خواب میں ہے۔؟ “وہ بےبس ہوئی
”آپ نے مجھے پاگل کردیا ہے“ اسے سامنے سوئے ہوئے انسان پہ شدید غصہ آیا
اور پلو اٹھا کر اسکے منہ پہ دے مارا
”ہائے اللہ ظالم بیوی۔۔“ وہ سٹپٹایا
”آپ سے تو بہت کم ہوں “
”بدتمیز کہیں کی،، رتی برابر بھی تم شوہر کی عزت نہیں کرتی جنت کیا تمہیں خاک ملنی ہے۔؟“ وہ بڑبڑایا
آبیہہ قہقہہ لگا کر ہنسی
” آپکے قدموں کے نیچے کونسا جنت ہے ۔؟؟
جو مجھے ملنی ہے“
”ہیں واقعی کیا ؟ “
”میں تو لٹا دیوانہ یہی سمجھتا رہا کہ شوہر کے قدموں میں جنت ہوتی ہے“
”اچھا بھلا کیوں۔؟ “
”کیونکہ وہ اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہے اس لیے ،،“
اس نے اس کسی نرم پنکھری سے گال کھینچے
”میری کیوٹ بیوی“
”میاں جی کچھ شرم کریں اب آپ ایک عدد بچے کے باپ بننے والے ہیں
چلیں اٹھ جائیں اب نماز پڑھ لیں لیٹ ہورہا ہے“ وہ اسکے بالوں کو ہاتھ سے بگاڑ کر اپنی سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھی
”((وہ خواب نہیں تھا حقیقت تھی اور بہت خوبصورت حقیقت تھی)“)
اجتاب نماز پڑھ رہا تھا اور وہ اسکی پشت کو دیکھ رہی تھی
”لیکن اجتاب واپس کیوں آگئے انہوں نے تو مجھے یہ نہیں بتایا کہ وہ واپس آرہے ہیں پھر ۔؟ “وہ کھوئی ہوئی سوچ رہی تھی
_________
”آبیہہ یار …..تتم نے سب کو منع کیوں کیا تھا۔؟ کہ مجھے نا بتائیں “اجتاب کی بارعب آواز گونجی
”میں نہیں چاہتی تھی کہ آپ پریشان ہوں یا …. کام چھوڑ کر واپس آئیں بس۔۔۔۔ “سر جھکا تھا
”آبیہہ، کام سے زیادہ تم لوگ ضروری ہو۔۔۔۔ اس وقت یہاں میری زیادہ ضرورت تھی کام تو ہوتے رہتے ہیں نا“ اسکے ماتھے کی تیوری بڑھی
ماما تھی ….. اور میں بھی …. ہم نے ساتھ مل کر سنبھال لیا تھا…. !! وہ ڈر گئی تھی
تم جانتی ہو تمہیں آرام کی ضرورت ہے۔۔!!
اور ایسی حالت میں تم سارا سارا دن کچن مین کھڑی رہتی ہو …… یار کچھ ہوش ہے تمہیں ۔۔۔؟؟
اگر ایسے میں تمہیں کچھ ہوجاتا تو۔۔؟؟ وہ تپا ہوا تھا
سوری …….. وہ رو دی
بات یہ نہیں کہ تم سوری بولو بات یہ ہے کہ تم نے غلط کیا۔!!
”ہاں۔۔۔ مجھے پتہ ہے میں غلط ہوں کہ میں نے ایسا سوچا سوری آئندہ ایسا نہیں کروں گی “ وہ آہین بھرتی پیڑ پٹختے ہوئے روم سے چلی گئی
اجتاب کی محبت نے اسے ایک نازک سی گڑیا بنادیا تھا اب جب وہ زندگی کی حقیقتوں کے روبرو تھی تو احساس ہوا
شوہر ناراض بھی ہوسکتا ہے ڈانٹ بھی سکتا ہے جتنا چاہے غصہ بھی کرسکتا ہے اور چاہے تو گھر سے باہر بھی نکال سکتا ہے
امید تھی جو ٹوٹ رہی تھی لیکن دل نے اجتاب کی ہی طرفداری کی اور غصہ بھلائے وہ اپنے شوہر کی عزت محبت چاہت اور مان کے آگے جھک گئی،، اور اپنی یقین کو پختہ بنالیا کہ خیر ہے …..
کیونکہ محبت تو جھکنا سیکھاتی ہے نا،، خوا وہ کسی انسان کی ہو یا مالک حقیقی کی …..
لیکن اجتاب سے ناراض وہ ابھی بھی تھی
۔۔۔۔۔
اگلی دوپہر میں وہ بابا کے پاس بیٹھی انھیں بڑے مزے سے ہاتھوں کے اشارے اور الٹی سیدھی شکلیں بنا کر کوئی کارٹون مووی کی سٹوری سنا رہی تھی
(جوکہ کل رات اس نے ہانیہ کے ساتھ بیٹھ کے دیکھی تھی )
”آبیہہ بس کرو اب تو ہنس ہنس کر میرے پیٹ میں درد ہورہا ہے“ حسن صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کیا
اجتاب پاس آکر بیٹھ گیا اور آبیہہ رخ پھیر گئی
”((لو جی بیگم صاحبہ تو واقعی ناراض ہوچکی ہیں ))“
وہ اسے اگنور کرکے بابا سے باتوں میں جت گیا
”(میں ہی بری ہوں ہاں بہت بری ہوں جو انکے بارے میں اتنا سوچا اوپر سے مجھے ہی اتنی باتیں بھی تو سنائی تھی نا)“
آنکھیں آنسوٶں سے بھر آئیں
وہ آبیہہ کے چہرے کا بغور جائزہ لے رہا تھا
وہ ڈارک گرین سندھی قمیض اور سکن کلر کے کھلے ٹراوزر میں آج بھی اسے ویسی ہی لگ رہی تھی پہلی رات کی خوبصورت دلہن جسکی آنکھوں میں ڈھیڑوں آنسوں تھے
(کتنا برا ہو نا میں اپنی اتنی کیوٹ بیوی کو رلا دیا؟؟) وہ نادم ہوا
وہ اپنی سوچوں سے باہر نکلا جب آبیہہ نے پیٹ میں اٹھے درد سے زور زور سے چیخنا شروع کردیا وہ سنبھلا،،
اور اسکی طرف بڑھا
”آبیہہ کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو۔؟ آبیہہ ۔۔۔۔۔“ وہ اسکا چہرہ تھپتپھارہا تھا
اور وہ اسکے ہاتھوں میں بےسدھ پڑی تھی
اجتاب کو لگا کہ سب ختم …… دل جیسے مٹھی میں ہی دبوچہ جارہا تھا اس نے گاڑی نکالی اور ہاسپٹل لے آئے
۔۔۔۔۔
”اجتاب ۔۔۔ آبیہہ کو تمہیں اسکی ڈاکٹر کو دیکھانا چاہیے تھا اس ہاسپٹل میں کیوں لے آئے ۔؟؟“ انیلہ بیگم فکرمندی سے کہہ رہی تھی
سب باتوں کو پس پشت ڈال کر اسے صرف آبیہہ کی فکر تھی
وہ ابھی بھی بےہوش تھی
ڈاکٹرز نے مکمل چیک اپ کرلیا تھا اور ٹیسٹ وغیرہ بھی ہوچکے تھے
وہ ڈاکٹر کے پیچھے چلتا ہوا انکے کیبن کی طرف چلا گیا
”ڈاکٹر یہ دوسری دفعہ ہوا ہے کہ اچانک سے درد اٹھتا ہے اور وہ بیہوش ہوجاتی ہے سب ٹھیک ہے نا۔؟؟“
”میں نے آبیہہ کا تفصیلی چیک اپ کرلیا ہے
مجھے آپ سے کچھ ضروری بات بھی کرنی ہے
اسلیے آپ سکون سے میری ساری باتیں سنیں“
اجتاب کو لگا کہ معاملہ بہت سنجیدہ ہے
(یااللہ سب سمبھال لینا) دل سے صدا نکلی
۔۔۔۔۔
جب وہ روم میں آیا تو وہ آدھ کھلی آنکھوں سے دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی اور اجتاب کو دیکھ کر آنکھیں موند لیں
”سنو ۔؟؟“ اس نے مخاطب کیا
کوئی جواب نہیں تھا
”ناراض ہو۔؟ “
آبیہہ ……. میری طرف دیکھو ….. پلیز ۔۔!! وہ چلتا ہوا بیڈ کے پاس آگیا لہجے میں درد تھا
وہ ویسی ہی لیٹی رہی،،
اس نے ہاتھ سے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اس نے اسکی پیشانی پہ لب رکھ دئیے
ایک آنسو آبیہہ کے چہرے پہ گرا اور اس نے آنکھیں کھول دیں
”رو رہے ہیں ۔؟“ آبیہہ نے کہنا چاہا لیکن اجتاب نے لبوں پہ انگلی رکھ کر خاموش کردیا
”میں کبھی نہیں بتا سکتا کہ میں تم سے کتنی محبت کرتا ہوں یا تم میرے لیے کیا ہو ۔؟ شاید الفاظ نہ ملیں
آج اگر تمہیں کچھ ہوجاتا تو میں …… میں مرجاتا۔۔!!“
اس نے محسوس کیا اجتاب کی آواز لڑکھڑا رہی تھی
”میں ڈر گیا ہوں آبیہہ …… مجھے کچھ نہیں چاہئے یہ بےبی بھی نہیں مجھے بس تم چاہیے بس تم …!!
میرے لیے تم ضروری ہو اور کوئی نہیں … کوئی بھی نہیں“
( وہ رو رہا تھا ہاں وہ اسکے لیے رو رہا تھا)
وہ یک ٹک سی ہوکر اسے دیکھے گئی
”اجتاب کیا ہوا ہے۔؟ اسکا سانس اٹکا
بتائیں نا کیا ہوا ہے۔؟ بےبی ٹھیک ہے نا۔؟
کیا ڈاکٹر نے کچھ کہا ہے ۔؟“ اس نے اسکا بازو جھنجھوڑا
”کچھ نہیں تم آرام کرو“ وہ اٹھنے لگا تبھی آبیہہ نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
”بتاکر جائیں ۔!! پلیز
ٹھیک ہے بتاتا ہوں لیکن صرف ایک شرط پہ کہ تم رووں گی نہیں !! پلیز۔۔!!
ہمممم……. اس نے سر اثبات میں ہلایا
ڈاکٹر نے کہا ہے کہ تمہاری باڈی۔۔۔۔۔ بہت کمزور ہے
اور اگر ایسا ہی رہا تو۔۔۔۔ یا بےبی ایبنارمل ہوسکتا ہے یا تم ۔۔۔؟؟ اس نے بات ادھوری چھوڑی
کیا میں …… بتائیں نا۔۔؟؟ بےچینی بڑھی
اگر ۔۔۔۔۔۔ اس بےبی کو کیری کیا گیا
تو تمہاری جان ۔۔۔۔۔ کو خطرہ ہوسکتا ہے“
پورے تحمل سے اس نے اجتاب کی ساری بات سنی(حقیقت میں اسے لگا کسی نے اسے گہری کھائی میں دھکی دے دیا ہو)
”میں نے فیصلہ کرلیا ہے ہم مسکیرییج کروادیں گے“ وہی رعب دار آواز تھی
”لیکن کیوں۔؟“ آبیہہ چلائی
”کیونکہ میں نہیں چاہتا تمہیں کچھ ہو۔۔!!“
”میں ایسا کچھ نہیں کروں گی اور مجھے کچھ نہیں ہوگا“
”پلیز ۔۔۔۔آبیہہ۔۔۔!!“ اب کے لہجے میں بےبسی تھی
”اجتاب …… نہیں بالکل نہیں۔۔۔۔ !!
مجھے نیند آرہی ہے“ ۔۔۔ اس نے کروٹ بدل لی
۔۔۔۔۔
لمحہ بھر کے لیے اسے لگا کوئی اسکی سانسوں کو کھینچ رہا ہے
اس قدر درد بھرا تھا اسکے وجود میں،،
اسکا دل کیا ۔۔۔۔ کہیں دور پہاڑوں میں جاکر زور زور سے روئے ….. چلائے ……. لیکن اس نے صبر کیے رکھا
درد کو الفاظ میں بدلنے کی کوشش جاری تھی آنسو کہیں خلق میں ہی اٹک گئے تھے
”اللہ جی۔۔۔ “دل نے سرگوشی کی
”اللہ جی۔۔۔۔ مجھے درد ہورہا ہے
یہ کیا ہوگیا ہے۔؟؟ کچھ بولیں نا پلیز
میں کیسے اپنے وجود کے اس خوب صورت حصے کو یوں ختم کردوں “
آج الفاظ اسکے درد کا مداوا کرنے سے قاصر تھے
”کچھ بھی نہیں سمجھ آرہا “ پلیز مجھے راستہ دیکھائیں پلیز
وہ ہے نا وہ سب سمبھال لے گا
دل کو تسلی دیتے ہوئے وہ کئی گھنٹے زاروقطار روتی رہی اور
خاموشی سے چھت کو دیکھتی رہی،،
تسبیحات پڑھتے ہوئے خود ہی اس پر سکونت طاری ہوگیا
۔۔۔۔
وہ ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوچکی تھی اور اب اپنے روم میں پڑی بور ہورہی تھی
اجتاب نے موقع دیکھ کر پھت بات شروع کردی
”آبیہہ ضد نا کیا کرو۔۔۔ پلیز۔“۔۔
”میں ضد نہیں کررہی بس میں آپریشن نہیں کرواٶں گی“
وہ دو دن سے اسکے ساتھ سرکھپاتے تھک چکا تھا
”اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو۔؟“
”مجھے اپنے رب پہ پورا بھروسہ ہے مجھے کچھ نہیں ہوگا
اگر اس نے یہ خوشی مجھے دی ہے تو وہ اس خوشی کی اور میری حفاظت بھی کرے گا“
لیکن ۔۔؟؟ وہ کہنا چاہتا تھا لیکن اسے کچھ بھی کہنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا
اور اجتاب نے مجبورا ہار مان لی
”مگر ایک شرط پہ ۔۔۔۔“
”کیا“ اس نے سوالیہ نگاہیں اٹھائی
”تمہاری ڈائٹ کا سکیجول میں خود تیار کرواوں گا اور تمہیں وہ فالو بھی کرنا پڑے گا“ ہر لمحہ ہر وقت!!
”اچھا ٹھیک ہے میاں جی “اس نے اسکا ہاتھ تھاما
”میں تمہیں خوب فروٹس کھلاٶں گا اور ان شا اللہ ۔۔۔ پھر سب ٹھیک رہے گا
اور تمہیں میرا ہر حکم بھی ماننا ہوگا“ اس نے رعب دار لہجے میں کہا
”جی میرے سرتاج آپکا ہر حکم سر آنکھوں پہ“ اب کے وہ مسکرائی
”بہت بری ہو تم“ اجتاب نے اس کے گال کھینچے
”آپ سے تھوڑی سی کم ۔۔۔“۔ اس نے کارٹون شکل بنائی
”سنو ۔؟ محبت کیا ہے۔؟؟“ اسکا وہی معصومانہ سوال۔؟؟
”بقول …… آپکے ۔۔۔ وہی جو میں آپ سے بالکل بھی نہیں کرتی“ اس نے قہقہہ لگایا
”اللہ ایسی ظالم بیوی کسی کو نا دے“
”اور ایسا شوہر بھی کسی کو نا دے“
”اچھا کیسا شوہر۔؟“
”اتنا معصوم۔۔۔۔ اتنا کیوٹ ۔۔۔۔ اتنا لوونگ۔۔۔۔ اتنا کیئرنگ۔۔۔۔؟؟“ اس نے بات ادھوری چھوڑی
”آج کے لیے اتنی تعریف کافی ہے“ اس نے ہاتھ جھاڑے جیسے کام ختم کردیا ہو
”اچھا آگے تو بتاٶ نا ۔۔؟؟ “اسے تجسس ہوا
”اور…… اور اتنا کھڑوس ۔۔۔ اتنا ان رومانٹک۔۔۔ اتنا بورنگ بس …بس اور ….. بس۔۔۔“ اس نے اسے دن میں تارے دیکھائے تھے
”توبہ توبہ لڑکی۔۔۔ میں نے کیا کیا۔؟ “ اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا
”اتنے دن سے آئے ہوئیں ہیں ایک دن بھی مجھے کہیں گھمانے نہیں لے کر گئے
آپکو شرم نہیں آتی اپنی اتنی پیاری بیوی سے ایسا سلوک کرتے ہوئے؟؟“
”او۔۔۔ اچھا۔۔۔ اب آپ یہ چاہتی ہیں کہ آپکو اس حالت میں میں ڈیٹ پہ لے چلوں؟“ ((ایک نمبر کی بلیک میلر ہے))
”اگر یہ آئیڈیا برا ہے تو پھر کینڈل لائٹ ڈنر پہ لے جائیں پلیزززز نا“ اس نے پلیز کو زور سے کہا
”اوکے مائے کیوٹ لیڈی آپکا یہ خادم بس دو منٹ میں فریش ہوکر آیا“
اس نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ اجتاب مان گیا
”اللہ جی ہمیشہ کی طرح۔۔۔ آج بھی میں آپ پہ سب چھوڑتی ہو آپ جو کرو گے مجھے منظور ہوگا
آپ پہ بھروسہ کیے آپکو تھامے ،،،
بس آپ میرے ساتھ رہنا“ دل نے اس رب کی پاکی بیان کی
اسکے پورے جسم میں ایک سکون سا اتر گیا
۔۔۔۔۔۔۔
”خوبصورت بیوی ہو ایک پیارا سا بےبی اور لمبی ڈرائیو تو زندگی خودبخود مہربان ہوتی محسوس ہوتی ہے“
وہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے اسے بتارہا تھا
میں کس قدر خوش نصیب ہوں کہ مجھے بنا کسی معاوضے کے بنا کسی آزمائش کے تمہارا اتنا خوبصورت ساتھ ملا
زندگی سے محبت ہوگئی ہے مجھے!! کیونکہ زندگی خوبصورت ہے
”نہیں مجھے تو ایسا …. نہیں لگتا“ آبیہہ نے بھی جصہ ڈالا
”اچھا وہ کیوں۔؟ “
”یہ سب تو انسان کو مل ہی جاتا ہے اپنی خواہشات سے اپنی مرضی سے،، کبھی رو کر تو کبھی مسکرا کر،،
لیکن اگر وہ اس رب کو اپنا آپ سونپ دے اسکے لیے اپنی خواہشات کو چھوڑ دے تو یقین مانیں وہ رب اسے سب دیتا ہے جو وہ رب کے لیے قربان کرتا ہے
اسے آبیہہ کی باتیں ہمیشہ ہی اچھی لگتی تھی
“آپکی مرضی میں صرف آپکو خوشی ہوتی ہے
لیکن اس میں خوشی کے ساتھ ساتھ آپکو سکون
بھی دیا جاتا ہے”
اس رب کی رضا میں سرجھکانے کا سکون ،،
اس پہ بھروسہ کرنے کا سکون ،،
اس پہ سب چھوڑ دینے کا سکون
مجھے تو ایسے زندگی خوب صورت لگتی ہے“
((بھئی تمہاری بیوی تو بہت گہری باتیں کرتی ہے))
”مجھے خود پہ رشک آتا ہے کہ میرے پاس تم
جیسی بیوی ہے
ہاں کبھی کبھی تھوڑا سا مجھے بھی آتا ہے کہ آپ میرے شوہر ہیں “
گہری آنکھیں رخ پھیر کر مسکرائی
جسکو دیکھ کر ڈمپل مزید گہرا ہوا اور لب مسکرائے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *