Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13

اجتاب نے خاموشی توڑی
”لوگ بہت وعدے کرتے ہیں جینے مرنے کی قسمیں بھی کھاتے ہیں لیکن مجھے یہ سب عجیب لگتا ہے
میں ہمیشہ آپکی عزت کروں گا اس لیے نہیں کہ میں آپ سے محبت۔ کرتا ہوں بلکہ اس لیے کہ آپ میری بیوی ہیں
کیونکہ عزت سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ہوتا “
اس نے اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دئیے محبت کی پہلی نشانی ہوچکی تھی
آج وہ اسے پورے حق سے دیکھ سکتی تھی اپنے اتنے پاس،، اپنی من چاہی محبت کو!!
وہ اسکے ڈمپل کو چھو کر دیکھنا چاہتی تھی لیکن دل گداز کام تھا
اسے دیکھنا مشکل تھا سو اس نے نظریں جھکا لی
آبیہہ کو پھر سے جمائی آئی
”آئی تھنک آپکو نیند آرہی ہے آپ سوجائیں“
”اچھا ٹھیک ہے“
میں ذرا دوستوں کو دیکھ کر آیا ….. وہ خود بھی کافی تھک چکا تھا،،
اسے ابھی نماز بھی پڑھنی تھی فریش ہوئی اور وضو کر آئی
جب وہ روم میں ائی تو وہ بیڈ پہ اوندے منہ لیٹے سوچکا تھا
اس نے سکون سے نماز ادا کی
رب کے حضور سجدہ ریز ہوئے اسے لگا کہ اگر وہ ساری عمر یونہی سجدے مین گزار دے تب بھی حق ادا نہیں کر پائے گی ان خوشیوں کا جو اسکے چاہنے کے باوجود اسے دی گئی ہیں
رحمت کیا ہوتی ہے یہ اس نے آج جانا،،
آج وہ دیر تک یونہی خاموش رب کے سامنے بیٹھی رہی کہ شاید الفاظ اسکی خوشی کو بیاں کرنے اور اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے کم پڑ جائیں
اس نے جائے نماز کو تہہ لگایا اور خاموش قدموں سے چلتے ہوئے بیڈ کے پاس آگئی
ڈمپل اب بھی ویسا ہی تھا
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے چھوا
“اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے” دل نے صرف یہی کہا تھا اور اسے تسلیم بھی کیا
”میں آپکی ہر امید پہ پورا اترنے کی کوشش کروں گی“ ایک عہد لیا
“میں بھی” اس نے نیند میں کہا
”اففف اللہ یہ ابھی تک جاگ رہے ہیں“
میرے ہمدرد ….. میرے ہم سفر … میری چاہت … میرے خیرخواہ….. دل نے سرگوشی کی
وہ واپس پلٹی اپنے بیگ سے قرآن نکالا اور سورہ ملک پڑھنے لگ گئی
کمرے میں اندھیرا تھا
کبھی کبھی وقتی اندھیرے خوف میں مبتلا نہیں کرتے کیونکہ انکے بعد اک حسیں سویرا ہوتا ہے
اسکے لیے بھی اگلی صبح ایک خوبصورت زندگی کا آغاز تھا
زندگی بانہیں پھیلائے انکو خوش آمدید کہہ رہی تھی
جسکے دامن میں صرف پھول تھی
___
سردی نے اسلام آباد کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا_
دھند کے بادل ہرسو پھیل چکے تھے..
حسب معمول فجر کی اذان پہ اسکی آنکھ کھلی
کروٹ بدلتے ہوئے اسکی نظر اپنے پہلو میں سوۓ اس انسان پہ پڑی تھی جسکے لیے وہ اسکی دنیا تھی
اپنی نگاہوں کے حصار میں لیے وہ اسے دیکھتی رہی
”اففف کوئی سوتے ہوئے اتنا کیسے پیارا لگ سکتا ہے۔؟“ دل نے سرگوشی کی
اجتاب کے جسم میں حرکت ہوئی جیسے وہ نظروں کی زباں سمجھتا ہو،،
تبھی الارم بجا تھا اور اجتاب کی نیند ٹوٹ گئی
اور اردگرد کا جائزہ لینے کے لیے اس نے تھوڑی سی آنکھیں کھولیں
آبیہہ سر بیڈ کے کراون سے ٹکائے بےخبر اسے ہی دیکھ رہی تھی
چوری پکڑی گئی تھی اس نے فورا آنکھیں میچ لیں
کن اکھیوں سے اس نے اسکی طرف دیکھ
”یہ تو سورہیں ہیں ……… پھر مجھے کیسے لگا کہ یہ دیکھ رہیں ہیں؟؟ “ذہن الجھا
”اب بس بھی کرو ….. مجھے گھورنا“ اجتاب کے لبوں پہ مسکراہٹ بکھری
اور آبیہہ کو پہلی بار اپنی بےوقوفی پہ جی جان سے غصہ آیا تھا
”میں آپ کو کیوں گھوروں گی بھلا۔؟؟“ اس نے بےرخی سے کہا
”کیونکہ میں ہوں ہی اس قدر پیارا“ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
”جناب غلط فہمی ہے آپکی“ اس نے رخ پھیر لیا
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتا ،،
آبیہہ اٹھ کر وضو کرنے چلی گئی
آج ان دونوں نے ساتھ میں نماز ادا کی تھی
اجتاب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور سرجھکائے دعا میں ہی کھو گیا
”اتنی توجہ سے تو کبھی میں نے بھی دعا نہیں مانگی “اس نے اپنے آپ کو کوسا
وہ ہاتھ منہ پہ پھیر رہا تھا
”کیا مانگا۔؟“ آبیہہ کے لبوں سے اچانک پھسلا
”میری دعاٶں کا میری چاہتوں کا اور میری مسکراہٹ کا مرکز صرف ایک انسان ہے
بس اسی کے لیے اللہ سے ڈھیر ساری خوشیاں مانگ رہا تھا کہ وہ خوش تو میں خوش،،“ اجتاب نے محبت سے کہا
”اچھا اور وہ خوش نصیب کون ہے۔؟؟“ نظروں میں بےتابی تھی
”وہ انسان۔۔۔۔۔ کیوں بتاٶں۔؟“ نیلی آنکھیں شوخی سے چمکی
اجتاب جائے نماز کو تہہ لگاتے ہوۓ اٹھ گیا
اور وہ قرآن لے کر پڑھنے بیٹھ گئی
۔۔۔۔۔
ناشتے کے ٹیبل سے آج مزے مزے کے کھانوں کی خوشبو آرہی تھی
کیونکہ ناشتہ آبیہہ کے گھر سے آیا تھا
انیلہ بیگم نسیم بیگم سے …… اختر صاحب حسن درانی سے اور انوشے ماہنور سے خوش گپیوں میں مصروف تھی
اور ہانی بھابھی کے کان میں گھسی کھسر پھسر کررہی تھی
اور اجتاب ……شدید بور ہورہا تھا
وہ اس کے دائیں جانب بیٹھی تھی
کبھی وہ سر اٹھا کر ماما بابا کو دیکھتا تو کبھی اپنی معصوم بیوی کو….. جسے اسکا خیال ہی نہیں تھا
اجتاب نے اسے کہنی ماری
وہ جو بڑے مزے سے ناشتہ کررہی تھی چونکی
”کیا ہے۔؟“ اونچی آواز میں کہہ اٹھی
تبھی سب نے نگاہیں ان دونوں کی طرف مبذول کی
”اللہ یہ لڑکی مروائے گی مجھے“ اجتاب بیچارا سٹپٹایا
”اچھا سوری ۔۔“ وہ یونہی بول دیا اسے اپنی غلطی کا احساس فورا ہوا تھا
”کوئی بات نہیں بچے “حسن صاحب نے کہا تھا
سب نے ہنسنا شروع کردیا اور نسیم بیگم آبیہہ کو گھورنے لگ گئیں
باقی ناشتہ اس نے بےدلی سے کیا تھا
جیسے وہ پلیٹ پہ جھکی تھی یوں لگا سجدے میں چلی گئی ہو
۔۔
وہ الماری کے سامنے کھڑی اپنے کپڑے سیٹ کررہی تھی
فیروزی کرتا اور سکن شلوار اسکو پرکشش بنارہے تھے بال جوڑے میں بندھے تھے اور دوپٹہ اتار کر بیڈ پہ رکھا تھا
وہ دروازے میں کھڑا اسکے کاموں کو دیکھ رہا تھا
چونکہ الماری کا پٹ کھلا تھا سو اسکو دیکھنا مشکل تھا
”اندر آجائیں نا“ اس نے یونہی کام کرتے ہوئے کہا
”اجتاب کی نگاہیں اسکی خوبصورتی کو سراہ رہی تھی
وہ چلتا ہوا اسکے قریب آگیا”
اور بندھے بالوں کو کیچڑ اتار کر آزاد کردیا لمبے گھنے بال آبشار کی طرح کمر پہ بکھر گئے تھے
وہ سمٹی تھی
”کیا کررہے ہیں۔؟“ وہ اپنے دوپٹے کی طرف بڑھی
”کرنا تو کچھ اور چاہتا ہوں لیکن زہے نصیب ہمیں موقع دیں تب نا،،“ اجتاب بیڈ پہ جا بیٹھا
آبیہہ نے اجتاب کی شرارت سمجھ کر آنکھیں جھکا لی
”سنو ۔؟“ اس نے چاہت سے پکارا تھا
”جی سنائیں۔۔ “جواب چاہت سے ہی دیا گیا تھا
”دیکھو۔؟“ اب کی بار وہ اسے چھیڑ رہا تھا
”دیکھنا منع ہے“ دیکھے بنا جواب دیا گیا
”ولیمے کا ڈریس ماما نے سلیکٹ کیا ہے
لیکن اب۔۔؟؟ “وہ رکا
آبیہہ پلٹی اور بےتاب نظروں سے اسے دیکھنے لگی
”اب جب بیوی میری پسند کی ہے تو ڈریس بھی میری پسند کا ہی ہونا چاہیے نا،،
دس منٹ ہیں تمہارے پاس تیار ہوکر نیچے آجاٶ
میں گاڑی میں انتظار کررہا ہوں“
وہ جو توجہ سے سن رہی تھی اچانک اجتاب کی بات پہ ہڑبڑا گئی
اسکے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ جیکٹ اور چابی لے کر چلا گیا
”نئی نویلی دلہن اب شاپنگ مال میں تھکے گی اسے سوچ کر ہی کوفت ہوئی
ہائے اللہ کیا بنے گا میرے اس کیوٹ شوہر کا ۔؟“ وہ بڑبڑائی
((اسے شروع ہی سے شاپنگ بہت فضول کام لگتا تھا کبھی کبھی وہ چلی جاتی تھی لیکن ہمیشہ امی ہی شاپنگ کرتی تھی ))
اس نے حجاب کیا اور چلی آئی
وہ گاڑی میں بیٹھا موبائل پہ بزی تھا
آبیہہ کو آتا دیکھ کر اسے لمحہ بھر کو حیرت ہوئی تھی
وہ فرنٹ سیٹ پہ اسکے ساتھ آ بیٹھی
۔۔۔۔۔
کافی بوتیک کا وزٹ کرنے کے بعد وہ تھک گئی تھی آنے کا تو پہلے ہی موڈ نہیں تھا اور اب اتنا خجل ہونے کے بعد اسکا دل چاہا کہ وہ سر پیٹ لے
اجتاب نے گاڑی ایک بوتیک کے باہر کھڑی کر دی جسکو اس نے لاسٹ آپشن سمجھا
وہ باہر نکل کر شاپ کی طرف بڑھا
وہ خاموشی سے بس اجتاب کی پیروی کررہی تھی
نفیس اور عمدہ جوڑے ایک قطار میں لگائے گئے تھے
”سر کین آئی ہیلپ یو؟“ ایک لڑکی نے اسے مخاطب کیا
”میری …. ہوچکی بیوی کے لیے کوئی اچھا سا ولیمے کا ڈریس دیکھا دیں پلیز جو……. اسکی خوبصورتی کو مزید بڑھا دے“
اس نے مسکراہٹ آبیہہ کی طرف اچھالی
جو نظریں چراگئی تھی
کافی ڈریسز دیکھنے کے بعد میرون کلر کی شارٹ فراک پہ اسکی نظریں ٹھہر گئی جسکے نیچے ڈارک گرین کلر کا شرارا تھا
”پرفیکٹ ہے اور یہ کلر تو میرا فیورٹ ہے
آبیہہ ذرا دیکھو تو“ اس نے پکارا
”مجھے یہ کلر زہر لگتا ہے کوئی اور دیکھ لیں پلیز“
اس نے منہ بسورا،،
اجتاب کا منہ بن گیا اسے شاید برا لگا تھا
”ہممممم۔۔۔۔۔۔۔ رہنے دو ,,
کسی اور بوتیک پہ ٹرائی کرلیتے ہیں“
وہ باہر چلا گیا
”سنیں یہ ہی ڈریس پیک کردیں اور میں ایڈریس لکھواتی ہوں وہیں بھیج دینا “
وہ مسکراتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھ گئی
۔۔۔۔۔
”سنیں میرے سر میں بہت درد ہورہا ہے
جو ماما ڈریس لائی ہیں میں وہی پہن لوں گی
پلیز گھر چلی” لہجہ التجائیہ تھا
اس نے اسکا تھکا ہوا چہرہ دیکھا اورگاڑی خاموشی سے گھر کی طرف بڑھادی
۔۔۔۔۔
گھرآکر کمرے میں آنے کی بجائے وہ لان میں ہی بیٹھ گیا
”تو جناب کا موڈ میری وجہ سے آف ہوچکا ہے
کوئی بات نہیں اب ٹھیک بھی میں ہی کروں گی “اس نے کھڑکی سے باہر دیکھتے عزم کیا جہاں اجتاب سر جھکائے خاموش بیٹھا تھا
”میرے کیوٹ میاں “ وہ زیر لب منمنائی تھی
۔۔۔۔۔
شام کو ولیمے کا فنکشن بھی کمبائن تھا
زویا اور آبیہہ کےگلنار چہروں پہ نور بکھرا تھا
شہیر گرے کلر کے تھری پیس اور زویا سلور اور گرے کلر کی میکسی میں ملبوس تھی
جبکہ اجتاب نے بلیو کلر کا تھری پیس پہنا تھا
زویا پہلے ہی تیار ہوچکی تھی اور اب ہال میں موجود افراد سے علیک و سلیک کررہی تھی
”آبیہہ بیٹے جلدی کرو اجتاب کب سے پوچھ رہا ہے؟؟ “ نسیم بیگم کی اکتائی ہوئی آوز آئی جوکہ کب سے اسکے پاس کھڑی اسے کہہ رہی تھی
”امی بس ہوگیا چلیں “ اس نے اٹھ کر دوپٹہ ٹھیک کیا
اور امی کا ہاتھ تھامے دروازے کی طرف بڑھی
سر پہ نفاست سے کیا گیا حجاب اور میرون کلر کی شارٹ فراک اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے
خراماں خراماں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے سامنے کھڑے اجتاب کو دیکھا اور مسکرا دی
اور وہ چاہ کر بھی اسکے چہرے سے نظریں نا ہٹا پایا
گلاب سے بھی نازک اسکی …. بیوی کانٹوں کی طرح اسکے دل سے کھیل رہی تھی
”(یہ لڑکی ہے کیا چیز۔؟) “اجتاب کی نظریں دنگ تھی
”کیسا لگا سرپرائز ؟؟ اینگری میاں“ وہ اسکے پاس کھڑی اس کو سرعت سے پوچھ رہی تھی
”میں نے نہیں بات کرنی تم بس اپنی مرضی چلاتی ہو“ اجتاب نے رخ پھیر لیا وہ بس اسے تنگ کررہا تھا
آبیہہ کو اجتاب کی بےرخی چبھی تھی
ایسے کیسے نہیں بات کرنی۔؟؟ بتائیں نا ذرا؟
دھمکی دے رہی ہو۔۔؟؟
ہاں دے رہیں ہوں تو۔۔؟؟ اب تو پوراااا …. حق رکھتی ہوں جناب،، آبیہہ نے پورا پہ زور دیتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما
دیکھو ذرا یہاں کھلے عام رومینس ہورہا ہے زویا انکے پاس آئی
کوئی پولیس تو بلائے ۔؟؟ اس نے شہیر کو دیکھ کر کہا
بس انھی محترمہ کہ کمی تھی
میری دوست ہے وہ…. اسلیے ذرا دھیان سے بات کریں
آبیہہ … چلو تمہیں کسی سے ملوانا ہے۔؟؟ زویا نے پکارا
اچھا آتی ہوں !! اس نے ہاتھ چھڑایا
یار قسم لے لو بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔؟؟ وہ قریب ہوا
میں جانتی ہوں … اس نے کندھے اچکائے ,, جیسے کسی بات کا فرق ہی نا پڑا ہو، ،
۔۔۔۔۔
گھر آکر ماہنور نے اجتاب کو آبیہہ کا روم دکھایا
اور وہ روم میں آگیا جبکہ آبیہہ ہال میں بابا کے پاس بیٹھی تھی
ہر چیز کا بغور جائزہ لیتے ہوئے وہ شیلف پہ پڑی ٹرافیز اور بکس کو دیکھ رہا تھا
”بہت خوب ،،“ وہ تعریف کیے بنا نا رہ سکا
کافی وقت گزر گیا اسے دروازہ تکتے ہوئے،،
”آبیہہ اب آ بھی جاٶ۔؟“ شدت سے اسکے دل نے دہائی دی
کمرے میں ادھر سے ادھر ٹہلتے ہوئے اسکا صبر جواب دے رہا تھا
”ہم کو الہام ہوا ہے کہ زہے نصیب ہمیں اپنا دیدار نہیں کروانا چاہتی“ اس نے مسکراہٹ لبوں پہ سجائے میسج ٹائپ کی
”اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے میاں جی
آپکے لیے کچھ بنا رہی ہوں بس تھوڑی دیر انتظار،، “
میسج کا جواب فورا آیا تھا
”اب اگر تم 5 منٹ میں نا آئی تو میں یہاں سے چلا جاٶں گا “اجتاب نے وارننگ دی
”او اچھا پھر جاکر دکھائیں۔؟“ انداز چاہت بھرا تھا
”اللہ جی یہ لڑکی بھی نا ، جو میرے پاگل ہونے کی کسر رہ گئی ہے نا وہ یہ پورا کردے گی“ اجتاب نے دہاٸ دی
تبھی دروازہ کھلا اور وہ ٹرے پکڑے اندر داخل ہوئی
وہ جو موبائل پہ جھکا ہوا مسکرارہا تھا سر اٹھا کر اسے دیکھنے لگ گیا
ڈارک چاکلیٹ کلر کی سمپل شلوار قمیض میں وہ پرسکون لگ رہی تھی
”سنیں ۔؟“ اپنی طرف متوجہ نا پاکر اس نے دبی آواز میں پکارا
خاموشی برقرار تھی
”میاں جی۔؟“ اس نے شرارت بھری نظروں سے اسے دیکھا
اور اجتاب مسکرادیا
”بہت بری ہو تم تمہیں اپنے اس غریب شوہر پہ رحم نہیں آتا“ آگے بڑھ کر اس نے اسکی کمر کے گرد بازو حمائل کردیا
اسکا چہرہ بلش کرنے لگا
”ویسے اتنا غصہ کس خوشی میں۔؟“ آبیہہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکا
”صبح سے تم میسر کہاں تھی تو غصہ تو آئے گا نا “اجتاب نے معصومانہ شکل بنائی
”اگر جناب آپکو یاد ہو تو میں سارا وقت آپکے ساتھ ہی تھی“ آبیہہ نے بھی بےباکی سے کہا
اجتاب نے اسکے ماتھے پہ ہونٹ رکھ دیے محبت کا پہلا ثبوت،، تبھی آبیہہ کی سانسیں رکی
”اجتاب چھوڑیں مجھے“ اس نے اسکی گرفت سے خود کو آزاد کروانا چاہا لیکن بےسود
”تم ابھی بھی مجھ سے دور جانا چاہتی ہو “اجتاب نے اسے چھوڑتے ہوئے کہا
”میں نے آپکے لیے پاستا بنایا ہے چلیں آئیں کھالیں“ آبیہہ نے اسکا ہاتھ پکڑلیا
پاستا دونوں نے ساتھ میں کھایا تھا
آبیہہ اجتاب کے چہرے کے تاثرات کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی
پاستا ختم کرکے اجتاب اٹھا اور بنا کچھ کہے کمبل میں جا گھسا
الفاظ لبوں پہ ہی ٹوٹ گئے تھے
اسے نماز پڑھنی تھی اسلیے اس نے سوچا اجتاب کو بعد میں منالے گی
۔۔۔۔۔۔
جب آبیہہ نے اسے مخاطب کیا وہ آنکھیں بند کیے یونہی لیٹا تھا
”مجھے کل دامنِ کوہ پہ لے چلیں گے نا۔؟ “آبیہہ نے خواہش ظاہر کی
”جانِ من آپ جہاں کہیں گی یہ آپکا خادم آپکو لے جائے گا“ اجتاب نے اسے قریب کیا
”آپ مجھ سے ناراض ہیں۔؟؟“ آبیہہ نے پوچھا
”میں کبھی بھی تم سے ناراض نہیں ہوسکتا“ جواب واضح تھا
”اور اگر ہوگئے۔؟ تو۔۔!!“ آبیہہ نے زور دیا
”تو مجھے اس بات پہ یقیں ہے کہ تم مجھے منالو گی“ اجتاب نے مان سے کہا
اور آبیہہ کی آنکھوں میں چمک ابھری تھی
اور اسکے پہلو میں سوگئی
ضروری نہیں کہ ہر شام اندھیرا ہی لے کر آئے
کچھ شاموں کے آغوش میں ہمارے لیے خوشیاں بھی ہوتی ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *