Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15
زخم گہرا تھا میں نے ٹانکے لگادئیے ہیں اور پین کلر دے دی ہے عفت نامی خاتون اسے بتارہی تھی
وہ ان کے کلینک کی بجائے گھر گئے تھے جہاں وہ حسب توقع موجود تھی
”اچھا اور سناٶ گھر میں سب خیر خیریت ہے۔؟“
جس طرح وہ بات کررہے تھے اس سے آبیہہ کو لگا کہ وہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں
ایک وہ ہی ہر جگہ اجنبی ہوتی ہے،،
ویسے تمہاری بیوی بہت معصوم ہے انہوں نے تعریف کی
اور اجتاب کے ذہن میں آج سارے دن کا منظر دور گیا
”((اللہ حامی و ناصر رہے میرا))
واقعی۔؟؟ “اس نے تصدیق کرنا چاہی
بچوں کی طرح بیٹھی آبیہہ پہ اسے ٹوٹ کر پیار آیا تھا
”سنیں گھر چلیں ۔؟ “چہرے پہ تھکن واضح تھی
”ایسے کیسے بھئی آج تو تم دونوں میرے ساتھ کافی پی کر ہی جاٶ گے“
اس نے آبیہہ کے چہرے کو دیکھا جہاں بیزاری تھی
”نہیں آنٹی پھر کسی دن ضرور … ابھی کافی وقت ہوچکا ہے ہمیں چلنا چاہیے“
ابھی وہ عفت انٹی کے گھر سے تھوڑا دور ہی آئے تھے کہ گولیوں کے چلنے کی آوازیں آئی
سڑک کے اس پار کوئی لوفر لڑکوں کا گینگ فائرنگ کررہا تھا
”مجھے ڈر لگ رہا ہے “اس نے اجتاب کا بازو زور سے تھاما
”مائے لیڈی میں ہوں نا فکر نہ کرو“ اس نے اسے دلاسہ دیا
”تھینکس“ اس نے دبی آواز میں کہا
”کیا کہا ایک دفعہ پھر کہنا“ ڈمپل گہرا ہوا
”میاں جی اتنے سپیشل ٹائم کے لیے بہت شکریہ“ اس نے اسکے گرم ہاتھوں کو تھاما
تبھی اس نے اجتاب کی چیخ سنی
دیکھتے ہی دیکھتے اجتاب کا بازو آبیہہ کی گرفت سے آزاد ہوا اور اجتاب سڑک پہ کمر کے بل زور سے گرا
”(اللہ جی یہ کیا ہوا۔؟ )“
وہ کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھی اوپر سے اندھیرا تھا کہ وہ کچھ دیکھ پاتی،،
”سنیں اٹھئیے،، اٹھئیے نا پلیز“
اس نے چیخنا شروع کردیا
”مجھے تنگ مت کریں پلیز یہ کوئی مذاق کا ٹائم نہیں ہے
اجتاب اٹھیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے“
وہ اسکو بازو سے پکڑے جھنجھوڑ رہی تھی
تبھی اسے اپنے ہاتھ پہ کچھ محسوس ہوا اپنا ہاتھ روشنی میں کیا اسکا ہاتھ خون سے بھرا تھا
آنسو حلق میں ہی کہیں اٹک گئے
اس نے ایک خاموش نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی جہاں مکمل سکون تھا
”اللہ جی “اس نے اپنے ہمدرد کو پکارا
اور وہ جانتی تھی تھی کہ اسکا ہمدرد اسکے لیے ہر پل موجود ہے
”میں فقط تجھ ہی سے مدد مانگتی ہوں “۔
میرے لیے میرا رب کافی ہے،، وہ بڑبڑائے جارہی تھی
”آپ بےقرار کی دعا سنتے ہیں نا دیکھے میں بےقرار ہوں میری پکار سن لیں نا“
اجتاب کا سر اپنی گود میں رکھے وہ بےتحاشہ روئے جارہی تھی
”اللہ جی آپ بتائیں نا میں کس کو بلاٶں۔؟
میں یہاں کسی کو نہیں جانتی اور فارم ہاوس کا راستہ بھی نہیں معلوم ۔!!“
اسے اپنی بےبسی پہ دکھ ہوا وہ کئی لمحے وہی سرجھکائے روتی رہی
”یااللہ میری مدد کریں پلیز“
اس نے اردگرد نظر دوڑائی جہاں گہرا سناٹا تھا
________
اس نے اردگرد نظر دوڑائی جہاں گہرا سناٹا تھا
ایک اور کالی رات …. جس نے اسے توڑ دیا تھا وہ سانس لینا بھول چکی تھی
لیکن ایک امید، ایک آس جو دل کے ہر پہلو میں بس چکی تھی کہ وہ رب مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا اور اسی یقین نے اسے ہمت دی تھی
اس نے دیکھا کہ وہ عفت انٹی کے گھر سے تھوڑا ہی دور تھے
دل میں بات ڈال دی گئی تھی
وہ بھاگی اور گرتی پڑتی ان کے گھر پہنچ گئی
۔۔۔۔۔
کچھ لمحوں بعد دونوں نے مل کر اسے بیڈ پہ لٹایا
گولی اسکے دائیں بازوں میں سے ہوکے گزری تھی جسکی وجہ سے وہ بےہوش ہوچکا تھا
وہ اسکا بایاں بازو تھامے بیٹھی اسے ہی دیکھ رہی تھی آنسو ابھی بھی شدت سے بہہ رہے تھے
عفت آنٹی …. نے اسکی ڈریسنگ کردی اور انجیکشن لگادیا
”آبیہہ بچے فکر کی کوئی بات نہیں ہے ،، انھیں آبیہہ کی حالت دیکھ کر کچھ ہوا ۔۔ اجتاب ٹھیک ہے پلیز نا رو“
”اجتاب بےہوش ہے صبح تک ہوش آجائے گا رات کافی گزر چکی ہے اب آپ بھی تھوڑا سا آرام کرلو“ وہ اسکے سر پہ ہاتھ پھیر کر چلی گئی
کیا وہ سو سکتی ہے ۔؟؟ وہ خود سے مخاطب تھی
نیند …… نیند تو مجھ سے کوسوں دور چلی گئی ہے جیسے اجتاب …. مجھ سے دور جارہے تھے وہ پھر سے رو دی،،
وہ وہی دیر تک یونہی اسکے پاس بیٹھی رہی .. کہ ابھی وہ اٹھ کر اسے پکارے گا اسے تنگ کرے گا لیکن وہ تو خاموش تھا جیسے اس سے بہت ناراض ہو،،
کیا اپنے ہمدرد کا شکر ادا نہیں کرو گی۔؟ کسی نے سرگوشی کی
وہ اٹھی ۔۔۔۔ نماز پڑھی اور شکرانے کے نوافل ادا کیے
سجدہ شکر کیا ….. اسکے ہمدرد ہمراز نے آج پھر اسے بچا لیا تھا
اللہ جی …. لب ہلنے سے قاصر تھے
اگر آج اجتاب کو کچھ ہوجاتا تو میں کیا کرتی ۔؟؟
آپ تو جانتے ہو نا مجھے میرے درد کو سمجھتے ہو نا آپ کو تو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ….. میں …. میں جانتی ہوں آپ میرے ساتھ ہیں میرے پاس ہیں میرے لیے …. مجھے ہمیشہ ضرورت ہے آپکی …… ہمیشہ …. میرا دل میری جان سب آپکا ہے مجھے سب سے زیادہ …… آپ پہ ہی تو بھروسہ ہے سب کچھ …… آپ پہ چھور کر ہی تو جی رہی ہوں ….. میرے ساتھ رہنا ۔۔۔۔ آنسوں ٹوٹ کر گرے
جب سب اس رب کو سونپ دیا تھا تو اب فکر کس بات کی تھی جائے نماز تہہ کیے وہ اسکے پاس آگئی
اور اجتاب کے سینے پہ سر رکھے آنکھیں موند لیں
۔۔۔۔۔
اجتاب کی آنکھ صبح بازو میں درد کی وجہ سے کھلی
کچھ لمحے تو وہ یہی سوچتا رہا کہ وہ ہے کدھر ۔؟
لیکن اپنے پاس سوئی آبیہہ کو دیکھ کر وہ درد بھول چکا تھا
”گڈ مارننگ“ دروازے پہ عفت آنٹی کھڑی تھی
انکی آواز پہ آبیہہ بھی اٹھ گئی
”ڈئیر اب درد کیسا ہے۔؟“ لہجہ چاشنی لیے تھا
”اب بہتر ہے“ اس نے جھوٹی مسکراہٹ دکھائی
”چلو فریش ہوجاٶ …. میں ناشتہ بنادیتی ہوں“ وہ دروازہ بند کرکے چلی گئی
آبیہہ کی سوجھی ہوئی سرخ آنکھوں نے اسے مزید پریشان کردیا
” جان۔؟ “وہ جو خاموش سر جھکائے بیٹھی تھی اسکے بلانے پہ پھوٹ پھوٹ پہ رونے لگ گئی
(اجتاب کو اسی ری ایکشن کی توقع تھی )
”یہ جو تم چھوٹی چھوٹی بات پہ رونے بیٹھ جاتی ہو نا پلیز ایسا نا کیا کرو“ وہ جھنجھلایا
”کیا آپ نے سب کچھ مزاق سمجھ رکھا ہے ۔؟ آپکو یہ چھوٹی سی بات لگتی ہے
اس سنسان رات میں گولی آپکو لگی تھی لیکن
اپنا وجود اپنی سانسیں میں کھورہی تھی“ وہ پھٹ پڑی تھی
”(اللہ جی مجھے ہمت دینا)“ اس کے سامنے وہ کان بند بھی نہیں کرسکتا تھا
”آپکو تھوڑا سا بھی احساس ہے میں کتنا ڈر گئی تھی
اگر آپکو کچھ ہوجاتا تو۔؟“ اب کہ اس نے منہ ہاتھوں میں چھپالیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کردیا
”مجھے لگا میں نے آپکو کھودیا۔!“ اس نے اسکے کندھے پہ سر ٹکا دیا
”مائے لیڈی ذرا میرے سامنے آٶ“
بار بار نگاہ اسکی آنکھوں پہ جاتی جو واضح بتارہی تھی کہ وہ ساری رات روتی رہی ہے
”یار کیا حال بنالیا ہے تم نے اپنا۔؟“ اس نے اپنے پوروں سے اسکے آنسوں صاف کیے
سوری ….. میری وجہ سے تمہیں اتنی تکلیف اٹھانی پڑی اور یار موت آج یا کل تو آنی ہے نا تو اس میں رونے والی کونسی بات ہے۔؟“ اس نے اسے سمجھایا
”شرم نہیں آتی آپکو اپنی بیوی کے ساتھ ۔۔۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے“ اس نے مکا اسکے پیٹ میں دے مارا
”ہائے اللہ کونسی منحوس گھڑی تھی جب میں نے اس ظالم سے محبت کی تھی“ اس نے دہائی دی
”آپ پچھتارہے ہیں۔؟؟
ویسے اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیا چگ گئی کھیت“ وہ اپنے اصل پن میں واپس آچکی تھی
”جی اس طنزیہ محاورے کے لیے بہت شکریہ بہت ضرورت تھی مجھے اسکی“ اسے سکون بھرا سانس آیا
”ویسے میں حیران ہوں میری کیوٹ بیوی نے میرے لیے اتنے آنسو بہائے “ اس نے اسکا گال کھینچا
”ٹھیک ہولیں آبیہہ اجتاب سارے آنسووں کا بدلہ لے گی“
اجتاب کو اسکا انداز بھاگیا
کمرے میں اسکا شرارت بھرا قہقہہ بلند ہوا
۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح وہ دونوں آج اجتاب کے سکول آئے تھے
اجتاب پرنسپل سے کوئی لمبی چوڑی گفتگو کررہا تھا
وہاں بور بیٹھنا اسے بےمعنی لگا سو وہ اٹھ آئی
اور کلاسز کو بغور دیکھنے لگ گئی
رومز کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا آتے جاتے بچے اس سے مسکرا کر ہاتھ ملاتے
اور وہ ہر ایک کو چاکلیٹ بھی دے رہی تھی جو کہ وہ یہاں آنے سے پہلے لائی تھی
جہاں وہ کھڑی تھی وہاں کسی کلاس سے بچیوں کی آوازیں آرہی تھی
شاید کلاس میں کوئی ڈسکشن چل رہی تھی
ایک لڑکی کلاس میں کھڑے ہوکر ملک کے سیاسی حالات پہ بحث کررہی تھی
وہ اس لڑکی کا اعتماد دیکھ کر دنگ تھی
کلاس میں کھڑے ہوکر بولنا تو دور کی بات
میرے اٹینڈیس لگاتے ہوئے بھی ہاتھ پاوں کانپتے تھے
وہ اپنی سوچوں میں کھوئی مسکرارہی تھی
ایک اور آواز اسکی سماعت سے ٹکرائی
”میم مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اگر اللہ پاک ہم سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں درد کیوں دیتے ہیں۔؟
ہم سے کوئی ایسی چیز جو ہمیں عزیز ہو دور کیوں کردیتے ہیں
حالانکہ ہم یہ کبھی بھی نہیں چاہتے کہ ہم اس انسان کو درد دیں جو ہمارے لیے بہت عزیز ہو“
اس سے پہلے کہ میم کچھ کہتی وہ روم میں چلی گئی
”میم کیا اس بچی کا جواب میں دیں دوں۔؟“
میم نے اجازت دے دی
”بچے آپ پودا لگاتی ہو بہت چاہت کے ساتھ اسے پانی دیتی ہو دھوپ سے بھی بچاتی ہو
کیڑے مکوڑوں سے حفاظت کرتی ہو
اگر کوئی جاڑی یا گھاس ساتھ اگ آئے تو آپ پودے کی چھانٹی کرتے ہو اور اس جاڑی کو کاٹ دیتی ہو
لیکن اس بات کا علم تو آپکو ہوتا ہے نا کہ وہ جھاڑی آپکے پودے کے لیے نقصان دہ ہے یہ بھی تو ہوسکتا ہے نا کہ وہ جھاڑی آپکے پودے کی اچھی دوست ہو ۔؟“
بچی نے سر ہلاکر جواب دیا
”پتہ ہے وہ رب بھی ایسا ہی کرتا ہے ہمیں بناتا ہے
ہماری دیکھ بھال کرتا ہے
زمانے کے کیڑوں سے ہماری حفاظت بھی کرتا ہے
ہمین سنوارتا ہے ہمیں ہر طرح کی تکلیفوں سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے
لیکن اگر ہمارے ساتھ کوئی بڑائی لگ جائے تو وہ بھی ہماری چھانٹی کرتا ہے اسکو دور کرتا ہے بالکل اس پودے کی طرح۔۔
اب اس سے ہمیں درد تو ہوگا نا لیکن یہ تو ہمارے فائدے کے لیے ہی ہوا نا
کہ ہم اس بڑائی کے ہاتھوں خراب ہونے سے بچ گئے
اب اللہ جی جب کوئی چیز لے لیتے ہیں ہم تو نہیں نا جانتے کہ وہ چیز ہمارے لیے اچھی ہے یا بری۔؟
کیا ہم جانتے ہیں۔؟ “اس نے پوری کلاس سے پوچھا
سب نے نفی میں جواب دیا
”تو بچے ہمیں ہر فیصلے کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرلینا چاہیے ۔!!
کیونکہ وہ جانتا ہے ہم نہیں جانتے
لیکن میم ایسا کرنے سے کیا ہوتا ہے۔؟“ ایک اور لڑکی نے پوچھا
”بچے ایک تو اس سے انسان مطمئن ہوجاتا ہے پھر اسے اس بات کی فکر لاحق نہیں ہوتی کہ اس کے ساتھ کیا ہورہا ہے
اور دوسری بات وہ اللہ کے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ وہ صرف اللہ کی مانتا ہے
اور جو اللہ کی مانتا ہے اللہ اسے کبھی بھی نہیں چھوڑتا“
کلاس نے تالیاں بجانا شروع کردی
ایک اچھا سبق دے کر وہ لوٹ آئی
نگاہ خودبخود آسمان کی طرف اٹھی تھی
”شکریہ اللہ جی ۔۔“
۔۔۔۔۔
گھر آکر بھی وہ مسکراہٹ لبوں پہ سجائے کام میں مصروف تھی
اجتاب کو لگا کہ شاید بچوں سے مل کر اسکا موڈ بہتر ہوگیا ہے
اسے دیکھ کر وہ بھی پرسکون تھا
” الحمداللہ “ دونوں نے بیک وقت کہا اور دونوں کی نظریں ٹکرائی
خوبصورت لمحہ انھیں چھوکر گزرا تھا
۔۔۔۔۔
”یار گھر کب آنا ہے۔؟“ زویا اس بار چلائی تھی
وہ لیپ ٹاپ گود میں رکھے زویا سے بات کررہی تھی
”زویا صبح کی تم نے بیس بار کال کی ہے اور چالیس دفعہ یہ پوچھ بیٹھی ہو کہ ہم نے آنا کب ہے۔؟
کیوں شہیر سے لڑائی ہوگئی ہے۔؟ جو آج تمہیں میری اتنی یاد ستارہی ہے“
”اللہ اللہ یہ لڑکی بھی نا !!
اگر تجھے یاد ہو تو بتادوں مری شفٹ ہوئے ایک ماہ سے اوپر ہوچکا ہے
یار میں اداس ہوگئی ہوں پلیز واپس آجا نا“ اسکی آواز میں اداسی تھی
”ابھی تو کچھ نہیں کہہ سکتی کیونکہ ہزبنڈ جی نے ابھی تک اس سلسلے میں مجھ سے کوئی بات نہیں کی“
”اچھا آج اجتاب واپس آئے تو ضرور بات کرنا“
وہ وہی کافی دیر زویا سے باتیں کرتی رہی
۔۔۔۔۔۔۔
وہ شام میں کپڑے پریس کررہی تھی جب اجتاب تھکا ہوا آفس سے واپس لوٹا تھا
”ہم کل واپس جارہے ہیں“ اس سے کہہ کر وہ واش روم کی طرف چلا گیا
شکر ہی انھیں بھی واپس جانے کا خیال آیا اس نے کپڑے ہینگ کی اور اسکا بیگ دیکھنے لگ گٸ
“آج بھی اسکے اندر باونٹی چاکلیٹ موجود تھی” لبوں پہ مسرت بکھری
اس نے چپکے سے نکال لی ساتھ پاسپورٹس بھی موجود تھے ایک نظر انھیں دیکھا اور مزے سے کچھ گنگناتے ہوئے چاکلیٹ لیے لان میں آگئی
۔۔۔۔۔
”شادی کیا کردی بیٹا تو شکل دیکھانے سے بھی گیا “انیلہ بیگم کے لہجے میں خفگی تھی
”ماما دو دفعہ چکر لگایا تو تھا“ اس نے وضاحت دینا چاہی
خود ہی لگایا تھا آبیہہ کو تو نہیں تھے لائے
”اپنے کام کے چکر میں میری بیٹی کو بھی وہاں بور ہی کیا ہوگا۔؟“ انیلہ بیگم آبیہہ کی طرف بڑھی اور اسکی پیشانی پہ بوسہ دیا
”بیگم آپ جانتی ہیں اپنے بیٹے کو کام کے آگے اسے اور کچھ نظر نہیں آتا “حسن صاحب نے کہا
”بھائی پورے اڑھائی ماہ رہ کے آئے ہیں“ انوشے نے گلہ کرہی دیا
ہانیہ تو منہ سیدھا کرنے کو تیار ہی نہیں تھی
”ویسے ڈھیر ساری چاکلیٹس کس چھوٹی پیاری سی بلی نے منگوائی تھیں ۔؟ “ وہ چاکلیٹس کا بیگ دکھاتے ہوئے ہنی کی طرف بڑھا
وہ مسکرانا چاہتی تھی لیکن غصہ اپنی جگہ تھا
”ہماری بلی کھا کھا کے بہت موٹی ہوگئی ہے“ اجتاب اسے تنگ کرنے لگا
”بھائی مجھے تنگ مت کریں“
اب کی بار اس نے ہانی کو گدگدی کرنا شروع کردی اور وہ کھکھلا کر ہنس دی
”ہنی کان پکڑ کے سوری نیکسٹ ٹائم ایسا بالکل نہیں ہوگا“
وہ سب کے درمیاں بیٹھی انکی گفتگو سن رہی تھی
( ان سب کی خوشیوں کو کسی کی نظر نا لگے )
اسے اپنی فیملی مکمل لگی تھی
زندگی میں ہر رشتے میں محبت بہت ضروری ہوتی ہے اسکے بنا زندگی ناگوار اور رشتے کھوکھلے ہوجاتے ہیں وہ محبت کو سمجھ رہی تھی
اپنوں کی چاہت اور ساتھ کے ساتھ یہ رات اسکے لیے واقعی خوبصورت تھی
۔۔۔۔۔
دوپہر میں وہ اجتاب کے پاس بیٹھی اسکو ہنس ہنس کر ہانیہ کی باتیں سنارہی تھی
اور وہ بھی فرصت نکال کر اسکو سن رہا تھا
”ویسے شادی سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ آپ بہت ویلے اور نکمے ہیں“
وہ اپنی بیوی کے منہ سے اپنی اتنی اچھی تعریف سن کر ہنس دیا
”حد ہوتی ہے یار،،
میں تو تمہیں پتہ نہیں کیا کیا سمجھ بیٹھا تھا۔؟“ اس نے نچلا ہونٹ دباتے ہوئے کہا
”اچھا کیا۔؟“ آبیہہ نے سرعت سے پوچھا
”اب اگر تم یہ چاہتی ہو کہ میں تم سے فلموں اور ڈراموں والے ڈائیلاگ بولوں تو ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا “ اس نے ناک سے مکھی اڑائی
”بتائیں نا۔؟“ جو بھی تھا لیکن وہ سننا چاہتی تھی
”کبھی میں نے تو تم سے نہیں پوچھا یہ سب تو پھر۔؟ “
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہہ پاتی
زویا روم میں آکھڑی ہوٸ اور کھانسنے لگ گئی
”کیا ہورہا ہے بھئی اکیلے اکیلے رومینس۔؟“ اس نے اجتاب کو گھورا
اور آبیہہ نے تو شرم کے مارے سر جھکا دیا
”سالی صاحبہ …. جگتیں مار رہا ہوں اپنی بیوی سے
آئیں آپ بھی آکر مار لیں“ اجتاب نے غیر سنجیدگی سے جواب دیا
”آپکی بیوی ہونے سے پہلے وہ میری دوست ہے چلیں نکلیں کمرے سے اور ہمیں ڈسٹرب مت کیجئیے گا“
(میری محبت کی دشمن) اور وہ بیچاری شکل بنا کر باہر نکل گیا
