Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04

پیپرز کی وجہ سے آ
امی نیند آرہی ہے میں اپنے کمرے میں جاوں“ اس نے جمائی روکتے ہوئے کہا
”اچھا بیٹا جاو، “ نسیم بیگم بھی سیدھے ہوکے لیٹ گئی
ایسی بہت سی باتیں تھی جن سے وہ شروعات کرسکتی تھی
بہت سی باتیں سمجھ میں آئیں
(اب اسے اس رب سے جڑنے کے لیے قران سے جڑنا تھا)
آنکھیں کھلی رکھ پانا اس سے مشکل تھا
اس نے آلارم لگایا اور سوگئی
ایک نئی صبح کی امید لیے کہ کل سے وہ ایک نئی راہ پہ چلیں گی
وہ راہ جو صرف رب تک جاتی ہے محبت کی راہ چاہت کی راہ قربانی کی راہ،،
__________
ج کالج سے چھٹی تھی
وہ کبھی نوٹس لے کر بیٹھ جاتی تو کبھی بک،، کبھی کمرے میں ٹہلنے لگ جاتی تو کبھی اوندھے منہ لیٹ جاتی ،،
”مجھے کیا ہورہا ہے۔؟ “ وہ کچھ بھی سمجھنے سے عاری تھی
”عصر کی نماز ادا کرلوں شاید بےچینی کم ہوجائے“
اسے یہی حل سوجھا
۔۔۔۔۔۔
وہ میٹنگز سے فارغ ہوکر اپنے سامنے فائلز کا ڈھیر لگائے کیبن میں موجود تھا
کبھی ایک کھول کے دیکھتا تو کبھی دوسری،،
”ماجد !! ”میرے ٹیبل پہ ضیاء کمپنی کی فائل تھی…. ابھی نہیں مل رہی اس نے انٹر کام پر پوچھا
سر وہ تو میرے پاس ہے دوسری طرف سے جواب ملا
اوکے وہ جلدی بھیج دیں“ اس نے حکم صادر کیا
جی سر ،،، چند لمحوں بعد فائل اسکے ٹیبل پر تھی
اس نے ساری پڑھی اور سکون کا سانس لیا
”ماجد ،،سنو…. یہ سب ضیاء صاحب کو ای میل کردو باقی میں خود دیکھ لوں گا“
فون پہ نمبر ڈائل کرتے اس نے فون کان سے لگا لیا
فون جلد ہی رسیو کرلیا گیا
”جی ضیاء صاحب !! آپکو ہماری طرف سے ای میل مل جاتی ہے دھیان سے پڑھیے گا
اور پھر اپنا جواب بھی بتائیے گا“ اور ساتھ ہی فون کاٹ دیا
”ماجد ،، میرے لیے کافی منگوا دینا پلیز،، سر میں بہت درد ہے“
”یس سر ابھی لایا،“
وہ کرسی سے سر ٹکائے کافی کا انتظار کرنے لگا،،
۔۔۔۔۔
پڑھائی سے فارغ ہوکر مس سامیہ کو کال ملالی ،
”جی بچے کیسی ہیں آپ۔؟؟ “
”میم میں ٹھیک ہوں ، مجھے کچھ پوچھنا ہے آپ سے؟“
وہ اسکے لہجے میں ٹھہری پریشانی کو سمجھ گئ
”جی میں سن رہی ہوں“ لہجہ پرسکون تھا
”میم مجھے سمجھ نہیں آرہا ،،
میں بےچین ہوں 😔
مجھے سکون چاہیے “وہ رو دی😭
”بچے اس میں رونے والی کیا بات ہے۔؟؟“ محبت سے پوچھا گیا
”میم میں تکلیف میں ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہا میرے ساتھ کیا ہورہا ہے“اس نے قرآن سنٹر والا قصہ سنایا اور امی کی باتیں بھی
”میرے گناہ بہت ہیں میں نے آج تک کبھی اللہ کو سمجھا ہی نہیں آج جب سمجھ گئی ہوں تو مجھے سمجھ ہی نہیں آرہی کہ مجھے ہو کیا رہا ہے۔؟
میرے گناہ بہت ہیں میں بہت گناہ گار ہوں
میم آپ بتائیں میں کیا کروں۔؟؟“ بے بسی سے پوچھا گیا
بچے اسکا بہترین حل صدق دل سے توبہ ہے،،
”بچے بعض اوقات ہمارے پچھلے گناہ ہمیں آگے بڑھنے سے روک رہے ہوتے ہیں
ایسا کریں آپ سچے دل سے گناہوں کی معافی مانگ لیں اور سورہ فاتحہ ترجمے سے پڑھیں آپکو اچھا لگے گا“ میم سامیہ نے اسکی مشکل آسان کی
”باقی بعد میں ہم مل کر ڈسکس کرلیں گے “
”کیا اللہ مجھے معاف کردیں گے۔۔؟“وہ بےبس ہوئی
”آپکو ابھی اپنے رب کی رحمت اور محبت کا اندازہ نہیں ہے وہ بہت رحمن ہے آپ سچے دل سے معافی مانگو وہ معاف کردیں گے“ لہجے میں بلا کی چاہت تھی
”میم مجھے قرآن سیکھنا ہے کیا آپ مجھے سیکھا دیں گی۔۔؟؟ “
”بالکل بچے سیکھادوں گی ،“ لہجے میں عاجزی تھی
”آپ میرے گھر آجایا کریں شام کے وقت ؟؟“
”اوکے میم میں کل سے آجاوں گی“
”بچے ابھی میں بزی ہوں بعد میں بات ہوتی ہے“
”اللہ خافظ !!“اس نے فون رکھ دیا اور ایک گہری سانس لی
۔۔۔۔۔۔۔
پڑھائی کی ٹینشن نے اسے مصروف کردیا تھا
ظہر کی اذانیں ہوچکی تھیں اور وہ منہ کتاب میں چھپائے پڑھی جارہی تھی
”آبیہہ نماز پڑھ لو“ امی کی آواز آئی
”اچھا امی پڑھتی ہوں“
اس نے وضو کیا اور جائے نماز بچھالیا جوں جوں نماز پڑھتی جارہی توں توں اسکا ضبط ٹوٹ رہا تھا سجدے میں گر کر اس نے سکون محسوس کیا( دل نے فقط الحمداللہ کہا)
دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اس نے سوچا
”کیا کہوں میں ؟؟
میرے پاس تو کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے
میرا وجود تو گناہوں سے بھرا ہے
آج تک نافرمانی کی آپ نے کیوں نہیں روکا مجھے
کیوں مجھے ہر آسائش دی؟؟“ وہ رب سے مخاطب تھی
”آپکو غصہ نہیں آیا مجھ پہ
خالی وجود کے ساتھ آپکے در پہ حاضر ہوں
سنبھال لیں مجھے
اپنا لیں مجھے ،
آپ نے چھوڑ دیا تو دربدری میرا مقدر ہوگی مجھے معاف کردیں میری ہر نافرمانی کے لیے ،
میں آپکے سائے میں آنا چاہتی ہوں آپ کی بن کے جینا چاہتی ہوں میں آپکی محبت چاہتی ہوں مجھے اپنی محبت دیں دیں، میری معافی قبول کرلیں“
وہ کسی بچے کی طرح زاروقطار رو رہی تھئ
اس نے محسوس کیا جیسے کوئی بھاری بوجھ دل سے آہستہ آہستہ اتر رہا ہو جیسے اسکا وجود نرم روئی کے گالے کی طرح ہوگیا ہو
ایسے کے ہاتھ لگاٶ تو ہوا میں تحلیل ہوجائے
اس نے آسمان کی طرف دیکھا
وہاں نور تھا مسکراتا ہوا نور جو اسکو محبت سے دیکھ رہا تھا اور ایک نور اس نے اپنے اندر محسوس کیا
جیسے نور والے نے اسکی سن لی ہو اسے اپنا لیا ہو
”ہاں وہ تھام لیتا ہے وہ دھتکارتا نہیں ہے“ آنکھیں جھک گئی
”میرا رب تھام لیتا ہے اس نے مجھے تھام لیا “
آنسو فرطِ محبت میں بہہ نکلے
ہاں وہ آنسو عام نہیں تھے بہت خاص تھے جو اسکے رب کے حضور قبول ہوگئے تھے جو اسکی بخشش کا ذریعہ بن گئے
اس نے شکر ادا کیا ،
اور نوٹس لے کر بیٹھ گئی وہ جلدی جلدی سب ختم کرنا چاہتی تھی کیونکہ آج اسے میم سامیہ کے گھر بھی جانا تھا
۔۔۔۔۔
اسکی نگاہیں آج بھی کالج میں اسے ہی ڈھونڈ رہی تھی
وہ بےقرار ہوا
”ہمیشہ تو یہی ہوتی تھی اب کیوں نہیں ہے کاش وہ ابھی میرے سامنے آجائے“ اس نے دل سے دعا کی وہ وہیں بینچ پہ بیٹھا اسکا انتظار کرتا رہا
لیکن وہ اسے آج بھی نظر نہ آئی
اسکا دل دکھا تھا اور وہ بےبسی سے پلٹ آیا
۔۔۔۔۔۔
عصر کی نماز کے بعد زویا نے کال کی
وہ کافی دیر بات کرتی رہی
”آبی ، شہیر نے مجھے ڈائمنڈ رنگ گفٹ کی ہے“
زویا نے چاہت بھرے لہجے میں کہا
”کیا سچی۔؟ لیکن مجھے یقین نہیں آرہا وہ تمہیں کیوں ڈائمنڈ کی رنگ دے گا ۔؟“ چڑانے والے انداز میں کہا
”کیوں مجھےکیوں نہیں دے سکتا۔؟“
”شکل دیکھی ہے اپنی“ آبی نے اسے مزید چڑایا
”کیا ہے میری شکل کو۔؟“
”نہیں کچھ بھی تو نہیں ہے “آبیہہ نے اپنی ہنسی دبائی
”آبیہہ جانی تم نا پٹو گی کسی دن مجھ سے“
”سچ کہتے ہیں محبت اندھی ہوتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے یہاں اندھی ہونے کے ساتھ ساتھ محبت کا بیڑا غرق بھی ہوا ہے“
”ہے ہے ہے نکال لو نکال لو دانت۔۔۔ جب تمہیں محبت ہوگی تب دیکھوں گی ۔؟؟
جانتی ہو۔۔!! محبت زندہ ہونے کا احساس ہے محبت سے ہر شے خوبصورت لگتی ہے
میرے نزدیک
” محبت زندگی ہے ” “
”واہ زویا محترمہ کی کیا فلاسفی ہے“ آبیہہ نے داد دی
”اتنے دھیان سے کبھی کتابوں کو پڑھا ہوتا نا تو تم پورے کالج کی ٹاپر ہوتی “
”مجھے نہیں بننا تمہاری طرح کتابی کیڑا ،،“
”ٹھیک اب،، فون رکھو مجھے کہیں جانا ہے
اللہ حافظ !!“وہ جلدی میں تیار ہونے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سر جھکائے میم سامیہ کے سامنے انکے گھر بیٹھی تھی
”میم مجھے قرآن کا ترجمہ پڑھنا ہے سمجھنا ہے
اور تلاوت بھی سیکھنی ہے“ اس نے اپنا مقصد بیان کیا
”ٹھیک ہے میں سیکھادوں گی“ میم نے حامی بھر لی
”چلیں پھر ابھی سے شروع کرتے ہیں آپ وضو کرلیں“
وہ وضو کر آئی
اس نے ہاتھ میں قرآن پکڑا، اپنے رب کا قرآن دل دہل سا گیا عجب احساس تھا جو اس لمحہ محسوس ہوا
”سب سے پہلے اس کتاب کا کچھ تعارف ،،
بچے یہ اللہ کا کلام ہے خوبصورت کلام،،
یہ نور ہے جو سیدھی راہ دکھاتا ہے اسکے الفاظ روشنی ہیں
جیسے ہم رات کو کسی سفر پہ جارہے ہیں تو گاڑی کی لائٹ ہمیں راستہ دکھاتی ہے ویسے ہی یہ قرآن ہمیں رب کے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے
اس کلام کے ذریعے اللہ انسان سے مخاطب ہوتا ہے اس سے بات کرتا ہے یہ اللہ اور اسکے بندے کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے
قرآن سمندر کی تہہ سے بھی زیادہ گہرا ہے اور اسکو وہی پاسکتے ہیں جو اس میں ڈوب جاتے ہیں
جب انسان اس سے جڑ جاتا ہے تو اسکے اندر ایک میزان لگ جاتا ہے صیحح اور غلط میں فرق کرنے والا اسی لیے تو یہ “فرقان” ہے
یہ کلام ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کام کرنا ہے اور وہ نہیں جو اللہ کو پسند نہ ہو
اگر کبھی سکون نہ ملےتو اسے کھول کے بیٹھ جائیں آپکو سکون دے دیا جائے گا
قرآن پاک کی سورہ انبیاء کی آیت ہے کہ
”لوگوں ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ذکر ہے کیا تم سمجھتے نہیں ہو۔؟“
کس قدر خوبصورت بات ہے کہ اللہ پاک خود کہہ رہے ہیں دیکھو اس میں تمہارا ذکر ہے آج اخبار میں ہمارا نام آجائے تو ہم ہر ایک کو دکھاتے ہیں دیکھو میرا نام اور
اس کتاب کی تو شان ہی اونچی ہے اس میں میرا اور آپکا ذکر ہے اب یہ دیکھنا ہم نے خود ہے کہ ہمارا ذکر کہاں ہے۔؟“
(کیا اس میں میری باتیں بھی ہیں ۔؟ )
سورہ طہ کی آیت نمبر 124 ،،
اس آیت میں اعتراض کرنے سے مراد۔؟؟
قرآن کی تلاوت کی طرف توجہ نہ دینا ہے اسکے احکامات کو نہ ماننا اس پہ عمل نہ کرنا یہ کتاب عمل مانگتی ہے پڑھ لیا سمجھ لیا تو پھر آپ جوابدہ ہیں
(میں عمل کرنے کی پوری کوشس کروں گی)
شیطان ہر ممکن کوشش کرتا ہے ہمیں اپنے رب سے دور کرنے کی لیکن جو اپنے رب کے ہوتے ہیں وہی ان راستوں کو طے کرپاتے ہیں وہ جنکے دل میں صرف اسکی محبت ہو پھر انسان کو اسکی ثابت قدمی کا بدلہ بھی دیا جاتا ہے
جب قرآن ملتا ہے تو ہمارے اندر ہلچل مچ جاتی ہے
یہ ہمیں جھنجوڑ دیتا ہے،ہمارا اندر توڑ پھوڑ مچ جاتی ہے
((کیا میں بھی ٹوٹ جاوں گی ؟؟ اللہ جی مجھے صبر دینا))
اور پھر جب جب ہم ٹوٹتے ہیں تب تب ہم اس رب سے جڑجاتے ہیں
وہ محبت بھرا ہاتھ ہمارے ٹوٹے دل پہ پھیرتا ہے اور کائنات بھر کا سکون ہمیں عطا کردیتا ہے
(ہاں کل رات میں نے سکون محسوس کیا تھا)
یہی وجہ تھی کہ قرآن کو پہاڑوں نے نہیں لیا تھا اور پھر ہمارے لیے آزمائشییں بھی ہوتی ہیں کبھی جان کی کبھی مال کی تو کبھی اولاد کی
سورہ العنکبوت کی آیت ہے
”اور جو لوگ ان سے پہلے ہوچکے ہیں ہم نے انکو بھی آزمایا تھا (اور انکو بھی آزمائیں گے) سو اللہ انکو ضرور معلوم کرے گا جو سچے ہیں اور انکو بھی جو جھوٹے ہیں“
وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گئی
میم سامیہ اٹھی اور اسکے پاس جاکر بیٹھ گئی
“بچے انسان کی آخری منزل وہ ذات ہی ہے” اب نہیں تو پھر کبھی لوٹنا تو اسی کے پاس ہے نا،،
”وہ مجھ جیسی گناہ گار سے محبت نہیں کرتا ۔؟؟“
آبیہہ نے نم آواز میں کہا
”یہ آپ کیسے کہہ سکتی ہیں کہ وہ آپ سے محبت نہیں کرتا؟؟
وہ آپ سے محبت کرتا ہے اسی لیے اس نے آپکے گناہوں، نافرمانیوں کو دور کرکے آپکو اپنا کلام تھما دیا ہے
اسلیے آپکے ہاتھ میں اس ذات کا کلام ہے اور رہی باقی بات تو وہ آپ ساتھ ساتھ سب سیکھ جائیں گی
اللہ پاک تو خود چاہتے ہیں کہ آپ ان سے محبت کریں“ میم نے اس کی الجھن دور کرنے کی کوشش کی
”میں کیسے محبت کروں مجھے تو محبت کرنا نہیں آتی “وہ پھر رو دی
”آپ اللہ کی محبت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اللہ سے اسکو مانگیں ،، اسکی چاہت مانگیں
آپ اسکے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کریں اسکے قرآن کو کھولیں اسکی تلاوت کریں یہی اللہ پاک کی قربت کا بہتریں راستہ ہے
اللہ کی نعمتیں یاد کیا کریں کہ اس نے آپکی غفلت کے باوجود ہر اس شے سے نوازا جو آپ نے چاہی اتنی بڑی دنیا میں بھی وہ آپکو نہیں بھولا آپکی ہر ضرورت پوری کی“
وہ سانس لینے کو رکیں
دل پگھل رہا تھا سینے میں آگ کی تپش بڑھ رہی تھی ضبط ٹوٹ رہا تھا
”میں بہت نافرمان ہوں“ اس کے دل نے پھر سوچا وہ ابھی بھی زاروقطار رو رہی تھی اسکا دل چاہا وہ کبھی بھاگ کر چھپ جائے
”آپ پھر اسے بات پہ اسکا شکر ادا بھی کریں“ انہوں نے بات جاری رکھی
”آپ کا رب آپکے چاہنے یا نا چاہنے کے باوجود
آپ سے بہت محبت کرتا ہے
یہی احساس آپ کے اندر اللہ کی محبت کو پیدا کر دےگا اور پھر آپ اس محبت میں اللہ سے استقامت بھی مانگیں
آبیہہ بچے میری طرف دیکھیں“ میم سامیہ نے اسکا چہرہ اوپر کیا
آنسو کو صاف صاف کرتے ہوئے وہ اسے سمجھا رہی تھی
” یہ بہت خاص آنسو ہیں انھیں اسطرح ضائع نہ کریں رب کے حضور ان آنسوں کی بہت قیمت ہے آپ اسکے سامنے اسے بتا کر سنا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کریں
یقین مانیں وہ سنے گا بھی
اور سمجھے گا بھی
وہ آپکو ہمت دے گا اور اپنا ساتھ بھی“
انہوں نے اسکی پیشانی کو چوما
”شام کی اذان ہونے والی ہے اب آپکو گھر جانا چاہیے“ میم سامیہ نے اسے تھپکتے ہوئے کہا
وہ آگئی سڑک پہ چلتے ہوئے میم کی باتیں اسکے الجھے زہن میں مزید الجھ رہی تھی سردی بڑھ رہی تھی
لیکن اسکے وجود سے ابھی بھی آگ نکل رہی تھی آنسو ٹوٹ کر رخساروں پہ بہتے رہے..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *