Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12

دور کھڑا شہیر یہ سب دیکھ رہا تھا
”تم کتنی بدل گئی ہو “وہ حیران تھا
”لیکن یہ سب ہوا کیسے۔؟“آبیہہ سے پوچھنا پڑے گا
”زویا تمہاری معصومیت تمہارا پاگل پن اب بھی ویسا ہی ہے
جسکی وجہ سے آج بھی تم مجھے اتنی ہی عزیز ہو“ خوبصورت اقرار تھا جو اس پل اس نے کیا
۔۔۔۔
”میلا بے بی نالاض ہوگیا ۔؟“ وہ دھپ سے اسکے پاس آکر بیٹھی
”اچھا پہلے اظہار محبت مکمل کرو پھر لڑ لینا“ آبیہہ نے آنکھ ماری
”دفعہ ہو جاٶ مجھے تم سے کوئی بات نہیں کرنی “زویا نے رخ بدلا
”جانتی ہو زویا مجھے تم سے کیوں اتنی محبت ہے ۔؟“
زویا نے خفگی بھری نگاہ اس پہ ڈالی جیسے وہ جواب کی منتظر ہو
”کیونکہ تم نے آج کمینگی کی ساری حدیں توڑ دی ہیں“ وہ شرارتا مسکرائی
”اب میں نے کیا کیا۔؟ “زویا سنجیدہ ہوئی
”یہ میرے سے اتنا دور کیوں بیٹھی ہو۔؟ بی بی تمہارے لیے نامحرم نہیں میں ؟“ آبیہہ نے منہ بنایا
”تم ، تم بہت بدتمیز ہو“ زویا کھلکھلاکر ہنسی
”ہیں نا مجھے بھی یہی لگتا ہے “
”تم بہت اچھی ہو آبیہہ سب سے زیادہ اچھی ،،
کیونکہ تم نے کبھی مجھ سے نفرت نہیں کی اور کبھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا“
”اب ہر کوئی تمہاری طرح تو ہوتا نہیں نا کہ بندے کو
تھوڑا سا دکھ مل گیا ہو اور وہیں پہ رونا دھونا ڈال کے بیٹھ جائے“
”جان اب بس بھی کرو نا کب تک
یہ پینڈو ساسوں والے طعنے مارتی رہو گی مجھے ….چلو گھر چلیں میں بہت تھک گئی ہوں پلیز“ اس نے اٹھتے ہوئے کہا
وہ گھر لوٹ آئی ہرسو صبح کی سرخی پھیل چکی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنوری شروع ہوچکا تھا آنے والا نیا سال خوشیوں کے ساتھ ساتھ مزید سردی بھی لایا تھا جسکی وجہ سے ٹھنڈ بڑھ چکی تھی
یخ بستہ شام میں وہ دونوں کمبل میں بیٹھی مونگ پھلی کھارہی تھیں
اور ماہ نور سامنے سر کتابوں میں دئیے بیٹھی تھی
(وہ پچھلے بیس منٹ سے دیکھ رہی تھی کہ زویا اسکی گودی میں سے اٹھا کے کھارہی ہے)
”میرے مونگ پھلی کے دانے کیوں لے رہی ہو۔؟“ آبیہہ چلائی
”اپنی کھاٶ،“اس نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا
”کتنی چول ہو تم یاررررررر ،
تمہیں مجھھھ بیچاری پہ ترررررررررس نہیں آتا
میں اتنے دنوں کی بھوکیییییییییییییی ، دیکھو ذرااااااااا میری کیا حالت ہوگئی ہے…. پو ………..ری جنگلی بلی ہو “ وہ نان سٹاپ بولے جارہی تھی
”میں مر گئی نا تو پھر تم مونگ پھلی اکیلے بیٹھ کے مزے سے کھالینا“
تقریر ختم ہوگئی ؟؟ آبیہہ نے گھورا
”یہ تم ایک ساتھ اتنی بکواس کیسے کرلیتی ہو۔؟ “ اسے ایک چپت لگائی
”بس میری جان اپنا اپنا تجربہ ہے“ اس نے خود کا کمدھا تھپتھپایا، ،
”ہاں ہاں تم تو دادی اماں ہو سب کی ،“
”زویا کی حرکتوں اور عمر پہ کبھی شک نہ کرنا ورنہ۔!! “
اس نے انگلی دکھائی
”اچھا ورنہ کیا۔؟ “آبیہہ نے تکیہ اٹھا کے اسکے منہ پہ دے مارا
”ورنہ میں تمہیں گدگدی کرنا شروع کردوں گی“ وہ ہاتھ دکھاتے ہوئے اس پہ جھکی
اور آبیہہ جان بچا کر بھاگ گئی
”جا ثمرن جا ……. جی لے اپنی زندگی، “ زویا پیچھے سے چلائی
”اونہوں ثمرن کی اماں تو دیکھو ذرا“ ،آبیہہ نے ہال سے آواز دی
”یار تھوڑی سی مونگ پھلی تو دے جاتی !!“
”یہ جو تم مجھے تنگ کرتی ہو نا اسکا الگ سے تم سے حساب لیا جائے گا دیکھ لینا تم“ وہ بڑبڑارہی
”سوجاٶ صبح ائیر پورٹ بھی جانا ہے “آبیہہ نے آواز لگائی
______
انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے آج بھی لمبا ہوگیا تھا
اسکی بےچینی بڑھ رہی تھی ”امی بابا اب آ بھی جائیں نا۔۔ “وہ تینوں، حسن درانی اور انیلہ بیگم انکو لینے آئے تھے
اسکی جھکی پلکیں بھیگ رہی تھیں آنکھیں بند کرکے کھولیں سامنے سے آتی درازعمر خاتون کو دیکھ کر وہ مسکرائی تھی
پھولوں کا ہار لیے بھاگ کر گئی اور محبت کے ساتھ امی کے گلے لگ گئی اور پھر بابا سے لپٹ گئی
”امی آپکو پتہ ہے میں نے کتنا مس کیا آپکو۔۔؟؟
میں کب سے منتظر تھی آپ جلدی کیوں نہیں نکلیں۔۔؟؟“وہ بنا رکے بولی جارہی تھی
ماہ نور کی بھی یہی حالت تھی کچھ لوگ زندگی کا اہم پہلو ہوتے ہیں جن کے بغیر زندگی خالی سی لگتی ہے اور یہ خلا کوئی اور بھی نہیں بھرپاتا
”ساری باتیں ادھر ہی کرنے کا ارادہ ہے کیا؟“حسن درانی نے پیچھے سے آتے ہوئے کہا
”چلو باقی کا پیار گھر جاکر دیکھا لینا۔۔۔“ بابا کا ہاتھ تھامے وہ سب کے ساتھ گاڑی کی طرف بڑھی
گھر آکر وہ اپنے کاموں میں مصروف ہوگئی سب کے لیے کھانا بنانا تھا زویا بھی کاموں می اسکا ہاتھ بٹا رہی تھی
بےقراری اسکے چہرے پہ عیاں تھی اور زویا بخوبی اندازہ بھی لگارہی تھی کہ اسے ہوکیا رہا ہے
اپنے رب کی باتیں سننے کی تڑپ زور پکڑتی جارہی تھی رات کو سب کاموں سے فارغ ہوکر وہ اور زویا امی اور بابا کے کمرے میں آگئی
بابا باہر کسی دوست سے ملنے گئے تھے اور
امی جائے نماز پر ہی بیٹھی تھیں وہ وضو کرکے انکے پاس آگئیں گود میں سر رکھے اس نے آنکھیں موند لی۔۔۔
”میری جان میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا“ اسکے چہرے پہ محبت بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ اس سے مخاطب تھیں
”امی بتائیں نا میرا رب کیسا ہے؟“
اسکی مدھم سی آواز ابھری تھی۔۔
”میری اور تمہاری سوچ سے بھر کر محبت کرنے والا،
رحم کرنے والا ،
بخشنے والا،
عطا کرنے والا ،
مہربان اور سب سے بڑا قدردان۔۔“ اسکے آنسو رخساروں پہ بہہ نکلے
”میری چندا وہ ذات بہت بڑی ہے بادشاہ کل کائنات جس کے ماتخت آسمانوں اور زمین کا نظام چل رہا ہے
جو فقط کن کہتا ہے تو فیکون ہوجاتا ہے ہم ناچیز تو اس کی بڑائی بیان کر ہی نہیں سکتے“ امی عاجزی سے بولیں
”غلاف کعبہ کو چھوا تو کیسا محسوس ہوا تھا؟“ معصوم سے چہرے نے ایک اور سوال کیا
زویا کو لگا اسکا دل بھی سب یہی پوچھنے کا خواہشمند تھا جو کہ ابھی آبیہہ پوچھ رہی تھی
”الفاظ میں بیاں نہیں کرسکتی اس قدر اچھا لگا تھا محبوب کے گھر کو اسکی چیزوں کو چھوکر محسوس کرنے کا احساس ہی کچھ اور ہے
میرا دل کررہا تھا میں بس کعبے سے لپٹ کر روئے جاٶں کوئی مجھے چپ کروانے والا نہ ہو سارے دکھ سارے درد اذیتیں بہہ جائیں ان آنسووں میں
اور میں واپس پاک ہوکر جاٶں ہر برائی سے۔۔
حرم کی سرزمین میں سکون ہے میرے رب کے آنکھوں کے سامنے ہونے کا سکون۔۔ جہاں کعبہ اپنی تمام خوبصورتی کے ساتھ جلوہ گر ہے “ دوبارہ یاد کرتے ہوۓ ان کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے
اس نے امی کے ہاتھوں پر لب رکھ دئیے یہ سوچ کر کے ان ہاتھوں نے میرے رب کے گھر کی ایک ایک چیز کو چھوا ہے۔۔۔
”آنٹی جب آپ نے کعبہ کو دیکھا تھا تو تب کیا محسوس کیا۔؟“ اب کی بار سوال زویا نے کیا
جس کا تجسس بڑھ رہا تھا
”جب کعبے پہ پہلی نظر پڑی تھی مجھے بھول گیا تھا کہ دنیا کیا چیز ہے اسکی خوبصورتی اسکے دکھ درد سب۔۔ مجھے خود سمجھ نہیں تھا آرہا کہ مجھے ہوکیا رہا ہے ۔؟
جیسے میرے وجود کو کسی نے اپنے بہت قریب کیا ہو ایک الگ سی رحمت نے گھیر لیا تھا پھر یاد نہیں تھا کہ محھے کیا کہنا ہے اور کیا مانگنا ہے دل خوشی سے جھوم رہا تھا اور لب شکر سے لبریز تھے“ ان کے چہرے سے خوشی کے مارے نور پھوٹ رہا تھا
”آپ نے کیا مانگا تھا“ آبیہہ نے امی کی آنکھوں میں کھوۓ ہوئے کہا۔۔۔
”میں نے اپنی بیٹیوں کے لیے ڈھیڑ ساری خوشیاں مانگیں اور سکون مانگا “ انہوں نے محبت سے جواب دیا
”امی یہ کیا بات ہوئی ہمیں خوشیاں نہیں چاہیے بس اسکا ساتھ کافی ہے ہمارے زندہ رہنے کے لیے“
وہ زویا کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی تھی۔۔
نسیم بیگم نے ان دونوں کی پیشانی کو محبت سے چوما
”پتہ ہے زویا وہاں حرم میں سب ہی دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے بیٹھے تھے جیسے سب خالی جھولیاں لیے ہوں لیکن وہ رب کسی کو بھی اپنے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا سب محو گفتگو تھے کوئی دل میں کہہ رہا تھاتو کوئی بول کر اپنے رب کو اپنا حال سنا رہا تھا لیکن سب کے چہرے پرسکون تھے
ایسے لگ رہا تھا میرا رب ساتویں آسمان سے زمین پر آگیا ہو بڑی چاہت کے ساتھ اپنے بندوں کے دکھ سننے اور پھر انھیں تسلی دے رہا ہو
”غمگین کیوں ہوتے ہو میں ہو نا تمہارے ساتھ “
محبوب حقیقی کے روبرو ہونے کا سکون بھی پرلطف ہے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجاتی اس کے سامنے طواف کعبہ کرتے ہوئے بس ایک ہی صدا تھی
میں حاضر ہوں
اے اللہ میں حاضر ہوں“ انہوں نے اسی کھوۓ انداز میں جواب دیا
وہ لمحہ بھر کو رکیں
آبیہہ ابھی بھی انکی گودی میں منہ چھپائے پڑی تھی
زویا ۔۔۔ ابھی بھی انھیں پوری توجہ سے سن رہی تھی
”کعبہ کے سامنے بیٹھے اللہ پاک سے کہا رب جی میری بیٹی آپکو بہت یاد کرتی ہے بہت روتی ہے آپ سے ملنے کے لیے بےقرار ہے جب اسکے دل میں محبت کا احساس بھر دیا ہے اسکے اندر اپنے ملنے کی تڑپ ڈال دی ہے تو اسے بھی اپنے در پہ بلا لیں۔۔“
ان دونوں کے لیے آنکھوں میں موجود سمندر کو روک پانا بہت مشکل تھا
زویا اٹھ کر چلئ آئی
اور آبیہہ گود میں سر رکھے شدت سے رونے لگی
لیکن وہ جانتی تھیں کوئی تسلی اسے چپ نہیں کرواسکتی اسلیے وہ رات دیر تک روتی رہی خاموش ہونے پر خود ہی اٹھ کر اپنے کمرے میں آگئی
کمرے کی لائٹس آف تھی بس سائیڈ لیمپ ہی آن تھا
جائے نماز بچھائے نماز ادا کرکے بکھرے دل کے ساتھ رب کے حضور بیٹھ گئی
”میرے مولا ۔۔۔ میرے مولا۔!!“
وہ زاروقطار رو رہی تھی
” میرے مولا “
سنیں نا میرا دل ٹوٹ رہا ہے
دیکھیں نا میری ذات بکھر رہی ہے
کیا کروں
*مجھ سے نہیں رہا جاتا اب آپکے بغیر*
زویا سب دیکھ رہی تھی اسے لگ رہا تھا آبیہہ کے آنسوں اسکی آنسوں سے بہہ رہے ہیں
مجھے تو پہلے کبھی ایسا محسوس نہیں ہوا پھر اب ایسا کیوں۔؟ وہ اضطراب میں تھی
میرا دل نہیں لگتا اس انجان دنیا میں مجھے آپکی بن کے آپکے پاس آپکے سامنے رہنا ہے
میرے مولا امی بتا رہی تھیں اور مجھے لگ رہا تھا میں طواف کررہی ہوں میں غلاف کعبہ کو چھورہی ہوں
دل کی دھڑکن بے ترتیب ہے،
ایسا محبوب،جو دوست بھی ہے۔مگر اسکا رعب بھی ہے ساری زندگی جسے دوست مان کر،حقیقی خیر خواہ مان کر سب کچھ بتایا ہو جس کے سامنے رو کر دل کا بوجھ ہلکا کیا ہو جس سے ساری راز کی باتیں ہو جایا کرتی ہیں اسکے سامنے ہونا کیسا ہوتا ہے؟؟
مجھے محسوس کرنا ہے وہاں۔۔!!
اذیت کے ساتھ ساتھ سکون بھی ہے
مجھے بھی بلا لیں نا اپنے در پہ میرا دل تڑپ جاتا ہے جب کوئی آپکے در پہ جاتا ہے
یہ رات ان دونوں کے لیے کرب سے بھری اذیت ناک رات تھی
پتہ نہیں میرا انتظار کب ختم ہوگا ۔؟
میم سامیہ کہتی ہیں تم اپنی محبت پہ قائم رہو وہ رب تمہیں اپنے در پہ بلا کر اپنی محبت کا ثبوت دے گا۔۔
میں انتظار کروں گی بس
” مجھے اپنے ساتھ جوڑے رکھنا “
اللہ جی ” مجھے بھی بس اپنے ساتھ جوڑے رکھنا” زویا کے دل نے بھی دعا کی
سجدے میں گر کر اس رب کو شدت سے پکارا تھا
اسکے دل کو ڈھیڑوں سکون ملا ۔۔۔
جائے نماز کو تہہ لگا کر وہ قرآن پاک لیے اپنے رب کی باتیں سننے بیٹھ گئی
دور صبح کی بکھرتی کرنوں نے جیسے تاریک رات کے بعد اجالے اور خوشی کا پیغام دیا تھا
۔۔۔۔۔
”آپ سمجھائیں نا اسے ۔؟ یہ کیوں ضد کررہا ہے۔؟“ انیلہ بیگم روہانسی ہوئی
”بیگم سمجھانے سے کیا ہوگا مسئلہ اس کے کام کا ہے اور وہ کہہ تو رہا ہے کہ پروجیکٹ ختم ہوتے ہی وہ واپس آجائے گا“
”ماما اگر آپکو اپنی ہونے والی بہو کی فکر ہے کہ وہ کیا سوچے گی ؟؟
تو آپ بےفکر رہیں وہ میرے ساتھ نہیں جائے گی“ اجتاب نے بہترین حل دیا
”ہاں پھر تو ٹھیک ہے وہ بیچاری خومخواہ ہی تمہارے ساتھ جاکے بور ہوتی“
انیلہ بیگم کو سکون کی سانس آئی
۔۔۔۔۔
جائے نماز تہہ لگاتے ہوئے وہ زویا کو دیکھ رہی تھی
جو کبھی لیمپ آن کرتی تو کبھی آف ،،
اور یہی بات اسے الجھا رہی تھی
”زویا کیا ہوا ہے۔؟“ وہ اسکے پاس جاکر بیٹھی
”آبیہہ ،،مجھے نماز پڑھتے ہوئے ایک عرصہ ہوگیا ہے
شروع شروع میں میرا نماز میں دل نہیں تھا لگتا
اور پھر بعد میں آہستہ آہستہ میری نماز بہتر اور پرسکون ہوگئی تھی
اب جب نماز کی عادت ہوچکی ہے کچھ دنوں سے میری نمازیں پھر ڈسٹرب ہورہی ہیں“ اشک ٹوٹ کر گرے تھے
”پتہ نہیں توجہ ہٹ جاتی ہے ایسے بےچینی محسوس ہوتی ہے“
آبیہہ اسے سن رہی تھی
”میں کیا کروں۔؟ پلیز بتاٶ نا“ اس نے التجائیہ نظروں سے اسے دیکھا
”تم نے باقاعدگی سے نماز کس کے کہنے پہ شروع کی تھی۔؟“
”تمہارے کہنے پہ ،“ …..”تم نے میرے کہنے پہ نماز شروع کی تمہیں اسی لیے سکون نہیں مل رہا
نماز دل سے اللہ کے لیے پڑھو سکون مل جائے گا“
”یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا
میں اب ایسے ہی کروں گی“ زویا سمجھ گئی
۔۔۔۔۔
پیپرز ہوگئے تھے اور اب اختر صاحب کے لوٹنے کے بعد شادی کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھی
گھر میں کوئی بھی آبیہہ کو کسی کام کو ہاتھ تک نہ لگانے دیتا تھا
آج بھی وہ سارے ہال میں بیٹھے شادی میں لڑکے والوں کو دئیے جانے والے کپڑوں کو پیک کررنے کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھے
”اب تو تم آبیہہ ……….. اجتاب بن جاٶ گی“ زویا نے فقرہ لمبا کھینچا
وہ جو گھٹنوں میں منہ دئے بیٹھی تھی اسکی بات پہ چونکی
ذہن میں جھماکا سا ہوا
اس نے کیا کہا ”اجتاب “ (زویا نے تو اجتاب کا نام لیا کہیں اسے اس لڑکے کے بارے میں پتہ تو نہیں چل گیا “)
”آبیہہ تم سن رہی ہو ۔؟“ زویا نے دیکھا کہ وہ کہیں کھوئی سی ہے
وہ اٹھی اور زویا کے پاس جاکر بیٹھ گئی
”سنو یہ اجتاب کون ہے۔؟ اور پلیز آہستہ آواز میں بتانا “اس نے دبی آواز میں پوچھا
”اجتاب تمہارے ہونے والے میاں جی“ زویا نے پورے بتیس دانت دکھائے
”بتیسی بند کرو اپنی“ اسے چڑ ہوئی
(” یہ لڑکی کسی دن میرے ہاتھوں مرے گی “)
”ویسے لاپرواہی کی حد ہوتی ہے تمہیں اپنے ہونے والے شوہر کا نام تک نہیں پتہ “زویا نے اسے زور سے ڈپٹا
”مطلب وہ اجتاب تھے حسن انکل کے بیٹے ،،
لیکن ………. ایک ہی نام کے دو انسان بھی تو ہو سکتے ہیں ذہن نے وضاحت دی
وہ حسن انکل کا بیٹا ….. بھی تو ہوسکتا ہے نا “دل زوروں سے دھڑکا تھا
وہ اپنی سوچوں میں الجھی تھی
اٹھی اور موبائل لیے کمرے میں آگئی
بلاک لسٹ سے نمبر ڈھونڈا ….. ان بلاک کیا اور بنا کچھ سوچے سمجھے کال ملادی
بےچینی اتنی تھی کہ ہاتھ تک کانپ رہے تھے
پہلے بیل پہ ہی کال رسیو کرلی گئی
”زہے نصیب آج ہماری یاد کیسے۔؟“ خوبصورت آواز ابھری تھی
”اففف اللہ دیکھو ذرا….. یہ لڑکا پھر شروع ہوگیا“ ذہن نے پھر مخالفت کی
”کیا آپ اپنا پورا نام بتا سکتے ہیں۔۔؟؟“ بالآخر اس نے پوچھ لیا
”جی محترمہ !!
میرا نام اجتاب …. حسن ہے میں حسن درانی کا بیٹا ہوں امی کا نام انیلہ ہے میری دو بہنیں،،“ وہ رکا
بس یہ سننے کی دیر تھی کہ وہ کھکھلاکر ہنس پڑی
”کیا ہوا ۔؟ “وہ حیران تھا
”ویسے آپکی تو کچھ دنوں میں شادی ہے نا “
”جی شادی ہے اسی لیے آپ سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا اب میں اپنی شادی کو لے کر بہت سنجیدہ ہوں“
”ہمممم۔۔۔ اچھی بات ہے“ اسے ٹوٹ کر اس پہ پیار آیا
”ویسے کیا آپکو میرا نام معلوم ہے۔؟ “
”نہیں نام تو نہیں پتہ کیونکہ. …… آپ نے کبھی بتایا ہی نہیں “ اس نے معصومیت سے جواب دیا
”اچھا کیا آپکو اپنی ہونے والی بیوی کا نام معلوم ہے۔؟“ وہ سوال پہ سوال کیے جارہی تھی اور وہ بھی حوصلے سے جواب دے رہا تھا
Episode 12
ماما سے ایک دو فعہ سنا تھا لیکن اب مجھے یاد نہیں آرہا“ وہ سوچتے ہوئے بول رہا تھا
آبیہہ اپنی ہنسی دبائے اسکی بات سن رہی تھی
”مجھے اپنی شادی پہ انوائیٹ نہیں کریں گے“
”مجھے پتہ ہے آپ نہیں آئیں گی۔۔!! “لہجے میں بےرخی تھی
”اگر آپ بلائیں گے تو ضرور آٶں گی“
”چلیں پھر میں آپکا منتظر ہوں گا“
”کیا ہم دوست بن سکتے ہیں ۔؟“اجتاب کے لہجے میں خلوص تھا
”آپ کتنے بےصبرے ہیں“ اسے کوفت ہوئی
”اللہ خافظ اجتاب صاحب“ ایک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے یہ الفاظ ادا کیے
“اپنا نام تو بتادیں؟؟ “
”اس بات کا جواب آپکی شادی پہ آپکے روبرو ہوکر ملیں گا
انتظار کیجئیے گا“
کال کاٹ دی گئی
اسے لگا تھا زمانے بھر کی ساری خوشیاں رب کریم نے اسکی جھولی میں ڈال دی ہوں
”اللہ جی میں کیا کہوں. …… ایک ایسے انسان کا ساتھ میرے لیے لکھ دیا گیا ہے جو مجھ سے بہت محبت کرتا ہے“
آنسو فرطِ جزبات سے بہہ نکلے
”اللہ جی میں آپکے کیے گئے ہر فیصلے پہ مطمئن ہوں اور ہر راستے پہ آپکے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہوں
کیونکہ میرے لیے آپ کافی ہیں
شکریہ ہر اس کام کے لیے اور ہر بات کے لیے“
اس قدر ٹوٹ کر اسے اللہ پہ پیار آرہا تھا
سجدہ شکر ادا کرنا لازمی تھا
وہ دو نوافل ادا کرنے کی غرض سے وضو کرنے چلی گئی
۔۔۔۔۔
”پتہ نہیں آپ سے بات کرکے مجھے سکون ملتا ہے بہت اچھا بھی لگتا ہے “وہ ابھی تک موبائل کو دیکھ رہا تھا
”اللہ جی ایسا کیا ہے اس لڑکی میں ۔؟ “نگاہیں آسمان کی طرف بلند ہوئی
”مجھے صبر دینے کے لیے آپکا بہت شکریہ“ لہجے میں تشکر تھا
۔۔۔۔
صبح کے گیارہ بج چکے تھے آج کیفے میں خاصا رش نہیں تھا
احسن (زویا کا بھائی) بڑے مزے سے کافی میں چمچ گھما رہا تھا
اسے سامنے بیٹھے شہیر کی حالت پہ ترس کے ساتھ ساتھ ہنسی بھی آرہی تھی
کیونکہ آبیہہ اسکی کلاس جو لے رہی تھی
”شہیر مجھے تم سے اس بات کی امید بالکل نہیں تھی “آبیہہ کے لہجے میں افسردگی تھی
”میں مانتی ہوں تم اپنی جگہ مجبور تھے لیکن تمہیں بعد میں زویا سے بات کرلینی چاہیے تھی
تمہیں ذرا بھی خیال ہے تمہارے اس عمل سے زویا پہ کیا گزری
تم تو اسے جانتے ہو پھر بھی ایسا کیا “
”آبیہہ امی نے کبھی مجھ سے کوئی خواہش نہیں کی
میں انکا کہا ٹال نہیں سکا “
”پھر اب کیا مسئلہ ہے ۔؟ “آبیہہ پھٹ پڑنے والے انداز میں بولی
”خالہ نے اپنی بیٹی کا رشتہ کہیں اور کردیا ہے“ سر جھکا تھا
”میرے میں ہمت ہی نہیں ہوئی کہ زویا سے کوئی بات کرسکوں“
”بات کرنے کا سوچنا بھی نا کیونکہ وہ تو تمہارا منہ ضرور توڑے گی لیکن میں تمہارا سر بھی پھاڑ دوں گی“
شہیر نے ایک نظر احسن کو دیکھا
جوکہ پہلے ہی ہاتھ دکھا کر اس معاملے سے فرار حاصل کرچکا تھا
”آبیہہ تم میری بہن ہو تم تو مجھے سمجھو نا پلیز“
”اگر تم میرے بھائی ہو تو زویا میری جان ہے اور میں یہ کبھی نہیں چاہوں گی کہ اسے کوئی ہرٹ کرے خواہ وہ میرا بھائی ہی کیوں نا ہو۔!!
ویسے اچھا ہی کیا کہ تم نے اس سے کوئی بات نہیں کی کیونکہ اب وہ تمہیں بہت پیچھے چھوڑ چکی ہے “
آبیہہ کے لہجے میں مسرت تھی
شہیر،،، تمہاری زویا بہت بدل گئی ہیں
”لیکن اب جب سب ٹھیک ہوگیا ہے تو،،“ وہ پل بھر کو رکی
شہیر اور احسن دونوں اسے دیکھنے لگ گئے
”تو کیا ۔؟ “دونوں بیک وقت بولے
” تو تم زویا کے گھر خود پروپوزل لے کے جاٶ اب وہ تمہیں کبھی بھی انکار نہیں کرے گی“
”سچ کہہ رہی ہو۔!!“ لہجے میں مان تھا
”انسان کو اپنے رب سے کبھی بھی ناامید نہیں ہونا چاہیے کیونکہ دکھ اور تکلیف میں بھی ہمارے لیے خیر ہوتی ہے
اسکے چہرے پہ خوشی کے تاثرات نے جگہ لے لی تھی
_______
آبیہہ کے ساتھ ساتھ زویا کی بھی شادی طے پاگئی
اور وہ دونوں اپنے رب کے اس فیصلے سے بہت خوش اور مطمئن تھی
شادی کا فنکشن ایک ہی ہال میں تھا
سہرا باندھ کر وہ دونوں اپنی محبت کو حلال …. اور اپنا محرم بنانے آئے تھے
شہیر نے چاکلیٹ کلر ،، اور اجتاب نے میرون کلر کی شیروانی پہنی تھی
((دونوں درازقد تھے اور دونوں کو ہی حسن کے معاملے میں نوازا گیا تھا))
اجتاب نے کٹ دار شیو کروائی تھی گال میں پڑتا گہرا ڈمپل آج مزید گہرا لگ رہا تھا
جبکہ… اسکی کی آنکھیں…. آبیہہ کو ڈھونڈ رہی تھی
مولوی صاحب نے بہت پرسکون انداز میں نکاح کے الفاظ ادا کیے
اسکا دل بےقرار تھا،، (کاش وہ ایک دفعہ اسے دیکھ لیتا)
”وہ آئی کیوں نہیں اس نے کہا تھا وہ آئے گی ۔“
ذہن میں اٹھے سارے خیالات کو جھٹک کر
اس نے نکاح کی طتف توجہ کی
اور نکاح نامے پہ دستخط کردئیے
سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے
ہال مبارکباد کی آوازوں سے گونج رہا تھا
اب نسیم بیگم… نجمہ بیگم کو مبارکباد دے رہی تھیں
وہ دونوں برائڈل روم میں ہی موجود تھی
”ایسے لگ رہا ہے کائنات کا سارا حسن میری بیٹیوں کے چہروں پہ آگیا ہے“ انیلہ بیگم نے دونوں کی نظر اتاری
دونوں نے خوبخو ایک جیسا سرخ رنگ کا جوڑا پہنا تھا اور جیولری بھی ایک ہی ڈیزائن کی تھی
نکاح کے بعد روم میں بیٹھے زویا …… تسلی سے مزے لے کر کھانا کھارہی تھی اور آبیہہ اسکی ایسی حالت دیکھ کر صدمے میں تھی
”لڑکی کچھ شرم کرو ساری زندگی کا تم نے ابھی کھا جانا ہے کیا۔؟؟“ آبیہہ بھی کہے بغیر نا رہ سکی
”پہلی بات یہ کہ وہ نا ……… کل میں نے کپڑوں کے ساتھ شرم بھی دھوئی تھی وہ ابھی تک سوکھی نہیں ہے
اسی لیے وہ میرے پاس نہیں ہے اور دوسری بات بعد میں بتاوں گی“ اور دوبارہ سے کھانے میں جت گئی
”بہت ڈھیٹ دوست ہے میری ،،“ اس نے خفت سے سوچا
آبیہہ کے حلق سے تو ایک نوالا تک نا اترا
کھانا ختم کرنے کے بعد اب وہ سب سے خوش گپیوں میں مصروف ہوگئی،، اللہ پوچھے اس لڑکی کو پتہ نہیں کیسے کرلیتی ہے یہ سب۔۔؟؟
آبیہہ کی سانسیں پھولی ہوئی تھی
جنوری کا اختتام تھا اور پھر بھی اتنی سردی میں اسے پسینہ آرہا تھا
”میں اسکا سامنا کیسے کروں گی۔؟“ وہ تو یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہورہی تھی
”تب تو بڑی بن کے کہا تھا کہ روبرو ہوکر کہوں گی“ پھر بھی،، اسکے دماغ اور دل کے درمیان بحث چل رہی تھی
” یار تم پہلے بھی تو اس سے ملی ہو نہیں کھا جانے لگا،،“ دل نے تسلی دی
لیکن اسکی بےقراری ویسی کی ویسی ہی تھی
”قبول ہے“نکاح کے ان الفاظ میں الگ ہی چاہت تھی
یہی وہ الفاظ ہیں جو دو دلوں کو ایک خوبصورت اور اٹوٹ بندھن میں جوڑ دیتے اور دلوں کو ایک دوسرے کی محبت سے بھردیتے
”اب تم آبیہہ اجتاب بن گئی ہو“ دل جیسے کسی خوشی کے آغوش میں آیا تھا
ہال برقی قمقموں سے سجا تھا راہداری کے اطراف میں لگی ٹمٹماتی روشنیاں ہال کو مزید مزین کرہی تھی
(ان دونوں کی نگاہیں راہداری پہ مرکوز تھی)
ہال میں سہل قدموں سے چلتی ہوئی وہ خوبصورت پریاں… جو کسی اور دنیا کی لگ رہی تھی ان دونوں کے چہرے گھونگھٹ سے ڈھکے تھے جسکی وجہ سے انھیں دیکھ پانا مشکل تھا
لیکن آبیہہ کی جھکی آنکھیں …..انھیں وہ دیکھ چکا تھا
ان آنکھوں کو تو وہ پہچانتا تھا جھیل سی گہری آنکھیں، ،،وہ الجھا انھی آنکھوں سے ہی تو اسے محبت تھی یہ میں کیا سوچ رہا ہوں ؟؟
یہ وہی ہے،، دل نے اقرار کرنے میں ایک پل نا لگایا
یہ میرا وہم ہے اور کچھ نہیں وہ ایسے کیسے۔؟؟ نہیں یار ایسا نہیں ہوسکتا اسس نے خود ہی جواز ڈھونڈا
بالآخر وہ دونوں انکے مقابل کھڑی تھی
نسیم بیگم نے آگے بڑھ کر گھونگھٹ ہٹا دیا
شہیر تو خوشی کے مارے پھولے نا سما رہا تھا اس کی ہر سانس رب کا شکر ادا کررہی تھی کہ آج زویا اسکے ساتھ تھی
زویا اپنی البم کے لیے فوٹوگرافر سے تصویریں بنوا رہی تھی
وہ دونوں ایک دوسرے کے بہت پاس کھڑے تھے لیکن دونوں کے رخ سامنے کی طرف تھا
آبیہہ نے اجتاب کا ہاتھ پکڑا کہ اجتاب اسکی طرف دیکھ سکے وہ لمس محبت بھرا تھا چاہت بھرا ،، وہ چاہت جو اس نکاح نے ان دونوں کے دلوں میں ڈال دی تھی
لیکن اجتاب نے کچھ بھی ری ایکٹ نا کیا وہ بس سامنے سے آتے دوستوں کو دیکھنے میں مصروف تھا
”کتنے اکڑو ہیں ؟؟ میری طرف دیکھا بھی نہیں اور میں یہاں اپنی جان کو عذاب میں لیے بیٹھی ہوں“
خود ہی نام جاننے کا شوق تھا اب مجھے بھی نہیں بتانا
میں نہیں مرنے لگی تمہارے بغیر اس نے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی لیکن بےسود،،
۔۔۔۔۔۔
کمرے میں صرف سائیڈ لیمپس جل رہے تھے
بیڈ کے وسط میں وہ خاموش بیٹھی تھی جس کے چہرے پہ نیند کے ساتھ ساتھ تھکن کے واضح آثار تھے
پریشانی قدرے کم تھی اب اسے مسلسل جمائیاں آرہی تھی
دروازہ پہ آہٹ ہوئی اور اسی آہٹ کو سن کر وہ سیدھی ہوکر بیٹھ گئی
وہ دروازہ کھول کر اندر آگیا
”اسلام علیکم !!“ وہ اسکی طرف بڑھنے کی بجائے وارڈراب کی طرف چلا گیا
صرف تین الفاظ کیا یہ کافی تھے۔؟ دل نے سوال کیا
وہ وارڈراب میں سے سوٹ نکال رہا تھا اس نے غور کیا کہ
جھکے سر نے کوئی جواب نہیں دیا
”آپ ٹھیک ہیں ۔؟“ اسے فکر ہوئی
اب بھی مکمل خاموشی تھی
عجیب شخص ہے پہلے تو بڑے محبت کے دعوے کرتا تھا اور اب حرکتیں تو دیکھو اسکا دل بری طرح روندا گیا تھا
”مجھے جانا ہوگا وہ دراصل کچھ دوست آئیں ہیں بس وہی ضد کررہے امید ہے آپ برا نہیں مانیں گی“
”اسے میری فکر نہیں ابھی بھی دوستوں کی پڑی ہے
میں کیا اسکے فرشتوں کے انتظار میں ہلکان ہورہی تھی“
”تو میں جاسکتا ہوں نا “
بتارہا تھا یا اجازت مانگ رہا تھا وہ خود سمجھنے سے قاصر تھی اس سے ضبط مشکل ہوگیا
کمرے میں سسکیوں کی آواز ابھری
ماضی ذہن کے اوراق پہ بکھرا تھا
اس رات والی سسکیاں جو اس نے ہاسپٹل میں سنی تھی
ویسا ہی درد تھا کسی اپنے کو کھونے کا درد لیکن یہ آواز ۔؟
اسکے وجود کے ساتھ ساتھ اسکی روح بھی لرز گئی
آبیہہ نے دوپٹہ ڈھیلا کیا اٹھی اور بھاگتے ہوئے اجتاب کے پیچھے جاکر کھڑی ہوگئی
آئینے میں نظر آتا اسکا عکس اس کے وجود کو زیر کر گیا
اس کی دھڑکنیں رک چکی تھی وہ ابھی بھی منجمند کھڑا اسے دیکھ رہا تھا
”آئی ایم سوری ، اجتاب رئیلی سوری ، پلیز“
“پلیز ……… میں بتانا چاہتی تھی سب”
وہ مڑا اور اسکے لبوں پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا کہ وہ اسے صفائی دینے سے روک رہا تھا
اس خواب سے زیادہ اسے یہ آنسو پریشان کررہے تھے
آپ رو کیوں رہیں ہیں۔۔؟؟ وہ بوکھلایا
اس نے ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی نگاہوں کے ہالے میں لیا
اس کے دل نے شدت سے اس خواب کو حقیقت بنانا چاہا تھا
اجتاب نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گالوں کو چھوا جہاں آنسو شدت سے بہہ رہے تھے
حیا کی لالی گالوں پہ بکھر سی گئی تھی اور نظریں جھک گئی
”آپ رو کیوں رہی ہیں ۔؟“ اس نے دوبارہ پوچھا
اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا،،
وہ اسکے روبرو تھا بہت پاس ……. کہ اسکی آنکھوں میں جھانک کر اسکے دل میں اتر جائے
لیکن وہاں تو جھکی پلکوں نے دل میں اترنے والا ہر راستہ بند کررکھا تھا
آنسوؤں میں پہلے سے بھی زیادہ شدت تھی وہ اسکے سامنے لمحہہ بہ لمحہ کمزور پڑ رہی تھی
یار اب بس بھی کرو…… دیکھو کیا حال بنالیا ہے
تمہیں اپنے اس غریب شوہر پہ ترس نہیں آتا کیا۔۔؟؟ وہ بڑی طرح کراہا
وہ جو سر جھکائے رورہی تھی غریب شوہر کا سن کر ہنس دی
نہیں بالکل نہیں آتا۔۔ بھیگی پلکیں اٹھی!!
”محترمہ …… آپ نے بتایا نہیں آپکا نام کیا ہے۔؟ “اس نے اسکا ہاتھ تھاما
”میرے میاں سے پوچھ لیجیئے گا میں لوگوں سے زیادہ باتیں نہیں کرتی“ اس نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سرعت سے کہا
”آپ جانتی تھیں نا کہ میری شادی آپ ہی سے ہورہی ہے پھر میرے ساتھ ایسا کیوں۔؟“
”اور آپ چاہتے ہیں کہ میں آپکو وضاحت دوں “گہری آنکھیں گویا ہوئی
”آپ کچھ بھی کہہ لیں اب تو سارے حق ہیں میرے پاس“
اجتاب نے آگے بڑھ کے اسے خود سے لگالیا
کلون کی اٹھتی خوشبو اسکی سانسوں میں گھل رہی تھی
اسکے بازووں کے حصار میں اس نے ہر چاہت محسوس کی تھی ،، محبت کی ،، وفا کی ،، عنایت کی،،
“آبیہہ اجتاب” دونوں نے بیک وقت دہرایا اور یہی لمحہ انھیں سب سے زیادہ خاص لگا تھا
دل نے شدت سے آرزو کی کہ یہ وقت تھم جائے
”آپ جارہے ہیں کیا۔؟“ نم آواز گونجی
”جانا تو لازمی ہے“ اس نے افسردگی سے سر اثبات میں ہلایا
اس کے سینے میں منہ چھپائے دل کیا کہ وہ رو دے لیکن اب اسے کمزور نہیں پڑنا تھا
”ٹھیک ہے آپ جائیں مجھے کپڑے چینج کرنے ہیں“ لہجے میں ناراضگی تھی
وہ اس سے علیحدہ ہوگئی اور واش روم کی طرف بڑھنے لگی تھی کہ اس نے ہاتھ تھام لیا
سنو۔۔!!
جن آنکھوں نے آج تمہیں اتنا ڈھونڈا ہے ……. بےقرار رہیں ہیں۔۔!! انکو سراہنے دو ….. اقرار کرنے دو …. !!
میں کوئی معزرت نہیں کرنے والی ،، وہ ہنس دی
” اونہوں ……. مجھے دیکھ تو لینے دیں ذرا کہ آج آپ کیسی لگ رہی ہیں۔؟“
”رہنے دیں آپکے لیے آپکے دوست امپورٹنٹ ہیں“ لہجہ دو ٹوک تھا
”اچھا سن لیں نا،،“
تیرا وہ لمس ، وہ آنکھوں کی عجب شوخی
تو جو مسکرائے تو مسکراتی ہے یہ دنیا ساری
تجھ سے الفت ہے محبت ہے چاہت ہے
تجھ میں ہی تو بسی ہے میری دنیا ساری
تو ہی چاہیے فقط تو ہی چاہیے نا مجھے
کیا کروں گا۔۔؟ میں لےکے یہ دنیا ساری
گال میں پڑتا ڈمپل مزید گہرا ہوا
چہرے پہ زمانے بھر کی مسرت بھر آئی
”یہ بزنس میں شاعر کب سے بن گئے ہیں “ چاہت سے کہا
”جب سے انھیں کسی سے محبت ہوئی ہے “
”اچھا کس سے۔؟“
”بس ہے کوئی پاگل سی خاموش سی پیاری سی!! “
”بتائیں نا کون۔؟“ وہ جانتی تھی وہ اسی کا نام لے گا اور اسی لیے جاننے کے لیے بےتاب تھی
”وہ جس کو دیکھتا ہوں تو زندگی محسوس ہوتی ہے
ایک خوشگوار احساس جو کہ ایک پل کے لیے مجھ سے جدا نہیں ہوتا
کہ جس سے مجھے محبت ہے
جسکا ہونا میرے ہونے کی علامت ہے
جسکی خوشیوں کے لیے میں رب کے آگے جھکتا ہوں
جو میرے وجود کے ساتھ میری دعاوں میں بھی شامل ہے
اور جو اب میری ہمسفر بن چکی ہے“
اس نے اسکا ہاتھ تھاما
”جو اب میری دسترس میں ہے جس پہ اور جس سے محبت کرنے کا اختیار خود اللہ پاک نے مجھے دیا ہے“
جھکی پلکیں جیسے فرط جزبات سے چمکنے لگی تھی
وہ خاموش ہوا لیکن آنکھیں ابھی بھی اسکے چہرے پہ مرکوز تھی
اور آج پہلی دفعہ آبیہہ کو خاموشی اتنی بری لگی تھی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *