Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10

”زویا ،، تمہارا فون کب سے بجے جا رہا ہے ۔؟ لو دیکھو ذرا کس کی کال ہے“ امی نے موبائل زویا کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا
سکرین پہ جگمگاتے نمبر نے اسکے لبوں پہ مسرت بکھیر دی
وہ ناچاہتے ہوئے بھی آبیہہ کی کال اگنور نا کرپائی اور موبائل لیے بالکونی میں آگئی
”کیسی ہو ڈئیر۔؟“ آبیہہ کی آواز گونجی
”میں ٹھیک ہوں، تم سناٶ۔؟؟“ لہجہ تھکا ہوا تھا
”حال بعد میں سناوں گی پہلے یہ بتاٶ کدھر تھی تم۔؟
تمہیں ذرا احساس نہیں میرا۔!!
اتنے دن ….زویا،، نہ کوئی میسج ….نہ کوئی کال
میں نے کئی بار کال کی لیکن زیادہ تر نمبر بند ہوتا تھا“
وہ اس پہ برس پڑی
ہن۔۔۔۔ ویسے بھی آپ تو عظیم لوگ ہیں نا ،، کیا فرق پڑتا ہے ۔؟؟ کسی سے بات کریں یا نا۔۔؟؟
وہ رکی
” زویا …….کوئی ایسے کرتا ہے کیا۔؟“ اب کے اسکی آواز میں درد تھا جو زویا نے لمحہ بھر میں محسوس کرلیا
”اچھا کیا کرتا ہے۔۔؟“ سوال کے بدلے سوال تھا
”تم جانتی ہو تم میرے لیے کیا ہو۔؟ تب بھی تم نے مجھے یوں تنہا چھوڑ دیا۔!!“ ایک اور گلہ تھا
”آبی راستے میں ملنے والے راستے میں ہی چھوڑ جاتے ہیں انسان کو اپنا ظرف بڑا کرنا چاہیے
کہ کسی کے جانے سے اسکی ذات پہ کوئی اثر نہ پڑے“زویا نے اسے سمجھایا
”بکواس بند کرو زویا،، اگر ابھی تم میرے سامنے ہوتی نا تو میں تمہارا منہ توڑ دیتی “
دوسری جانب مکمل خاموشی ہوگئی
جسے آبیہہ کو ہی توڑنا پڑا
”زویا کیا ہوا۔؟؟“وہ جانتی تھی کہ زویا کے اس لہجے کے پیچھے کوئی بات ضرور ہے
موبائل میں سسکیوں کی آواز ابھری
”زویا ،، میری جان……. کیا ہوا ہے۔؟ دیکھو تم مجھے تنگ نہ کرو پلیز“ بتا اب۔۔؟؟؟ پلیز۔۔!!
لیکن ….. سوائے درد بھری آہوں کے کوئی جواب نہ تھا
اتنے عرصے کا ضبط آج وہ کھو بیٹھی تھی
”انسان ہمیشہ ان سہاروں کا منتظر رہتا ہے جو اسکا درد کم کرسکتے ہوں اور جب وہ سہارے اسکے پاس ہوں اسکا درد بانٹنے کے لیے ، اسکے ہمراز بننے کے لیے تب وہ اپنا بوجھ ہلکا کرسکتا ہے انکے سامنے کھل کے سکون سے رو سکتا ہے“
”زویا،، “اس نے پھر پکارا
زویا سے خود کو سنبھالنا مشکل تھا اس نے کال کاٹ دی
اللہ جی کیا ہوا ہے زویا کو ۔۔؟؟ وہ کیون اتنا رو رہی تھی
زویا ….. میری زویا تو ہمت ہارنے والی نہیں ہے
آنسوں موبائل کی سکرین پہ جاگرے
دیوار سے ٹیک لگائے وہ آسمان کے اس پار موجود آسمان والے کو ڈھونڈنے لگی یہ سوچ کر کہ شاید اسے اسکے حال پہ رحم آجائے
لیکن وہاں کوئی ہلچل نہ تھی جیسے کسی کو اسکے درد سے فرق ہی نہ پڑتا ہو
سوالیہ نگاہیں …… (میرے ساتھ ہی ایسا کیوں۔۔؟؟ ) آسمان پہ ہی جمی رہیں جیسے وہ صبر کی آخری حد آزمانہ چاہتی ہو
چاند ساری رات آج پھر اسکے درد میں شریک رہا۔!!
۔۔۔۔
صبح کی ہلکی دھند اور ٹھنڈی ہوا نے موسم کو پرمسرت بنادیا تھا
کالی گھٹا ہر سو پھیلی تھی
سردی ہمیشہ سے ہی اسکی پسندیدہ تھی
لیکن آج وہ ان سب کو نظر انداز کیے سڑک کے کنارے عجلت سے چل رہی تھی
چہرے کے گرد خوبصورتی سے کیے گئے حجاب میں وہ بہت پرسکون لگ رہی تھی
ایک بلیک کلر کی کار اسکے پاس آکر رکی
لیکن اس نے چلنا جاری رکھا
”سنیے،، رکیے ذرا،، “وہ گاڑی سے اترا اور اسکو پکارنے لگ گیا
وہ پہچان گئی تھی، ہاں وہ وہی تھا اسکی جان بچانے والا ،، اسکا خیر خواہ ۔۔!! وہ رک گئی اور اسکی طرف مڑی
اسکا سانس پھول چکا تھا تبھی وہ رک کر تیز تیز سانس لینے لگ گیا
”مجھے آپ سے بات کرنی ہے وہ بھی بہت ضروری!!
اس نے پھولے سانسوں کے درمیان کہا
”ابھی تو ممکن نہیں ……… کیونکہ میں قرآن کلاس کیلئے پہلے ہی بہت لیٹ ہوچکی ہوں“
”آپ واپس کب آئیں گی ؟؟“
”تقریبا چھ بجے اور تب بھی ملنا ممکن نہیں ہوگا “اس نے معذرت کی
”اچھا پھر کل 4 بجے….. یہاں پاا میں ایک کیفے ہے وہیں؟؟،، “وہ اجازت کا منتظر تھا
”اچھا ٹھیک ہے“ میں کوشش کروں گی
وہ خداخافظ کہہ کر چلی گئی
”کیا جانا ضروری تھا۔۔؟؟“
وہ وہی اسکا منتظر رہا نظریں اسے دور جاتا دیکھ رہی تھی جن میں اداسی تھی
۔۔۔۔۔۔
وہ میم سامیہ کی باتیں پوری توجہ سے سن رہی تھی
”جانتی ہو وہ رب کب ملتا ہے۔؟
جب ہم لوگوں کے ہاتھوں ٹوٹتے ہیں ،رلائے جاتے ہیں
لوگوں کی اصلیت جاننے کے بعد
جو دکھ اور قرب ہمارے اوپر گزرتا ہے اسکو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہوجاتا ہے جیسے الفاظ حلق میں ہی رہ جائیں
جب ہمارے وجود کا ہر پہلو وحشت میں ہو
ہم بہت کچھ کہنا چاہتے ہوں کسی ہمدرد سے ہمراز سے اور پھر چاہ کر بھی نا کہہ پائیں“
(اسے وہ سیاہ رات یاد آئی وہ رات جس کے ہر پہلو میں تکلیف تھی آنسوں نے پھر برسنا شروع کردیا)
”جب جینے کی امید نظر نہ آرہی ہو
جیسے سمندر میں کوئی ڈوبتا ہوا مسافر !!
ایسے میں وہ رب ہمیں تنہا نہیں چھوڑتا
وہ ہماری خاموشی کو بھی سمجھ لینے والا ہمارا رب ہمیں اپنا ساتھ دیتا ہے ، اپنی محبت دیتا ہے
وہ ہمیں لوگوں کے آسروں پہ نہیں چھوڑتا
پھر ہم بکھرا وجود لیے اس در پہ حاضر ہوتے ہیں
پھر ہم سب ہی کہہ دیتے ہیں
اللہ جی دیکھئیے نا آپکی بندی کس قدر کمزور ہے۔؟؟
اللہ جی لوگوں نے مجھے توڑ دیا
ہم مدد مانگتے ہیں روتے بلکتے ہوئے
اس سے جو امید بھرے احساس کے ساتھ ہمارے اندر موجود ہوتا ہمیں ہمت دینے کے لیے
ہمارا خیرخواہ ہمارا رب۔!!
اور پھر جب ہم بھٹکے ہووں کو اس ذات کا در مل جاتا ہے پھر ہمیں فرق نہیں پڑتا
نور کے ہالے میں کہیں وہ رب ہم پہ مہربان ہوتا ہے
اور ہمارے لیے کافی ہوجاتا ہے۔!!
الحمداللہ اسکے ساتھ ہونے کا احساس بہت منفرد ہے ایک دفعہ محسوس کرلیا جائے دل سرشار ہوجاتا ہے۔۔!! “
سکون بھرا احساس اسکے وجود پہ اترا تھا
۔۔۔۔
دوپہر کا وقت تھا دھند بکھر چکی تھی
دروازہ کھولتے ہوئے آبیہہ کمرے میں چلی گئی
وہ بیڈ پر بیٹھے کچھ پڑھ رہی تھی اسکو آتا دیکھ کر مسکرائی
”کیسی ہو زویا۔۔؟؟“
”ہمیشہ کی طرح بالکل ٹھیک۔!!
تم سناو۔؟؟“ آبیہہ نے اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔۔
”اچھا سنو نا تھوڑا سا کام رہ گیا ہے تھوڑی دیر انتظار کرسکتی ہو کیا۔۔؟؟ “شاید وہ خود کو آبیہہ سے ملنے کے لیے نارمل کرنا چاہتی تھی
”کوئی بات نہیں کرلو میں ادھر ہی ہوں “آبیہہ نے نرم لہجے میں کہا۔۔ اسکی خاموش آنکھیں جیسے اپنے اندر کوئی گہرے راز لیے تھی
چہرے پہ بکھرے بال اسکو مزید پرکشش بنارہے تھے۔۔۔
”میری سانسیں جڑی ہیں اس سے کیسا عجیب رشتہ ہے نا یہ ،، اس سے ایک دن بات نہ ہوپائے تو لگتا ہے یہ دنیا ویران ہے۔۔؟؟
لیکن اسے میری کیا پرواہ۔۔؟؟“
وہ اپنی سوچوں میں کھوئے اسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی
”ایسا کیوں ہے کبھی کبھی تو اسکی آواز سننے کے لیے ترس جاتی ہوں میری ہر سانس اسکی خوشیوں کی دعا مانگتی ہے مجھے لگتا ہے مجھے اس سے بہت محبت ہے بہت زیادہ۔۔۔“ دل نے اقرار کیا تھا
”کاش میں اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھ سکوں
اللہ جی میں اس سے اتنی محبت کیوں کرتی ہوں۔؟“ وہ مسلسل الجھ رہی تھی۔۔
ہائے میری دوست ….میری جان …… میری زویا،،
”کیا دیکھ رہی ہو۔۔؟؟“ زویا نے نگاہوں کی حدت کو محسوس کیا تھا
”کچھ بھی تو نہیں،، تمہیں دیکھنا منع ہے کیا۔؟؟“
”ہاں منع ہے۔۔“ آبیہہ نے چڑاتے ہوئے کہا
اب وہ قدرے نارمل تھی
”اچھا بھلا وہ کیوں۔۔؟“ حرا کو تجسس ہوا
”مجھے اتنی محبت سے دیکھو گی تو پھر مجھے نظر لگ جائے گی“ زویا نے دانت دکھائے
”ہیں یہ کیا بات ہوئی بھلا میری نظر نہیں لگتی تمہیں
رہ جاٶ تم اتنی خوبصورت۔۔!!“ آبیہہ نے منہ موڑتے ہوئے کہا
”اچھا پھر آنکھوں میں اتنی تپش لے کے مجھے کیوں دیکھ رہی تھی؟؟“ زویا نے کام چھوڑ دیا
آبیہہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ اٹھی اور زویا کے گلے لگ گئی
”تم بہت بری ہوں بہت زیادہ ایسے بھی کوئی کرتا ہے۔؟“
تم جانتی ہوں میں تمہارے بنا نہیں رہ سکتی پھر کیوں کیا ایسے ۔۔؟؟“
اسکے بازووں کا حصار اس قدر سکون بخش تھا کہ اسے اپنا وجود ہلکا محسوس ہوا
خود سے علیحدہ کرتے ہوئے اس نے آبیہہ کے آنسوں پونچھے
”اب سیدھی طرح بتاٶ کہ کیا ہوا ہے میرا دل پہلے ہی بیٹھا جارہا ہے“ آبیہہ نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا
زویا نے ساری باتیں اسے کہہ سنائی
”ہوسکتا ہے شہیر کی کوئی مجبوری ہو وہ ایسے نہیں کرسکتا“ آبیہہ گویا ہوئی
”مجھے نہیں پتہ“ زویا نے بےتاثر لہجے میں کہا
وہ کتنی ہی دیر اسکے کندھے پہ سرٹکائے روتی رہی
اور آبیہہ …… اسکا دل کیا کہ کاش وہ اپنی دوست کا درد کم کرسکے اللہ جی …. پلیز سب ٹھیک کردیں نا
میں اسے ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتی،،
میرا دل کرتا ہے آبیہہ میں اللہ سے پوچھوں میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا۔؟ مجھے میر کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے۔؟؟
وہ جو مغموم سی بیٹھی اسکی باتیں سن رہی تھی یہ سن کر اسکی روح تک کانپ گئی
کیا مطلب تمہارا ؟؟
تمہارے کہنے کا مطلن ہے کہ یہ سب اللہ تعالی کی وجہ سے ہوا انہوں نے ایسا تمہارے ساتھ کیا۔؟
تو اور کیا۔۔!!زویا نے رسانیت سے جواب دیا
کیا اللہ نے یہ کہا تھا شہیر سے محبت کرو۔۔؟؟ کیا انہون نے کہا کہ تم اس سے اتنا اٹیچ ہوجاو کہ کسی بات کی وجہ سے الگ ہوجاو تو ……تو تم اللہ کو قصوروار سمجھو آبیہہ روہانسی ہوئی
تعلق شہیر نے توڑا ہے تم سے اس سے پوچھو کہ ایسا کیوں کیا۔؟؟ اسکو قصوروار سمجھو۔۔۔!!
بس….. اسی کو غلط ٹھہراو …… نہیں…. نہیں غلط تو تمہیں خود کو سمجھنا چاہیے نا،، کہ تم نے خود ہی اپنی ایسی حالت بنالی ہے ،، وہ پھٹ پڑی
حد ہوتی ہے۔۔!! کبھی آئینے میں شکل دیکھی ہے اپنی ؟؟ میری زویا میں اور اس زویا میں زمین آسمان کا
فرق ہے ……. اب بس بھی کرو …. پلیز،،
اگر اب تم نے یہ رونا دھونا بند نا کیا نا تو تمہارا گلا میں خود دبا دوں گی بڑی آئی شہیر کی لیلہ۔۔!! وہ جو مسلسل بولے جارہی تھی اپنی بات پہ خود ہی ہنس پڑی
ایک نمبر کی کمینی ہوں۔۔!! زویا نے آنکھیں دکھائیں
تمہیں میری شرافت راس جو نہیں۔؟؟
مجھے ہمت دینے کی بجائے ،، میرا سہارا بننے کی بجائے الٹا تم مجھے باتیں سنا رہی ہو،،
رکو ذرا…… تمہیں دیتی ہوں میں ہمت …. آبیہہ نے بک پکڑی اور اسے پیٹنے کے لیے اسکے پیچھے لپکی،،
اچھا سوری ،،، زویا اب بھاگتے معزرت کررہی تھی
”ایک گڈ نیوز ہے۔۔؟؟ تمہارے لئے، ،
اچھا کیا۔۔؟؟
“امی اور بابا عمرے پہ جارہے ہیں اور اتنے دن تم میرے پاس ہی رہو گی پلیز “
”میں کیا کہوں تم امی سے پوچھ لو !!“ اس نے کندھے اچکائے
آبیہہ…… آنٹی کے روم میں اجازت لینے چلی گئی
ساری بات سن کر وہ مان گئیں
وہ خود چاہتی تھی کہ انکی بیٹی پہلے جیسی ہوجائے شوخ چنچل سی ہر بات پہ مسکرانے والی,, خوشیاں اور قہقہے بانٹنے والی
اور وہ یہ بھی جانتی تھی کہ آبیہہ کے ساتھ کے علاوہ اسے کوئی پہلے جیسا نہیں کرسکتا تھا
آبیہہ خوش تھی کہ اب وہ دونوں ایک ساتھ رہیں گی اور یہ خوشی اسکے چہرے سے بخوبی چھلک رہی تھی آدھا دماغ تو وہ پہلے ہی اسکا سیٹ ہرچکی تھی باقی کا اس نے بعد میں سیٹ کرنے کا سوچا،،
کچھ دیر بعد اس نے اجازت چاہی
بہت جلد ملیں گے ڈئیر ،، اپنا خیال رکھنا اور پریشان مت ہونا اوکے وہ اس کے گلے لگ گئی
اور پھر لوٹ آئی کیونکہ اسے کسی اور سے بھی ملنا تھا
۔۔۔۔۔
وہ کیفے میں داخل ہوئی جہاں وہ پہلے ہی اسکا منتظر تھا
”بڑی دیر کردی مہرباں آتے آتے !!“ اس نے اپنی چئیر سے اٹھتے ہوئے کہا
”محترم بس پانچ منٹ لیٹ ہوئی ہوں“ اس نے وضاحت دی
چہرے پہ خوبصورتی کے ساتھ سٹالر لپیٹے
بلیک شرٹ اور لائٹ براون کھلے ٹروازر میں وہ پرکشش لگ رہی تھی
اسکی آنکھوں نے اسکی خوبصورتی کو سراہا تھا
گفت و شنید کی ابتدا اسی نے کی
” آپ کے لیے کافی منگواٶں۔؟؟“
”نہیں مجھے چائے پسند ہے وہی منگوادیں ….. تو مہربانی ہوگی“
آبیہہ کو نا تو اسکی باتوں میں کوئی دلچسپی تھی اور ان اسکے ساتھ رہنے میں وہ بس بات سن کر جلدی گھر جانا چاہتی تھی
”کیا آپ مجھے اپنا نام بتاسکتے ہیں ۔؟؟ “وہ ہچکچائی
اسکے چہرے کی مسکراہٹ مزید گہری ہوئی
”جی بالکل میرا نام ….. اجتاب ہے میں بزنس مین ہوں اسلام آباد میں ہی پیدا ہوا ہوں والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں“ اس نے ایک سانس میں سب کہہ دیا
”اتنی معلومات کے لیے شکریہ “
”ویسے مجھے کافی پسند ہے“ اس نے اپنی پسند بتائی
”اچھا اس میں میں کیا کرسکتی ہوں ۔؟ “آبیہہ کو حیرت ہوئی
آپ مجھ سے باتیں کرسکتی ہیں وہ بھی… ؟؟ اس نے بات ادھوری چھوڑ دی
”ہمممممم….. باتوں سے یاد آیا کہ آپ کو …. مجھ سے کوئی بہت ضروری بات کرنی تھی“ اس نے “ضروری” پہ زور دیا
”میں گھما پھرا کر بات کرنے والا انسان نہیں ہوں جو بات ہو وہ کہہ دیتا ہوں،،
میں نے پہلی بار آپکو آپکے کالج دیکھا تھا میں کالج پڑھتا نہیں ہوں بس مجھے کچھ ضروری کام تھا
ہممممممم ………. اچھا وہ کچھ سمجھ کر بولی
وہ اصل میں ……. بات یہ ہے کہ آپ مجھے اچھی لگتی ہیں
اور میں ……..میں چاہتا ہوں کہ آپ میری لائف پاٹنر بن جائیں“
وہ حیران نہیں تھی ہوئی اور نا ہی اسکی بات نے اسے الجھایا تھا چہرے پہ ابھی بھی ویسا ہی سکون تھا
ایسا تو آپ چاہتے ہیں نا میں تو نہیں۔۔؟؟
اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا
میں نے کبھی آپ سے ….. ایسے بات نہیں ہی آپ کو کسی اور بات کا انکشاف ہو،،
نا مین ایسی لڑکی ہوں کہ کسی کہ بھی باتوں میں آجاو، ، آپ نے میری جان بچائی تھی اسی وجہ …… سے میں آپکی عزت کرتی ہوں کیکن اسکا ہرگز مطلب نہیں کہ میں بھی آپ میں انٹرسڈڈ ہوں ،، لہجہ دو ٹوک تھا
”میں انگیجڈ ہوں اور اگلے ماہ میری شادی ہے“ نظریں جھکی تھی
اسے لگا ہوا چلنا بند ہوگئی ہے یا پھر اسکا دل بند ہورہا ہے
کاش اس نے سننے میں غلطی کی ہو لیکن وہ حقیقت تھی جس میں وہ تبھی لوٹ آیا جب آبیہہ اٹھ کر جانے لگی
”مجھے دیر ہورہی ہے مجھے جانا چاہیے اور مجھے امید ہے کہ اب آپ میرے لیے پریشانی کی کوئی وجہ نہیں بنیں گے”
وہ جاچکی تھی ……… آج پھر اسے خالی چھوڑ کہ
گھر آکر وہ مسلسل اسے ہی سوچ رہا تھا
اس ملاقات نے جہاں اسے مزید بےچین کردیا تھا
کہیں نا کہیں آبیہہ بھی …. الجھی تھی
”اللہ جی یہ کیا ہوگیا ہے “وہ منہ گھٹنوں میں دئیے رونے لگ گئی
”دل میں تو آپ ہوتے ہو اور میں نے اس لڑکے کا دل توڑ دیا“
وہ وہی بیٹھی خود کو ملامت کرتی رہی
آپ تو سب جانتے ہو نا پلیز مجھے معاف کردینا ،،
رات خاموشی سے ڈھل رہی تھی..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *