Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz NovelR50714 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01
Rate this Novel
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01 (Watching)Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 02 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 03 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 04 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 05,06 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 07 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 08 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 09 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 10 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 11,12 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 13 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 14 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 15 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 16 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 17 Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Last Episode
Muhabbat Zindagi Hai by Asma Parvaiz Episode 01
اکتوبر کی حسیں شام ڈھل رہی تھی پرندے اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے
ہوا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس شام کو مزید حسیں بنادیا تھا ہوا کی تیزی سے کھڑکی کے پردے ہلنا شروع ہوگئے
اسے ہلکی سی سردی کا احساس ہوا لیکن آج اتنے دنوں بعد وہ فرصت نکال کر یونہی جائے نماز پہ سرجھکائے بیٹھی تھی
اسے اچھا لگتا تھا رب کے آگے خاموش بیٹھنا کیونکہ وہاں اسے ہمیشہ ہی ایک الگ سا سکون محسوس ہوا تھا
وہ اللہ سے انجان نہیں تھی لیکن اتنے قریب بھی نہیں تھی ،، یاد رہا تو وقت نکال کر عجلت میں نماز ادا کرلی ورنہ نہیں،، کبھی کوئی فرق ہی نہیں پڑا
آج کالج سے چھٹی تھی اسی لیے اس نے امی کی ڈانٹ پہ ساری نمازیں ادا کی
اللہ جی کچھ ماہ میں پیپرز ہیں کیا ہوگا پلیز مدد کرنا پلیز
بڑی خود غرض ہو ۔؟ دل نے سرگوشی کی
میں نے کیا کیا۔؟
تمہیں اللہ صرف اپنی ضرورت کے وقت ہی یاد آتا۔؟ دل نے بےرخی دکھائی
ہممممم……. وہ خاموش ہوگئی( بات تو ٹھیک ہے لیکن بات ہے رسوائی کی۔۔۔؟؟؟ )
بادل گرجے تھے …. آبیہہ ۔۔ آبیہہ،، امی نے آواز لگائی
وہ ساری سوچوں کو جھٹک کر اٹھ گئی
جائے نماز رکھ کر دوپٹہ ڈھیلا کیے وہ امی کی طرف لپکی
(آبیہہ بڑی تھی اس سے چھوٹی ماہ نور،،
دونوں سیرت وصورت کے اعتبار سے منفرد تھی
ماہ نور دودھیا رنگت کی حامل اور آبیہہ عام سے نقوش سی لیکن اسکی آنکھیں گہرے سمندر کی طرح گہری اور خوبصورت تھی
آبیہہ ایم ایس سی کی طلبہ تھی اور ماہنور سیکنڈائیر کی
انکا خاندان اتنا وسیع نہیں تھا ایک پھوپھو تھی جو کہ اپنی فیملی کے ساتھ یورپ میں مقیم تھی)
جی امی۔۔۔ آپکو کچھ کام تھا پانی کی بوتل منہ سے لگاتے ہوئے اس نے پوچھا
چندا ،، مجھے لگ رہا ہے بارش ہوگی تم لان سے کپڑے اتار لاو میں ذرا آٹا گوندھ لوں
اچھا امی جاتی ہوں اور بوتل رکھ کر لان میں آگئی
موسم بہت خوشگوار تھا جیسے یہ شام اپنے ساتھ سکون اور خاموشی لیے ہو
اسے اکتوبر کا موسم ہمیشہ سے ہی پسند تھی (نا زیادہ سردی اور نا زیادہ گرمی)
بانہیں پھیلائے اس نے سردی کو اپنے اندر اتارنے کی کوشش کی کہ اچانک بادل گرجے اور بوندا باندی شروع ہوگئی وہ کپڑوں کو لیے اندر چلی آئی
کپڑوں کو امی کے حوالے کرکے،، اسائمنٹ کا سوچ کر اسکا موڈ بگڑا
اتنے اچھے موسم میں بھلا کون اتنا کام دیتا ہے؟؟ وہ بڑبڑائی 

کہ تبھی موبائل کی گھنٹی بجی
زویا کا نمبر دیکھ کر اسکے چہرے پہ مسکراہٹ بکھری موبائل کان سے لگائے وہ اپنے کام میں مصروف تھی
” زویا یار کام بہت ہے تیرے بغیر یہ مجھ سے نہیں ہوگا آجا نا پلیز_“
لہجہ التجائیہ تھا
”میں تمہاری طرف ہی آرہی تھی بھائی کو کچھ کام تھا اور میں نے سوچا چل تجھ سے مل لوں گی پھر واپسی پہ اسی کے ساتھ آجاوں گی“ زویا نے ایک سانس میں ساری بات کہہ ڈالی
”چلو پھر آجاو “موبائل رکھ کے وہ کچن میں آگئی
_______
زویا اسکی کالج کی دوست تھی وہ پچھلے چار سال سے ساتھ تھیں
اس نے آبیہہ کی اچھے دوست کی طرح مدد کی_ آبیہہ کو بھی اس سے بہت محبت تھی
(زویا شوخ قسم کی تھی سب میں گھل مل جانے والی اور آبیہہ قدرے اس سے برعکس،،)
__________
اس نے موسم کی نوعیت کے مطابق پکوڑے اور سنیکس بنا لیے اور زویا کی پسندیدہ آئسکریم منگوالی۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد زویا آگئی۔۔
کمرے میں بیٹھی پکوڑے کھاتے ہوئے وہ دونوں اسائمنٹ بنارہی تھی_
” اچھا آبی سنو کل کوئی فری لیکچر ہے کیا۔؟ مجھے شہیر سے ملنا ہے زویا نے معصوم شکل بنائی
آبی…. وہ میرے میسجز کا جواب نہیں دے رہا“ 
”اچھا اب تم نے کیا کہہ دیا بیچارے کو “ آبیہہ نے گھورا
زویا مسکرادی
” کہاں سے لگتا ہے تمہیں بیچارا۔؟“
”تم جیسی چڑیل کو برداشت کرتا ہے یہ کیا کم غنیمت ہے“ آبی نے اسے چھیڑا
(بھئی اب تمہیں برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات تو ہی نہیں نا)
”مجھے تو اسے اکیس توپوں کی سلامی پیش کرنی چاہیے“ اس نے شہیر کے حوصلے کی داد دی
”ہاں نا ان توپوں کا منہ میں تمہاری طرف کردو گی“ زویا اسکی طرف جھپٹی
”آبی کی بچی تجھے میں بتاتی ہوں رک ذرا۔۔“ وہ چلائی
آبی کام چھوڑ کر بھاگی
”بچاو بچاو بچاو شوکت علی“ آبی آوازیں لگانے لگی
” ہیں رک ذرا یہ جناب شوکت علی کون ہے؟
زویا کو تعجب ہوا
“ارے وہی شوکت علی ،، اے ٹی وی کے ڈرامہ سیریل کا ہیرو”
آبی نے آنکھ ماری
”ہائے شوکت علی دیکھو یہ ظالم عورت…. مجھے کھا جائے گی….. بچاو مجھے،،“
”نہیں میں تو کہتی ہوں….. آج تم اسکے باپ کو بھی
آواز دے لو “ میں چھوڑنے نہیں لگی تمہیں ،،
آبیہہ بھاگتی ہوئی چھت پہ آگئی مسلسل بھاگنے سے سانس اکھڑنے لگا
زویا نے پیچھے اسے سے پکڑ لیا
” اب بتاو کہاں جاوگی بچ کے_“ زویا نے ہاتھوں پہ گرفت مضبوط کی
اسے پتہ تھا اب وہ زویا سے پٹنے والی ہے اسلیے موقع دیکھ کر خود ہی ہتھیار ڈال دئیے
میں اپنی دوست کو بتاو گی!! تم مجھے تنگ کرتی ہوں، وہ میری جان ہے وہ تمہیں چھوڑنے نہیں لگی“ آبی نے دونمبری آنسوں بہاتے ہوئے کہا
بس یہ سننے کی دیر تھی زویا نے آبی کو کھینچ کے گلے لگا لیا
”میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا ڈئیر
ہاں میں مرگئی تب کا پتہ نہیں،“
”بکواس کرنا تو عادت ہے محترمہ کی روٹی جو ہضم نہیں ہوتی“ اس نے منہ پھیرا
وہ وہی کھڑی رہیں
”موسم کتنا پیارا ہے نا زویا_
”میں کبھی کبھی سوچتی ہوں اگر تم میرے ساتھ نہ ہوتی تو کیا ہوتا مجھ جیسی نکمی کا۔۔ تم نے تو مجھے زندگی کا مطلب بتایا ہے مجھے جینا سکھایا ہے“ الفاظ میں چاہت تھی
دوستی کے بغیر زندگی کچھ نہیں،،
کاش سوہنی اور مہیوال دونوں لڑکیاں ہوتی !!
بیچاری سکون سے مل تو لیتی نا روز ،، ہماری طرح 
آبیہہ بھی موقع دیکھ کر شروع ہوگئی
”چلو…. تم پھر شروع نا ہوجانا … 110 دفعہ تمہارے منہ سے انکے قصیدے سن چکی ہوں اب تو انکی روحیں بھی کانپتی ہوں گی
پلیز اب اپنی فلاسفی بند کرو …. مجھے نہیں سمجھ آتی یہ سب…. تمہارے پرانے زمانے کے پرانے قصے اور
اپنا اتنا دماغ نہ کھپایا کرو پلیز“ زویا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا
(آج تو اچھی خاصی ہوگئی
) آبیہہ منہ پھیر کر ہنس دی (ہائے میری جان ،،)
————
معمول کے مطابق وہ جاگنگ کے لیے پارک میں میں موجود تھا
شام کا وقت تھا آوازیں نہ ہونے کی برابر تھی
کبھی پتوں کے گرنے کی آواز تو کبھی کسی بلی کے میاوں کی
کانوں میں ہینڈ فری لگائے وہ کسی سے بات کررہا تھا
” نہیں انجم کمپنی کا پروجیکٹ تو بابا دیکھ لیں گے ضیاء کمپنی کو میں خود ڈیل کروں گا
وہ ویسے بھی مجھے کھسکے ہوئے لگتے ہیں
اچھا فاحد مجھے ضیا کی فائل بھجوادینا میں ریڈ آوٹ کرلوں گا“
خاموش اور بااثر طبعیت کا حامل وہ حسن رضا کا لاڈلا اکلوتا بیٹا تھا……. دو بہنوں سے بڑا،،
شکل و صورت کے اعتبار وہ پرکشش تھا
نفاست سے بنے بال اور نیلی گہری آنکھیں جو پل بھر میں کسی کو سحر کردیتی
اس سے منسلک ہر انسان اسکی اپنی زندگی میں موجودگی پہ فخر کرتا تھا
ماسٹر کرنے کے بعد اس نے اپنے والد کے بزنس کو بخوبی سمبھال رکھا تھا
اسلام آباد کی سڑکیں اسے بہت پسند تھی جیسے وہ اپنے اندر کوئی گہرے راز لیے ہوں ،،
بادل گرجے تھے
اور موسم کو خراب ہوتا دیکھ کر وہ گھر کی طرف لوٹ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آکر وہ فریش ہونے چلا گیا
کچھ دیر بعد سب ڈائننگ ٹیبل پہ موجود تھے
آج شام کے کھانے میں اسکا من پسند قورمہ بنا تھا
انیلہ بیگم اپنے بیٹے کے لاد اٹھاتے نا تھکتی اور وہ اپنی بہنوں کے لاڈ اٹھاتے نہیں تھکتا تھا
ہانیہ( اسکی چھوٹی بہن جو کہ دکھنے میں بظاہر چھوٹی تھی لیکن باتوں سے پٹاخہ ،، )اور انوشے ہانیہ سے بڑی(سلجھی اور سمجھدار)
ہانیہ ہمیشہ اپنے بھائی کے ہاتھ سے ہی کھاتی تھی(انیلہ بیگم لاکھ منا کرتی کہ ہانیہ اب تم بڑی ہوگئی ہو خود کھایا کرو لیکن وہ نہایت ضدی اپنی ہر بات منواکے چھوڑتی )
وہ ابھی بھی ہاتھ میں نوالہ لیے ہانیہ کے منہ کھولنے کا منتظر تھا
ہنی ،، سوری نا پلیز اس نے کان پکڑے
ہانیہ تو کچھ بھی سننے کے لیے تیار نا تھی
بھائی آپ ہر بار ایسے کرتے ہو اور بعد میں سوری،،
ابھی… ہنی پرومس… کل….. تو ….. نہیں ہاں پرسوں……… تم جہاں کہو گی ہم ضرور چلے گیں وہ سوچتے ہوئے بول رہا تھا
پکا نا۔؟ ہانیہ نے چاہت بھری نگاہوں سے بھائی کو دیکھا
یس مائے ڈئیر ،، اور وہ مان گئی
سب نے شام کا کھانا بڑے مزے سے ایک ساتھ کھایا
——
” زویا یہ بتاٶ شہیر سے واقعی پیار کرتی ہو۔؟ _”آبیہہ نے الجھی ہوئی نگاہوں سے پوچھا،
“کیوں تمہیں شک ہے “، اس نے تصدیق چاہی
“نہیں ویسے ہی،، پچھلے پانچ سال سے تمہارے ساتھ ہوں ہر کلاس میں ہر لڑکے سے تمہیں سچی محبت ہوئی ہے
اب میں کیا کہہ سکتی ہوں_”
آبیہہ نے چڑاتے ہوۓ کہا
زویا بھی مسکرادی” نہیں ابھی واقعی سچی ہے_”
(بڑی آئی
)
“اچھا تمہیں کیسے پتہ کہ یہ سچی ہے ؟؟”
“کیونکہ وہ میرا بہت خیال رکھتا ہے مجھے ہرٹ نہیں کرتا اور سب سے بڑھ کر میری بہت عزت کرتا ہے” اس نے بڑے مان سے جواب دیا
“لیکن جو باعزت مرد ہوتے ہیں وہ رشتہ گھر لے کے آتے ہیں رشتے کو حلال بناتے ہیں اور….اور اس سے عزت کا ، محبت کا مان تو خود بخود ہی رہ جاتا ہے” آبیہہ نے سمجھانے والے انداز میں کہا
((دماغ خراب کرنے لگی ہے اب ۔ میری بھی بکواس اسکے سامنے بند نہیں ہوتی))
“آبی یار تم نے پھر فلاسفی شروع کردی اتنی گہری باتیں کہاں سے لاتی ہوں؟؟،، زویا کو کوفت ہوئی
تمہیں محبت نہیں ہے تم نہیں جانتی نا” زویا نے رسانیت
سے کہا
“کس نے کہا مجھے محبت نہیں؟؟ مجھے اپنے والدین سے محبت ہے، اپنی ماہی سے محبت ہے اور اپنی
چڑیل دوست سے بھی_ بس فرق دیکھنے والے کی نظر میں ہوتا ہے”
اچھا اماں جی اس نے سر جھکا کر ہار مانی
“چلو اب نیچے مجھے آئسکریم کھانی ہے مجھے پتہ ہے تم نے منگوائی ہوگی” زویا مسکرائی
“جی منگوائی ہے چلو آجاو،”
آئسکریم کھاتے ہوئے وہ سامنے بیٹھی آبیہہ کو بڑے غور سے دیکھ رہی تھی
کون کہہ سکتا ہے کہ یہ وہی لڑکی ہے جو بہت خاموش رہتی ہے اور کلاس میں پریزینٹیشن دیتے ہوئے بھی ہچکچاتی ہے کیا ہوگا اس لڑکی کا۔؟؟ اسکا ذہن اسے سوچ رہا تھا
آبیہہ نے نگاہوں کی تپش محسوس کی
“تمہارے ساتھ زندگی خوبصورت لگتی ہے اور خوشی محسوس ہوتی ہے پلیز ہمیشہ یونہی میرے ساتھ رہنا،،،
اور رہی بات میری…… تو مجھے کچھ نہیں ہونا …. تم ہو نا ساتھ”
“اچھا تمہیں کیسے پتہ کہ میں یہی سوچ رہی ہوں۔؟”
“میں فقط تمہیں ہی تو جانتی ہوں “
“بہت اچھی بات ہے محترمہ_” زویا نے مسکراہٹ آبیہہ کی طرف اچھالی
اور دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوگئی
کھڑکی کے اس پار رات تھی،، گہری کالی رات،، جسکے بعد حسین سویرا تھا خوشیوں بھرا،،،
کون جانے ان دونوں کے لیے قسمت کے دامن میں کیا تھا؟؟
لکھنے والا تو بہترین لکھ چکا تھا
لیکن بہترین پانے کے لیے بدترین سے تو گزرنا ہی پڑتا ہے
ٹوٹنا پڑتا ہے،، اور ٹوٹنے سے بہت درد ہوتا ہے
جیسے کوئلے جلنے پہ کندن بنتا ہے
اور پتھر تراشنے پہ ہی ہیرا بنتا ہے جسکی چمک ہر ایک کی آنکھوں کو مات دے دے
اسی طرح انکو بھی آزمائشوں بھرا سفر درپیش تھا جس سے وہ انجان تھیں
“وہ سفر جہاں آزمائشیں … امید کی کرنوں کے ساتھ ساتھ پیاسے ہونٹوں کو بھی جھلسا دیتی ہیں”
صراط مستقیم کا سفر ، محبت کا سفر ،،
وہ محبت….. جو ہر محبت پہ حاوی ہوجاتی ہے
________
رات کی بوندا باندی نے صبح کے موسم کو خشگوار بنادیا تھا
اور سورج میاں کی بادلوں کے ساتھ آنکھ مچولی جاری تھی
وہ لائبریری میں بیٹھی پڑھائی میں مصروف تھی_کیونکہ سپورٹس گالا کی وجہ سے آدھی کلاسز آف تھی
” کیا یار ہر وقت پڑھائی،،
آبیہہ کبھی تو ان کتابوں کی جان چھوڑ دیا کرو _“مدیحہ دھپ سے اسکے پاس آکر بیٹھی
(مدیحہ آبی کی کلاس فیلو تھی اور اسکی اچھی دوست بھی_)
” چلو نا سب پریکٹس کررہے ہیں ہم بھی دیکھنے چلتے ہیں۔۔۔۔ لیکن اسکے کان پہ تو جوں تک نا رینگی،،
آبیہہ چلو بھی_“ مدیحہ نے اسے اٹھاتے ہوۓ کہا
”اچھا چلو تم کونسا مجھے سکون سے پڑھنے بھی دے رہی ہو۔۔“ آبیہہ ہار مانتے ہوۓ اٹھی_
وہ دونوں گراونڈ میں آگئے ….. جہاں زویا اور باقی کلاس فیلوز تھے
سپورٹ گالا میں سب سے اہم کھیل رکاوٹوں کو عبور کرنا تھا جسکے لیے تمام اسٹوڈنٹس جی جان سے محنت کررہے تھے باقی ان کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ان کی مدد بھی کررہے تھے
وہ انکو دیکھنے کیلیے دور کھڑی ہوگئی
”رکو گائیز،، ابھی آبیہہ کرے گی_“ آبیہہ کو دور کھڑا دیکھ کر زویا چلائی
”زویا تمہیں پتہ ہے مجھے نہیں آتا…. یہ سب پلیز مجھے نہیں کرنا یہ _“ آبیہہ نے اسے غضب وغصے سے گھورا
”یار دومنٹ کی بات ہے میں ادھر ہی ہوں نا_پلیز
پلیز دیکھ” نا“ مت کرنا پلیز“ اس نے منت کی اور
آبیہہ کو ماننا پڑا_
”کہاں پھنسا دیا تو نے مجھے،، زویا کی بچی _“ وہ بڑبرائی
پہلی اور دوسری رکاوٹ آسان تھی جو اس نے آسانی سے پار کرلی،، لیکن اگلی اسکے لیے مشکل تھی
” آبیہہ تم کرسکتی ہو_“ ریحان نے بھی حوصلہ بڑھایا
وہ آگے بڑھتی اور پھر رک جاتی پھر واپس جاتی اور پھر آگے آتی_ لیکن اس سے نہیں ہو پارہا تھا
دور کہیں کوئی بڑی چاہت کے ساتھ اسکو نرم گرم نظروں کے حصار میں لیے ہوۓ تھا_
چہرے پہ بکھرے بال پسینے میں بھیگا چہرہ اور دھوپ کی وجہ سے گلابی ہوچکے گال_ اسے نکھار رہے تھے
”عجیب لڑکی ہے کرکیا رہی ہے ۔؟ وہ دور کھڑا سوچ رہا تھا
کوئی آج کے زمانے میں کیسے ایسا ہوسکتا ہے !!
کیا ہوگا اسکا۔؟ “ اسکی کی نگاہیں اسکےلیے فکر مند تھیں_
”چلو اب کودو بھی“ وہ زیر لب منمنایا
اور آبیہہ کی کوشش کامیاب رہی لیکن جمپ لگاتے ہوئے وہ زور سے اوندھے منہ گری اور منہ، بازو چھل گئے
ہائے ،،، پاگل لڑکی اسے اسکے گرنے پہ افسوس ہوا
بیسٹ بڈی….. چلے اب،، کسی نسوانی آواز نے اسے پکارا اور وہ چلاگیا
”کیا ہوگا اس پاگل لڑکی کا؟؟_”آبی“ ”آبی“ زویا بھاگی
اسے تھامے وہ کلاس میں لے آئی ،
۔۔۔۔۔۔
آج کی روٹین تو بہت مصروفیت والی ہے،،
وہ اپنے کیبن میں بیٹھا اپنا میٹنگ پلین دیکھ رہا تھا
دروازے پہ دستک ہوئی ،، اور جھٹ سے دروازہ کھلا
آنے والا اسکا کولیگ ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا دوست بھی تھا ،،
کیا اجتاب ؟؟ تم تو اب اپنی شکل دیکھانے سے بھی گئے ہو۔؟؟ (شکووں کی بارش شروع ہوچکی)
کبھی ہم جیسے غریب لوگوں کے لیے بھی ٹائم نکال لیا کرو ،،
وہ مسکرایا …. جنید تم اور غریب ؟؟
ہننننن،، میرے ساتھ ساتھ یہ پوری انڈسٹری جانتی ہے کہ تم کس کدھر غریب ہو۔؟ لہجے میں شرارت تھی
طنز کررہے ہو۔۔؟؟
نہیں جناب آپکو ٹھیک بات بتارہا ہوں ….آج ہم پہ اس نظر کرم کی کوئی خاص وجہ۔؟؟
کچھ خاص نہیں…. بس سوچا پرانے دوست کے ساتھ کہی کافی پی جائے اور ساتھ کچھ کام کی بات بھی کرلی جائے،،
ہممممم،، اجتاب کا تو پہلے ہی اپنی میٹنگز کا سوچ کر موڈ خراب ہوچکا تھا
اب جنید کی آمد پہ وہ قدرے پرمسرت تھا
چلو پھر چلتے ہیں،، وہ اپنا کوٹ اور گاڑی کی چابی لیے اٹھ کھڑا ہوا
سنو نادیہ …… میری آج کی سارہ میٹنگز کینسل کردو ہاں اگر کوئی ضروری ہوئی تو اسکا بابا کو بتا دینا ،، وہ سب سمبھال لیں گے وہ انٹر کام پہ کہہ کر باہر کی طرف بڑھا
آج کا دن اسکے لیے کافی خوشگوار رہا ،،
