Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Last Episode)

Milan by Yusra Mehmood

گاڑی ایک ریسٹورینٹ کے سامنے رکی تھی….

پورے راستے وہ خاموش رہی …

فہد نے بھی زیادہ استفسار نہیں کیا آصفہ بیگم کو فہد نے کال کر کے بتا دیا تھا کہ وہ صبا کو لنچ پر لے کر جا رہا ہے …

صبا ‏ جھجھکتی ہوئی فہد کے ساتھ ریسٹورنٹ کے اندر داخل ہوئی …

####

خدا کے لیے میرے بیٹے کی ضمانت کرادیں آپ …پتہ نہیں کیسے گزار رہا ہوگا وہ دن رات میرا بچہ جیل میں …صائمہ بیگم نواز صاحب سے رو رو کر ہادی کی ضمانت کی التجا کر رہی تھے …..جبکہ نواز صاحب خاموشی کی تصویر بنے بیڈ کراون سے ٹیک لگائے آنکھیں موندے بیٹھے تھے…..

بیٹی کی شادی کے بعد گھر میں صرف وہ تینوں ہی ہوتے تھے جو بھی بس اکثر رات کو ہی ملا کرتے تھے اب ہادی کے نہ سے گھر سائیں سائیں کررہا تھا….

آپ میری بات سن تو رہے ہیں نہ …صائمہ بیگم نے پھر نواز صاحب کو مخاطب کیا …

تم کیا سمجھتی ہو بیگم کیا میں نے کوئی کوشش نہیں کی ہادی کی ضمانت کے لئے میں نے تمہیں تو منع کردیا تھا لیکن اللہ گواہ ہے کہ میں نے بعد میں بہت کوشش کی تھی اس کی ضمانت کی ….

مگر ہمارے بیٹے نے ہمیں کہیں منہ دکھانے کے لائق بھی نہیں چھوڑا ….وہ اپنی آنکھیں مسلنے لگے مبادا ان کی آنکھوں میں چھپے آنسو ان کی بیگم نہ دیکھسکے ….

ہادی اور اس کے دوست ایک نہیں کئی ریپ کیسس میں انوالو ہیں وہ کئی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اسی فلیٹ میں لے جاتے تھے اور یونیورسٹی میں بھی مشہور ہوگیا ہے کہ ہادی اور اس کے دوستوں کا گروپ پولیس کے شکنجے میں ہے تو جو جو لڑکیاں اور لڑکے اس گروپ سے عاجز تھے وہ ان کے خلاف گواہی دینے پولیس سٹیشن پہنچ گئے ….

ایک لمبی تعداد نے ان لوگوں کے خلاف بیان دیا ہے اب نہ تو ان لوگوں کی ضمانت ہو سکتی ہے اور نہ ہی اتنی آسانی سے یہ کیسس ان پر سے ختم ہوں گے

انہوں نے واپس بیڈکراون سے ٹیک لگا لیا ….اور صائمہ بیگم آنسو بہاتی رہی اور سوچتی رہی کہ آج وہ شاید ہادی کے انجام کی ذمہ دار ہے ….

وہ اور ان کے شوہر اپنی مصروفیات اور پیسہ بنانے میں مگن رہے ان کے بچے اکثر نوکروں کے سہارے رہتے ….

اپنی مرضی کی ایکٹیویٹیز کرتے اپنی مرضی سے ٹی وی چینلز دیکھتے تو ایسے حالات میں بچے کیسے نہ بگڑتے ….

اپنی بیٹی کو تو انہوں نے کسی طرح اپنے گھر کا کر دیا تھا ہا دی کو وہ نہ سنبھال سکی ….

وہ چاہ کر بھی اس کی سرگرمیوں میں نظر نہ رکھ سکی ….

آج تک تو انہوں نے یہ _خبر_ کر رکھی ہوئی تھی ….کل دن کے اجالے میں سب ان پر تھوتھو کریں گے جب سب کو پتہ چلے گا کہ ہیومن رائٹس کی دوڑ میں سب سے آگے آگے رہنے والی صائمہ نواز کے بیٹے نے ہی نہ جانے کتنے معصوموں کی زندگیاں تباہ کی ہیں….

####

فہد کھانا آرڈر کر چکا تھا ….اب ٹیبل پر دونوں نفوس خاموشی سے بیٹھے تھے جب کہ صبا کنفیوجن سے اپنے ہاتھ کی انگوٹھی کو تکے جا رہی تھی جو فہد نے اسے دی تھی ….

فہد نے گلا کھنکار کر خاموشی کو توڑا اتنا خاموش کیوں ہو صبا کچھ تو بولو ….

وہ صبا کی کنفیوجن نوٹ کرتے ہوئے بولا

نہیں کچھ نہیں بس ایسے ہی …

وہ فہد کو بغیر دیکھے ہی اپنے بالوں کی لٹیں اپنے کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولی

.ایک بات پوچھوں تم سے …جی پوچھیں صبا نیچے دیکھے دیکھے ہی گویا ہوئی

ایسے نہیں میری آنکھوں میں دیکھو پہلے پھر ….فہد اپنے لہجے میں شرارت سموتے ہوئے بولا وہ پھر بھی نیچے دیکھتی رہی …

اچھا تو ٹھیک ہے میں آصفہ آنٹی سے بول دیتا ہوں کہ آپ کی بیٹی مجھ سے کوئی بات ہی نہیں کر رہی حالانکہ پہلے تو مجھ پر بڑا غصہ دکھاتی تھی .

..فہد شوقی لہجہ اپناتے ہوئے بولا صبا نے تھوڑی نظر اٹھا کر فہد کو مصنوعی غصے سے دیکھا اور پھر بھی کچھ نہ بولی

اور یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ صبا بالکل خوش نہیں ہیں مجھ سے نکاح کرکے …

نہیں میں بہت خوش ہوں فہد ….اس کی زبان پھسل گئی وہ اپنی زبان دانتوں تلے دبا کر نیچے دیکھنے لگی ….جبکہ فہد صبا کو مسکراتی آنکھوں سے دیکھنے لگا وہ تو میں سن چکا ہوں کہ تمہیں مجھ سے عشق ہو گیا ہے ….

اپنی چوری پکڑی جانے پر صبا بری طرح سے خجل ہو گی …

پلیز وہ آپ مما کو فون نہیں کرے …صبا پریشانی سے بولی

اوکے نہیں کرتا فون پر پلیز صبا نارمل ہو کر مجھ سے بات تو کرو….

کچھ اقرار اور کچھ اعتراف کرنے کے لئے میں تمہیں یہاں لایا تھا اور اگر تم کچھ بولو گی نہیں تو ایسے کیسے کام چلے گا ….

فہد شکوہ بھری نظر صبا پر ڈالتے ہوئے بولا اوکے آپ کریں بات اب آپ مجھے اپنی باتوں میں شریک پائیں گے ….

صبا فہد کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی

صبا میں ساری حقیقت جان چکا ہوں کیوں تم مجھ سے اتنا روڈ رہتی تھی ہادی تمہیں ڈراتا دھمکاتا رہا اور تم مجھے برا سمجھتی رہیں ….وہ کچھ توقف کو رکا لیکن پھر بھی صبا تم مجھ سے نہ سہی عالیہ پر تو بھروسہ کرتی اپنے ہونے والے شوہر پر تم نے اعتبار نہ کر کے مجھے بہت ہرٹ کیا ..اور ہادی پر تم کیسے بھروسہ کر سکتی تھی جبکہ یونیورسٹی کے پہلے دن سے تم سب سے ہمیشہ دور دور سی رہتی تھی مجھ سے بھی بات کرنا پسند نہیں کرتی تھی تو پھر کیسے تمہارے اندر اتنی ہمت آ گئی تم نے ہادی پر اندھا اعتبار کر لیا ….

فہد اپنے شکوے صبا سے کرتا رہا اور صبا کی آنکھوں میں قید آنسو اس کے رخساروں پر بہنے لگے میں تمہیں ہرٹ کرنا نہیں چاہتا ہوں پر میں یقین نہیں کر پا رہا ہوں کہ تم اتنی بہار ہوتے ہوئے کیسے اتنی کمزور پڑ گئی کہ ہادی کے شکنجے میں پھنستی چلی گئیں….

مجھے معاف کردیں.. میں نے واقعی بہت بڑی غلطی کی ہے یہ آپ کی اعلیٰ ظرفی ہے آپ پھر بھی مجھ سے ناراض نہیں ہے ورنہ جیسا رویہ میں نے آپ کے ساتھ رکھا تھا تو کچھ بھی غلط کرنے کا حق رکھتے تھے آپ میرے ساتھ …

وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی وہ دونوں ریسٹورنٹ کی سب سے کارنر والی سیٹ پر بیٹھے تھے اس لئے وہاں پر کسی کی نظر نہ جاسکی ….

پلیز اب رونا بند کرو فہد نے اپنے مضبوط ہاتھ صبا کے نازک ہاتھ پر رکھ دئیے …

صبا نے بھیگی پلکوں سے دیکھا …

مجھے تم پر پورا بھروسہ تھا اور بے انتہا محبت کرتا ہوں میں تم سے اس لیے کچھ غلط کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تمہارے ساتھ ….

اس کھلے اعتراف پر صبا کی دراز پلکے نیچے جھک گئ …

بات کلیئر ہو گئی یہی بہت ہے میرے لئے پر ایک منٹ ….

صبا نے پھر سے اپنی پلکیں اٹھائیں …

تم بھی مجھے معاف کر دو پلیز وہ دونوں کان پکڑ کر صبا کو دیکھنے لگا …

صبا حیرت سے اسے دیکھتی رہ گئی ….

کہ میں نے تم پر کچھ دنوں سے غصہ کیا تم سے ناراض رہا کچھ بھی جانے بغیر اس کے اس انداز پر صبا مسکرا اٹھی ….

اب تو معافی مل سکے گی نہ

.

وہ شرارتی نظروں سے صبا کی گیلی پلکوں کو تک رہا تھا ….

جی نہیں بلکہ کبھی نہیں …مجھے ستانے کی سزا ضرور ملے گی آپ کو …

وہ بھی اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی مسکرا کر بولی …دور سے ویٹر کھانا لاتا ہوا نظر آرہا تھا تو دونوں ہی نارمل ہو گئے

####

آصفہ بیگم کو ہادی کا سن کر بہت افسوس ہوا تھا ….وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ وہ زبردستی جس کے ساتھ صبا کو اکثر اکیلے بھیج دیا کرتی تھی وہ اتنا بڑا ریپیسٹ تھا …وہ جاۓنماز بچھاکر نے رب کے حضور سجدہ ریز تھی کہ ان کی بیٹی کی عزت سلامت رہی تھی ورنہ فہد سے پہلے تو وہ ہادی کوبھی اپنے داماد روپ میں دیکھنا چاہتی تھی….

اپنی بیٹی کو یوں سب جگہ آگے آگے رکھتی تھی کہ کسی اچھی جگہ سے رشتہ آجائے ان کی یہ دعا تو ان کے رب نے سن لی تھی پر وہ اب اس بات پر بہت شرمندہ تھی کہ بلاوجہ ہی وہ صبا سے لڑکوں سے فری ہونے پر زور ڈالتی تھی …

کسی کے چہرے پر تھوڑی لکھا ہوتا ہے کہ وہ کتنا شریف ہے..

میری کوئی نیکی ہی

کام آگئی بیٹا ورنہ میں نے تو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ….

کئی بار ہادی کے ساتھ میں نے تمہیں اکیلے بلوایا یہ جانتے بوجھتے کہ تم لڑکوں سے اتنا الجھتی ہو …

وہ صبا کو اپنے پاس بٹھا کر شرمندگی سے بولتی رہی ….

میں تو اللہ کا جتنا بھی شکر کروں کم ہے کہ اس نے میری بیٹی کی عزت رکھ لی انکا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا ….

آپ کی دعائیں میرے ساتھ ہوتی تھی مما تو بھلا کس کی ہمت کہ میرا بال بیکا کرتا وہ آصفہ بیگم کو گلے لگاتے ہوئے بولی …

اپنی مما کا احساس شرمندگی دیکھ کر اس نے اپنے دل کی بات دل میں ہی چھپا لی …..

وہ یہ بتا کر کہ ہادی نے اس کیساتھ بھی زبردستی کی کوشش کی تھی اپنی ماں کو مزید دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی….

#####

دن گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا ….

آج اس کی ما یوں تھی

..

صبا کی خواہش کے مطابق اسے اسٹیج پر فہد کے ساتھ نہیں بٹھایا گیا تھا وہ مکمل مشرقی انداز میں مایوں بیٹھی تھی….

مکمل گھونگھٹ نکال کر وہ اسٹیج پر بیٹھی تھی…. دونوں کی رسمیں بھی الگ الگ کی گئی تھی جبکہ فہد نے عالیہ کے ہاتھ کئی بار صبا کو پیغام بھجوایا تھا کہ پلیز اپنی ایک بار جھلک تو دیکھا دو ….

صبا فہد کی بے چینی پر مسکرا کر رہ جاتی پر جھلک دکھانے والی بات وہ گول کر چکی تھی….

####

اس پر ٹوٹ کے روپ آیا تھا ریڈ اینڈ وائٹ رنگ کے امتزاج کا شرارہ اس پر بہت جچ رہا تھا …

شرارے کی ہی میچنگ کی فہد کی شیروانی تھی… دونوں کی جوڑی خو ب سرا ہی جا رہی تھی ….

فہد تو صبا کو نظر بھر کر دیکھتے ہوئے بھی ڈر رہا تھا کہیں اس کی ہی نظرصبا کو نہ لگ جائے ….

سب کی تعریف سن کر فہد کو تو صبا کی فکر لاحق ہو گئی سب اسٹیج پر آتے جا رہے تھے اور صبا اور اس کی جوڑی کو سر آ رہے تھے کہیں صبا کسی کی نظر کی زد میں نہ آ جائے ….فہد کو فکر ہوئی …..

مما ادھر آئیے ذرا …فہد نے عفت بیگم کو بلایا جو شادی کے ہنگامے میں بری طرح پھنسی ہوئی تھی ….

کیا بات ہے بیٹا وہ فہد کے قریب آتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ….

فہد نے اپنے والٹ سے ہزار ہزار کے نوٹ نکالے…

یہ ہم دونوں کی نظر اتار دیں اس سے …

وہ عفت بیگم کو نوٹ پکڑاتے ہوئے بولا ارے دیوانے ہوگئے ہو کیا سب کے سامنے ….

وہ فہد کو آنکھیں دکھانے لگی …نظر وغیرہ سب گھر جاکر اترے گی ابھی نہ جانے لوگ کیا کیا سوچیں…

پلیز مما سب نظر ابھی لگا رہے ہیں اور آپ بعد میں اتاریں گی پلیز میری خاطر ….

فہد کے برابر میں بیٹھی صبا ماں بیٹے کی یہ سرگوشیاں سن رہی تھی اس کی گردن شرم سے مزید جھک گئی وہ اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھ رہی تھی کہ اتنا پیار کرنے والا شوہر ملا ہے ا سے …

اس نے دل ہی دل میں اپنے رب کا شکر ادا کیا اور عفت بیگم بھی بیٹے کے آگے مجبورہوگئی انہوں نے بھرے مجمع میں دولہا دولہن کی نظر اتاری ….

آصفہ بیگم اور بخاری صاحب بھی بیٹی کی رخصتی پر بہت افسردہ تھے …

صبا مما اور بابا کے گلے لگ کر بہت روی ان کا دل بھی بہت رو رہا تھا اور دل سے بیٹی کی خوشحالی کی دعائیں نکل رہی تھی ….

سب کی دعاؤں کے سائے صبا رخصت ہوکر فہد کے گھر آ گئی….

#####

صبا اپنے سجے سجائے کمرے میں بیٹھی تھی….

کمرے میں موجود مہک عجیب سی قسم کے احساسات سے آشنا کر رہی تھی….

وہ تھکن سے بے حال تھی … عفت بیگم بھی کہہ کر گئی تھی وہ فہد کو بھیج رہی ہے پر نہ جانے کیا وجہ تھی کہ فہد کمرے میں نہیں آیا تھا ….

صبا کو بے حد پیاس بھی لگ رہی تھی ڈیوائیڈر پر جگ گلاس رکھا تھا پر صبا کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی کہ وہ اٹھ کر پانی پی لے ….

جب کافی دیر تک فہد نہ آیا تو صبا نے ہمت کی اور اپنا شرا رہ سنبھالتی ہوئی پانی پینے کے لئے ڈیوائیڈر تک پہنچی.. اس نے پانی نکال کر ابھی آدھا ہی پانی پیا تھا کہ پیچھے آہٹ کی آواز سن کر وہ تیزی سے پیچھے کی طرف مڑی….

عین اس کے پیچھے فہد کھڑا تھا فوری فہد سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے ہاتھ سے گلاس فہد سے ٹکرا کر نیچے لڑھک گیا اور پانی فہد کی شیروانی پر ….

او نو یہ کیا کیا تم نے….

فہد اپنی برانڈڈ شروانی کو افسوس سے دیکھنے لگا …

سوری مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ کب کمرے میں آئے …وہ نظر جھکا کر اپنے ہاتھوں کو مسلنے لگی …

جی نہیں ایسے کیسے اتنی آسانی سے سوری کیسے مان لو جناب آپ کی ….ایک تو آپ نے میری برانڈڈ شیروانی خراب کی اور چاہتی ہیں کہ میں سوری ہضم کر لو نہ بابا نہ ….

وہ ڈیوائیڈر پر کوہنی ٹکائے فرصت سے اسے دیکھنے لگا ….

نر وس تو وہ پہلے ہی نظر آ رہی تھی اوپر سے فہد کا اس طرح دیکھنا وہ خجل سی ہو گئی ….

اس نے اپنا چہرہ دوسرا دوسری طرف کر لیا صبا کی پیٹھ فہد کی طرف تھی ….

شکر کریں میں تو سوری بھی کر رہی ہوں ورنہ تو آپ کی سزا اب بھی باقی ہے…

صبا نے فہد کو اس کی سزا یاد دلائی اسے وہی سزا سمجھ لیں….

وہ فہد کی نظروں کی تپش کے سامنے وہ جواب نہ دے سکتی تھی پر فہد سے منہ موڑ کر اس سے بات کرنا بہت آسان لگا ….

فہد بے خود سا ہو کر اس کے قریب آیا اور صبا کو خود سے بہت قریب کر لیا ….

پھر ایک سزا تمہیں بھی ملے گی بولو منظور ہے ….

وہ اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولا …

صبا فہد کے لمس کی حدت سے تھرتھرانے لگی …

فہد نے صبا کا چہرہ اپنی طرف کیا صبا کا پیر پاس پڑے گلاس پر پڑا لڑکھڑا کر وہ فہد کے سینے سے جا لگی…

فہد نے اسے اپنی باہوں میں قید کر لیا

مجھے اجازت دے دو صبا وہ خمار آلود لہجے میں صبا کو باہوں میں سموئے گویا ہوا ….

وہ اس سے اپنے ہی حق کی وصولی کی اجازت طلب کر رہا تھا….

صبا نے نظر اٹھا کر فہد کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں کی التجا کو صبا رد نہ کرسکی ….

اس نے فہد کے سینے میں اپنا سر چھپا لیا

فہد نے بھی اپنی بانہوں کے گھیرے کو مزید تنگ کر لیا

ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *