Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan by Yusra Mehmood

آج میری فرینڈ صائمہ آئی تھی گھر.... آصفہ بیگم ٹھہرٹھہر کر اپنے شوہر سے مخاطب ہوئی ...
کون صائمہ بخاری صاحب ناک پر چشمہ رکھے آنکھیں سکیڑ کر بولے .....ارے ہادی کی امی آپ جانتے تو ہیں.... ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہے اسی کا انویٹیشن دینے آئی تھی وہ... آپ تو جانتے ہیں صائمہ کے خاندان کو بہت امیرکبیر خاندان ہیں ان کا اور مجھے تم مایوں مہندی ہر تقریب میں بلایا ہے انہوں نے .....
دو سال سے بہت ہی اچھی دوست ہیں میری....
تو کیا کہنا چاہتی ہوں صاف صاف بتا و... بخاری صاحب بو ر ہوتے ہوئے اصل مدعبے پر آئے ....
وہ میں یہ کہہ رہی تھیں کہ وہاں سب کی ڈریسنگ بہت اچھی ہوتی ہے تو پلیز آپ کو میرے اور صبا کے ہر ہر تقریب کے بہت ہی نفیس جوڑے بنوانے پڑیں گے....
بخاری صاحب کن اکھیوں سے اور مسکراتی آنکھوں سے آصفہ بیگم کو دیکھ رہے تھے سمجھ تو وہ گئے تھے کہ بیگم کچھ اسی طرح کی بات کہنے والی تھی... اچھا ٹھیک ہے کر لینا تم دونوں جاکر شاپنگ.... وہ رضامندی ظاہر کرتے ہوئے بولے... اوکے بہت بہت شکریہ بخاری صاحب میں کل ہی صبا کو شاپنگ پر لے جاؤں گی اور صبا کے نیو اسٹائل والے بہت اچھی ڈیزائننگ کے کپڑے ہی لوں گی آخر سب دیکھیں گے اسے....
پنک کلر کی کرتی اور اس پر بلو کلر کی ٹائٹس گلے میں ڈالا ہوا چندری کا دوپٹہ اس پر غضب ڈھا رہا تھا وہ روز ہی اپنی ماما کے پسندیدہ لائے ہوئے کپڑے یونیورسٹی پہن کر آتی تھی لیکن وہ یونیورسٹی روزانہ اپنے بالوں کی پونی بنا کر آتی تھی یا کبھی کبھی کیچر میں قید کرکے آتی تھی اس کو یوں یونیورسٹی میں بال کھول کے پھر نا بالکل بھی اچھا نہیں لگتا تھا وہ جلدی جلدی کلاس کی طرف قدم بڑھا رہی تھی کہ سسر خرم کو لیٹ اٹینڈنس بالکل بھی پسند نہیں ہیں اسی لئے وہ اکثر کلاس شروع ہونے سے پہلے کلاس میں پہنچ جاتی تھی اسی وجہ سے زیادہ تر کلاس خالی ہی ملتی تھی اکا دکا اسٹوڈنٹس ہی دکھائی دیتے تھے آج وہ کلاس میں داخل ہوئی تو دور سے ہی فہد سیٹ پر بیٹھا نظر آگیا اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے وہ خاموشی سے اس کو کوئی رسپانس دیے بغیر سیٹ پر بیٹھ گئی
جناب عالی آپ کو کوئی مینرز وغیرہ نہیں آتے کیا کےصبح آتے ہی کلاس کو نہ سہی اپنے پڑوسی کو تو ہیلو ہائے کر لیتے ہیں بندی.... فہد تھوڑی پر ہاتھ رکھے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا
ہیلو... وہ برے دل سے بولی...
جی تو نام پوچھ سکتا ہوں میں آپ کا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا صبا اسے گھور کر رہ گی
وہ میرا مطلب ہے کہ جب پورے سال ہی ساتھ بیٹھنا ہے تو کم از کم نام وام تو پتہ ہونا چاہیے کہ مجھے آپ سے کوئی کام پڑ سکتا ہے آپ کو مجھ سے کوئی کام پڑ سکتا ہے ہم فرینڈز بند کر رہے ہیں تو زیادہ اچھا ہو
جی نہیں مجھے فی الحال آپ سے کوئی کام نہیں ہے اور میں یہاں پڑھنے آتی ہوں کوئی دوستیاں کرنے نہیں آتی... صبا نے جل کر منہ دوسری طرف پھیر لیا تو یعنی اب پورا سال آپ جیسی کھڑوس کے ساتھ کلاس میں فل ٹائم بور... وہ دونوں ہاتھوں سے سر کو پکڑ کر چیئر پر گرنے کی ایکٹنگ کر رہا تھا.....
کیا میں کھڑوس.... صبا غصے سے بپھر گئیں... خوب سمجھتی ہوں میں آپ جیسے چھچورے لڑکوں کو.... اپنی بوریت ہی ختم کرنی تھی تو اپنی ہی جیسی کسی اوچھی لڑکی کے کے پاس جا کر بیٹھ جاتے بہت ملیں گی یہاں آپ کو ایسی وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے جواب پر جواب دے رہی تھی ایکسکیوز می مس.... کیا کہہ رہی ہو مجھے کہ میں چھچورا ہوں اور یہاں کی ساری لڑکیاں ا وچھی ہیں... اپنے بارے میں کیا خیال ہے میڈم اگر اتنا ہی لڑکوں سے گریز تھا تو اس یونیورسٹی میں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی....
لڑکوں سے بھاگتی بھی ہو اور کوایجوکیشن کا بھی شوق ہے .... واہ بھئی وہ طنزیہ ہنسی ہنس دیا
سر خررم کلاس میں آنے والے تھے وہ بھی اپنا رجسٹر کہول خاموشی سے بیٹھ گیا جبکہ صبا اپنی بےعزتی پر جل کر رہ گئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *