Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 07)
Rate this Novel
Milan (Episode 07)
Milan by Yusra Mehmood
اتنی لاپرواہی کیوں بیٹا ….آپ کی طبیعت خراب تھی میں مانتی ہوں پر آپ بلینکیٹ تو ڈال لیتی اپنے اوپر تو ابھی بخار میں نہ تپ رہی ہوتی …آصفہ بیگم صباء پر برہم ہوتے ہوئے بولی رات کو وہ اور بخاری صاحب صبا کی چیخ سن کر اسکے کے کمرے میں آ گئے تھے ….وہ ڈر گئی تھی اندھیرے سے…
بغیر کچھ اوڑھے سوئی تو بخار میں تپ رہی تھی …
اگلے دو دن تک وہ کالج بھی نہ جا سکیں اور صبا کی طبیعت کے باعث آصفہ بیگم بھی ولیمے کی تقریب میں شرکت نہ کر سکی …بخار تو اس کا ایک دن میں تھوڑا بہتر ہو گیا تھا پر ڈر کے باعث وہ بستر پر پڑی رہی مبادہ امی پھر اسے ولیمے پر لے جانے کے لئے کا بضدنہ ہو جائیں …اور پھر وہی تقریب میں لائٹنگ آف…
نہ بابا اب تو میں کسی بھی شادی میں نہیں جاؤں گی….
وہ سارا دن اسی شخص کے بارے میں سوچتی رہی کون ہوسکتا ہے وہ فہد کے بارے میں وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس کو ہراساں کرکے اظہار محبت کرنے والا شخص شاید فہد ہو کیونکہ اس کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں تھا اندھیرے کے باعث وہ اس شخص کا عکس بھی ٹھیک سے نہ دیکھ پائی… کاش میں تھوڑی ہمت دکھاتی تو پکڑا جاتا وہ…. اس نے کرب سے سوچا…
####
فہد نے صبا کے گھر رشتہ لے کے جانے پر ماما کو رضامندی دے دی تھی اور ان کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ دل ہی دل میں صبا کو پسند بھی کرتا ہے… عفت بیگم نے شادی کی تقریب میں باتوں باتوں میں آصفہ بیگم کے گھر کا ایڈریس بھی لے لیا تھا ….آج ولیمہ تھا وہ ولیمے کی تقریب میں بے چینی سے صبا کا منتظر تھا پر ولیمے کی تقریب گزر چکی تھی لیکن صبا کی فیملی میں سے کوئی بھی نہیں آیا اس پر مایوسی کے بادل چھا گئے…
کل جب آپ یونیورسٹی جائینگے تو میں صبا کے گھر جاؤں گی آپ کے بابا کے ساتھ عفت بیگم نے فہد کے کمرے میں آکر اسے انفارمیشن دی… اوکے ماما وہ خوشی سے بھرپور لہجے میں مسکرا کر بولا…
لیکن بیٹا یونیورسٹی میں صبا سے ابھی کوئی ایسی ویسی بات نہیں کرنا ..انہوں نے فہد کو تنبیہ کی تھی…
اوکے مما میں بہت خیال رکھوں گا …عفت بیگم مطمئن ہو کر وہاں سے چل دی…
رات بھر وہ اسکی جادو کر دینے والی اداؤں کے بارے میں سوچتا رہا …وہ پہلی نظر میں ہی اس کی زلفوں کا اسیر ہوگیا تھا چپکے چپکے جس کو اپنے دل میں جگہ دی آج وہی اس کی ملکیت بننے جا رہی تھی… ایک خوبصورت احساس کے ساتھ اس نے آنکھیں میچ لی….
####
صبا آج دو دن بعد یونیورسٹی آئی تو اس کا کوئی بھی پیریڈ لینے کو دل نہیں کر رہا تھا…. کینٹین سے منسلک گراؤنڈ میں وہ بیٹھ گئی… سوچوں کا جال اس کی گرد اپنا گھیرا تنگ کرتا ہوا نظر آرہا تھا اور وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اس میں پھنستی جارہی تھی …
کن سوچوں میں گم ہو میڈم عالیہ کب وہاں پر آئی صبا کو علم نہ ہوسکا …اس نے چٹکی بجا کر صبا کو اپنی موجودگی کا احساس دلایا …کچھ بھی نہیں یار وہ بے دلی سے بولی …اچھا تو پہلے یہ بتاؤ کہ میڈم اتنے دن سے کہاں غائب ہیں …
عالیہ اور صبا اسی دن سے بہت اچھی دوست بن گئی تھی جس دن عالیہ نے اس کی ڈریسنگ کروائی تھی
یار بس پیر کی وجہ سے نہیں آئی تھی اور سردی سے بخار بھی چڑھ گیا تھا… وہ خشک لہجے میں بولی مجھے تو کوئی اور وجہ لگ رہی ہے جناب… اتنی گم صم کیوں ہو آخر !!کیا تمہارے گھر والے تمہاری مرضی کے بغیر کہیں رشتہ کرنے لگے ہیں عالیہ صبا کو جان بوجھ کے چھیڑتی ہوئی بولی ….صبا اس کو گھور کر رہ گئی
####
السلام علیکم آصفہ صاحبہ …. آصفہ بیگم نے گیٹ کھولا تو عفت بیگم اور نواز صاحب کو اچانک اپنے گھر دیکھ کر بوکھلا گئی…
اچانک اور بن بتائے ان کا گھرانا اوپر سے بخاری صاحب بھی اپنی ڈیوٹی پر تھے ان کے ہاتھ پیر پھلانے کے لیے کافی تھا… وہ ڈرائنگ روم کھول کر انہیں اندر بیٹھانے لے گی … گھر چھوٹا تھا مگر سلیقہ ایک ایک چیز سے نظر آ رہا تھا…. عفت بیگم حال احوال کے بعد ڈائریکٹ اپنے آنے کے مقصد پر آگئی …آصفہ بیگم ہکا بکا سی ان کے آنے کا مقصد سن رہی تھی لیکن یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ کتنی کنفیوز اور خوش ہو رہی ہیں اس وقت ….وہ دعا گو تو تھی کہ ان کی بیٹی کا رشتہ کہیں بہت اچھی جگہ سے آجائے پر دعائیں اتنی جلدی قبول ہو جاتی ہیں یہ انہوں نے نہیں سوچا تھا ….انہوں نے مہمانوں کی اچھے سے خاطر داری کی عفت بیگم اور نواز صاحب ان کا چھوٹا گھرانہ اور قرینے سے رکھی ہر چیز کی نفاست بہت زیادہ بھا گئی….
لڑکی تو وہ پسند کرہی چکی تھی اس لیے ڈائریکٹ رشتے کی بات ڈال دی تھی آصفہ بیگم نے بخاری صاحب سے پوچھنے اور مشورہ کرکے جواب دینے کے لئے کچھ دن کا ٹائم مانگا تھا ….ضرور ٹائم لیں آپ یہ تو آپ لوگوں کا حق ہے اچھی طرح سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں ….لیکن ہماری طرف سے تو ہاں ہی ہے کیوں کہ صبا مجھے بہت پسند آئی ہے …
معصوم سی بھولی بھالی سی …عفت بیگم آصفہ کو گلے لگاتے ہوئے بولیں اور چلنے کی اجازت چاہی…. آصفہ بیگم کو تو آج ہی پتہ چلا تھا کہ فہد صبا کا کلاس فیلو ہے حیرت ہے صبا نے شادی میں بھی نہیں بتایا …انہوں نے مصنوعی غصے سے سوچا ….عجیب لڑکی ہے یہ بھی ….
####
میں تو جا رہی ھوں بھئی…. جلدی چلو پوری یونیورسٹی خالی ہونے لگی ہے…. عالیہ صبا کو جھنجھوڑتے ہوئے بولی جس نے سارا دن ایک ہی جگہ بیٹھ کر گزار دیا تھا …اچھا تم چلو میں آتی ہوں… صبا بیزاری سے بولی اور اپنی کتابیں سمیٹنے لگی جو اس نے بے مقصد ادھر ادھر پھیلائی ہوئی تھی اس نے جلدی جلدی بک سمیٹی اور بیگ ہاتھ میں لے کر اٹھ کھڑی ہوئی…. یونیورسٹی تقریبا خالی ہو گئی تھی اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے بس ..وہ جلدی جلدی قدم بڑھاتی گیٹ کی طرف جارہی تھی کہ اچانک اسے محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے کوئی ہیولا ہے …جو اس کا پیچھا کررہا ہے صبا اندر تک کانپ گئی اس نے جلدی سے مڑ کر دیکھا تو پیچھے کوئی نہیں تھا لیکن وہ مسحورکن تیز خوشبو جسے وہ ہزار میں بھی پہچان سکتی تھی ….اس خوشبو کا احساس اسے آج پھر ہوا ….یونیورسٹی میں سناٹا ہو رہا تھا وہ خوف اور دہشت سے کپکپا رہی تھی کہیں وہ یونیورسٹی میں بھی میرا پیچھا کرتا ہوا تو نہیں آ گیا اس نے خوف سے سوچا اور تیزی سے بغیر مڑے یونیورسٹی گیٹ کی طرف دیوانہ وار بھاگتی گئی….
اسے آج سے پہلے یونیورسٹی اتنی بڑی کبھی نہیں لگی تھی جتنی آج لگ رہی تھی وہ بھاگتے بھاگتے تھک رہی تھی اس کے پاؤں شل ہو رہے تھے پر وہ بغیر رکے بھاگ رہی تھی کہ اچانک وہ کسی بھاری وجود سے بری طرح ٹکرا گئی
####
پتا نہیں یہ صبا کہاں رہ گی ہے ….عالیہ قریب کھڑے فہد سے بولی ….یار تو اس کو اپنے ساتھ لے کر آتی نہ اکیلی کیوں چھوڑ آئی ہوں اسے ویسے ہی وہ بنا دیکھے ہی چلتی ہے پھر کہیں اس کے چوٹ لگ گئی تو…..فہد ہنستے ہوئے بولا اور اب تو تم بھی نہیں ہو کہ اس کو ڈریسنگ روم تک لے جاؤ… اور آج تو وہ سارا دن کلاس میں بھی نہیں آئی میں جا کر دیکھتا ہوں وہ فکرمندی سے بولا ….ارے بھائی آ جائے گی بلکہ آنے ہی والی ہو گی… عالیہ اس سے فکرمند دیکھتے ہوئے بولی… ویسے فہد بہت بہت شکریہ تمہارا… پر کس بات کا¿ فہد حیرانگی سے بولا اگر اس دن تم مجھے آ کر نہیں بتاتے کہ کوئی لڑکی وہاں گری ہوئی ہے اور میں صبا کو ڈریسنگ روم نہ لے کر جاتی تو میں صبا سے کبھی نہیں ملتی اور نہ مجھے اتنی اچھی دوست ملتی …وہ مجھ سے جونیئر ہیں لیکن بیسٹی بن گئی ہے وہ میری ..عالیہ نہایت خوشی کے جذبات سے بولی …تمہارے اندر خود مدد کا جزبہ ہے عالیہ جو سب کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے اس میں میرا کوئی احسان نہیں ہے … فہد گیٹ کی طرف دیکھنے لگا جہاں سے صبا اور ہادی اسے آتے ہوئے دکھائی دیے
####
وہ ہادی کو سامنے دیکھ کر بری طرح گھبرا گئی تھی کیونکہ وہ بھاگتے ہوئے ہادی سے ٹکرائی تھی… سوری… ٹوٹے لفظوں میں اس نے ہادی کو سوری کیا وہ بہت شرمندگی فیل کررہی تھی ….کیا ہوا اتنی تیزی میں کہاں جا رہی تھی… وہ گہری نظروں سے اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ….نہیں کچھ نہیں… میں بس گیٹ کی طرف جا رہی تھی وہ بری طرح کنفیوز تھی اسے کچھ بتانا بھی نہیں چاہ رہی تھی لیکن وہ تو پوری تفتیش کے موڈ میں تھا… لیکن آپ تو ایسے بھاگتے ہوئے آرہی ہیں جیسے وہاں پر کوئی بھوت دیکھ لیا ہو.. ننہ.. نہیں وہاں کوئی بھی نہیں تھا نا… اس لئے سناٹا ہو رہا تھا تو ڈر لگ رہا تھا مجھے اس لیے بھاگتے ہوئے آ رہی تھی…. دماغ اس کا کام نہیں کررہا تھا جو منہ میں آیا الٹا سیدھا جواب دے دیا
ارے آپ اب تک ڈرتی ہیں اب تو آپ ماشاء اللہ کافی بڑی ہو گئی ہیں ….ہادی گہری نظروں سے اس کے سراپے کو دیکھتے ہوئے بولا …اس کی نظروں کی تپش صبا سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ویسے ہی مایوں کی تقریب میں اسے ھادی کا کے چھچورا پن بالکل اچھا نہیں لگا تھا…. ویسے وہاں واقعی کوئی نہیں ہے کیا ¿اس نے صبا سے سوال کیا
جی یونیورسٹی تقریبا خالی ہوگئی ہے اسی لئے میں جلدی جلدی آ رہی تھی ….lوہ اچھا اچھا لیکن ابھی ابھی فہد گیا تھا اس طرف…. کہہ رہا تھا کہ کوئی ضروری کام ہے اسے..
میں کہتا رہ گیا کہ میں بھی چلتا ہوں پر وہ مجھے روک کر اکیلا ہی چلا گیا …ملا تو ہوگا نہ وہ تمہیں وہاں پر …..ہادی نے صبا سے سوالیہ انداز میں پوچھا….
کیا فہد…. نہیں فہد تو نہیں تھا وہاں پر …. اور آج تو میں ملیں بھی نہیں فہد سے…. وہ شش و پنج میں بولی ….او اچھا چلو چلتے ہیں پھر بہار….
ہادی نے اس کو چلنے کا اشارہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کےگیٹ تک جانے لگا …..
فہد کیسے ہوسکتا ہے وہ…. وہ پریشان کردینے والی سوچوں کے حصار میں پھر سے گھر گئی ….وہاں تو کوئی نہیں تھا پھر فہد کو وہاں کیا کام …..نہ جانے کیوں فہد کے معاملے میں ہر آنے والی نفی سوچ کو جھٹلانے کی کوشش کر رہی تھی وہ …پر کیوں یہ وہ نہ جان پائی…. اگر ایسا کچھ ہےتو فہد اسے ڈرا کیوں رہا ہے…. آہستہ آہستہ سارے ثبوت فہد کی طرف اشارہ کررہے تھے انہیں سوچوں کے حصار میں وہ گیٹ تک پہنچنے والی تھی
پورے رستے میں ہادی اور صبا میں خاموشی چھائی رہی ویسے بھی وہ کسی بھی لڑکے سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی
گیٹ پر پہنچتے ہی اسے فہد نظر آگیا ساری سوچوں کا رخ پھر وہی گھوم گیا
کہاں رہ گئی تھی تم صبا…. پتہ ہے اتنی دیر سے ہم تمہارا ویٹ کر رہے ہیں…. ہادی کو صبا کے ساتھ دیکھ کر فہد کو اچھا نہیں لگا وہ بھی تھیکے لہجے میں بولا جب کہ عالیہ اور فہد کے قریب پہنچتے ہیں فہد کے پاس سے آتی ہوئی اس مخصوص پرفیوم کی تیز مہک وہ آرام سے پہچان گئی…..شک کی جگہ یقین نے لے لی صبا نے دکھتے دل کے ساتھ فہد کو دیکھا ….جبکہ عالیہ ہادی کو صبا کے ساتھ دیکھ کر کچھ کچھ پریشان نظر آنے لگی…..
