Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 10)
Rate this Novel
Milan (Episode 10)
Milan by Yusra Mehmood
وہ اپنے روم میں شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی جیولری اتار رہی تھی…. دل عجیب سے وسوسوں سے ڈرنے لگا تھا اس نے دل میں تہیہ کر لیا تھا کہ وہ فہد سے بول دے گی کے وہ اس منگنی کو قائم نہیں رکھنا چاہتی… صبا کسی بھی صورت ایسے شخص کو اپنا شریک سفر بنانے پر رضامند نہیں تھی جو غلط طریقے سے اس کے قریب آنے کی کوشش کرے…. لیکن میں کیسے منع کروں گی اب… اب تو منگنی بھی ہو چکی ہے.. ماما بابا کتنے خوش تھے
اور….. فہد کی سراہی جانے والی نظر اس کو ابھی تک یاد تھی کہ وہ محبت بھری نظروں سے بار بار صبا کو ہی تکے جا رہا تھا… لیکن دہشت کے آگے اس محبت کے سارے معنی ختم ہوگئے…
####
آج اتنے لیٹ کیوں آئی ہو جان من …کب سے تمہارا ویٹ کر رہے ہیں ہم سب …وہ اپنے اوباش دوستوں کی طرف دیکھ کر مکروہ ہنسی ہسنے لگا…چھوڑو میرا راستہ ورنہ میں ابھی سر کو بلا لو گی… عالیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے دھمکی دینی چاہی ….
ہا ہا ہا ہا ….
کیا کریں گے سر یہاں پر کر …اور اس دن تو تم بچ گئی تھی ہم لوگوں سے …آئندہ خیال رکھنا ڈیر اتنی سی بھی دیر نہیں لگاؤں گا میں… وہ اس کا دوپٹہ ہاتھ میں لیتا ہوا کمینگی سے ہنسا….. عالیہ کی پیشانی پر خوف سے پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں …وہ جیسے کلاس میں آئی تھی ویسے ہی وہاں سے بھاگ گئی…
####
آج فہد خاموشی سے سر کے کلچر کو اپنے رجسٹر میں اتار رہا تھا اس نے نہ ہی صبا کی طرف دیکھا اور نہ ہی اسے مخاطب کیا تھا… وہ کلاس میں بھی لیٹ آیا تھا …آتے ہی اپنے نوٹس کی طرف جھک گیا … سر کے جانے کے بعد کلاس خالی ہونے لگی تھی … لیکن وہ بدستور نوٹس پر جھکا رہا…
صبا کن انکھیوں سے فہد کو دیکھے جا رہی تھی… وہ اس کو مخاطب کرنے کے لئے بہت دیر سے پر تول رہی تھی پر ابھی تک ہمت نہیں جتا پائی… فہد اس کو نوٹ کر چکا تھا کہ صبا کافی دیر سے اس کو ہی دیکھی جارہی ہے تو ہلکی سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گئی…. اس نے رجسٹر سے اپنا سر اٹھایا اور پیار بھری نظروں سے اس کی جھکی پلکوں میں جھانکنے لگا …کہہ دو صبا جو کہنا چاہ رہی ہوں محبت کے اظہار میں اتنی دیر نہیں لگاتے …صبا نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا وہ فہد کی گہری نظروں کا مقابلہ نہ کرسکی اور تیزی سے نظریں جھکا لی…
کیسے سامنا کرو ان مسحور کن نگاہوں کا…..وہ دوبارہ نیچے دیکھ کر ہاتھوں کو مسلنے لگی ..
صبا میں بہت خوش قسمت ہوں کہ مجھے تم جیسا ساتھی ملا… اور میری ما ما بھی بہت خوش ہے کہ ان کو اپنی من پسند بہو مل گئی ہے ….وہ ڈیسک پر سر ٹکائے اپنی محبوبہ کے حسن سے اپنی آنکھیں خیرہ کرنے لگا….
میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی فہد ….ہمت کرکے وہ سپاٹ لہجے میں اسے دیکھتے ہوئے بولی…
اسی لئے پلیز تم اپنے ماما بابا کو اس رشتے سے منع کر دو کہ تم یہ شادی نہیں کرنا چاہتے… کیونکہ میں اپنی طرف سے ما ما اور بابا کو دکھ نہیں دینا چاہتی… فہد یہ سن کر ایک دم سکتے میں آگیا اس کی آنکھوں میں ڈھیر سارے پیار کی جگہ غصے نے لے لی وہ تیوریوں پر بل ڈال کر کھڑا ہوا اور اس سے مخاطب ہوا…. میڈم خود کو کوئی اپسرا سمجھ رکھا ہے کیا… یا مجھے اپنی محبت میں اتنا اندھا سمجھ رکھا ہے کہ میں خود اپنے ماما بابا کو تمہارے لئے منع کر دوں…
شادی پر راضی نہیں تھی تو منگنی کا ناٹک کرنے کی کیا ضرورت تھی… وہ خونخوار لہجے میں بولا… ہمارے خاندان میں منگنی نہیں ٹوٹتی بی بی …وہ مٹھیاں بھینچ کر اس کے قریب آیا اور اس کے اوپر جھکتے ہوئے بولا… اور اگر اتنا ہی شوق ہے اپنا نام میرے نام سے علیحدہ کرنے کا تو خود اپنے ماما بابا کو اس رشتے سے انکار کرو… اس نے غصے میں سامنے رکھے اپنے نوٹس اٹھائے اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل گیا … صبا کے رکے ہوئے آنسو اس کے رخساروں پر بہہ نکلے… اتنا مجبور اس نے اپنے آپ کو کبھی محسوس نہیں کیا تھا… وہ اپنے مامابابا سے بھی کچھ نہ کہہ پائی گھر میں ہونے والی چہل پہل اب اسے زہر لگنے لگی تھی… ان کچھ دنوں میں عفت آنٹی اور انکل دو تین بار چکر لگا چکے تھے اسے بھی ناچار ان لوگوں کے پاس بیٹھنا پڑتا پر وہ تھوڑی ہی دیر بیٹھتی اور یونیورسٹی کے کام کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں آ جاتی… اب اسے کوئی غرض نہیں رہی تھی دو ہفتے بعد ہونے والی پلاننگ سے
####
فہد بیٹا میں نے اور تمہارے بابا نے دو ہفتے بعد منگنی کے بجائے نکاح رکھنے کا فیصلہ کیا ہے… عفت بیگم فہد کو آگاہ کرنے کے لئے اس کے کمرے میں آئی …. لیکن مما اتنا اچانک نکاح کا فیصلہ… کیا صبا کے گھر والے اس بات پر راضی ہوجائیں گے اور صبا خود.. فہد دوپہر کو صبا کی کی ہوئی باتوں سے کافی پریشان تھا اس لئے صبا کی مرضی کا سوچ کر پوچھ بیٹھا .. جی بیٹا ہم نے صبا کے والدین سے بھی بات کر لی ہے انہیں بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے… تو ظاہر سی بات ہے انھوں نے اپنی بیٹی سے بھی پوچھا ہوگا اسے بھی کوئی اعتراض نہیں ہوگا تبھی انہوں نے بھی حامی بھر لی… اب آپ بتائیں جلدی سے آپ کو اس اچانک کے فیصلے پر کوئی اعتراض تو نہیں ہے.. وہ فہد کی طرف کھوجتی ہوئی نظروں سے دیکھ کر بولی …اوکے ماما جیسے آپ اور بابا جانی چاہیے ویسے ہی کرے… مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے …اس نے بھی حامی بھر لی …تو پھر ٹھیک ہے بیٹا کل آپ کو میرے ساتھ مارکیٹ جانا ہے صبا کے نکاح کا ڈریس بھی لینا ہے اور بہت سے کام بھی ہیں …مہمانوں کو بھی انویٹیشن دینے ہیں… پتہ نہیں کیسے سنبھال پاؤں گی میں یہ ساری ذمہ داریاں اکیلے …عفت بیگم فکرمندی سے سوچنے لگی… ماما آپ کیوں پریشان ہو رہی ہے میں اور بابا ہے نا آپ کے ساتھ… اور پھر صائمہ آنٹی بھی تو ہیں وہ تو آپ کی ساری پرابلمز منٹوں میں دور کر دے گی …فہد عفت بیگم کی فکر تھوڑی سی کم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور ان کے روم سے جانے کے بعد بیڈ پر ڈھیر ہو گیا…
کیوں دماغ خراب کرتی ہے وہ روز روز میرا… اس کی سوچوں کا رخ صبا کی طرف مڑ گیا آنکھیں کچھ اور کہتی ہیں اس کی اور زبان کچھ اور ….نہ جانے کیوں وہ مجھ سے خار کھاتی ہے ….نہ جانے اسے کیا بدگمانی ہے مجھ سے کیوں اتنا خفا خفا رہتی ہے اور شادی کیوں نہیں کرنا چاہتی مجھ سے آخر… وہ پریشانی سے سوچنے لگا…. نہیں ایسا نہیں ہوسکتا وہ کسی اور کے بارے میں نہیں سوچ سکتی…چلو اچھا ہے منگنی کے بجائے بڑوں نے نکاح کا فیصلہ کرلیا ہے… پھر میں پورے حق سے تمہیں اپنا کہہ سکوں گا صبا…. وہ اپنی آنکھوں میں سنہرے خواب بننے لگا …
####
پر ماما ایسے کیسے ابھی تو صرف منگنی ہو رہی تھی دو ہفتوں بعد …اب سیدھا آپ لوگ نکاح کی باتیں کرنے لگے… اتنا سب کیسے ہو جائے گا اچانک…
آپ بول دیں آنٹی سے آپ ابھی نکاح کے لیے تیار نہیں ہیں بالکل… وہ ماں کے سامنے روہانسی ہو کر بولی..
تمہارے بابا کا فیصلہ ہے یہ اگر منا ہی کرنا ہے تو جاؤ اپنے بابا کو منع کرو جاکر ….آج کل کی لڑکیوں کی زبان گز گز بھر کی ہوگئی ہیں جب ہمارے زمانے میں رشتوں کی باتیں ہوتی تھیں تو ہم کسی کے سامنے بھی نہیں جا پاتے تھے… انہیں دیکھو اپنے ماں باپ کو مشورہ دینے کے لیے ہر دم تیار ….آصفہ بیگم غصے میں ادھر ادھر چیزیں پٹختی ہوئی بولی… اور ہاں عفت بیگم آئنگیں شام میں تمہیں لینے…. وہ تمہاری پسند کا ڈریس لینا چاہ رہی ہیں اس لئے تمہیں بھی لے کر جاۓ گی اپنے ساتھ….تیار رہنا …صبا کی بولتی بند ہو چکی تھی وہ نکاح رکوانے کے لیے جتنی مزاحمتی کر رہی تھی وہ سب اب دم توڑ چکی تھی….یونیورسٹی سے آکر اسے عفت آنٹی کے ساتھ بازار جانا تھا…. اب جو میری قسمت میں ہے اسے شاید قبول کرنا پڑے وہ کرب سے سوچ کر رہ گئی….
####
بڑی ہی بے مرّوت دوست ہو یار نکاح میں چار دن رہ گئے ہیں موصوف کے اور مجھے اب پتہ چل رہا ہے ….عالیہ مصنوعی ناراضگی سے صبا سے پیچھے منہ موڑ کر بیٹھ گئی …مجھے کب پتہ تھا کہ قسمت کے فیصلے اتنی جلدی ہو جائیں گے میرے… وہ غیر مرئی نقطے پر نظریں جما کر بولی….
اچھا اچھا اب زیادہ فلمیں باتیں نہیں کرو سب پتہ ہے مجھے اندر ہی اندر لڈو پھوٹ رہے ہوں گے دل میں… عالیہ نے اسے چھیڑتے ہوئے کہا تو صبا اسے گھورنے لگی…
کس کے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہیں ہمیں بھی تو پتہ چلے …فہد جو کب سے عالیہ اور صبا کو دور سے کھڑا دیکھ رہا تھا ایک دم سے ان کے پاس آیا….
صبا اسے دیکھ کر بری طرح جھیںپ گئی…. کل تک منگنی ہونے کی بات تھی اب وہ شرعی طور پر اس کی ہونے جارہی تھی شرم کنفیوژن اور خوف سے چہرہ لال ہونے لگا تھا… جبکہ عالیہ فہد کو دیکھ کر بگڑگئی….
تم تو رہنے ہی دو میرے سامنے تو دونوں ایسے لڑتے ہو جیسے کئی نسلوں سے بیر چلا آرہا ہے دونوں کے بیچ میں اور چپکے چپکے دونوں نے بات نکاح تک بڑھادی…. داد دینی چاہیے تم دونوں کی دوستی کو….
ہا ہا ہا کیا تمہاری دوست نے نہیں بتایا ہمارے رشتے کے بارے میں …وہ صبا کو گہری نظر سے دیکھتے ہوئے بولا جو سرجھکائے بس اپنے ہاتھوں کو تکے جا رہی تھی ….وہ عالیہ سے کافی دیر تک باتیں کرتا رہا اور صبا کی کنفیوژن سے لطف اندوز ہوتا رہا….
####
صبا ہوگی تیار بیٹا… آصفہ بیگم نے اس کے کمرے میں جھانکتے ہوئے پوچھا… جئ مما بس ریڈی ہو گئی ہو…
کیا آگئی عفت آنٹی… صبا اپنا دوپٹا سیٹ کرتے ہوئے بولی… نہیں فہد آیا ہے تمہیں لینے …عفت بیگم پہلے ہی مارکیٹ چلی گئی تھی کچھ اور بھی چیزیں لینی تھی انہیں… فہد کام سے کہیں باہر گیا ہوا تھا تو انہوں نے ہی کہا تھا کہ صبا کو فہد کے ساتھ بھیج دیں ….
کیا ….مما لیکن…..
