Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 17)
Rate this Novel
Milan (Episode 17)
Milan by Yusra Mehmood
وہ اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ فہد کے سامنے تھی ….
فھد جیسے اپنی نظریں جھپکانا بھول گیا …
فہد کا اس طرح دیکھنا صبا کو بہت کچھ سمجھا گیا …
او میرے خدا….
اس نے تیزی سے موبائل نیچے کرکے لائن ڈسکنیکٹ کی ….
صبا کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب انداز میں چل رہی تھی …پتہ نہیں پہلے نمبر میں نے کیوں نہیں دیکھا ….
وہ اپنی انگلی دانتوں میں دبائے خود سے شکایت کرنے لگی …
اور پھر بیڈ پر لیٹ کر بلا وجہ مسکرانے لگی…
مجھے آپ سے عشق ہے فہد …
اس نے خود سے سرگوشی کی….
####
وہ چاند سے وجود کو تکے جارہا تھا ….
دودھ جیسا شفاف چہرہ اور اس پر اس کی کھلی زلفیں اسکے شانوں پر پھیلی ہوئی تھی ….
صبا اس پر بجلیاں گرا رہی تھی وہ بغیر نظر ہٹائے اسے دیکھتا رہا کہ اچانک موبائل کی اسکرین سیاہ ہو گئی…
اور دوسری طرف سے لائن کاٹ دی گئی…
او…نو…. وہ افسردہ سا ہوگیا کاش تم فون نہیں کاٹتی صبا اور میں تمہیں یوں ہی دیکھتا رہتا ….
وہ آنکھیں بند کیے صبا کو اپنی آنکھوں میں بسائے خود سے ہم کلام تھا….
لیکن اس نے دوبارہ کال کر کے اپنی بے چینی کو صبا پر ظاہر ہونے نہیں دیا …
ماما آپ نے بھی اتنی دیر سے رخصتی کی ڈیٹ رکھی ہے …
فہد کو اب یہ دن گزار ناگویا پہاڑ سر کرنے کے برابر لگ رہا تھا ….
####
وہ یونیورسٹی آف ہوتے ہی سڑک پر پیدل چلنے لگی تھی….
ابھی پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے اسے چلتے ہوئے سڑک جیسے ہی تھوڑی سنسان ہوئی ایک گاڑی اس کے پاس تیزی سے آکر رکی…
زبردستی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے گاڑی میں ڈالا گیا اور گاڑی سنسان رستوں پر بھاگنے لگی….
####
کیوں لائے ہو مجھے یہاں پر …..
وہ ہادی پر چیخی جو اسے اپنے دوستوں کے مشترکہ فلیٹ پر لے آیا تھا جو کہ ایک سنسان سڑک پر واقع تھا ….
کول ڈاؤن بےبی وہ اس کی کلائی کوجکڑتے ہوئے بولا ابھی اتنی دور سے آئی ہوں تھوڑا ریسٹ تو کر لو …
یا اگر بہت جلدی ہے تمہیں ڈارلنگ تو بتانا شروع کرو تمہیں کیوں لایا ہوں میں تمہیں یہاں پر ….
وہ اس کے کان کے پاس آ کر سرگوشی کرنے لگا …
عالیہ جھٹکے سے اس سے دور ہوئی …
تھوڑی دیر بعد میرے اور دوست بھی آنے والے ہیں جان من پھر مل کر انجوائے کریں گے ….
وہ اسے خوف سے کانپتا دیکھ کر استہزائیہ انداز میں بولا …
ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا اور ھادی کے آوارہ دوست بھی کمرے میں آگئے …
وہ ہادی سمیت پانچ لوگ تھے …
یہ بات… بھائی …
بہت اچھا کیا آپ نے کب سے ہمارے چنگل سے بچ رہی تھی یہ…
ایک دوست رال ٹپکاتاہوا عالیہ کی طرف بڑھنے لگا …
ر کو دوست ابھی تو آئے ہو ذرا سانس تو لے لو تم ….
وہ اپنے دوست کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو روکتے ہوئے بولا ….
تب تک ذرا میں اس سے حساب چکتا کرلوں ….
بہت سے ادھار چکانے ہیں …
ہادی عالیہ کو گھورتا ہوا اس پر جھپٹا ….
رک جاؤ ینگ مین….
کمرے کا دروازہ دھڑ سے کھلا …
دانیال انکل اپنی ٹیم کے ساتھ کمرے میں آچکے تھے …ہینڈز اپ…
کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے …
دانیال انکل کے اشارے پر ایک ایک کانسٹیبل نے پانچوں کو ہتھکڑیاں لگائیں…
عالیہ بھاگ کر دانیال انکل کے گلے لگ گئی وہ خوش تھی کہ وہ اپنے مشن کو کامیاب بنا سکی….
####
فہد بہت خوش تھا جب سے عالیہ نے اسے فون پر بتایا تھا ہادی اور اس کے دوستوں کے بارے میں کہ پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا ہے اس کو جیسے دلی سکون میسر آگیا ہو ….
صبا کے ساتھ ہادی اس کا بھی برابر کا گنہگار تھا ….
عالیہ نے اور بھی بہت سے انکشاف کیے تھے جب سے وہ اپنے آپ کو ہی مجرم سمجھ رہا تھا ….
عالیہ نے فہد کو صبا کی غلط فہمیوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا تھا ..کہ کس طرح ھادی اسے ڈراتا دھمکاتا اور سارے اشارے فہد کی طرف کر دیتا اگر صبا کی جگہ کوئی اور بھی ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا جو شاید صبا نے کیا پر ….
صبا تم ایک بار مجھ پر اعتبار تو کرتی …..
تم نے مجھ پر اعتبار نہ کر کے اور ھادی پر اعتبار کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے …..
###
صائمہ بیگم اور نواز صاحب اس وقت پولیس اسٹیشن میں موجود تھے …
ان کے سر آج ان کی اولاد کی وجہ سے جھکے ہوئے تھے ….
نواز صاحب بزنس میں بزی ہو کر اور صائمہ بیگم اپنے سوشل ورک میں مصروف رہ کر اپنے طور سے اولاد کی پرورش کی ذمہ داری بخوبی انداز سے پوری کر رہے تھے ….
کاش میں اتنی مصروف نہ ھوتی…
صائمہ بیگم بہت دکھ سے ہادی کی طرف دیکھنے لگی جو اپنے اوباش دوستوں کے ساتھ جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا اور اسے کوئی شرمندگی نہیں تھی….
میں ضمانت کرانا چاہتی ہوں اپنے بیٹے کی …
انہوں نے دانیال سر کو مخاطب کرکے ماحول کی خاموشی کو توڑا….
کوئی ضرورت نہیں ہے ظمانت کرانے کی اس کی … نواز صاحب صائمہ بیگم کو روکتے ہوئے بولے…
یہیں رہنے دیں اسے…
اس جرم کی سزا کی جتنی بھی معیاد ہے ایک دن بھی کم نہیں ہونا چاہیے …پوری سزا ملنی چاہیے اسے …..وہ ہادی کو دیکھ کر بولے…
بلکہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جب تک ان لوگوں کو عقل نا آ جائے یہی رکھیں انہیں ..
.
مجھے ایسی نالائق اولاد کی کوئی ضرورت نہیں ہے ..
.
وہ غصے سے اپنی سیٹ سے اٹھے اور باہر کی طرف چل دیے….
صائمہ بیگم بھی ان کے پیچھے پیچھے اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی چلنے لگی….
####
یونیورسٹی میں ایگزامز شروع ہوچکے تھے فہد بھی واپس آچکا تھا ….
لیکن رول نمبر دور ہونے کی وجہ سے فہد اور صبا الگ الگ ڈیپارٹمنٹ میں ہوتے تھے ….
عالیہ سے کبھی کبھی ٹکراؤ ہو جاتا تھا فہد کا ….
لیکن فہد صبا سے نہ مل سکا …
صبا آتی بھی عالیہ کے ساتھ ہی تھی ….
فہد کی طرح صبا بھی ہادی کی گرفتاری پر بہت خوش تھی لیکن وہ عالیہ پر شدید غصہ بھی تھی …
یار تمہیں اتنے خطرے میں نہیں پڑنا چاہیے تھا ….
نہیں صبا خطرہ کیسا یہ کام پوری پلاننگ سے ہوا ہے ڈئیر ….
انکل تو فلیٹ کی بلڈنگ کے اندر ہی موجود تھے اور کمرے کی ایک ایک ریکارڈنگ انکل دیکھ رہے تھے …
انہوں نے مجھے پوری سیفٹی کا یقین دلایا تھا اسی لیے میں نے ان کی مدد کرنے کی حامی بھر لی …
ورنہ ہادی پر اتنی آسانی سے ثبوت کے بغیر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکتا تھا …
عالیہ کی باتوں سے صبا کچھ مطمئن ہو گئی…
####
آج آخری پیپر تھا وہ حسب معمول عالیہ کے ساتھ کینٹین کی طرف جارہی تھی….
دیکھو صبا میں نے فہد کو تمہاری ساری سچائی بتا دی ہے لیکن وہ پھر بھی یہی کہہ رہا ہے کہ تمہیں اس پر اعتبار کرنا چاہیے تھا ….
اسے تو ابھی بھی یہی لگتا ہے کہ تم اس رشتے سے خوش نہیں ہو ….
عالیہ صبا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی..
میں خوش ہوں عالیہ بلکہ بہت خوش ہوں….
ان تھوڑے دنوں میں فہد سے عشق کر بیٹھی ہوں ….
وہ ہلکا سا مسکرائی…
وہ عالیہ سے چند قدم آگے آکر آسمان کو تکنے لگی جہاں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا …
میں کچھ دیر اس سورج کی تیز روشنی کا تو مقابلہ کر سکتی ہوں عالیہ …
وہ سورج کو گھورتی ہوئی بولی …لیکن اپنے محبوب کی نظروں کا نہیں نہ جانے کیسی تپش ہے اس کی آنکھوں میں ….
وہ کافی دیر رو شنی میں دیکھنے کے بعد جب عالیہ کو دیکھنے لگی تو اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا آگیا وہ کچھ نہ دیکھ سکی ….
اس کی آنکھیں چندھیا سی گئی اور وہ چکراکر گرنے لگی….
تو کسی کی مضبوط باہوں نے اسے تھام لیا……
اس نے ذرا کی ذرا نظر اٹھا کر دیکھا تو اپنے سے قریب فہد کے عکس کو دیکھ کر وہ بری طرح جھنیپ گئی….
صبا تیزی سے جانے کو پلٹی تو فہد نے اس کا بازو پکڑ کر دوبارہ اپنی اور کھیںچا ….
کہاں جا رہی ہو میڈم…
وہ خمار آلود لہجے میں اس سے گویا ہوا…
عالیہ کہاں گئی وہ پریشان سی ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی…
ارے میں تمہیں کوئی کھانہیں جاؤں گا صبا جو تم اتنا گھبرا رہی ہو …
وہ اس کی کنفیوژن سے محفوظ ہوتے ہوئے بولا عالیہ اپنے گھر چلی گئی ہے
کیا اب میں کیسے جاؤ گی گھر ….اسے تو میرے ساتھ جانا تھا….
صبا پریشان سی ہوگئی …کیا مطلب کیسے جاؤں گی …
میں نے آنٹی کو فون کردیا ہے کہ آپ میرے ساتھ پہلے لنچ پر جائیں گی پھر میں آپ کو گھر ڈراپ کروں گا ….
فہد صبا کی آنکھوں میں دیکھے دیکھے بولا
خفت سے صبا نے نگاہیں نیچے جھکا لی اور وہ اس کا ہاتھ کھینچتا ہوا صبا کو گیٹ کی طرف لے آیا…
