Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 08)
Rate this Novel
Milan (Episode 08)
Milan by Yusra Mehmood
صبا بیٹا تم نے بتایا کیوں نہیں تھا کہ فہد تمہارا کلاس فیلو ہے وہ کھانا کھا رہی تھی تو ماما اسی کے پاس بیٹھ گئی …فہد کا نام سن کر ہی وہ چوکی جی کون فہد ….یہ فہد کے بارے میں امی کو کس نے بتا دیا وہ حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی… چھپانے کی ضرورت نہیں ہے مجھے پتہ ہے کہ وہ تمہارا کلاس فیلو ہے آج عفت بیگم آئی تھی گھر …فھد کی مما انہوں نے ہی بتایا ہے… کیوں فہد کی مما گھر کیوں آئی تھی …صبا کا حلق خشک ہونے لگا تھا دماغ سن ہو رہا تھا یہ سوچ کر ہی انٹی یہاں کیوں آئی … بیٹا تمہارا رشتہ لے کر آئی تھی فہد کے لئے….
فہد ان کا اکلوتا بیٹا ہے, خاندان گھر بار بہت ہی اچھا ہے میں نے فون پر تمہارے بابا سے مشورہ بھی کیا ہے ان کو بھی اس رشتے میں فی الحال کوئی برائی نظر نہیں آئی… ظاہر سی بات ہے گھرانہ نیک ہے اور پیسے کی بھی کوئی پریشانی نہیں ہے …. اتنے زیادہ مالدار تو نہیں ہیں لیکن بہتر ہیں تم خوش رہو گی وہاں پر … ماما اسے تفصیلات سے آگاہ کررہی تھے اور وہ غش کھا نے کو تھی…
تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نہ صبا …وہ صبا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس سے پوچھنے لگی.. مجھے نہیں پتا مما اس بارے میں کچھ یہ کہہ کر وہ اپنے روم میں چلی گئی آصفہ بیگم کے رخساروں پر مسکراہٹ آ گئی …شرما کر چلی گئی ہے وہ برتن سمیٹے ہوئے سوچنے لگی…
####
صبا غم و غصے کے عالم میں ادھر ادھر ٹہل رہی تھی… سمجھتا کیا ہے خود کو… اس نے مٹھیاں بھینچ لی… ایک طرف تو میرا دم نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے موصوف اور دوسری طرف شرفاء کی طرح اپنی ماں کو بھیج دیا میرے گھر رشتہ لیکر …میں تم سے نفرت کرتی ہوں فہد…. جب کسی کو چاہا جاتا ہے تو اس کے سامنے اپنی دہشت نہیں پھیلائی جاتی اور نہ ہی اظہار کے لئے بیہودہ طریقوں کا استعمال کیا جاتا ہے… اس کے رخسار گیلا ہونا شروع ہوگئے اور وہ تکیے میں منہ چھپا کر اوندھی لیٹ گئی
####
.
نہیں ماما میں اب یونیورسٹی نہیں جاؤں گی… بلینکیٹ دوبارہ اپنے گرد لپیٹ کر وہ عاصفہ بیگم سے بولی … کیوں کیوں نہیں جاؤ گی تمہارا دماغ تو درست ہے… شرافت سے اٹھو دیر ہو رہی ہے.. آصفہ بیگم نے اس کے چہرے سے بلینکیٹ ہٹایا …ممہ پلیز وہ التجا یا انداز میں بولی… فورن اٹھ جاؤ ورنہ پانی کا جگ انڈیل دونگی تمہارے اوپر …ماما کی دھمکی کارگر ثابت ہوئیں اسے بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا …یونیورسٹی جانے سے ڈرنے لگی تھی وہ.. گھر میں وہ کچھ بتا بھی نہیں سکتی تھی… بغیر کوئی بہانہ کیے وہ اس کی طرف چلی گئی…
####
وہ حسب معمول کلاس میں جلدی پہنچ گئی تھی ابھی کلاس میں اکا دکا ہی لوگ تھے وہ بھی سر کے آنے تک باہر ٹہلتے تھے… وہ فہد کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی تھی اور اس کا سامنا کیے بنا کوئی چارہ بھی نہیں تھا کل بھی سارا دن کلاس سے غائب رہی اب ہر بات کلاس کو نہیں چھوڑ سکتی تھی…. وہ چیئر پر بیٹھی اسی سوچوں میں گم تھی… فہد کلاس میں داخل ہوا صبا کو سر دوسری طرف رکھے ہیڈاؤن پایا… وہ دبے پاؤں آیا بغیر آواز کئے چیئر پر بیٹھا اور اسی پوزیشن میں صبا کی طرف رخ کرکے ھیڈڈاؤن ہو گیا …. ڈیسک پر کئے گئے صبا کے پین کا شور بری طرح فہد کے کانوں کو ناگوار گزر رہا تھا اس سے اب اپنا سر ڈیسک پر رکھنا مشکل لگ رہا تھا جبکہ صبا سب سے بے خبر اپنے پین سے آڑے ترچھے نقش بنانے میں مصروف تھی… کیا مصیبت ہے فہد نے اپنے کانوں کو رگڑتے ہوئے اپنا سر اوپر اٹھا لیا فہد کی آواز پر صبا نے بھی جلدی سے مڑ کر دیکھا تو ناگواری کے اثرات اس کے چہرے پر عیاں ہونے لگے …. تم …
جی میں …ایک ہاتھ اپنے اسی ڈیسک پر ٹکائے اور ایک ہاتھ اپنی تھوڑی پر رکھے وہ اسے پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا…صبا کنفیوز ہو کر اپنی جگہ پر رکھیں بکس کو دیکھنے لگی وہ فہد کی دلیرانہ نظروں کا سامنا نہیں کر پا رہی تھی اسی لئے نیچے دیکھنے میں ہی اکتفا کیا … کیا مصیبت ہے اس کی آنکھیں تو گم کی طرح میرے وجود سے چپک کر رہ گئی ہیں… کیا کرو وہ دونوں ہاتھ بری طرح مسلنے لگی… گھر سے تو نہ جانے کیا کیا سوچ کر آئی تھی کہ آج فہد سے دو دو ہاتھ کرے گی… اس کے سامنے آتے ہی اس کی زبان گنگ ہو گئی تھی… وہ دل سے کلاس میں سر کے جلدی انے کی دعا کرنے لگیں اور شاید قبولیت کا وقت تھا سر کلاس میں آ چکے تھے… سب احتراما کھڑے ہو گئے فہد نے کھڑے ہوتے ہوئے صبا کے پاس کان کے پاس سرگوشی کی*** لکس پریٹی ڈیر ***اور شرارتی مسکراہٹ اپنے ہونٹوں پر سجا کر کھڑا ہو گیا صبا نے گھور کر اسے دیکھا اور نظری دوسری طرف پھیر لی …
####
کلاس ختم ہوتے ہی وہ تیزی سے عالیہ کی بتائی ہوئی جگہ پر بیٹھ کر عالیہ کا ویٹ کرنے لگی یونیورسٹی کے بیک سائیڈ کی راہ داری تھی وہاں پر اسٹوڈنٹس کے لیے سیٹیں لگائیں گئی تھی… وہ وہیں بیٹھ گئی ایک کتاب کھول کر عالیہ کے آنے کا انتظار کرنے لگی مطالعہ کرتے کرتے وہ بور ہو گی تو کتاب اپنے چہرے پر رکھ کر سر کو پیچھے سیٹر سے ٹکا لیا …کچھ دیر ایسے ہی بیٹھے رہی کہ اس کو پھر اسی تیز مہک کا احساس ہونے لگا صبا نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں ادھر ادھر دیکھا کوئ نہیں تھی… وہ سنبھل سنبھل کر تیز تیز قدم بڑھاتی ہوئی وہاں سے جانے لگیں خوف سے ننھی ننھی پسینے کی بوندیں اس کی پیشانی پر نمودار ہو گئی تھی وہ تیز تیز چلتی جا رہی تھی… اچانک اس کا ہاتھ کسی نے پکڑ کر کھینچا وہ بل کھاتی ہوئی مقابل کی طرف کھنچتی چلی گئی اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتی مقابل جس نے اسے ایک پتلی سی راہداری کی طرف کھینچا تھا اس کی دیوار سے صبا کو ٹکا کر اس کے دونوں ہاتھ اپنے ایک ہاتھ سے پکڑے ہوئے, اور دوسرا ہاتھ صبا کے منہ پر رکھ دیا خوف سے صبا کی آنکھیں بند تھی…. گھٹی گھٹی سسکیاں صبا کو ہی سنائی دے رہی تھی… آنکھوں سے نکلتا پانی مقابل کے ہاتھ کو گیلا کر رہا تھا آئی_ لو _یو _صبا ٹھہرے ٹھہرے انداز سے کی گئی سرگوشی پھر اس کے کان میں سنائی دی… ڈرو مت ڈیر ..آنکھیں کھولو اور اپنے عاشق کو تو دیکھو جو بنا کسی ڈر کے بنا کسی خوف کے تم سے اظہار محبت کر رہا ہے اور تم ہو کہ آنکھیں بند کئے ڈری سہمی کھڑی ہو ….ایک دھندلی سی تمسخرانہ آواز سنائی دی جیسے کوئی منہ پر کپڑا رکھ کر بات کر رہا ہوں صبا اس کی آواز پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی پر وہ پہچان نہ پائیں دھیرے دھیرے صبا نے آنکھیں کھولی…. اگر آج ہمت کر لیں تو شاید میں اسے پہچان کر پکڑوا دو… آنکھیں کھولتے ہی اس نے اپنے سراپے پر دو آنکھیں گڑھی دیکھیں …چہرے کو ڈھکا ہوا تھا چہرہ اس طرح سے چھپایا گیا تھا کہ بمشکل ہی آنکھیں نظر آ رہی تھی…. نہ وہ اسے پہچان پائی اور نہ ہی کچھ کسکی ….اس کے ہاتھوں کو سختی کے ساتھ پکڑا گیا تھا… مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو جان من… میں بہت جلدی سامنے آؤں گا وہ ایک ہاتھ سے اس کے دونوں ہاتھ چھوڑ کر اسے پورا دیوار سے اور لگا کر اس کے چہرے پر جھکا ….اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کرکے صبا کی زلفیں اس کے شانوں پر بکھیر دیں… تم سے کہا ہے نہ کہ تم میری ہو تو اتنا ڈرنے کی کیا بات ہے … بس کچھ دن کی بات ہے پھر میری دسترس میں ہو گئی تم.. میرے نام سے منسوب ہو جاؤں گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے… وہ اجنبی اس کی زلفوں میں اپنی انگلیاں پھیرتا ہوا بولا صبا خوف سے کپکپا رہی تھی اس کی ہجکیاں مسلسل بن رہی تھی… وہ تو لڑکوں سے زیادہ بات بھی نہیں کرتی تھی اور آج کوئی انجان شخص اسے اپنی دسترس میں لے کر اس کے بالوں سے کھیل رہا تھا …. اللہ میری حفاظت فرما…. صبا نے دل سے دعا کی اور درد سے آنکھیں ایک بار پھر بند کرلیں… اوکے اوکے اتنا رو …. چھوڑ رہا ہوں…
اس نے اپنی گرفت ڈھیلی کی اور صبا کو ایک زور کا جھٹکا دے کر اور چکر دے کر وہاں سے تیزی سے فرار ہو گیا…. چکر کھا کے وہی کچھ دور گر گئی صبا کو سنبھلنے میں جتنی دیر لگی تب تک وہ اجنبی اس سے بہت دور جا چکا تھا بس ہلکی سی اس کے کپڑوں کی جھلک دیکھ پائی صبا جو بالکل اسی رنگ کے تھے جو آج فہد پہن کر آیا تھا ….صبا صدمے اور تکلیف سے وہی غش کھا کر گرگئ….
####
صبا نے آنکھیں کھولیں تو عالیہ اس پر جھکی اس کو آوازیں دے رہی تھی… وہ کچھ دیر عالیہ کی گود میں سر رکھے ہی پڑی رہی پھر سنبھل کر اٹھی… کیا ہوا صبا کیوں بے ہوش ہو گئی تھی تم… اپنی کلاس چھوڑ کر یہاں پر کیوں آئی تھی ہمیں تو بریک کے بعد ملنا تھانہ اور اگر طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو یونیورسٹی کیوں آئی تھی صبا عالیہ فکرمندی سے بولی… وہ صبا کو لے کر ایک سیٹ پر بیٹھی تھی…. صبا نے چاروں طرف نظر گھمائی تو صبا عالیہ کے ساتھ ایک سیٹر پر بیٹھی ہوئی تھی… میں یہاں کیسے آ ئ میں تو وہاں
… اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا تھا… تم وہاں گری ہوئی تھی وہ تو میں اور فہد تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے یہاں آئے تو ہمیں تم یہاں بےہوش ملی… عالیہ وضاحت دینے لگی…. کیا فہد.. صبا چوکی ہاں وہ تمہارے لئے پانی لینے گیا ہے ….لو وہ آگیا سامنے سے فہد کو آتا دیکھ کر عالیہ بولی… صبا نے فہد کو غور سے دیکھا اور جو اسی رنگ کے کپڑوں میں ملبوس تھا ہاں البتہ اس نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا تھا ….
صبا کو پورا یقین ہو گیا تھا کہ وہ فہد ہی ہے جو مجھے اذیت دے رہا ہے… صبا غصے سے فہد وہ دیکھتی ہوئی اٹھی اور اس کے قریب گئی… فہد اس کو اپنے قریب آتا دیکھ کر پانی کا گلاس صبا کو دینے لگا جو وہ صبا کے لئے ہی لایا تھا
پانی پی لو صبا شکر ہے تم ہوش میں آ گئی ہو… صبا نے فہد سے گلاس لے لیا اور بغیر پیے وہ پانی فہد کے چہرے پر اچھال دیا……. اس اچانک حملے پر وہ ر ہڑبڑا گیا
