Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 13)
Rate this Novel
Milan (Episode 13)
Milan by Yusra Mehmood
صبا کی آنکھیں خوف سے پھٹی ہوئی تھی آنسو مسلسل بہہ رہے تھے…
اس کی زلفیں جو ہادی کے شکنجے میں تھی وہ چھڑانے کی لگاتار کوشش کرتی رہی مگر ایک مرد ایک چٹان جیسے وجود کے سامنے اس کی ساری کوششیں بیکار ہوتی گئی ….
صبا کو اپنی غلطی پر شدت سے پشیمان ہو رہا تھا کہ وہ فہد کے ساتھ …..
اس کے آگے وہ نہیں سوچ رہی تھی …
پلیز مجھے چھوڑ دو میں نے کیا بگاڑا ہے تمہارا پلیز …وہ اب منتیں کرنے لگی اس کو اپنی عزت تارتار ہوتے نظر آ رہی تھی….
صبا کو فہد کی شدت سے یاد آرہی تھی جو بے قصور ھوتے ھوئے بھی صبا کو قصوروار ہی لگا…
ہادی کو آنسو بہاتی صبا پر اور زیادہ پیار آ رہا تھا اس نے صباء کو اور خود سے قریب کیا….
ہادی نے صبا کے ہونٹوں کو فوکس کیا اور اس کے قریب ہوا….
صبا نے پھرتی کی سی تیزی سے ہادی کے قریب آتے وجود پر اپنے دانت گڑا دیئے….
اپنے آپ کو بچانے کی صبا کی یہ چھوٹی سی کوشش تھی….درد کی شدت سے ہادی کی گرفت تھوڑی ڈھیلی ہوئی….
صبا پیچھے کو کھسکی تیزی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر کی طرف بھاگنے لگی….
####
فہد ہادی کی گاڑی کا خاموشی سے پیچھا کرتا رہا …..
ہادی کی کار کی اسپیڈ جیسے جیسے بڑھ رہی تھی ویسے ویسے فہد بھی اپنی کار تیزی سے آگے بڑھاتا رہا .
اس کو نہ صرف آج اپنی محبت کو بچانا تھا بلکہ ہادی کو بھی سبق سکھانا لازمی ہو گیا تھا….
اس پر جنون سوار تھا اس کی عزت کے بارے میں ھادی کی اتنی گندی سوچ ….
جنونی کیفیت میں وہ آگے اور آگے جاتا رہا…
سنسان رستے میں دو گاڑیاں بھاگی جا رہی تھی دونوں گاڑیوں میں تھوڑا فاصلہ تھا کہ اچانک ہادی کی گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی
.
تھوڑے فاصلے پر فہد نے بھی اپنی گاڑی روک لی کچھ دیر کی گاڑی میں کوئی حرکت نہ ہوئی تو فہد پریشان ہو گیا اور کار سے اتر گیا ….
####
ہادی نے فوری سمجھنے کی کوشش کی اور کار سے نکل کر صبا کے پیچھے بھاگا وہ دیوانہ وار بھاگ رہی تھی اپنی عزت بچانے کی چھوٹی سی کوشش اس نے کی تھی صبا پیچھے مڑے بغیر بس بھاگے جا رہی تھی بھاگتے بھاگتے اچانک ایک مضبوط وجود سے ٹکرا گئی وہ یہی سمجھی کہ وہ دوبارہ ہادی سے ٹکرا گئی ہے اس سے پہلے کہ وہ اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھتی دہشت کی وجہ سے وہ مقابل کے ہاتھوں میں گرتی چلی گئی…..
####
فہد کی باہوں میں صبا دہشت اور تھکاوٹ کی وجہ سے ڈھے چکی تھی….
سامنے سے آتا ہادی صبا کے ساتھ فہد کو دیکھ چکا تھا فہد نے پھرتی سے صبا کو اپنی باہوں میں بھر کر ایک درخت کے ساتھ لٹایا …..
جب تک ھادی فہد پر اپنا وار کرنے ہی والا تھا کہ فہد نے پیچھے مڑکر اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور دوسرے ہاتھ کا مکہ بناکر اس کے جبڑے کے پاس دھر دیا ….
اس بھرپور جوابی حملے پر ہادی سنبھل ہی نہیں پایا اور نیچے گر گیا ….
خون کی بوندیں اس کے منہ سے باہر آنے لگی ….
جب تک ہادی سنبھلتا فہد نے ادھر ادھر نظر دوڑائی اور کچھ ڈھونڈنا چاہا ….
فورا ہی اسے اپنی مطلوبہ چیز مل گئی وہ درخت کی لکڑی لے کر ہادی کی طرف بڑھا ….
غصے سے فہد کی حالت غیر ہونے لگی تھی وہ لگاتار لکڑی سے ہادی پر ضرب لگانے لگا ….
کچھ ہی دیر بعد ھادی کی ہمت جواب دے گئی ….وہ تیزی سے اٹھا اور مخالف سمت بھاگنے لگا جہاں اس کی کار کھڑی تھی ….
ہادی جلدی سے گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا …
اس وقت ھادی فہد سے فی الحال پنگا نہیں لینا چاہتا تھا کیونکہ فہد پر خون سوار تھا ….
اس نے اس وقت یہاں سے فوری بھاگنے کو ہی ترجیح دی …
شدید زخمی ہو کر یہاں پڑا رہا تو کون ڈھونڈتا اسے اس سناٹے میں ….
وہ تیزی سے کار بھگا لے گیا ….
####
ہادی کے جاتے ہی فہد صبا کی طرف لپکا جو کہ ابھی تک بے ہوش تھی….
لیکن اس کے وجود میں ہلکی پھلکی حرکت ہونے لگی تھی شاید اس کو ہوش آ رہا تھا …
یہی سوچ کر وہ دو زانو بیٹھ کر صبا کو اٹھانے لگا…
فہد نے سہارا دے کر صبا کو پکڑ کر اٹھایا…..صبا نے اچانک آنکھیں کھول دیں اپنے ساتھ کسی وجود کے احساس کے وہ پھر دوبارہ اٹھ کر بھاگنے کی کوشش کرنے لگی ……تو اسے روکنے کے لئے فہد نے اس کا ہاتھ کھینچا ….
صبا اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور فہد کی طرف کھنچتی چلی گئی ….
وہ فہد کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی فہد کو دیکھ کر وہ سکتے کی سی کیفیت میں آگئی ….
صبا فہد کو یک ٹک دیکھے جا رہی تھی آنسو لگاتار اس کے رخساروں پر بہتے جا رہے تھے ….
شرمندگی سے صبا نے اپنا چہرہ نیچے جھکا لیا جو فہد پر اعتبار نہ کر کے اسے چھوڑ کر آ گئی تھی آج وہی اس کی عزت بچانے کی وجہ بنا ……
زلفیں ابھی بھی صبا کے چہرے پر بکھری ہوئی تھیں لیکن فہد پر اس حسین منظر کا کوئی اثر نہیں ہؤا ….
اس نے جھٹکے سے صبا کو اپنے آپ سے الگ کیا اور کپڑے جھاڑ کر کھڑا ہو گیا…..
صبا زمین پر پڑی بے بسی سے فہد کو دیکھتی رہی جس نے بے رخی سے صبا کی طرف سے نظریں پھیری ہوئی تھی ….
وہ اپنے لئے نفرت فہد کی آنکھوں میں دیکھ دیکھ رہی تھی صبا پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ….
بند کرو یہ رونا دھونا اب اور فورا گاڑی میں آؤ میں انتظار کر رہا ہوں ….
تمہارا اور اگر پانچ منٹ تک تم گاڑی میں نہیں آئی تو چھوڑ جاؤں گا تمہیں پھر کسی وحشی درندے کے لیے ….
یہ کہتا ہوا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا کار میں بیٹھ گیا …
وہ اپنی آنکھوں سے آنسو رگڑتی ہوئی اٹھی اور چار و ناچار کار کی فرنٹ سیٹ پر جا کر بیٹھ گئی مبادا فہد اسے چھوڑ کر ہی نہ چلا جائے ….
جس کو وہ کئی کئی باتیں سنا جاتی تھی آج اس کی بے رخی صبا سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ….
وہ یہی سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہی تھی کہ پتا نہیں فہد اس کے بارے میں کیا کیا نہیں سوچیں …
وہ فہد سے معافی مانگنا چاہتی تھی …
الفاظ اس کی زبان پر آ کر رک سے جاتے گاڑی سڑک پر بھاگنے لگی اپنا حلیا درست کرو ….
اور بول دینا مما کو کہ میں نے آج تمہیں کالج سے پک کیا تھا اور اپنے ساتھ آؤٹنگ پر تمہیں لے گیا تھا …فہد سامنے دیکھے دیکھے ہیں صبا سے مخاطب تھا … صبا نے اپنی بکھری زلفوں کو سمیٹنا چاہا تو اسے یاد آیا کہ اس کا کیچر شاید ہادی کی کار میں ہی رہ گیا تھا ….صبا نے جلدی سے اپنے ہاتھوں سے جوڑا بنا کر بالوں کو باندھا اپنے دوپٹے کو اسکاف کی طرح سر پر لپیٹ لیا….آنسوؤں کو صاف کرکے چہرے کو تھوڑا بہتر کیا ….
فہد نے صبا کے گھر کے پاس گاڑی روکی اور تیز تیز ہارن بجانا شروع کر دیا ….
صبا سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ہارن کی آواز سن کر آصفہ بیگم گیٹ سے باہر نکل کر آئیں جو کہ شاید صبا کا ہی انتظار کر رہی تھی…
السلام علیکم
….وعلیکم السلام…بیٹا کیسے ہو آپ اور آپ دونوں ….
وہ سوالیہ نظروں سے صبا کو دیکھنے لگی آنٹی میں صبا کو کالج سے پک کر کے ڈرائیو پر لے گیا تھا ….سوری آپ کو ان فارم نہیں کیا ….
وہ دونوں ہاتھوں سے کانوں کو پکڑ کر بولا
ارے نہیں بیٹا کوئی بات نہیں بس اب تو تمہاری ہی ہہو جائے گی صبا ….
وہ فہد کے جواب سے جیسے مطمئن ہوگئی…
صبا فہد کو مشکور نگاہوں سے دیکھ رہی تھی جس نے آج اس کی نہ صرف عزت بچائی تھی…. بلکہ اسے ماما کے مشکل سوالات سے بھی بچا لیا تھا ….
