Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Episode 16)

Milan by Yusra Mehmood

بیگانے شہر میں آکر فہد کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا….

ماما بابا کی اسے شدت سے یاد آرہی تھی…

اور ماما سے تو وہ بس ہر وقت کی گپپے لگاتا رہتا تھا اب ایک دن گزارنا مشکل ہو رہا تھا اسے ….

پروہ کچھ دن صبا کو اپنے لیے تڑپتا ہوا دیکھنا چاہتا تھا …

صبا کی آنکھوں میں چھپی محبت تو وہ دیکھ چکا تھا پر اب وہ اسے اس کی غلطی کا بھی احساس دلانا چاہتا تھا اسی لئے اپنی محبت کے لیے وہ سب سے دور آیا تھا ….

پاپا سے بزنس کا بول کر آیا تھا تو علی کے ساتھ دیانتداری سے اپنے کام پر بھی پوری توجہ دے رہا تھا …

پر رات ہوتے ہی نیند اس سے جیسے روٹھ سی جاتی ماما نے اسے فون پر بتایا تھا کہ دو مہینے بعد کی کی رخصتی کی ڈیٹ فکس کر دی گئی ہیں اس خبر نے جہاں اس کو دلی خوشی بخشی تھی اس نے وہیں اس کے دل سے دعا نکلی تھی کہ صبا کو مجھ سے عشق ہو جائے….

####

وہ اپنے بیڈ پر لیٹے بے مقصد چھت کو تکے جا رہی تھی ….

بار بار صبا کو فہد کا روکھا پن یاد آجاتا تو آنسو پھسل کر اس کے بالوں میں جذب ہوجاتے ….

صبا نے کالج جانا بھی بہت کم کر دیا تھا ایگزام ہونے والے تھے تو تقریبا سلیبس بھی ختم تھا …

صبا کی رخصتی سے 20 دن پہلے ایگزام ہونے تھے…

اس کی تیاری تو تھی مکمل اسی لیے وہ زیادہ کالج نہیں جا رہی تھی ….

فہد کی واپسی بھی ایگزام سے کچھ دن پہلے کی تھی…

فہد بھی کالج میں نہیں ہوتا تھا تو ہادی کا ڈر اس کو کالج جانے سے روک رہا تھا….بس وہ دل ہی دل میں یہی دعا کر رہی تھی کہ ہادی کو اس کے کیے کی سزا مل جائے….

جیسے جیسے رخصتی کے دن قریب آ رہے تھے صبا کی بے چینی بڑھتی ہی جا رہی تھی نہ جانے فہد کیسا کرے اس کے ساتھ….

####

چھوڑو میرا راستہ عالیہ نے سخت لہجے میں ہادی سے کہا جو کینٹین کے پاس اس کا رستہ روکے کھڑا تھا….

کیسے چھوڑ دوں تمہیں جب کہ میں جانتا ہوں کہ یہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے… اس نے عالیہ کی کلائی کو مضبوطی سے اپنے شکنجے میں لیا ….

تم کس بارے میں بکوآس کر رہے ہوں میں کچھ نہیں جانتی پلیز مجھے چھوڑ دو…

وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے ہادی کا سخت ہاتھ اپنے ہاتھ سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی…

ہاں تم تو جیسے بہت معصوم ہو تم نے ہی بھیجا تھا نہ اس دن فہد کو میرے پیچھے….

اب ہادی نے عالیہ کو دیوار سے لگا کر اس کی تھوڑی اپنے ہاتھ سے اوپر کی اور اسے خون خوار نظروں سے دیکھا …

عالیہ خوف سے کانپ رہی تھی اور دل سے دعا کر رہی تھی کہ کوئی بھی جلدی سے اس طرف آئے تو اس کی جان ہادی سے چھوٹے ….

ن _نہیں میں نے فہد کو کچھ نہیں کہا تھا…

ہادی پتہ نہیں تم کس بارے میں بات کر رہے ہو….

میں فہد کو جانتی ہوں دوستی بھی ہے میری اس سے پر جس بات کا تم مجھ سے پوچھ رہے ہو اس سے میں بالکل لاعلم ہوں ….

صبا بمشکل ہمت کر کے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولی …

او اچھا میں نے یقین کر بھی لیا تمہاری معصومیت پہ واقعی تم تو بالکل لاعلم ہوں تم تو دودھ پیتی بچی ہوں کہ یہ بھول گئی کہ ہادی سے پنگا لینے کا کیا انجام ہوگا …

وہ عالیہ کے چہرے پر آئی لٹو کو کان کے پیچھے کرتا ہوا بو لا….شکر کرو کہ ابھی میرے دوست یہاں نہیں ہیں ورنہ وہ تم سے پوچھنے کی بھی زحمت نہیں کرتے ….

وہ اپنے دوستوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا جو آجکل چھٹیوں پر تھے ….

ہادی کی حد سے زیادہ قربت سے عالیہ سفید پڑ چکی تھی …

اس کے رخساروں پر آنسو بہہ رہے تھے ….

لیکن ایک بات یاد رکھنا میڈم ان کی فلیٹ کی چابی ابھی بھی میرے ہی پاس ہے انتظار کرنا ….تمہاری وجہ سے جو میں صبا کے ساتھ نہ کر سکا اب تمہارے ساتھ کروں گا….

وہ انگلی سے عالیہ کو وان کرتا ہوا اس سے پیچھے ہٹا …

اسٹوڈنٹس کا شور یونیورسٹی کے اس طرف آنا شروع ہو گیا تھا ….

ہادی اسے چھوڑ کر فرار ہو گیا …

اور وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ وہاں بیٹھتی چلی گئی…

####

میں ہادی کو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دوں گی …

اب ایسا نہیں ہوگا کہ جب اس کا دل چاہے وہ کسی بھی لڑکی کی زندگی خراب کردے….

یونیورسٹی والے تو کچھ کریں گے نہیں اس کے خلاف ….

مجھے دانیال انکل سے بات کرنی ہی ہوگی چاہے جتنی پریشانی مجھے اٹھانی پڑے میں ہا دی کو سزا ضرور دلواوگی ….

اپنے کمرے کے ڈبل بیڈ پر لیٹی عالیہ مسلسل دوپہر میں ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچے جا رہی تھی….

عالیہ تین کمروں کے ایک مکان میں اپنی ماں کے ساتھ رہتی تھی اس کے والد کا انتقال عالیہ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا جب سے وہ ماں کے ساتھ اس گھر میں رہتی تھی….

عالیہ کے ماموں جنہیں وہ دانیال انکل کہتی تھی پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک اچھے عہدے پر فائز تھے….

انہی سے عالیہ نے ہادی کے مسئلے پر بات کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ….

اپنی امی کو عالیہ نے جان بوجھ کر کچھ بھی نہیں بتایا تھا کہ وہ کبھی بھی اسے ان غنڈوں کے منہ لگنے نہیں دیتی ….

لیکن عالیہ اس وقت اپنی عزت کی پرواہ کئے بغیر دوسری معصوم لڑکیوں کے بارے میں سوچ رہی تھی جو روز ان امیر زادوں کی گری ہوئی حرکتوں کا شکار ہوتی تھی ….

عالیہ نے فون کرکے دانیال انکل سے بول دیا تھا کہ وہ ان سے کسی ضروری کام کے سلسلے میں ملنا چاہتی ہے …

اس کو اب پورا یقین تھا کہ میرا گھر سے نکلنا بھی اب کسی خطرے سے خالی نہیں ہے….

####

کیا بات ہے بیٹا کیا ضروری کام تھا تمہیں مجھ سے جو تم نے مجھے ارجنٹ ملنے کا کہا ….

دانیال انکل عالیہ کو دیکھتے ہوئے بولے جو چہرے سے انھیں بہت خوفزدہ لگ رہی تھی….

جی انکل میں واقعی بہت پریشان ہوں…

عالیہ نے ہادی کے بارے میں سب کچھ دانیال انکل کو بتایا…..ہمیں بہت پلاننگ سے اس کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہوگا بیٹا اور مجھے تمہاری ہیلپ بھی بہت ضرورت ہو گی ….

اس کا اگلا شکار تم ہو گی اگر تم میری انسٹرکشن پر چلو جیسا میں کہوں ویسا کرو تو اس پر ہاتھ ڈالنا بہت آسان ہوجائے گا …..

وہ عالیہ کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے….

پر انکل اگر وہ کوئی نقصان ….

وہ پریشانی سے دانیال انکل کی طرف دیکھنے لگی …..

اگر اپنے انکل پر تھوڑا سا بھی بھروسہ ہے تو تمہیں بالکل پریشان نہیں ہونا چاہیے …..

اوکے انکل ٹھیک ہے لیکن آپ پلیز امی کو ابھی کچھ نہیں بتائے گا ورنہ وہ مجھے کبھی بھی اس معاملے میں نہیں پڑنے دیں گی ….

وہ دانیال انکل سے رکویسٹ کر رہی تھی اوکے میرا بچہ میں کچھ نہیں بتاؤں گا باجی کو …..

وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولے…

####

موبائل کی بیل سے اس کی آنکھ کھلی جو نرم گرم بستر کے مزے لوٹ رہی تھی….

لیٹے لیٹے ہی صبا نے سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا اور بیزاری سے اپنا چہرہ باہر نکال کر اپنے بالوں کو پیچھے کرتے ہوئے نظریں موبائل کی اسکرین پر جما دیں ….

نمبر دیکھتے ہی وہ لمحے میں اچھل کر بیڈ پر بیٹھ گئی ….

خوشی سے اس کی آواز بند ہو گئی تھی مسکراہٹ چہرے پر بکھر گئی ….

ابھی وہ سوچ رہی تھی کے فون اٹھائے کہ فون بج بج کر بند ہوچکا تھا ….

اف یہ کیا کر دیا میں نے فون اٹھا ہی لیتی اب تو وہ کبھی بھی دوبارہ رنگ نہیں کریں گے …..

وہ اپنا سر پکڑ کر اپنے آپ کو کوسنے لگی اور موبائل سائیڈ پر ڈال اپنا منہ گھٹنوں میں دے دیا کہ ایک بار پھر سے موبائل بجنے لگا……

فہد کالنگ دیکھ کر جیسے وہ پھر سے جی اٹھی ….

تیزی سے صبا نے کال ریسیو کی مبادا پھر سے نا بند ہو جائے ….

ہیلو ….وہ ہمت کر کے کپکپاتی آواز میں بولی ….

او تو یہ آپ کا نمبر ہے….

فہد اجنبی لہجے میں بولا …

کیوں آپ کو جیسے پتا نہیں ہے کہ یہ میرا نمبر ہے ….

وہ خفا خفا سے لہجے میں بولی ….

جی نہیں مجھے بالکل بھی اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ نمبر آپ کا ہوگا مجھے تو یہ نمبر مما نے دیا تھا کہ اتنی دور گئے ہوئے ہوں آصفہ آنٹی سے خیر خیریت لے لو ….

وہ مزید صبا کو چھیڑتے ہوئے بولا حالانکہ کے یہ نمبر اس نے عالیہ سے یونیورسٹی میں ہی لیا تھا ….

وہ خود بھی صبا کی آوازسننے کو بے چین تھا پر صبا کو یہی ظاہر کر رہا تھا کہ وہ اس سے سخت ناراض ہے ….

اوکے میں دیتی ہوں مما کو صبا نے بھی اپنا لہجہ سرد کرلیا …

ایک منٹ اگر تم نے فون اٹھا ہی لیا ہے تو ایک بات کا جواب دے دو ماما نے کہا تھا کہ میں تم سے پوچھ لو….

فہد اپنی ہنسی دباتے ہوئے اس سے بولا…..ابھی تک مما ہی آپ کو بولنا سکھاتی ہیں یا خود بھی کچھ بول لیتے ہیں …

ویسے جلدی بولیے کیا کہہ رہی تھی مما وہ بھی فہد کی باتوں کو اگنور کرتے ہوئے بولی……

وہ مما پوچھ رہی تھی کہ جو انہوں نے تمہیں رنگ بھجوائی تھی وہ کیسی لگی تمہیں …

اس کو چھیڑنا فہد لطف دے رہا تھا صبا کے چہرے کے زاویے بگڑے ….

جب مما پوچھا ہے تو میں ماماہی کو جواب دے دوں گی ….

اور وہ تیزی سے کمرےسے نکل کر اپنا فون آصفہ بیگم کے حوالے کر کے کمرے میں آکر بیٹھ گئی…

تھوڑی دیر بعد آصفہ بیگم اسے موبائل واپس کرکے چلی گئی اور بول کے گئی تھی کہ فہد رات تک دوبارہ فون کرے گا مجھے لازمی بتا دینا …

جی اچھا مما ….

وہ دوبارہ موبائل لے کر بے دلی سے بیڈ پر بیٹھ گئی …..

ہمم …..

سمجھتا کیا ہے خود کو وہ منہ میں بڑبڑائی اور موبائل ڈریسنگ پر رکھ کر فریش ہونے کے لئے واش روم کی طرف بڑھ گئی….

####

وہ نہا کر کمرے میں آئی تو گیلےوال بالوں کو ٹاول سے سکھانے لگی ….

اچانک موبائل کی بیل بجی …

بالوں کو صاف کرتے کرتے اس نے موبائل کانوں سے لگایا …

ہیلو… میڈم ویڈیو کال میں موبائل کانوں کے نہیں چہرے کے سامنے کیا جاتا ہے ….

صبا کے کانوں میں آواز گونجی تو اس نے گھبرا کر اسکرین پر نمبر دیکھنا چاہا …

تو سامنے اسکرین پر فہد کو دیکھ کر وہ دھک سے رہ گئی ….

فہد اس کے حسین سراپے کو تکے جارہا تھا..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *