Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Episode 14)

Milan by Yusra Mehmood

جگمگاتی روشنیوں میں شہر کے ایک بڑے بینکوئیٹ میں نکاح کی تقریب رکھی گئی…..

سرخ اناری لہنگا زیب تن کیے وہ کوئی پری لگ رہی تھی…

دونوں طرف کے قریب قریب کے تقریبا سب ہی رشتے دار مدعو تھے ….

صبا دلہن کا روپ لیے ڈریسنگ روم میں بیٹھی تھی ….

برات آگئی …برات آگئی ….کہ شور نے اس کے دل کو زور سے دھڑکا دیا …

آنکھوں میں اداسی کے ڈورے صاف دکھائی دے رہے تھے ….

فہد مجھے معاف کر دو پلیز اس کے دل نے التجا کی لیکن یہ التجا فہد کے کانوں تک نہ پہنچ سکی ….

####

اپنے رشتے داروں کی جھرمٹ میں بلیک کلر کی شیروانی پہنیں وہ بھی کسی سے کم نہیں لگ رہا تھا ….

آج ہزاروں کے بیچ وہ صبا کو اپنا بنانے آگیا تھا ….

فہد کو صبا پر بہت غصہ تھا وہ ساری باتوں سے بے خبر بھی تھا شاید اسی لئے صبا سے ناراض ناراض سا تھا ….

ورنہ اس کو تو صبا پر پختہ یقین تھا لیکن اس کو راہ راست پر لانے کے لئے تھوڑا غصہ دکھانا لازمی ہے اس نے دل میں سوچا ….

فہد کو بہت ناگوار گزرا تھا کہ صبا نے اس پر اعتبار نہ کرکے اور حادی پر اندھا اعتماد کرکے اس کے دل کو بہت ٹھیس پہنچائی تھی….

نہ ہی صبا فہد پر اعتماد کرتی تھی اور نہ ہی کبھی اس نے فہد سے اچھا رویہ رکھا ….

یہ سب باتیں فہد کے دماغ میں گڈمڈ ہو رہی تھی اس دن کے بعد سے عالیہ سے بھی فہد کی ملاقات نہ ہو پائی کہ وہ اس سے ہی

صبا کے بارے میں پوچھ لیتا ….

فہد صبا کو اپنانا تو چاہتا تھا ….

لیکن ہر بات کلیئر بھی کرنا چاہتا تھا….

####

دھڑکتے دل کے ساتھ صبا نے نکاح نامے پر سائن کیے ….

آصفہ بیگم کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی …

رکے ہوئے آنسو باہر آنے کے لئے بیتاب تھے…

صبا بیٹا اتنا کیوں ہلکان ہو رہی ہو….

آصفہ بیگم بھی اپنے آنسو چھپاتے ہوئے صبا سے بولی جو خود آنسوؤں کو کافی دیر سے ضبط کیے بیٹھی تھی ….

سب طرف سے مبارک ہو مبارک ہو کی صدا بلند ہو رہی تھی …

عالیہ ڈریسنگ روم کے باہر کھڑی نکاح کی مبارکباد سن چکی تھی وہ جلدی سے اندر جانے کی کوشش تو کر رہی تھی اور بہت زیادہ رش ہونے کے باعث ابھی تک کامیاب نہیں ہوسکی تھی….

اسٹیج پر بھی فہد کے پاس گلے ملنے والوں کا تانتا بندھا ہوا تھا…

اب تھوڑی دیر میں صبا کو بھی فہد کے پاس بٹھا دیا جائے گا عالیہ نے سوچا مجھے جلدی سے صبا سے مل لینا چاہیے ….

وہ رش کم دیکھتے ہی ڈریسنگ روم میں داخل ہوگی ….

اس کی نظر سامنے بیٹھی سجی سنوری صبا پر پڑی جو بت بنی سر جھکائے بیٹھی تھی….

کیسی ہو …..

گلے لگاتے ہوئے عالیہ نے اس سے پوچھا….

عالیہ تم اتنی دیر کیوں لگا دی آنے میں….

اس کے آنسو دوبارہ سے بہنا شروع ہو گئے….

رو نہی بھائی ابھی تو فہد نے دیکھا بھی نہیں اور تم سارا میک اپ بھی خراب کر دو….

عالیہ ٹشو سے میکپ صحیح کرنے لگی…

عالیہ وہ مجھ سے ناراض ہیں اور اب ان کی ناراضگی مجھ سے برداشت نہیں ہو رہی….

وہ میرے اتنے قریب آ کر مجھ سے کتنے دور چلے گئے ہیں ….

وہ ایک بار پھر سے رو دینے کو تھی ….

خبردار صبا اب نہیں رونا بالکل….

ابھی تقریب چل رہی ہے ابھی ریلیکس رہو…

مجھے پتہ ہے جو بھی ہوا ہے تم دونوں کو کہیں نہ کہیں غلط فہمی ہوئی ہے …وہ صبا کو سمجھانے لگی….

میں فی الحال ابھی تم سے کوئی بات نہیں کر سکتی کیونکہ آنٹی اور ساری لڑکیاں تمہیں لینے کے لئے آرہی ہیں…

اب تمہیں فہد کے ساتھ اسٹیج بٹھا دیا جائے گا تو پلیز اپنے آپ کو نارمل رکھو….

####

ہادی غصے سے مٹھیاں بھینچ رہا تھا…

اس دن فہد نے آکر اس کی ساری پلاننگ پر پانی پھیر دیا تھا….

اسے صبا اچھی لگی تھی لیکن صرف دوسری لڑکیوں کی طرح کھلونے کے طور پر استعمال کرنے کے لئے …

ہادی نے صبا کو اسی لئے ڈرایا دھمکایا اور فہد کی طرف سے بدگمان بھی اسی لئے کیا تھا کہ وہ صبا کو اپنا اعتبار دلاسکے …

جو وہ اسے دلانے میں کافی حد تک کامیاب بھی ہو گیا تھا…

اس کی آنکھوں میں فہد کے لئے خون اتر رہا تھا جس نے دو کوڑی کی لڑکی کے لئے اس پر ہاتھ اٹھانے کی جرات کی تھی…

وہ تو اس دن ہادی نے صائمہ بیگم کے سوالات سے بچنے کے لئے بہانہ بنا دیا تھا کہ چھوٹا موٹا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ….

جب صائمہ بیگم نے اس سے اتنی چوٹیں لگنے کی وجہ پوچھی تھی…

آج صبا کا نکاح تھا صائمہ بیگم اور نواز بیگ صاحب گئے تھے نکاح میں….

مگر وہ گھر پر ہی تھا لگتا ہے فہد اور صبا نے اپنے گھر میں بھی میرے بارے میں کچھ نہیں بتایا….

ہادی سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے سوچنے لگا….

وہ فہد سے بدلہ لینا چاہتا تھا ….

پر اس کو صحیح موقع کی تلاش تھی…

####

اس کی نظر صبا کے حسین سراپے میں الجھ کر رہ گئی تھی…

کیا وہ کوئی اپسرا ھے ….

وہ سجی سنوری سکھیوں کے ساتھ اسٹیج کی طرف ہی آ رہی تھی اس کی جھکی آنکھیں فہد کو اپنے قبضے میں کرنے کے لئے کافی تھی …

لیکن اس کا چہرہ ایک دم اتر گیا …

میں بہت خوش ہوتا صبا اگر تم پوری خوشی سے مجھے اپناتی…

اس نے دل میں سوچا …

تم نے کئی بار میری بےعزتی کی میں نے سب برداشت کر لیا لیکن مجھے چھوڑ کر کسی اور کے اوپر بھروسہ کیا …

چاہ کر بھی تمہیں معاف نہیں کر پا رہا…

فہد نے صبا سے نظر ہٹا لی اور ہال میں ارد گرد دیکھنے لگا …

صبا اس کے پہلو میں آکر بیٹھ چکی تھی لیکن سارے جذبات جیسے مر سے گئے.

.

صبا فہد سے جیسے ہی قریب ہوئی وہ اس سے دور جانے لگا

####

کیا ہوا فہد ایسا بھی کیا سوچ رہے ہو…

کہیں صبا کو آج ہی رخصت کرنے کا تو ارادہ نہیں ہے …

عالیہ نے مذاق کیا وہاں موجود سب

لوگوں کے کہکہے بلند ہو گئے …..جب کہ اس کے برابر میں بیٹھی صبا کنفیوز ہوگئی اور دل سے انتظار کرنے لگی کہ فہد کیا جواب دیتا ہے …

نہیں ایسی بھی کوئی بات نہیں میرا تو ابھی رخصتی کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے…

فہد نے صبا پر نظر ڈالے بغیر جواب دیا صبا کے دل میں چھن سے کچھ ٹوٹا ….

فہد مجھ سے نفرت کرتا ہے …وہ کرب سے سوچنے لگی ہے…

آپ کے ارادے سے کیا ہوتا ہے بیٹا جانی …

بہت ہیں دو مہینے پھر لے جاؤں گی اپنی بہو کو تو میں …

عفت بیگم نے صبا کو گلے لگاتے ہوئے کہا اور آصفہ بیگم بھی اپنی بیٹی دماد کی بلائیں لینے سے نہیں تھک رہی تھی…

####

فہد کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی وہ آنکھیں جیسے ہی بند کرتا بار بار صبا کا حسین وجود سامنے آجاتا وہ چاہ کر بھی اس کے خیالوں سے دور نہیں جا سکتا تھا….

لیکن وہ کچھ دن کے لئے صبا سے دور رہنا چاہتا تھا نکاح تو ہو گیا تھا فی الحال وہ رخصتی تک صبا کے سامنے نہیں آنا چاہتا تھا ….

اسی لئے اس کے دماغ میں جلد ہی ایک خیال آیا …

صبا سے دور جانے کا اس سے اچھا آئیڈیا اس کو نہیں لگا ….

فہد نے حتمی فیصلہ کر کے صبح ماما بابا سے اجازت لینے کا سوچا لینے کا….

تم نے مجھے بھی بہت تڑپا یا ہے صبا اب تڑپنے کی باری تمہاری ہے جانے من …. تلخ مسکراہٹ اس نے چہرے پر سجالی….

####

گھر آکر مسلسل رونے اور تھکن کی وجہ سے نیند بہت جلد ہی اس پر مہربان ہوگئی تھی….

صبح بھی وہ کافی دیر سے اٹھی تھی….

اٹھتے ہی اس کی نظر اپنے ہاتھوں کی مہندی پر پڑی…

پچھلی رات کے مناظر آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنا شروع ہو گئے…

نکاح کے بعد اس نے فہد سے محبت سے لے کر عشق تک کا سفر کیا .

اب میں جلدازجلد فہد کی غلط فہمی کو دور کر لونگی… صبا نے سوچ لیا تھا کہ وہ عالیہ کے ذریعے ہی فہد کی غلط فہمی کو دور کر سکتی ہے ….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *