Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Episode 04)

Milan by Yusra Mehmood

رات بھر کروٹیں بدل بدل کر جب صبح وہ یونیورسٹی پہنچا تو کافی حد تک سمبھل چکا تھا…. دوسروں سے اپنے دل کی کیفیات چھپانے کا فن آتا تھا اسے….

صبا آج یونیورسٹی نہیں آئی تھی شاید اپنے پیر کی وجہ سے نہیں آئی ہو گی اس کو صبا کی چوٹ یاد آئی ….ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پر بکھر گئی…

کلاس ختم ہوتے ہی وہ بیگ اٹھا کر باہر کی طرف چل دیا آج اس کا یونیورسٹی میں بھی پڑھائی میں دل نہیں لگا وہ بوجھل قدموں سے باہر کی طرف جا رہا تھا ….ارے ارے فہد سمبھل کے بھائی آنکھیں بند کر کے چل رہا ہے کیا …. ہادی کے ٹوکنے پر وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا ….اوہ ہادی سوری یار سر میں درد تھا …..

تو سنا آنٹی کیسی ہیں اور شادی کی تیاریاں کیسی چل رہی ہے گھر میں ….ہاں یار امی بالکل ٹھیک ہے تم بتاؤ آرہے ہو نہ کل مائوں کے فنکشن میں …. ہادی نے سوالیہ نظروں سے پوچھا ….ہاں ضرور یار آنا تو پڑے گا ورنہ بچپن کی سہلیوں میں جنگ چھڑ جانے کا خدشہ ہے اگر منع کیا آنے کو تو…….فہد نے اپنی امی اور صائمہ آنٹی کی دوستی کی طرف اشارہ کیا تو ہادی بھی بے ساختہ مسکرا د یا

لیکن فہد پلیز تھوڑا جلدی آنا تجھے تو پتہ ہے مجھ سے زیادہ یہ شادی وادی کے انتظامات سنبھالے نہیں جاتے کل پہلا فنکشن ہے ہمارے گھر کا انتظام تو سارے نوکر چاکر ہی دیکھیں گے لیکن ان کے سر پر جب تک کھڑا نہ ہوا جائے تجھے پتہ ہے جب تک کہاں کام پربت ہوتا ہے تو اسی لئے ہمبلی ریکویسٹ ہے یار جلدی پہنچ جانا آنٹی کے سات اچھا ٹھیک ہے یار جلدی آ جاؤں گا اور اگر تم تھوڑا ذمہ داری کے ساتھ کام کروں تو آنٹی کو بہت زیادہ خوشی ہوگی…. وہ ہادی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اس کو سمجھاتے ہوئے بولا… ہاں تو کونسا نہیں کروں گا کرنا تو پڑے گا تم آ جاؤ گے تو اکیلا نہیں پڑوں گا میں…. ہا ہا ہا اچھا زیادہ مسکہ نہیں لگاؤ…. آ جاؤں گا….. فہد قہقہ لگاتے ہوئے بولا

فہد کی امی عفت بیگم اور عادی کی امید صاحبہ صائمہ بیگم بچپن کی سہیلیاں تھیں اسکول سے لے کر آج تک وہ کانٹیکٹ میں تھی…. اکثر گھر میں آنا جانا رہتا تھا اسی لئے دونوں فیملیز آپس میں کلووز تھی…. صائمہ بیگم ہادی کے ساتھ فہد کو بھی اپنا بیٹا مانتی تھیں … ہادی کے علاوہ ان کی ایک بڑی بیٹی سعدیہ بھی تھی جس کی شادی ہو رہی تھی….. سعدیہ اپنے ماں باپ کی فرماںبردار اولاد تھی جبکہ ہادی تھوڑا لاپروا تھا وہ گھر کی ذمہ داریوں سے بھی لاپروا ساتھ رہتا تھا….

گھر کے نوکر ہیں تو مجھے ان جھنجٹ میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے وہ اکثر یہی کہتا تھا… ہادی کی امی ایک سوشل ورکنگ وومن بھی تھی بہار کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ انہوں نے گھر اور بچوں پر بھی بہت محنت کی پر اکثر ان کو بچوں کو ملازموں کے اوپر چھوڑنا پڑتا تھا نوکری ایسی تھی کہ گھر سے زیادہ باہر والوں کو ان کی ضرورت تھی….

اس کے برعکس عفت بیگم ایک مکمل ہاؤس وائف بن کر رہی ہیں انہیں کوئی ایسی ضرورت تھی اور نہ ہی کوئی ایسا شوق ہے وہ ورکنگ وومن کا رول پلے کرتی …انہوں نے اپنا سارا ٹائم اپنے گھر اور فہد کی پرورش پر صرف کیا دونوں خواتین کے شوق اور ایکٹویٹیز میں بہت تضاد تھا پر اس کا اثر ان کی دوستی پر کبھی نہیں پڑا…

ان کی دوستی کی وجہ سے ہادی اور فہد بھی دوستوں کی طرح رہتے تھے ان کی ملاقات اتنی زیادہ تو نہ ہوتی تھی پر جب بھی ہوتی ہے وہ ایک دوسرے سے بہت اچھی طرح ملتے…

####

اگلے دن بھی صبا یونیورسٹی نہیں گئی تھی اس کے پیر پر ہلکی سی موچ آئی تھی جو اب کافی بہتر ہوگئی تھی… سردیوں کی ہلکی ہلکی شروعات ہو چکی تھی گھڑی دن کے 12 بجآرہی تھی اور وہ اب تک بلینکیٹ کے اندر لمبی تان کے سردیوں کے ابتدائی دنوں کے مزے لوٹ رہی تھی…. مما کئی بار اسے اٹھا کر جا چکی تھی اور وہ ناکام ہو کر پھر اپنے کام میں لگ جاتی ….اب کی بار وہ یہ ٹھان کر ہی آئی تھی کہ صبا کو اٹھا کر ہی رہے گی… آصفہ بیگم کے غصے کے آگے صبا کو مزید آتی نیند بھگا کر اٹھنا پڑا اور وہ فریش ہونے واش روم کی طرف بڑھ گئی….

جلدی جلدی ناشتہ کرکے جانے کی تیاری کرو آج مایوں کا فنکشن ہے صائمہ آنٹی کے گھر میں….. آصفہ بیگم نے جلدی سے صبا کو آج کا جانا یاد دلایا تو صبا نے برا سا منہ بنا لیا ….ماما آپ اور بابا چلے جائیں نہ میرے تو ویسے بھی چوٹ لگی ہوئی ہے میں ایسے کیسے جاؤ گی مما … خبردار جو منع کیا جانے کو تو صائمہ میری بہت اچھی فرینڈ ہے اور اتنے دنوں بعد تو کہیں سے انویٹیشن آیا ہے شادی کا ….اوپر سے باپ اور بیٹی کے نخرے ہی ختم نہیں ہوتے ہیں ….

میں کسی بھی صورت کسی قسم کے نخرے برداشت نہیں کروں گی…. اور مما کے حکم پر وoبرے دل سے شادی کے کپڑوں پر استری کرنا شروع ہوگی

####

السلام علیکم صائمہ… او ہائے عفت… کیسی ہو یار…. صائمہ عفت کے گلے لگی جو ابھی ابھی ان کے گھر مایوں کے فنکشن سے پہلے ہی پہنچ گئی تھی… یہ کیا ہے نہ دوستوں والا کام صبح سے بہت کمی محسوس ہو رہی تھی تمہاری کتنے کام ہیں جو ابھی تک پینڈنگ ہیں …ہادی کے ابو اکیلے لگے ہیں نوکروں کے ساتھ ھادی کا تو کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں ہیں وہ… صائمہ اپنی دوست کی گلے لگ کر دل کی بھڑاس نکال رہی تھی…

چلو اب میں آگئی ہوں نہ تو مل کر کر لیتے ہیں باقی کے کام… وہ بھی صائمہ کے کندھے کو تھپک کر خوش دلی سے بولی…

ارے فہد نظر نہیں آرہا ہے صائمہ ادھر اُدھر نظر دوڑاتے ہوئے بولی…

وہ باہر کے ارینجمنٹس دیکھ رہا ہے نواز بھائی کے ساتھ… عفت بیگم نے انہیں بتایا تو تھوڑا اطمینان صائمہ کے چہرے پر نظر آنے لگا

####

سفید برقی لائٹوں کی روشنی ,لڑکیوں کی اٹھکلیاں ,تو لڑکوں کا شور, جگمگ کرتا ماحول, ہلکا ہلکا میوزک ہر ایک اس ماحول سے لطف اندوز ہو رہا تھا …صائمہ بیگم کے زیادہ رشتے دار تو مدعو نہیں تھے البتہ ان کے دوست احباب کا حلقہ زیادہ وسیع تھا… ابھی صرف ان کی طرف کے مہمان آنا شروع ہوئے تھے صائمہ بیگم اور ان کے شوہر نواز نے خاصا اچھا انتظام کیا ہوا تھا اپنی طرف سے آنے والے مہمانوں کو بھی وہ ویلکم گفٹس دے رہے تھے…. کبھی کبھی ہادی ان دونوں کی مصروفیت جاننے کی غرض سے تانک جھانک کر کے چلا جاتا ابھی بھی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف تھا…

ارے فہد بیٹا سننا ذرا…. صائمہ بیگم نے فہد کو آواز دی تو دوڑ کر واپس آگیا جی آنٹی کوئی کام ہے کیا… ہاں بس دومنٹ یہاں پر کھڑے ہو کر مہمانوں کو یہ گفٹس دے دینا ذرا میں ایک کام نمٹا کر دو منٹ میں آئی…. وہ جلدی گفٹس کی ایک تھال کی طرف اشارہ کرکے بولی جو برابر میں ایک چیئر کے اوپر رکھا تھا….

اوکے آنٹی پر جلدی آئے گا پلیز ….اسے یہ لڑکیاں والا کام بہت ہی عجیب لگ رہا تھا اور یہ تھے بھی لیڈیز گفٹس..

ویلکم ڈور کے ایک طرف نواز بیگ صاحب کھڑے تھے جو کہ جینٹس کو ویلکم کر کے انہیں گفٹ دے رہے تھے اور اب دوسری طرف وہ کھڑا تھا جو کہ ہر آنے والی لیڈیز کو گفٹ پکڑ آتا جا رہا تھا….

####

بخاری صاحب اپنی چھوٹی سی گاڑی جو کہ انہوں نے اپنی فیملی کی سہولت کے لئے لی ہوئی تھی اور وہ ان کی فیملی کے لیے کافی تھی آصفہ بیگم کے اسرار پر صائمہ نواز کے بنگلے سے تھوڑا ہٹ کر پارک کی تھی…. آصفہ بیگم کے مطابق صائمہ کے پارکنگ ایریا میں تو بہت مہنگی اور بڑی بڑی کاریں کھڑی ہوگی ادھر مجھے یہ گاڑی لے جاکر شرمندگی ہوگی اسی لیے آپ اسے یہی پار ک کر دیں….

کیا ہے مما یہاں کیوں پارک کرادی آپ کو پتہ ہے اب تھوڑی سردی بھی ہو رہی ہے اب پیدل چل کر جاو ان کے بنگلے تک…. صبا بیزاری سے بولی..

کوئی دور نہیں ہیں دو تین بنگلے چھوڑ کر رہی ہے ان کا بنگلہ شرافت سے نیچے اترو گاڑی سے آصفہ بیگم اسے آنکھیں دکھانے لگی تو وہ بھی سیدھی طرح وہی اتر گئی… ڈارک پنک اور اورنج کلر کے امتزاج کا ڈریس صبا پر بہت جچ رہا تھا… کانوں میں اصل پھولوں کی بالیاں اس انوکھی لڑکی کو اور حسین بنا رہی تھی ….آصفہ بیگم اور صبا تھوڑی کنفیوز تھی پر بخاری صاحب کے ساتھ انہوں نے اندر کی طرف قدم بڑھا دئیے…

####

بخاری صاحب اندر داخل ہوئے تو نواز صاحب نے ان کا استقبال کیا جبکہ آصفہ بیگم فہد کو دیکھ کر زرا چوکی کیوں کے وہ اسے نہیں پہچانتی تھی …صائمہ کا کوئی رشتہ دار ہی ہوگا وہ فہد سے بہت سے پیار سے سلام دعا کر رہی تھی …اور فہد نے انہیں بھی گفٹ پکڑ آیا تو سامنے سے صائمہ کو آتا دیکھ کر آصفہ بیگم ان سے ملنے لگی ….بہت بہت مبارک ہو…. بہت شکریہ تمہارا صائمہ نے خوش دلی سے آصفہ کا استقبال کیا ….

فہد اس انتظار میں ہیں کہ کب صائمہ انٹی آئی اور وہ یہ عہدہ دوبارہ انہیں دے…. پر نہ تو صائمہ آنٹی کو فرصت مل رہی تھی اور نہ ہی مہمانوں کا آنا بند ہو رہا تھا …

صبا جو آصفہ بیگم اور بخاری صاحب کے ساتھ ہی اندر جانے لگی تھی دروازے کی گرل میں اس کا دوپٹہ اٹک کر بری طرح پھنس گیا تھا, بڑی مشکل سے اس نے اپنے دوپٹے کو گرل سے نہایت احتیاط سے نکالا کہیں پھٹ نہ جائے…. وہ دوپٹہ نکال کر آگے بڑھیں فہد جو کہ اب دوسرا گفٹ اٹھانے کے لئے چیئر کی طرف مڑا…. اچھی مصیبت ہے…. وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ….

پلٹتے ہیں سامنے موجود حسینہ کو دیکھ کر وہ چونک گیا وہ اپنی نظریں چھپکنا بھول گیا تھا اور صبا اس سے بے خبر اپنے دوپٹے کو پورا پھیلا کر دیکھ رہی تھی کہ کہیں سے پھٹ تو نہیں گیا میرا دوپٹہ…. فہد اور صبا کے درمیان اورنج اور پینک جارجٹ کا دوپٹہ حائل ہو گیا پردے کی اس lوٹ سے وہ اسے اور حسین لگی…. دوپٹے کو اچھی طرح چیک کرتے کرتے صبا کی نظر دوپٹے کے اس پار کھڑے عکس پر پڑی…. اس نے جلدی سے دوپٹہ نیچے کیا….

ت….. تم حیرانی اور کنفیوژن میں اس کے منہ سے یہی نکل سکا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *