Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Episode 06)

Milan by Yusra Mehmood

وہ بہت ٹینشن میں تھی ….آصفہ بیگم اس سے ناراض ناراض سے اپنے کام میں مگن تھی

وہ اپنی ماں کی ناراضگی زیادہ دیر برداشت نہیں کرسکتی تھی…

اچھا ماما جانی سوری میں آئندہ ایسا کبھی نہیں کروں گی, ہر بات مانو گی آپ کی…

وہ ماما کو اپنے ساتھ بیڈ پر بٹھاتے ہوئے بولی… نہیں بیٹا اب آپ بڑی ہو گئی ہیں تو اچھے برے کی تمیز کا پتہ چل گیا ہے آپ کو… اس لئے آپ اپنی مما کو آن کی غلطیاں بھی یاد دلاتی رہتی ہیں اور اپنی ماں پر اپنا غصہ بھی نکالتی رہتی ہیں …

اچھا مما کر تو رہی ہو سوری غلطی ہو گئی آئندہ نہیں ہوگی یہ غلطی ….وہ لاڈ سے ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ چکی تھی… اچھا یہ بتائیں کے سعدیہ کی برات کے لئے اپنا اور آپ کا کونسا ڈریس نکالو

وہ اپنے لاڈ سے مما کو منانے میں کامیاب ہو گئی تھی ….

جو آپ کو اچھا لگے وہ نکال لیں …ماما نے اس کے چہرے پر مسکراہٹ سے بھرپور نظروں سے دیکھا..

پر پلیز آپ مجھے سب سے اتنا نہیں ملوائے گا میں تھک جاتی ہوں ہال میں پھرتے پھرتے…. پلیز میں جس جگہ بیٹھ جاؤ مجھے وہیں بیٹھے رہنے دیجئے گا پلیز ماما…

اچھا چلو ٹھیک ہے لیکن آپ بھی پہلے میرے ساتھ سب سے مل لیجیئے گا سلام دعا کے بعد پھر بیٹھنا ایک جگہ …ماما نے اپنا حکم صادر کیا اوکے ماما… یہ کہتے ہوئے وہ شادی کے کپڑے نکالنے کے لئے چلی گئی…

####

بارات کے فنکشن میں صبا نے ڈارک گرین کلر کی فراک پہنی ہوئی تھی فل لائٹنگ میں یہ برائیٹ کلر زیب تن کئے ہوئے وہ اور زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ….سعدیہ پر دلہن بن کر بہت روپ چڑھا تھا اس کا شوہر ارمان بھی اس کے برابر میں کھڑا تھا… سارے ہال کی لائٹس بند کردی گئی تھی رنگ برنگی لائٹوں کا جھلملانا اس اندھیرے میں بہت سحر انگیز لگ رہا تھا…… بلو لائٹ دلہا دلہن کے اوپر پڑ رہی تھی جس سے ان کا کپل نمایاں اور حسین پر لگ رہا تھا.. ہاتھ میں ہاتھ ڈالے وہ دونوں ریڈ کارپٹ پر سے چلتے ہوئے اسٹیج تک پہنچ گئے اندھیرے میں مہمانوں کی ہووٹنگ کا شور بلند ہو رہا تھا… ارمان نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو سعدیہ نے بڑے بولڈ انداز میں اپنا ہاتھ ارمان کے ہاتھ میں دے دیا ….

اب اسٹیج پر کپل ڈانس شروع ہوچکا تھا دولہا دولہن اس سوسائٹی کی روایت کے مطابق ڈانس میں مشغول تھے …کوئی حیا کوئی شرم نہیں تھی قریبی قریبی رشتہ دار بھی ایک دائرے کی صورت میں کپل ڈانس شروع کرچکے تھے …

صبا اس سچویشن سے بہت پریشان نظر آرہی تھی آصفہ بیگم اس تفریح کو دیکھتے دیکھتے اسٹیج کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو گئیں… وہ آصفہ بیگم کو ڈھونڈتے ہوئے ادھر ادھرنظر دوڑا رہی تھی ….اندھیرے میں مہمانوں کے شور اور ہنگامے میں اس کو سب کی بے حیائیاں تو نظر آ رہی تھی پر جھلمل کرتی ہوئی لائٹوں پر میں آصفہ بیگم کا کہیں پتہ نہیں تھا وہ اندھیرے میں اندازے کے مطابق قدم آگے بڑھا رہی تھی ….

اب ہال کے اندر مکمل اندھیرا چھا گیا تھا بس ڈانس والی جگہ پر رنگ برنگی لائٹس وقفے وقفے سے جل بجھ ہو رہی تھی

صبا نے جہاں کھڑی تھی وہیں رہنا مناسب سمجھا آگے کا منظر اسے نظر نہیں آرہا تھا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ قدم بڑھائے اور لڑھک کر گر جائے ….

کہ اچانک کسی نے مضبوطی سے اس کی کلائی پکڑی اور ایک ہاتھ اس کے منہ پر رکھا اور اسپیڈ سے اپنی طرف کھینچ لیا…..صبا کی خوف سے آنکھیں پھٹ گئیں اس کے منہ پر بھاری ہاتھ کا لمس تھا نہ وہ چلا سکی اور نہ ہی اس شخص کو دیکھ سکی جس نے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اس کو اپنے اس قدر قریب کیا ہوا تھا کہ وہ اس کی سانسوں کی آواز بھی سن سکتی تھی…. وہ شخص اپنے ہاتھ کے پوروں سے صبا کے چہرے کو چھیڑتا ہوا گردن تک آیا… صبا خوفزدہ سی اس کی گرفت میں پھڑپھڑانے کی بھی کوشش کر رہی تھی پر نہ سود…. خوف اور دہشت سے اس کی آنکھوں سے نکلتا ہوا پانی اس کے رخساروں پر پھیلنے لگا ….آئی_ لو _یو…..صبا ٹھہرے ٹھہرے انداز میں کہے گئے یہ الفاظ اس کے کانوں میں سرگوشی کی طرح سنائی دیئے…. یہ کہتے ہی وہ شخص صبا کو چھوڑ کر اندھیرے میں نہ جانے کس سمت نکل گیا

صبا کی ہچکیاں بندھ رہی تھی جس کی آواز اس شور ھنگامیں میں کہیں دور سے آ تی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس نے اپنے آنسو اندھیرے میں صاف کیے روشنی ہونے تک وہیں کھڑا رہنا تھا وہ دل کے ساتھ دعا کر رہی تھی کہ اسے ماما مل جائیں …ابھی کپل ڈانس شور اور ہوٹنگ کے ماحول میں اسے ماما نہیں مل سکی وہ اپنے آپ کو بہت میں کمزور محسوس کر رہی تھی اسے اندھیرے سے خوف آ رہا تھا کہ اچانک جگمگ کرتی لائٹوں پورے ہال کو روشن کردیا… اسے مما نظر آگئی جو دور کھڑی اپنی سہیلیوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھی اور وہ صبا کے دل میں ہوتے ہوئے شور کو نہ سن سکیں

اس نے جانے کے لئے آگے قدم بڑھائیں کے اپنے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی

####

ویسے ایک بات تو بتائیں فہد بیٹا عفت بیگم جو سعدیہ کی بارات کے لیے تیار ہو چکی تھی فہد کی ذوق و شوق سے کی گئی تیاری کو دیکھ کر اس سے پوچھنے لگی… جی مما بولیے کیا بات ہے …وہ شیشے میں دیکھتے دیکھتے ہیں مما سے بولا یہ آج اتنی دیر تک تیاری کا مقصد پوچھ سکتی ہوں میں …وہ اپنے بیٹے کی تیاری کو دیکھ کر شوخیاانداز میں بولیں …اس نے ایک سوالیہ نظر مما پر ڈالیں اور پھر سے اپنے کام میں لگ گیا کیا مطلب ہے ماما آپ کی اتنی اچھی فرینڈ کی شادی ہے تو کیا ایسے ہی اٹھ کر چلا جاؤں… نہیں آج کی تیاری کچھ خاص لگ رہی ہے مجھے کہیں کل کے فنکشن میں کسی لڑکی کو تو پسند نہیں کر لیا میرے بیٹے نے ….جو آج اتنا سنورا جا رہا ہے

اس نے ماما کو چونک کر دیکھا… ارے نہیں مما ایسی کوئی بات نہیں ہے وہ بری طرح کنفیوز ہو گیا تھا …صبا کا من موہنا چہرہ اس کے سامنے آگیا اچھا پھر تو یہ اچھا ہے کہ اب تک آپ نے کسی بھی لڑکی کو پسند نہیں کیا ہے… کیونکہ میں نے کل ایک لڑکی کو آپ کے لئے پسند کرلیا ہے اور آپ کے بابا جان سے بھی بات کر لی ہے… آج آپ بھی اسے دیکھ لے گا اور مجھے اپنا جواب بتا دیجئے گا تو پھر ایک دو دن میں میں خود اس کے گھر جاکر رشتے کی بات کرو گی… عفت بیگم نے روانی سے اپنے ارادوں سے آگاہ کیا…..لیکن مما فہد پریشانی سے بولا میں نے تو اس کو دیکھا بھی نہیں ہے ابھی اور ایک ملاقات میں ہی آپ رشتہ لے جانے پر راضی ہو گئی ….اتنی جلدی نہیں کریں مما…. ویسے آپ دونوں کی مرضی لیکن اتنا جلدی یہ سب مجھے کچھ عجیب لگ رہا ہے… وہ اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے بولا پتہ نہیں کون سی لڑکی پسند آگئی …. کیسے بتاؤں ماں کو صبا کے بارے میں ….پریشانی میں اس نے اپنی تیاری وہیں ختم کی اور اپنی فیملی کے ساتھ جلدی جلدی ہال پہنچ گیا

####

وہ بے یقینی کی کیفیت میں سامنے کھڑے ہوئے فہد نواز کو دیکھ رہی تھی… اس کا دل اس بات پر یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ ابھی کی گئی بے ہودہ حرکت فہد کر سکتا ہے… ارے صبا آپ یہاں…. کیسی ہیں آپ ..آج آپ اتنی اداس کیوں لگ رہی ہیں فہد سے صبا کی آنکھوں کی اداسی چھپی نہ رہ سکی …وہ فہد کو غیض و غضب کی نظر سے دیکھ رہی تھی اس کے سوال کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ جلدی سے مما کی طرف چلی گئی…. فہد اسے حیران نظروں سے جاتا دیکھتا رہا…. صبا کو کیا ہوا ہے میں نے تو ابھی نظر بھر کر اسے دیکھا بھی نہیں…. وہ حسرت سے سوچنے لگا نہ جانے کیوں وہ چلی گئی… وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا کہ موبائل کی بیل بجی …

ماما کالنگ…. موبائل کی اسکرین پر ما ما کا نمبر دیکھ کر اس نے موبائل کانوں سے لگایا… ہیلو ماما کیا ہوا سب خیریت تو ہے نا …جی بیٹا سب خیریت ہے اچھا دیکھو میں آپ کو نظر آرہی ہوں ہال کے اندر …..مما کی بات پر اس نے پورے ہال کا جائزہ لینا شروع کردیا پھر ایک جگہ اپنی مما کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا …جی مما آپ مجھے نظر آ گئی ہیں

آپ بھی مجھے نظر آگئے ہیں …فہد اب دیکھنے دیکھتے جاؤ جس لڑکی کے پاس میں جاکر بیٹھ گئی اسی لڑکی کو میں نے آپ کے لئے پسند کیا ہے اوکے ماما… وہ ٹینشن میں صرف اتنا ہی کہہ سکا اور اپنی ماما کو ایک طرف جاتا ہوا دیکھ رہا تھا پریشانی سے اس نے رخ دوسری طرف موڑ لیا

چہرہ ادھر کرکے دیکھو بیٹا میں کہاں بیٹھی ہوں اس نے ڈرتے ڈرتے مما کی طرف دیکھا جو کہ اب ایک کرسی پر بیٹھ گئی تھی ….ان کے برابر میں بیٹھی صبا کو دیکھ کر شدید حیرت کے ساتھ اس کی خوشی دیدنی ہو گئی….

####

مما مجھے نیند آ رہی ہے بہت …صبا نے ماما سے کہا اور اپنے روم کی طرف جانے لگی… کیا بات ہے بیٹا آج اتنی جلدی… بہت تھک گیا ہے کیا میرا بیٹا بخاری صاحب صبا کو لاڈ میں بیٹا ہی بولتے تھے …اس کو خود سے لگاتے ہوئے پوچھنے لگے نہیں بابا بس میں بہت تھک رہی ہوں کچھ طبیعت سیٹ نہیں لگ رہی رہی صبح ملتے ہیں…

اچھا اوکے بیٹا ابھی آپ آرام کریں جاکر… ماما بابا کو اللہ حافظ کہہ کر وہ روم میں چلی گئی بہت مشکل سے روکے ہوئے آنسو اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوگئے وہ بیڈ پر الٹے منہ لیٹ کر بے تحاشہ رونے لگی… کون ہوسکتا ہے وہ… وہ حیرت سے سوچ رہی تھی….

اس شخص کے مضبوط ہاتھوں کا لمس اس کے لگائے ہوئے پرفیوم کی تیز مہک اسے حفظ ہو چکی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بنا رکے بہ رہے تھے …وہ بغیر چینج کیے وہیں پڑی رہی روتے روتے کب اس کی آنکھ لگ گئی اسے پتہ نہیں چلا…

سردیوں کے موسم میں وہ ٹھٹھرتی ہوئی سو گئی رات کے کسی پہر اس کی آنکھ کھلی تو پورا کمرا اندھیرے میں چھایا ہوا تھا اندھیرے کا خوف اس کے دل میں بیٹھا ہوا تھا وہ ڈر کے مارے پاگلوں کی طرح چیخنے لگی ….ماما بابا جلدی سے اس کے کمرے میں آئے….

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *