Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 03)
Rate this Novel
Milan (Episode 03)
Milan by Yusra Mehmood
صبا شام کو جلدی اٹھ جانا بیٹا ذرا مارکیٹ جانا ہے…. صائمہ آنٹی کی بیٹی کی شادی کی تیاری کے لئے شاپنگ کرنی ہے وہ یونیورسٹی سے آکر کھانے میں مصروف تھی …اچھا ماما ٹھیک ہے پر میں ہر تقریب میں تو شرکت نہیں کر سکتی کیونکہ فرسٹ سیمسٹر اسٹارٹ ہونے والے ہیں میرے اور پھر آپ کو پتہ بھی ہے سلیبس بھی بہت مشکل ہے مما… وہ کھانا کھا کر دسترخوان سمیٹے ہوئے آصفہ بیگم کو اپنی مصروفیات گنوانے لگی ….کوئی بہانہ نہیں چلے گا مارکیٹ جانا ہے ….
اوکے اچھا امی اور وہ منہ بناتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی..
اس اس نے ساری شاپنگ اپنی مرضی سے کی تھی اور اپنی پسند کے ڈریسز لیے تھے وہ اس شرط پر ہی ہادی کی بہن کی شادی کی ہر تقریب پر جانے پر راضی ہوئی تھی
اور مما کو ناچار اس کی بات ماننا پڑی چلو اسی بہانے صبا کو لے کے تو جاسکیں گی شادی میں ….
ویسے ہی صائمہ کے رشتے دار بہت ہی امیر کبیر ہیں کاش کہیں نہ کہیں سے سب کا رشتہ آہی جائے وہ دل ہی دل میں خوش ہونے لگی…
####
صبا آج یونیورسٹی میں داخل ہوئی تو ایک بریکنگ نیوز سے اسے آگاہی دی گئی اس کی کلاس کی ساری لڑکیاں اسے آگاہ کرتے ہوئے اور آڈیٹوریم کی طرف بھاگے جا رہے تھے یونیورسٹی میں ایک مشہور میوزک بینڈ آیا ہوا تھا
مجھے پتا ہوتا تو میں کالج ہی نہ آتی وہ بھیڑ سے بچتی بچاتی اب لائبریری کی طرف بڑھ رہی تھی کیونکہ لڑکیاں اور لڑکے اندھا دھند اسے ٹکر لگاتے بھاگے جا رہے تھے
اسے زور سے ٹکر لگی تھیں وہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکی اور پیچھے کی طرف ہوتی ہوئی اور کسی اور کو بھی گر آتی ہوئی خود بھی اسی کے اوپر گر گئی
اوچ صبا درد سے چیخی ….
تکلیف سے یہ احساس کی نہیں ہو سکا کہ وہ کسی کے اوپر گری ہے…..
میڈم اٹھنے کی زحمت کریں گی آپ ….
جانی پہچانی آواز سن کر صبا نے گھبرا کر اٹھنا چاہا تو بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے لڑکھڑاتے ہوئے دوبارہ اسی کے اوپر گر گئی صبا کے بال جو کہ کیچر میں مقید تھے گرنے والے کے چہرے پر بکھر گئے ……
صبا کا چہرہ مقابل کے سامنے تھا… لگتا ہے آپ کا بار بار دل چاہ رہا ہے میرے اوپر گرنے کا …..
مقابل چہرے سے صبا کی زلفیں ہٹاتا ہوا شوخی سے بو لا
تم صبا فہد کو دیکھ کر مزید تب گئی وہ وہ پھرتی سے اس کے اوپر سے اٹھ گئی کھڑی ابھی بھی نہ ہوسکی….
پاؤ لے کر وہیں بیٹھی رہی اردگرد نظر دوڑائیں تو شکر ادا کیا کہ کم از کم یہ منظر کسی نے نہیں دیکھا
کنسرٹ میں بزی ہونے کی وجہ سے وہاں پر کوئی نہیں تھا …
تمہاری ہمت کیسے ہوئی… جملہ آدھا ادھورا اس کے منہ میں رہ گیا وہ کیوں فہد کو الزام دے رہی ہے وہ تو خود ہی گیری تھی اس کے اوپر جا کر ….
لگتا ہے آج کمر توڑنے کا پروگرام تھا
فھد بھی سنبھل کر کھڑا ہوا اپنے کپڑوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے صبا اسے گویا ہوا….
کبھی لڑ تی ہیں اور کبھی گرتی ہیں خیر تو ہے مجھے آپ کے ارادے کچھ نیک نہیں لگتے ….
وہ مسکرا کر گویا ہوا تو وہ جان بوجھ کر نظر چرا گئی… لائے اگر آپ سے اٹھا نہیں جا رہا تو میں مدد کر دو آپ کی …فہد نے اپنا ہاتھ صبا کے ہاتھ کی طرف بڑھایا جواب اپنے کھلے بعد کیچر میں دوبارہ قید کر چکی تھی… مجھے مدد کی ضرورت نہیں وہ نروٹھا پن سے بولی اور اپنا پاؤں سہلانے لگی…
اوکے میڈم …جیسی آپ کی مرضی اگر یہی بیٹھنا ہے تو پھر بیٹھے رہیں یہاں میں تو چلا …وہ اپنا ہاتھ پا کٹ میں دوبارہ ڈالتا ہوا وہاں سے رفو چکر ہوگیا ….
کتنا بد تمیز ایک دفعہ منع کیا تو چلا ہی گیآ ایڈیٹ… صبا نے جل کر سوچا خود اٹھے کی بہت کوشش کر رہی تھی پر نہ سود ….
####
بہت شکریہ عالیہ آپ نے میری اتنی مدد کی…
وہ عالیہ کو مشکور نظروں سے دیکھ رہی تھی جو ابھی صبا کو تکلیف میں دیکھ کر سہارا دے کر ڈریسنگ روم تک لائی تھیں ارے کوئی بات نہیں صبا یہ تو میرا فرض تھا اصل میں مجھے بھی کنسرٹ وغیرہ میں اتنی زیادہ دلچسپی نہیں ہے میں بھی فارغ تھی آپ کو گرا ھوا دیکھا تو یہاں لے آئی اچھا ہے نہ مجھے ایک اچھی دوست مل گئی عالیہ مسکراتے ہوئے بولی صبا کے بینڈیج کردی گئی تھی وہ عالیہ کے سہارے سے یونیورسٹی کے گیٹ پر آئی تھی بابا کو اس نے فون کرکے اپنی چوٹ کے بارے میں بتا دیا تھا تو وہیں اس کو لینے یونیورسٹی آگئے تھے….
####
آخرمجھے یہ سمجھ نہیں آرہا کہ اتنی بھی کیا لاپرواہی بیٹا ایک دیکھ کے بھی نہیں چلا گیا تم سے اور گر گئی…. اگر خدانخواستہ کوئی بڑا نقصان ہو جاتا
آصفہ بیگم صبا کے پیر پر تیل کی مالش کرتی جا رہی تھی اور سلاواتیں بھی سنا رہی تھی اور جب پروگرام ہورہا تھا یونیورسٹی میں تو تم اکیلی کیوں منڈلا رہی تھی اب وہ باقاعدہ تفتیش کرنے لگی تھی…. کچھ نہیں آپ کو تو پتہ ہے مجھے نہیں پسند یہ سب اور پھر میرے سر میں بہت درد تھا اسی لئے لائبریری جا کر پڑھنا چاہا لیکن اس سے پہلے ہی مجھے دھکا لگا اور باقی کا جملہ کے چہرے کے بگڑتے ہوئے تاثرات میں پورا کر دیا امی اس کے oiling کرکے اور نصیحتیں کرکے روم سے اس کو آرام کرنے کا کہہ کر چلی گئی
وہ سونے لیٹ گئی تھی پر شاید نیند اس سے کئی سو میل کی دوری پر تھے
دوپہر کے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلنا شروع ہو گئے وہ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہی تھی کہ وہ اس پوزیشن میں فہد کے ساتھ اسے یونیورسٹی میں اور ک سی نے نہیں دیکھا ورنہ وہ ہوٹنگ کرنی تھی سب نے مل کر…. بس فہد بھی اپنا منہ بند ہی رکھیں خدایا اس نے آنکھیں بند کر کے دل سے دعا کی….
####
وہ جب سے یونیورسٹی سے آیا تھا نہ اس نے ٹھیک سے کھانا کھایا تھا وہ جہاں جہاں ٹیوشن دیتا تھا وہاں بھی زیادہ ٹائم نہ دے سکا اور اب جب اپنا اسائمنٹ تیار کرنے بیٹھا تو دل اور دماغ اس کا ساتھ دینے سے انکاری تھے…
صبح سے وہ نازک لمس کا احساس اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہا تھا حالانکہ وہ بہت کوشش کر رہا تھا کہ اپنے دماغ سے ساری فضولیات جھٹک کر اپنے کام پر دھیان دیں پر لاحاصل…. اگر مما کو پتہ چل گیا ابھی میرا لختےجگر اسائمنٹ کے بدلے اپنے دل کی بلڈنگ تعمیر کرنے کے چکر میں ہے تو لگ پتہ جائے گا وہ سوچ کر مسکرا دیا…
صبا کا اس کے اتنے نزدیک ہونا اس کی سانس اس کی زلفوں کی اتنی قربت ….اور وہ پھر سے دوبارہ انہیں سوچوں کی طرف بڑھنے لگا.. اپنی سوچوں سے پریشان ہو کر کمرے سے نکلا اور مما بابا کے پاس آکر بیٹھ گیا شاید ان سوچوں سے جان چھوٹ جائے….
