Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 15)
Rate this Novel
Milan (Episode 15)
Milan by Yusra Mehmood
وہ واش روم سے فریش ہو کر آئی تو عالیہ کو اپنے روم میں بیٹھا پایا ….
عالیہ تم کب آئی…
ابھی آئی ہوں کل تم سے بات نہیں ہوسکی تھی تو سوچا مل کے آجاؤ تم سے….
ہاں یار بہت اچھا کیا تم نے عالیہ ….صبا مجھے تم سے کچھ ڈسکس کرنا ہے….
صبا عالیہ کے پاس بیٹھ گی تو عالیہ اس سے کہنے لگی ..
ہاں بولو عالیہ ….صبا نے اپنا پورا دھیان عالیہ کی طرف کر دیا …
بتاؤ مجھے صبا آخر یونیورسٹی میں تم فہد کے ساتھ اتنا برا رویہ کیوں رکھتی تھی… بلاوجہ اس سے ہمیشہ لڑ تی کیوں رہتی تھی ….اور یہ کہ تم ہادی سے کب ملیں اس سے تم اتنا فرینک کب سے ہو گئی …
تمہیں پتہ ہے ہادی میری ہی کلاس کا اسٹوڈنٹ ہے…
ایک نمبر کا اوباش گروپ ہے اس کے دوستوں کا …. اس پر بھروسہ کرنے سے پہلے تم ایک بار مجھے اعتماد میں تولیتی صبا .
صبا عالیہ کی باتیں خاموشی سے سنتی رہی …
واقعی اس نے عالیہ کو کبھی بھی اس بارے میں بتایا ہی نہیں تھا …مجھے معاف کردو عالیہ میں نے واقعی کسی سے کچھ بھی شئیر نہ کرکے بہت بڑی غلطی کر لی ہے…
صبا نے عالیہ کو اس اجنبی سے لے کر ہادی تک کی پوری داستان عالیہ کے گوش گزار کی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی …
تم فکر نہیں کرو صبا سب ٹھیک ہو جائے گا ان شاء اللہ …میں پوری کوشش کروں گی کہ فہد کی غلط فہمی دور ہو جائے…
وہ مجھ سے ناراض ہے عالیہ …
اس دن سے فہد نے مجھ سے ایک بات بھی نہیں کی …بات کرنا تو دور وہ میری طرف دیکھ بھی نہیں رہا اب..
پریشان مت ہوں صبا انشاءاللہ اللہ سب بہتر کرے گا فہد کی ساری غلط فہمیاں دور ہو جائے گی اور ہادی کو بھی اپنے کئے کی سزا ضرور ملے گی تم دیکھنا …
صبا نے عالیہ کی بات پر یقین کرتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیے اور عالیہ کے گلے لگ گئی ….
####
السلام علیکم ماما بابا وہ ناشتے کی میز پر بیٹھا اور عفت بیگم اور خاور صاحب کو سلام کیا ….
وعلیکم السلام بیٹا آج اتنی جلدی اٹھ گئے آپ آج تو شاید آف ہے آپ کی یونیورسٹی….
عفت بیگم اسے جانچتی نظروں سے دیکھنے لگے …
جی ماما بس آنکھ کھل گئی جلدی پھر دوبارہ نیند نہیں آئی تو سوچا آپ لوگوں کے ساتھ ناشتہ کرلو…..
بابا ماما مجھے آپ دونوں سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے…
وہ ہمت کرکے بولا …
ہاں بیٹا بولو … خاور صاحب چائے کا سپ لیتے ہوئے بولے … عفت بیگم بھی فہد کی طرف متوجہ ہوئی…
اصل میں بابا آپ جانتے ہیں ناں میرے دوست علی کو جو حال ہی میں دوسرے شہر شفٹ ہوا ہے…
جی ہاں بیٹا میں بالکل جانتا ہوں کیا ہوا ہے اسے ….وہ اب ناشتے سے فارغ ہوکر کر پوری توجہ فہد کی طرف رکھے ہوئے تھے …
بابا وہ ایک چھوٹا بزنس شروع کر رہا ہے میرا بھی کافی انٹرسٹ ہے آپ کو پتہ ہے بزنس کی طرف…
اس نے مجھے پارٹنرشپ کی آفر کی ہے اگر میں اپنا پیسہ بھی لگاؤ تو میں بھی ففٹی پرسنٹ پارٹنر ہو جاؤں گا …
کافی اچھے پروجیکٹ پر وہ انویسٹ کررہا ہے وہ بابا میں چاہتا ہوں میں ایک ڈیڑھ مہینے کے لیے اس کے پاس چلا جاؤں .
.
دل ہی دل میں دعا کر رہا تھا کہ ماما بابا اسے بھیجنے پر راضی ہو جائیں ….
پر بیٹا آپ کی یونیورسٹی کا کیا ہوگا عفت بیگم اسے یاد دلاتے ہوئے بولی جو کہ اس کے جانے کا سن کر ہی پریشان ہو رہی تھی …
اس کی فکر نہ کرے ماما میں اپنے شفٹنگ ادھر ہی یونیورسٹی میں کرا لونگا علی نے بھی تو ایسا ہی کیا ہے….
وہ ماما کو تسلی دینے کی ناکام کوشش کرنے لگا ….
کیا ہو گیا ہے بیٹا آپ کو یونیورسٹی شفٹنگ کا مطلب سمجھتے ہیں آپ یعنی کہ فائنل ائیر تک آپ اسی یونیورسٹی میں رہیں گے ….
کتنے دن کا ارادہ کیا ہے وہاں رہنےکا …
میں ایک مہینے میں رخصتی کا سوچ رہی ہوں….
عفت بیگم فہد پر برہم ہوتے ہوئے بولی ماما پلیز رہ لونگا فائنل ائیر تک اور رخصتی کی اتنی جلدی بھی کیا پڑی ہے ابھی کل ہی تو نکاح ہوا ہے اور آپ رخصتی کا سوچنے لگی ….
وہ مصنوعی ناراضگی عفت بیگم کو دکھاتے ہوئے بولا ….
کل ہی نکاح ہوا ہے اور آج ہی آپ بھاگنے کی باتیں کرنے کر رہے ہیں کیا یہ عجیب نہیں ہے صاحبزادے …
خاور صاحب نے گفتگو میں حصہ لیا تو فہد کو کوئی جواب نہیں بن پڑا….
ایک مہینے بعد تمہاری رخصتی رکھی جائے گی تو ایک مہینے کے لئے اگر جانا چاہو تو جاسکتے ہو آپ ….
یونیورسٹی میں میں بات کر لونگا چھٹیوں کی اور اگر بزنس میں انٹرسٹ ہے تو ایک مہینے میں ہیں محنت کرو اور وہ بزنس اس شہر میں بھی پھیلاؤ…
میں وعدہ کرتا ہوں اگر تم اپنے کام میں سچے ہوئے تو میں پوری پوری مدد کروں گا اس بزنس کو بڑھانے میں …
فہد جسے بابا جانی کی باتیں سن کر مایوسی ہو رہی تھی آخری بات سن کر اس کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی…
سچ بابا میں جا سکتا ہوں ایک مہینے کے لئے تھینک یو ویری مچ ماما اینڈ بابا …
وہ باری باری دونوں گلے لگا رہا تھا …
آپ نے ایسے ہی کیوں پرمیشن دے دیں اسے جانے کی ..
میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتی بیٹا …عفت بیگم روہانسی لہجے میں بولی..
مما صرف ایک مہینہ تو ہے پلک جھپکتے ہی گزر جائے گا پلیز مجھے نہیں روکے …
لیکن بیٹا پھر تو رخصتی کا ٹائم آجائے گا اور آپ چلے جائیں گے تو میں اکیلی پڑ جاؤں گی میرے ساتھ تیاری کون کرائے گا……عفت بیگم فہد کو روکنے کی بھرپور کوششیں کرتی رہی..
جانے بھی دے بیگم فہد کو…. تھوڑے دنوں کی تو بات ہے اچھا ہے تھوڑی آؤٹنگ بھی ہوجائے گی اور رہی بات ہیلپ کرانے کی شادی کی تیاریوں میں میں آپ کی پوری پوری ہیلپ کرادوں گا…. خاور صاحب نے انہیں یقین دلایا تو انہیں ہتھیار ڈالنے پڑے….
####
ابھی فہد کا فون آیا تھا میرے پاس وہ کام کے سلسلے میں دوسرے شہر جا رہا ہے…
صبا جو کچن کے سلپ پر بیٹھی چپس سے پورا پورا انصاف کر رہی تھی اچانک اس کے ہاتھ کو بریک لگ گیا …
رات کو فہد اور اس کے گھر والوں کو میں نے کھانے پر بلایا ہے اس لئے جلدی جلدی میرے ساتھ کام میں ہیلپ کرو اور پھر جلدی سے تیار ہو جاؤ… وہ صبا کو حکم دیتی ہوئی آگے بڑھ گئی …..
اور صبا خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی نہ جا نے ایسا کون سا کام آ گیا ہے فہد کو جو وہ دوسرے شہر جا رہا ہے….
اس کے دماغ میں یہ سوال اٹک سا گیا …
####
وائٹ کلر کا ھلکے کام والا ڈریس پہنے وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی آج…
شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر وہ میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی کہ آصفہ بیگم نے کمرے میں آکر اسے بتایا کہ وہ لوگ آ گئے ہیں ….
اور انہوں نے مہمانوں کو ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا ہے…
جلدی جلدی دوپٹا سیٹ کرتی ہوئی باہر نکل گئیں …
صبا سر پر دوپٹہ اوڑھے نظریں جھکائے کمرے میں داخل ہوئی…
وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو رہا تھا…
پر یہاں اس کو تھوڑا کنٹرول رکھنا تھا …
وہ اپنے چھپے جذبات کو اتنی آسانی سے صبا پر ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا…
لہذا نیچے زمین کو تکنے لگا …
کھانے سے فارغ ہو کر عفت بیگم اور آصفہ بیگم کے مشورے کے مطابق ان دونوں نے فہد کو صبا کے کمرے میں ملاقات کے لئے بھیج دیا …
صبا کو تو ٹھنڈے پسینے آنے لگے …
فہد دروازے پر کھڑے ہوئے عجیب کشمکش کا شکار تھا …
ہمت کر کے آگے آیا اور صبا کی پشت پر کھڑا ہو گیا… اس نے اپنی جیب سے ایک مخملی ڈبہ نکالا صبا بے چینی اور گھبراہٹ سے اپنے ہاتھوں کو بری طرح مسل رہی تھی…
اس کے ہاتھ برف کی مانند ٹھنڈے پڑ چکے تھے ….
وہ گھوم کر صبا کے سامنے آگیا …
فہد صبا کی کیفیت سے لطف اندوز ہونا چاہتا تھا لیکن ابھی اسے اپنے جذبوں پر قابو رکھنا تھا …
صبا فہد کو بالکل نہیں دیکھ رہی تھی…
اس کی نظریں نیچے تھی …
فہد نے باکس کھولا باکس میں ایک ڈائمنڈ رنگ جگمگا رہی تھی…
فہد نے وہ رنگ نکالی…
باکس ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا …
فہد نے صبا کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا…..صبا نے آنکھیں میچ لی ….
فہد نے تیزی سے صبا کی بند مٹھی کو کھولا اور اس کی انگلی میں وہ رنگ پہنا دی….
اور جھٹکے سے صبا کا ہاتھ چھوڑ دیا ….
صبا نے آنکھوں میں آنسو بھرے اسے نظر اٹھا کر دیکھا تو فہد نے اپنی نظر پھیر لی ….
مما نے کہا تھا تمہیں دینے کو …
اس نے رنگ کی طرف اشارہ کیا اور پھرتی سے کمرے سے نکل گیا…..فہد نے صبا کو کسی قسم کی وضاحت دینے کا کوئی موقع ہی نہیں دیا ….
صبا کی آنکھوں میں آنسو نمایاں تھے اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور نارمل ہو کر کمرے سے باہر آگئی.
