Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Milan (Episode 12)

Milan by Yusra Mehmood

نہ جانے کتنی برائیاں اور ہونگی اس کے اندر…. پتا نہیں کیا کہنا چاہ رہا تھا ہادی اس دن…

وہ اپنے کمرے میں اندھیرا کیے بیٹھی تھی…

نکاح میں چار دن رہ گئے تھے اس دن کے بعد سے فہد سے بھی اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی, وہ کالج بھی نہیں گئی تھی عالیہ کو بھی اس نے فون پر انویٹیشن دے دیا تھا …یونیورسٹی سے اس نے صرف عالیہ کو بلایا تھا …. کچھ دن بعد وہ ایسے شخص کے سپرد کردی جائے گی جس کو لے کر اسے کئی شکوک و شبہات ہیں ….

نہ جانے کیسی ہو گی فہد اور میری فیوچر لائف …وہ آنکھیں بند کیے اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مندی سے سوچتی رہی…

####

اگلے دن وہ یونیورسٹی گئی پر وہاں پر بھی خاموش خاموش رہی… کیا ہوگیا ہے تمہیں اتنا منہ کیوں سجایا ہوا ہے… عالیہ اس کی اداس نظروں کو دیکھ کر بولی…

کچھ نہیں عالیہ بس تھوڑی طبیعت ٹھیک نہیں ہے شاید اسی لئے تمہیں فیل ہوا ہو…صبا نہایت صفائی سے اپنی آنکھوں کا سونا پن عالیہ سے چھپا گئی …

اچھا اچھا یہ بتاؤ کہ تمھارے نکاح میں کونسا ڈریس پہنو میں…عالیہ صبا کے موڈ کو سمجھ گئی تھی اس کا موڈ صحیح کرنے کے لیے بولی …اتنے سارے ڈریس ہوں گے تمہارے پاس کوئی سا بھی پہن لو… صبا مصنوعی غصے سے عالیہ کی طرف دیکھنے لگی اور پھر مسکرا دی….

فہد تو ا تاولا ہو رہا ہے …مجھے تو لگتا ہے کہ وہ نکاح کرواتے ہی رخصتی کروانے پر بضد نہ ہوجائے … عالیہ شرارت سے صبا کو دیکھ کر بولی…صبا نے چونک کر عالیہ کو دیکھا ….

ہاں واقعی کر بھی سکتا ہے …وہ با آسانی ایسا کوئی بھی اقدام اٹھا سکتا ہے ….

صبا فکرمندی سے اپنے آنے والے کل کا سوچنے لگ گئی ….کہاں کھو گئی ہو میڈم عالیہ نے اس کے سامنے اپنے ہاتھ اپنا ہاتھ لہرا کر پوچھا…

فہد بھی بس آنے ہی والا ہے میں نے اسے بتا دیا تھا کہ ہم یہی بیٹھے ہیں وہ کسی کام سے اپنے دوست کے ساتھ لائبریری تک گیا ہے…

کیا فہد آیا ہے یونیورسٹی …صبا چوک کر بولی …

لیکن میں نے تو اسے نہیں دیکھا تھا وہ کلاس میں بھی نہیں تھا پہلا پیریڈ لے کر میں بھی باہر ہی آ گئی…

کیسے نہیں آؤں گا جناب…. جب آپ کے دن نہیں گزر رہے تو میرے بھی بہت مشکل سے گزر رہے ہیں….

روز آتا ہوں اسی لئے تاکہ آپ کا دیدار ہو سکے….

فہد صبا کی طرف شرارتی نظر ڈال کر بولا جو ابھی ابھی پیچھے سے آ کر صبا کے برابر میں بیٹھ گیا……

فہد کی بات پر عالیہ کی ہنسی نکل گئی…

تمہاری بتیسی کیوں باہر نکل رہی ہے وہ عالیہ کو گھورتے ہوئے بولی ….

اور فوری فہد کے برابر سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی ….

عالیہ میں جارہی ہوں اب ….اس نے فہد کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے عالیہ سے کہا…

کلاسز کے ٹائم کہاں جا رہی ہوں صبا ابھی تو یونیورسٹی آف ہونے میں کافی ٹائم پڑا ہے ….

فہد ڈائریکٹ صبا سے مخاطب تھا…

اصل میں صبا کی کچھ طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور اب پیریڈز بھی اس کے فری ہیں کچھ پروفیسرز بھی نہیں آئے تو صبا گھر جارہی ہے …

عالیہ نے فہد کی بات کا جواب دیا جب کہ صبا ایسے ہی بت بنی کھڑی رہی ….

اوکے پانچ منٹ رکو صبا میں ابھی آیا میرے بھی تقریبا سارے پیریڈ فری ہیں تو ساتھ ہی نکلتے ہیں سب …..

وہ صبا کو روکتا ہوا وہاں سے چلا گیا

میں

جارہی ہوں عالیہ تم آتی رہنا فہد کے ساتھ….

صبا نے جلدی سے اپنا بیگ اٹھایا اور جانے لگی ….

ارے رکو صبا پھر غصہ ہو جائے گا فہد ..کہا تو ہے اس نے کہ سب ساتھ نکلیں گے عالیہ نے صبا کو یاد دہانی کرائی….

مجھے فی الحال ابھی فوری جانا ہے تم آتی رہنا اس کے ساتھ….

شاید وہ فہد کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی….

ویسے ہی صبا کے ذہن میں فہد کے خلاف باتیں تھی جو اس کو ہادی سے پتہ چلی تھی

اس کا ذہن بری طرح منتشر ہو رہا تھا اس نے تیزی سے یونیورسٹی کے گیٹ کی طرف قدم بڑھا دئیے….

#####

صبا باہر نکلی تو ہادی کی کار اس کے سامنے آکر رکی …ہادی نے گاڑی کا گیٹ کھول دیا

او صبا میں تمہیں ڈراپ کردوں اسی طرف جا رہا ہوں میں بھی ….وہ صبا کو گیٹ کے پاس کھڑا دیکھ کر بولا ….

نہیں ٹھیک ہے ابھی میں چلی جاؤں گی

نخرے نہیں کرو بیٹھ بھی جاؤ اب میرے بھی پیریڈ فری ہیں تو میں بھی گھر ہی کی طرف جا رہا ہوں ….

صبا بھی فوری گھر جانا چاہتی تھی اور شاید ہادی سے فہد کے متعلق کچھ اور بھی جاننا چاہتی تھی… اور ویسے بھی مما نے تو ہادی کے ساتھ آنے کی اجازت دیدی تھی

وہ گاڑی کا فرنٹ ڈور کھلا ہوا دیکھ کر کار میں بیٹھ گئی…

عالیہ اور فہد جیسے ہی باہر آئے دونوں نے صبا کو ہادی کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا…

غصے سے فہد نے مٹھیاں بھینچ لی جبکہ عالیہ ہادی کے ساتھ صبا کو دیکھ کر بہت پریشان ہو گئی ….

تمہیں کیا ہوا ہے فہد نے عالیہ کو پریشان دیکھتے ہوئے کہا….

فہد ہادی ٹھیک لڑکا نہیں ہے وہ ضرور صبا کو کسی برے مقصد کے تحت ہی اپنے ساتھ لے کر گیا ہے…

عالیہ نہایت پریشانی کے عالم میں فہد کو کو بتا رہی تھی ….

نہیں عالیہ شاید یہ تمہاری غلط فہمی ہوگی ہادی تو میرا بہت اچھا دوست ہے اور پھر وہ ایک بہت اچھی فیملی سے ریلیٹ کرتا ہے ….

کیسے تم کہہ سکتی ہو کہ وہ ایک بری شخصیت کا حامل شخص ہے وہ عالیہ کی باتوں پر بالکل بھی یقین نہیں کر پا رہا تھا….

نہیں فہد میں سچ کہہ رہی ہوں صبا کو بچا لو جا کر ….

ہادی نے کلاس کی اور لڑکیوں کو بھی اپنا نشانہ بنایا ہے اور مجھ پر بھی اس کی گندی نظر تھی میں نے تو کسی طرح اپنے آپ کو بچا لیا مگر صبا بہت معصوم ہے….

پلیز جلدی جاؤ ورنہ بہت غلط ہو جائے گا عالیہ بری طرح روہانسی ہو رہی تھی….

وہ فہد کے دماغ میں دھماکے کررہی تھی فہد کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا….

وہ تیزی سے اپنی کار کی طرف بھاگا تھا اسے صبا کو بچانا تھا…..

####

اور سناؤ نکاح کی تیاری کہاں تک پہنچی

ہادی ڈرائیونگ کرتے ہوئے صبا سے پوچھ رہا تھا …

جی جی بس ٹھیک ہی چل رہی ہے صبا نیچے سر جھکائے بولی وہ کب سے کوشش کر رہی تھی کہ ہادی سے فہد کے بارے میں پوچھے پر پوچھ نہیں پائی….

فہد کے بارے میں پوچھنا چاہتی ہوں….

ہادی سامنے روڈ پر دیکھے دیکھے بولا ….

ہاں دراصل مجھے کنفیوژن ہے فہد کے بارے میں ….

آپ فہد کے ایک اچھے دوست ہیں بہت قریب سے بھی جانتے ہونگے ….

وہ کچھ دیر توقف کو رکی ….

ایسی کون سی بری عادتیں ہیں جن کے بارے میں آپ نے مجھے بتایا تھا وہ نیچے نظریں کیے ہادی سے فہد کے متعلق سوال جواب کر رہی تھی

بتاتا ہوں صبا آج تو ایک ایک سوال کا جواب تمہیں مل جائے گا ….

ھادی نے خباثت سے ہنستے ہوئے صبا کو دیکھا گاڑی کی ایک دم فل اسپیڈ ہونے سے صبا ادھر ادھر جھولنے لگی….

اس نے گھبرا کر ہادی کو دیکھا جو مسلسل سامنے دیکھے گاڑی کو بھگائے جا رہا تھا …

ہادی پلیز گاڑی کی اسپیڈ کو کم کریں صبا فکرمندی سے بولی اسکا دل عجیب سے وسوسوں میں گھر نے لگا ….

ہادی نے اسپیڈ اور تیز کر دی ساتھ ساتھ چلنے والا ٹریفک بہت پیچھے رہ گیا تھا …

صبا زور زور سے رونے لگی ….

ھادی پلیز گاڑی روکو یہ کہاں جا رہے ہیں ہم وہ بے بسی سے گاڑی کے سامنے شیشے سے باہر دیکھنے لگی جہاں سے سنسان سڑک اس کو منہ چڑا رہی تھی….

یہ کیا کر دیا میں نے کیسے میں اس اجنبی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی …

وہ اس وقت کو کوسنے لگے جب وہ ہادی ساتھ کار میں بیٹھی تھی …

ہادی میں کہتی ہے گاڑی روکو وہ غصے سے بھری ہوئی ہادی کے اوپر جھپٹی ….

جس کی ہادی کو بالکل بھی توقع نہیں تھی گاڑی ڈس بیلنس ہو گئی….

ہادی نے تیزی سے بریک پر پاوں رکھا گاڑی کے پہیے تیز آواز کے ساتھ چرچرائے اور پھر گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی …

ہادی نے اپنے اوپر جھپٹی ہوئی صبا کو روکنے کے لئے تیزی سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا …

صبا ڈری سہمی ہادی کے شکنجے میں تڑپنے لگی ہادی نے اس کی گرفت اور سخت کر دی وہ بلبلانے لگی

ھادی نے اپنے پاؤں کے پاس سے وہی کپڑا اٹھایا جس کو دیکھ کر صبا کو وہ اجنبی یاد آ گیا …

وہ صبا کا ہاتھ تیزی سے پکڑے پکڑے کپڑا اس کے سامنے لہراتے ہوئے ہنسنے لگا

اس نے تیزی سے صبا کو اپنے قریب کیا اور اس کے بالوں کو کیچر سے آزاد کیا وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگا..

ہادی کی گرفت اتنی سخت تھی کہ صبا مزاحمت نہ کرسکی آئی لو یو صبا….

ٹھہرے ٹھہرے انداز میں کی گئی سرگوشی ایک بار پھر صبا کے کانوں میں گونجی….

یہ آواز سن کر وہ اندر تک سہم گئی ..

تم ہو وہ نیچ اور میں فہد پر شک کر رہی تھی …..چھوڑ دو مجھے…

وہ ہادی سے اپنا آپ چھڑانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی….

کیسے چھوڑ دوں جان من اتنی مشکل سے تو ہاتھ لگی ھو…

. اور اگر آج چھوڑ دیا تو ہاتھ ملتا رہے جاؤنگا میں….

وہ مکروہ ہنسی ہنسا اور ویسے بھی مجھے تم پر بہت ہنسی آ رہی ہے صبا ….

تمہاری بے وقوفی پر…. اتنی آسانی سے میں نے تمہیں ڈرایا دھمکایا اور سارے اشارے بچارے فہد کی طرف کرتا رہا اور تم معصوم میری ساری باتوں پر یقین کرتی رہی…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *