Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 11)
Rate this Novel
Milan (Episode 11)
Milan by Yusra Mehmood
کیا …مما ….لیکن….
میں کیسے فہد کے ساتھ جا سکتی ہوں… آپ کو تو پتا ہے میں کسی کے ساتھ اکیلے نہیں جاتی مما… اور پھر عفت آنٹی کو آنا تھا نہ وہ کیوں نہیں آئی …وہ فہد کے ساتھ جانے پر پریشان ہو گئی…
پہلی بات یہ ہے کہ فہد کوئی اجنبی نہیں ہے اب صرف ڈیڑھ ہفتہ رہتا ہے بس اسے تمہارا شرعی شوہر بننے میں اور کوئی ڈیٹ پر لے کر نہیں جا رہا وہ تمہیں مارکیٹ ہی لے کر جا رہا ہے جہاں عفت مارکیٹ میں ہی موجود ہے….اور اب یہ اپنے چہرے کے بگڑے ہوئے زاویے صحیح کرو اور شرافت سے چلو وہ کب سے باہر ویٹ کر رہا ہے …
آصفہ بیگم اس کو ڈانٹتی ہوئی بولی تو آخر اسے باہر جانا ہی پڑا…
####
شکریہ ماما جان!میری اتنی ہیلپ کرنے کے لئے… فہد چہکتا ہوا اپنی کار میں بیٹھا عفت بیگم سے بات کر رہا تھا ..جی بیٹا جانی! میں بھی ماں ہو آپ کی
سارا سارا دن آپ کا خاموش چہرہ نہیں دیکھا گیا مجھ سے اس لیے سوچا آپ کو لینے بھیج دو صبا کو میرا کام بھی ہو جائے گا اور آپ کا بھی…دوسری طرف عفت بیگم فہد کو چھیڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی تھی… کیا ہے ماما آپ بھی نہ اچھا اب وہ آ گئی ہے میں فون رکھتا ہوں.. وہ بولا تو عفت بیگم نے بھی کال کاٹ دی…
سامنے سے اسے صبا آتی ہوئی نظر آئی… بلیک اینڈ ریڈ کلر کے کنٹراس کا سوٹ اس پر بہت جچ رہا تھا… وہ انتہا کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی یا یوں کہہ لیں کہ فہد کی نظروں کا ہی کمال تھا جو اسے غصے میں بھی صبا خوبصورت ہی لگتی تھی… وہ ہولے ہولے قدم بڑھا رہی تھی ..آتے ہی صبا نے کار کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولا اور بیٹھ گئی…
میں تمہارا ڈرائیور نہیں ہوں مس صبا برائے مہربانی آگے آ کر بیٹھو
فہد مصنوعی غصہ صبا کو ظاہر کرتا ہوا اس سے بولا …میں بس یہیں پر ٹھیک ہوں پلیز ذرا جلدی گاڑی اسٹارٹ کریں اور چلیں مارکیٹ …وہ گاڑی سے باہر دیکھے دیکھے ہی اس سے بولی.
دیکھو صبا میں آخری بار تم سے بول رہا ہوں آگے آ کر بیٹھو کچھ بات کرنی ہے مجھے تم سے ….وہ صبا کے اس رویے پر چڑ گیا اور مجھے ابھی آپ سے فی الحال کوئی بات نہیں کرنی اور اگر آپ کو کچھ زیادہ ہی ضروری بات کرنی ہے تو وہیں سے بول دیں کان ہیں میرے پاس سن سکتی ہوں میں…. وہ ترکی با ترکی جواب دے رہی تھی… اور اپنی ضد پر قائم تھی… فہد جو ابھی کچھ دیر پہلے اس ملاقات کے حسین حسین دیکھ رہا تھا اب غصے سے پاگل ہو رہا تھا اس کی دماغ کی نس صاف تنی ہوئی نظر آ رہی تھی… دوسری طرف صبا بھی غصے میں دہک رہی تھی ایک تو وہ فہد کے ساتھ ایسے جانا ہی نہیں چاہتی تھی دوسرا اس کو اس بات کا یقین تھا کہ یہ زبردستی مجھے لینے آیا ہوگا…. وہ فہد سے خوف زدہ بھی تھی اسی باعث وہ آگے بیٹھنے سے اجتناب برت رہی تھی…
تم اپنے ہونے والے شوہر کی بات سے انکار کر رہی ہوں صبا… اس نے اب تک گاڑی نہیں چلائی تھی اور وہ غصے میں صبا کے آگے آنے کا منتظر تھا …
ابھی آپ میرے کچھ نہیں ہیں مسٹر فہد اور نہ ہی میں آپ کا کوئی حکم ماننے کی پابند ہو تو بہتر یہی ہے کہ آپ جلدی سے مجھے آنٹی کے پاس لے جائیں صبا lکتا کر بولی… تو ٹھیک ہے پھر صرف کچھ دن ہیں تمہارے پاس پھر پورے حق سے اپنے سارے حقوق وصول کروں گا تم سے یاد رکھنا صبا …وہ پیچھے کی طرف دیکھتا ہوا بولا اور تیزی سے اسٹرنگ پر ہاتھ رکھ کر گاڑی آگے بڑہادی …صبا فہد کی آخری بات سن کر اندر تک دہل گئی نہ جانے مجھے اس سے ضد کرنے کی کیا ضرورت تھی …چپ چاپ سے آگے جاکر بیٹھ جاتی اب وہ اپنے کیئے پر پچھتانے لگی
####
سارا سفر خاموشی میں گزرا…. گاڑی کے پہیوں کی تیز چرچراہٹ کے ساتھ گاڑی ایک مال کے سامنے رکی گاڑی پارک کرکے صبا فہد کے پیچھے پیچھے مال کی طرف بڑھ گئی….السلام علیکم عفت آنٹی …فہد صبا کو ایک دکان پر لے جاکر رک گیاجہاں پہلے سے عفت آنٹی موجود تھی…
صبا کو دیکھ کر وہ کھڑی ہوگی وعلیکم السلام بیٹا ٹھیک سے آ گئی …صبا فہد نے نے زیادہ تنگ تو نہیں کیا وہ فہد کو چھیڑتے ہوئے بول رہی تھی.. جس کے چہرے پر ابھی بھی بارہ بج رہے تھے …چلو آؤ یہاں نکاح کا ڈریس پسند کرلیتے ہیں..
وہ صبا کو لے کر ایک چیئر پر بیٹھ گئی جبکہ فہد بھی پیچھے کی ایک چیئر پر بیٹھ گیا …غصہ تو وہ ابھی بھی تھا صبا پر اس کی ماما کے سامنے صبا کے چہرے پر موجود کنفیوژن اور شرم کو دیکھ کر وہ بہت محفوظ ہونے لگا…….صبا اپنی پسند تو آپ نے بتائی نہیں جو میں اشارہ کرتی رہی وہی آپ کو بھی اچھا لگتا ہے …کیونکہ آپ کی پسند مجھ سے بھی زیادہ اچھی ہے…. مجھے کچھ بولنے کی ضرورت ہی نہیں رہی وہ عفت آنٹی کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکی ….
وہ تینوں باہر نکل رہے تھے جب ان لوگوں کا ٹکراؤ ہادی سے ہو گیا وہ بھی مال سے کچھ لے کر باہر نکل رہا تھا اور عفت آنٹی اور فہد کے ساتھ صبا کو دیکھ کر وہ چونک گیا….خیریت ہے آپ لوگ ایک ساتھ یہاں پر …
ہاں بیٹا سب خیریت ہے آصفہ بیگم اس کی پریشانی سمجھتے ہوئے بولی اور ہادی کو ساری بات سے آگاہ کیا ابھی میں صائمہ کے پاس سے ہی ہو کر آ رہی ہوں …اس کو آج بتایا ہے فہد کی منگنی کے بارے میں…. منگنی کا سن کر ہادی بھی چونک سا گیا . ..
اوہ اچھا بہت بہت مبارک ہو تم دونوں کو وہ ایک گہری نظر دونوں کو دیکھتے ہوئے بولا …ویسے تم دونوں بڑے ہی چھپے رستم نکلے بھنک بھی نہیں پڑنے دیں کہ یہ بات یہاں تک پہنچی ہوئی ہے …
ویسے انٹی لگتا ہے آپ نے ماما کو بھی بتا دیا ابھی ان کا فون آیا ہے میرے پاس کہ وہ صبا کے گھر پر ہے اور فارغ ہو کر میں انہیں وہاں سے پک کر لو…میں بھی بس وہی جا رہا ہوں …
چلے آپ لوگ بھی ساتھ ساتھ …وہ عفت بیگم کی طرف دیکھ کر بو لا ….
ہاں بیٹا ذرا پہلے یہ سارا سامان گھر چھوڑ دیں پھر صبا کو چھوڑنے جائیں گے ہم لوگ …. انٹی جو اب بہت تھک گئی تھی تھکے تھکے کے انداز میں بولی ….ارے آپ تو بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہیں ایسا کرو فہد کے تم آنٹی کو گھر چھوڑ دو میں آصفہ آنٹی کے گھر ہی جا رہا ہوں مما کو لینے….صبا کو میں چھوڑ دوں گا گھر پہ… کیوں آنٹی! چھوڑ دو نہ وہ عفت بیگم کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگا…..ہاں یہ ٹھیک ہے لیکن رکو بیٹا ….میں آصفہ سے پوچھ لو زرا پہلے …صبا جو کہ خاموشی سے کھڑی آنٹی اور ہادی کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اب پریشان ہو گئی تھی اب تو وہ عفت آنٹی کے ساتھ جارہی تھی…. تو اس کو فہد کے ساتھ جانے پر کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن اب ہادی کے ساتھ جانا اسے بہت عجیب لگا… آصفہ بیگم نے بھی اجازت دے دی تھی کہ صبا ہادی کے ساتھ ہی آ جائے ….چنانچہ صبا ہادی کی کار کی طرف بڑھ گئی
ھادی نے فرنٹ سیٹ ڈور کھولا تو صبا فرنٹ سیٹ پر ہی بیٹھ گئی ….الوداعی نظر فہد پر گئی جو غصے سے لال بھبھوکا ہو رہا تھا ….
####
وہ کار میں بیٹھ تو گئی پر عجیب سی قسم کی سگریٹ کی بدبو گاڑی میں پھیلی ہوئی تھی جو اے سی چلنے کے باوجود حبس پیدا کر رہی تھی… صبا کو گھٹن ہونے لگی تو اس نے کار کی ونڈو کھول دی جبکہ ہادی صبا کی ایک ایک حرکت کو نوٹ کر رہا تھا …ویسے لو میرج لگتی ہے تم دونوں کی یہ…. وہ ڈرائیونگ کرتے کرتے صبا سے پوچھ بیٹھا…
جی نہیں ایسا نہیں ہے بالکل …صبا اسے اپنی صفائیاں دینے لگی
اچھا تو آنٹی نے آپ کو میری سسٹر کی شادی میں پسند کیا تھا …
جی بالکل صبا نے اثبات میں سر ہلا دیا…..ویسے مجھے لگتا ہے صبا آپ لوگوں نے جلدی کر دی …میرا مطلب ہے کہ مجھے بولنے کا کوئی حق نھیں ھے لیکن آپ کے گھر والوں نے صحیح سے چھان بین نہیں کی شاید فہد کی…. صبا کو ہادی کی باتیں مزید کنفیوز کر رہی تھی …وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ وہ کیا جواب دے…
خیر چھوڑیئے اب تو نکاح ہونے والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ فہد نکاح کے بعد وہ عادتیں چھوڑ دے….
کونسی عادتیں ….
وہ صرف اپنے دل سے ہی پوچھ سکی کہ اچانک اس کے پاؤں کے پاس پڑےایک کپڑے پرصبا کی نظر پڑی… اس نے وہ کپڑا اٹھا کر ہاتھ میں لے لیا….
یہ تو وہی ہے جو اس اجنبی کے منہ پر بندھا ہوا تھا ….وہ یہ سوچ کر کانپنے لگی
ارے یہ دیکھیں کل فہد میرے ساتھ ہی واپس آیا تھا…. اپنا کپڑا میری گاڑی میں ہی بھول گیا
کیا یہ فہد کا کپڑا ہے صبا نے اٹکتے ہوئے اس سے پوچھا…. اس بات کو سچ ماننے سے اس کا دل انکاری تھا…لیکن کیا یہی سچ تھا ….اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے
####
وہ کمرے میں غصے سے ادھر ادھر ٹہل رہا تھا ….وہ کیسے کر سکتی ہے ایسا ….
میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر موصوف کو بیٹھنے میں نخرے آرہے تھے اور ہادی کے ساتھ بلا جھجک بیٹھ گئی… وہ اس غصے سے تلملا اٹھا بس کچھ دن کی بات ہے محترمہ ….
پھر دیکھتا ہوں میری اجازت کے بغیر کس سے ملتی ہو تم …اور میں ہی تمہیں روزانہ پک اینڈ ڈراپ کروں گا پھر جتاؤں گا اپنا پن تم پر صحیح طریقے سے …یہ لڑکی شاید جان بوجھ کر مجھے غصہ دلاتی ہے….
پر کیاکروں زیادہ دیر تم پر غصہ نہیں کرسکتا ….
صبا کی حسین جھکی آنکھیں فہد کے سامنے آگئی اور اس کا سارا غصے کا وبال جھاگ کی طرح بیٹھ گیا ..
