Milan by Yusra Mehmood NovelR50657 Milan (Episode 09)
Rate this Novel
Milan (Episode 09)
Milan by Yusra Mehmood
پانی سے اس کے چہرے کے ساتھ اس کے کپڑے بھی بھیگ چکے تھے دور سے یہ منظر دیکھ کر عالیہ بھاگ کر وہاں پہنچی… کیا ہو گیا ہے صبا ہوش میں تو ہو ..وہ صبا کے ہاتھ سے پانی کا گلاس چھین کر اس کا کندھا ہلا کر بولی ..ہاں ہوش میں ہوں بلکہ آج ہی آئی ہوں ہوش میں وہ غصے سے بھری نگاہ فہد پر ڈالتے ہوئے بولی ….کیوں lکیلے میں خالی بھرم مارنے آتے ہیں تمہیں …سب کے بیچوں بیچ بھیگی بلی بن جاتے ہو… وہ فہد وہ خونخوار نظروں سے دیکھ رہی تھی جو رومال سے اپنا چہرہ صاف کر چکا تھا… صبا کی بات سننے کے بعد وہ اس کے قریب ہوا … یہ بے ہودہ حرکت میں نے آج تو برداشت کر لی ہے آئندہ نہیں کروں گا وہ اپنی شہادت کی انگلی سے اسے وان کرتا ہوا بولا… اپنی خوابوں کی دنیا سے باہر آ جاؤ میڈم اور لوگوں کو فیس کرو اور کس بات کا الزام لگا رہی ہوں تم مجھ پر… وہ صبا کی حرکت پر آگ بگولا ہو رہا تھا وہ صبا کی کلائی اپنے مضبوط ہاتھوں میں پکڑتے ہوئے بولا … اور کب دکھائیں ہیں میں نے اکیلے میں تمہیں بھرم… میں اتنا ڈرپوک نہیں ہوں کہ چھپ چھپا کے کسی سے کوئی بات کرو مجھ میں اتنی ہمت ہے کہ سب کی نظروں کا سامنا کر سکو اس نے صبا کا ہاتھ موڑ کر اسے خود سے قریب کیا اور ایک جھٹکے سے چھوڑ دیا …صبا سامنے کھڑی عالیہ سے جا لگیں … اور مجھ پر الزام لگانے سے پہلے اچھی طرح سوچ لینا میڈم آئندہ ورنہ میں تمہیں اتنی آسانی سے نہیں چھوڑوں گا …اس کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا عالیہ یہ ساری سچویشن دیکھ کر پریشان ہو گئی…. فہد صبا کو وارن کرتا ہوا وہاں سے چلتا بنا صبا کی دوبارہ ہچکیاں بندھ گئیں عالیہ صبا کو لے کر سیٹر پر بیٹھ گئی…
آخر تمہیں کیا ہو گیا ہے صبا کیوں بچارے فہد پر گرم ہو رہی تھی ..عالیہ غصہ ضبط کرتی ہوئی صبا سے پوچھ رہی تھی اسے صبا پر بہت غصہ آ رہا تھا جانے کس بات کو وجہ بنا کر اس نے فہد کے ساتھ ایسا برتاو کیا تھا جبکہ وہ فہد کی صبا کے لیے فکرمندی بھی دیکھ چکی تھی… میں نے جو کیا بالکل صحیح کیا ایسے ہی ہونا چاہیے تھا اس کے ساتھ سمجھتا کیا ہے خود کو…. اکیلے میں مجھے ڈرائےگا اور سب کے سامنے شریف بننے کا ناٹک …آئی ہیٹ ہم… کبھی میں اس کے رشتے پر راضی نہیں ہوگی …منع کر دوں گی مما کو میں …وہ روتی ہوئی اپنے دکھ میں وہ بو ل گئی جسے سن کر عالیہ حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکی اور پھر صبا کو عالیہ کو سب کچھ سچ سچ بتانا پڑا… علیہ ان دونوں کے اس نئے ریلیشن بننے پر بہت خوش تھی اور ساتھ ساتھ صبا کو سمجھآ رہی تھی کہ تمہیں کس بات کا اتنا غصہ ہے… فہد ایک بہت سلجھا ہوا اور اچھا لڑکا ہے اسے کھونے کی غلطی مت کرنا …صبا نے اپنے اور اس اجنبی کے بارے میں علیہ کو کچھ نہیں بتایا تھا اس نے عالیہ کو بھی منع کیا کہ اس بات کا ذکر یونیورسٹی میں کسی سے نہ کرے
عالیہ اور صبا میں جونیئر اور سینئر کا فرق مٹا کر بہت اچھی دوستی تھی وہ اکثر اپنی باتیں ایک دوسرے سے شیئر کرتی تھی اسی لیے عالیہ کے کسی کو نہ بتانے کے وعدے پر صبا مطمئن ہو کر گھر آگئی…
####
اگلے ایک ہفتے تک صبا یونیورسٹی نہیں گئی اس نے مما سے یہ بہانہ بنایا کہ سینئرز کلاس کے پیپرز چل رہے ہیں اس وجہ سے ہم لوگوں کی کلاسس آف ہے ….اس پورے ہفتے صبا مما کو اس رشتے کے بارے میں پوچھنے اور اس رشتے سے مما کو منع کرنے کی کوشش کرتی رہی پر اب تک ہمت نہیں جتا پائیں اور آج جب وہ صبح سو کر اٹھیں تو مما کو اپنے بیڈ روم میں پایا …اسلام علیکم مما ….اس نے بستر سے منہ نکال کر ماں کو دیکھا جو دھلے ہوئے کپڑے الماری میں رکھ رہی تھی …وعلیکم اسلام صبا بیٹا جلدی آ جاؤ اب گھڑی دن کے 12 بجآرہی ہے… ڈھیروں کام پڑے ہیں اور ابھی بہت سے کام میں نے شروع بھی نہیں کیے…
وہ صبا کو آواز لگاتے ہوئے بولی جو دوبارہ نرم نرم بستر کے مزے لینے لگی تھی… اور تم یونیورسٹی کب جاؤ گی …انہوں نے تفتیش کرتے ہوئے صبا کو بستر سے کھڑا کردیا….مما ابھی پڑھائی اسٹارٹ نہیں ہوئی ہو گی اس لیے میں نہیں جارہی ابھی ایک ہفتہ اور…. خبردار اب چھٹی نہیں کرو گی تم کل سے یونیورسٹی جانا شروع کرو اور جلدی سے فریش ہو کر آؤ… وہ فریش ہونے کے لئے واش روم کی طرف چل دی اس نے اب یونیورسٹی جانے کی بالکل بھی ہمت نہیں تھی اس اجنبی سے اسے خوف آنے لگا تھا…. صبا کا پوراہفتہ انہی سوچوں میں گزرا اسی لیے وہ یونیورسٹی کی چھٹیاں کر رہی تھی اسے یقین تھا کہ اب جب وہ دوبارہ یونیورسٹی جائے گی تو پھر وہ مجھے ہراساں کرنے کی کوشش کرے گا ….پر اب زیادہ تو مما سے بہانے نہیں بنا سکتی تھی کبھی نہ کبھی تو یونیورسٹی جانا ہی ہو گا …
عفت بیگم کا فون آیا تھا …ابھی وہ ناشتہ کر رہی تھی کہ مما نے اس کے سر پر دھماکہ کیا …کیوں مما اس نے ڈرتے ہوئے پوچھا
تمہارے بابا نے پوری تحقیق کے بعد اس رشتے پر رضامندی ظاہر کردی ہے اور آج وہ لوگ فہد کو لے کر چھوٹی موٹی رسم کرنے کے لئے آ رہے ہیں…. کیا …وہ چیخی…
مما آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں اور مجھ سے پوچھے بغیر آپ میں ہاں کیسے کردی … وہ رو دینے والے انداز میں بولی تمہارے بابا کے کہنے پر میں نے تم سے پوچھا تھا تو تم نے سب ہم پر چھوڑ دیا تھا ورنہ پوچھنے کا کوئی جواز نہیں تھا ….جب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اتنا اچھا رشتہ ہے پیسہ ہے تو کیا ضرورت ہے تم سے پوچھنے کی….
اب جلدی سے ریڈی ہو جاؤ ہلکی پھلکی کلینزنگ کر الاؤ تمہاری پا لر سے …وہ حکم صادر کرتی ہوئی باہر نکل گئی… اور صبا پر تو جیسے غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے… بس کچھ دنوں کی بات ہے پھر میرے نام سے منسوب ہو جاؤ گی تم….
اس اجنبی کے الفاظ اس کے کانوں میں گونجے …
فہد آئی ہیٹ یو ….اس نے کرب سوچا
کچھ نہ ہونے پر وہ مجھ سے اتنا برا سلوک کرتا ہے اس کے نام سے جڑ گئی تو پتہ نہیں کیا کیا کرے گا وہ میرے ساتھ …اس نے روتے ہوئے سوچا کہسے منع کرو ماما بابا کو ….نہیں کر سکتی میں یہ منگنی …وہ روہانسی ہو کر ادھر ادھر ٹہلنے لگی کہ مما کی دوبارہ آواز پر صبا کو باہر جانا پڑا .
باہر بابا کو گھر میں دیکھ کر وہ بابا کے پاس آکر بیٹھ گئی….
اسلام وعلیکم بابا….
وعلیکم السلام بیٹا کیسے ہو آپ… بخاری صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر پوچھا
جی بابا میں ٹھیک ہوں صبا بابا سے نظریں چراتے ہوئے مختصر بولی… کیوں بھئی خوش ہے نہ میرا بیٹا اس رشتے پر میں تو بہت خوش ہوں…
فہد اور اس کے گھر والے بہت اچھے ہیں وہ بہت خیال رکھیں گے تمہارا ….میں نے اپنے دو تین دوستوں سے تحقیق بھی کرا لی ہے وہ بھی بہت خوش ہے اس رشتے پر…. بابا اس رشتے سے بہت خوش نظر آرہے تھے وہ جو کچھ بولنے کے لئے بخاری صاحب کے پاس آئی تھی اس کے الفاظ حلق میں ہی کہیں اٹک گئے …وہ کچھ نہیں بول سکیں اپنے بابا کو دیکھ کر اس نے ابھی فی الحال خاموش رہنے پر ایک اکتفا کیا اور آصفہ بیگم کے ساتھ پالر چلی گئی….
####
جب وہ مجھے برا سمجھتی ہے تو نہ جانے آس رشتے پر ہاں کیسے کردی وہ اسی شش و پنج میں کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا جب سے ماما فہد کو بتا کر گئی تھی کہ آج ہلکی پھلکی رسم کرنے وہ تینوں صبا کے گھر جا رہے ہیں وہ ماما کو کچھ بھی نہیں بول سکا… پسند تو وہ صبا کو کرتا ہی تھا لیکن پچھلے ہفتے کی اس کی حرکت پر وہ تلملا کر رہ گیا تھا عالیہ کے سامنے صبا کا اس سے برا رویہ برداشت نہیں ہو رہا تھا
آہستہ آہستہ عقل دلانی پڑے گی محترمہ کو اس نے مصنوعی غصے سے سوچا اور مسکراتے ہوئے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا لی…
####
سی گرین ہلکے کام والی فراک پہنے وہ روم میں ماما کے ساتھ آئی تو عفت بیگم نے اسے گلے لگاتے ہوئے اپنے اور فہد کے برابر میں بٹھا دیا ….وہ نازک سی سفید رنگت والی صبا خوبصورتی کا پیکر لگ رہی تھی فہد تو اسے دیکھ کر دم بخود رہ گیا … اس اپسرا سے وہ نظر ہٹانا بھول گیا… ناراضگی پل بھر میں ختم ہو گئی
ماما نے صبا کو فہد کے پاس لا کر بٹھا دیا تھا جو کہ خود بلو کلر کے ڈیسینٹ قمیض شلوار زیب تن کیے اس سے کم نہیں لگ رہا تھا… اپنی پسند کو اپنا ہوتا دیکھ کر وہ بہت خوش ہو رہا تھا
بڑوں کا خیال کر کے اس نے صبا کی طرف گھومتی ہوئی اپنی نظروں کو بریک لگائے… صبا بالکل خاموش فہد کے برابر میں بیٹھی تھی وہ عفت آنٹی اور انکل سے بہت خوش دلی سے ملی…. فہد کے برابر بیٹھے ہوئے رسم ہوتے وقت بھی وہ خاموش رہی…
دونوں کے گھر والوں نے بچوں کا منہ میٹھا کیا اور منگنی دو تین ہفتے بعد رکھنے کا پلان کیا گیا ….
اس انوکھے رشتے پر دل پھسلنے کو تیار ہو رہا تھا پر دماغ اسے فہد کو قبول کرنے سے روک رہا تھا..
