Mehram Humraaz by Malayeka Rafi NovelR50445 Mehram Humraaz Episode 9
Rate this Novel
Mehram Humraaz Episode 9
Mehram Humraaz by Malayeka Rafi
عباس شاہ ارحم کے آفس آئے اسے وہاں نہ پا کر وہ باہر نکلے اور اس کی سیکریٹری سے اس کا پوچھنے لگے ” سر وہ نماز پڑھنے گئے ہیں “
” وہاٹ ؟” عباس شاہ چونکے تھے ارحم اور نماز ۔۔ ” انھیں نہیں تھا پتہ کہ ان کی میٹنگ ہے آج ” وہ پوچھ رہے تھے تو عائشہ کہنے لگی ” سر انھوں نے کہا کہ نماز پڑھنے کے بعد وہ میٹنگ پہ جائے گیں ” عباس شاہ سوچ میں پڑ گئے ۔۔ ارحم اور نماز ۔۔ وہ کافی دنوں سے ملے بھی نہیں تھے ارحم سے ۔۔ وہ اس دن کے بعد سے گھر نہیں۔ گیا تھا بلکہ وہیں فلیٹ میں ہوتا تھا وہ جانے لگے تو سامنے سے ارحم آتا نظر آیا وہ وہیں رک گئے اور بغور اسکا جائزہ لینے لگے ۔۔ گرے پینٹ کوٹ میں ملبوس ۔۔ ہلکی داڑھی کے ساتھ اس کا چہرہ نکھرا ہوا تھا ۔۔ سلیقے سے بال بنائے وہ پہلے والا ارحم لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔ اس کی بارعب شخصیت اور رعب دار ہو گئی تھی ۔۔ وہ قریب آ کے عباس کو دیکھنے لگا ” اسلام علیکم پاپا ۔۔ میں بس آ رہا تھا میٹنگ کے لئے “
“وعلیکم السلام” عباس حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔ اس کے بات کرنے کے انداز میں بھی ایک ٹھہراؤ سا تھا ۔۔ ساتھ میں وہ عائشہ کی طرف مڑ کے چند ہدایات دے کے وہ عباس کی طرف متوجہ ہوا ” چلیں پاپا ” عباس جو اپنے سامنے کھڑے ایک مختلف ارحم کو دیکھ رہا تھا چونک کے اس کے ساتھ آگے بڑھے ۔۔ ” جی بیٹا چلتے ہیں “
√√√√√√√√√√√√√√
وہ آج گھر آیا تھا مہک کے زیادہ اصرار پہ ۔۔ مہک جب رات کے کھانے کے بعد کچھ دیر اس سے باتیں کرنے کے لئے آئی تو وہ نماز پڑھ رہا تھا اپنے کمرے میں ۔۔ وہ سائیڈ صوفے پہ بیٹھ کے اسے دیکھنے لگی ۔۔ اسے شاک لگا تھا ارحم کو یوں دیکھ کے ۔۔ وہ نماز کا پابند کب سے ہو گیا تھا ارحم نے سلام پھیر کے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ۔۔ پھر اٹھ کے جائے نماز اپنی جگہ پہ رکھ کے وہ اپنی ماں کی طرف مڑا ” ارے مما آپ ” وہ مسکرانے لگی ” سوچا کچھ دیر اپنے بیٹے سے باتیں کر لوں ۔۔ آؤ بیٹھو میرے پاس ” وہ ان کے پاس جا کے بیٹھ گیا مہک اسے غور سے دیکھ رہی تھی ” میرا بیٹا تو بہت بدل گیا ہے ماں بھی یاد نہیں آتی اب ” ارحم نے انھیں دیکھا وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی ” ایسا کچھ نہیں مما تھوڑا بزی تھا “
” اسی لڑکی کے ساتھ ۔۔ اس نے تو کہیں کا نہیں چھوڑا تمہیں “مہک کی آواز تھوڑی تیز ہوئی ارحم نے دھیمے مگر مضبوط لہجے میں کہا ” وہ کوئی عام لڑکی نہیں میری بیوی ہے “
” ہونہہ ایک طوائف اور بیوی ” انھوں نے نخوت سے سر جھٹکا ” مما پلیز ۔۔ جب کسی بات کا پتہ نہ ہو تو اسے رانگ وے میں نہ بولا کرے ” ارحم نے مٹھیاں بھینچ لی تھی اپنا غصہ کنٹرول کرنے کے لئے ۔۔ مہک نے اسے دیکھا تو بات بدل دی ۔۔ ” دن کیسے گزر رہے ؟”
” الحمدللہ بہت اچھے ” ارحم کے انداز پہ مہک چونک کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔یہ تو اس کا بیٹا ارحم تھا ہی نہیں یہ تو کوئی اور ارحم تھا ۔۔ بات نہ سوجھی انھیں تو ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر ارحم کو دیکھا ” چلو سو جاؤ تم بھی صبح آفس جانا ہوگا تمہیں بھی ۔۔ گڈ نائٹ ” وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو ارحم بھی کھڑا ہو گیا ” گڈ نائٹ مما ” مہک اسے پیار کرتی کمرے سے نکلی تو اس نے آگے بڑھ کے اپنی الماری کھولی ۔۔ اپنی شرٹ اور ٹراؤزر لینے کے لئے ۔۔ اچانک اس کی نظر سائیڈ پہ پڑی تین چار بوتلز پہ پڑی جو اس نے کھبی پینے کے لئے وہاں رکھی تھی ۔۔ وہ کافی دنوں بعد یہاں گھر اپنے کمرے میں آیا تھا ۔۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگے ۔۔ اس کا دل لرزنے لگا ۔۔ اس کا پورا وجود پسینے میں نہا گیا ۔۔ اس نے جلدی سے وہ بوتل اٹھائے اور ڈسٹ بن میں پھینک دیے ۔۔ وہ اپنے ماضی سے ہمیشہ کے لئے بچنا چاہ رہا تھا اور وہ بھول بھی گیا تھا اپنے ماضی کو لیکن آج ایک بار اس کا ماضی اس کے سامنے کھڑا تھا جس سے اسے گھن آتی تھی ۔۔ اس نے اپنے کانوں پہ ہاتھ رکھ لیے ” اے اللہ میری مدد فرما ۔۔ اپنے اس کمزور بندے کی مدد فرما ” اسے اپنے ماضی میں سے میرال کو یاد کر کے سکون ملتا تھا باقی وہ اپنے ماضی کی کسی بھی چیز ۔۔ کسی بھی بات کو یاد نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ آنکھیں بند کر کے وہ اپنی سانسیں ہموار کرنے لگا ۔۔ جب نارمل ہوا تو چینج کرنے ڈریسنگ روم میں چلا گیا ۔۔
√√√√√√√√√
کشف نے ایک خوبصورت بیٹے کو جنم دیا تھا ۔ سحر تو اس کی بلائیں لیتے نہ تھکتی تھی ۔۔ ” ہائے یہ تو اپنی مما جیسی لگ رہی ۔۔ نوزی بھی ۔۔ آئیز بھی ۔۔ لپس تھوڑے چینج ہے “
” اپنے پاپا پہ گیا ہے میرا بیٹا ” بےاختیار کشف کی زبان سے پھسلا تھا اور اب سحر کی معنی خیز نظروں سے گھبرا کے جھینپ گئی ۔
” اتنا ہینڈسم ہے اس کے پاپا ۔۔ ” سحر کے کہنے پہ آسیہ اسے گھورنے لگی ” سحر “
” اچھا مما میں جسٹ بتا رہی تھی ” سحر کندھے اچکاتی بولی تو کشف ہنسنے لگی ۔۔ “کشف میرے سر پہ ہاتھ پھیر دو ” وہ کشف کی طرف متوجہ ہوئی تو وہ حیرانی سے دیکھنے لگی ” کیوں ؟”
” ارے مجھے بھی اس کے پاپا جیسا ہینڈسم مل جائے ” کشف کی ہنسی بےساختہ تھی جبکہ آسیہ سحر کو تنبیہ کرنے لگی ” سحر نکلو یہاں سے تم ۔۔ ” سحر نے برا سا منہ بنایا ” اچھا میں جا رہی سوپ بنانے ۔۔ ” وہ باہر نکلی تو آسیہ محبت سے کشف کو دیکھنے لگی ” کشف خوش ہو نا ؟”
” جی مما بہت ” وہ مسکرا کے بولی ۔۔ لیکن اس کی آنکھوں میں آنسو جگمگا رہے تھے ۔۔ ” اللہ تمہیں خوش رکھے ہمیشہ ۔۔ ” وہ اسے پیار کرتے بولی تو کشف بھی ممنون نظروں سے انھیں دیکھنے لگی کتنا کر رہی تھیں دونوں ماں بیٹی اس کے لئے اور اب اس کے بیٹے کے لئے بھی ۔۔ وہ جتنا بھی شکریہ بولتی کم تھا۔۔۔ لیکن اس کے اندر پھر بھی ایک کمی سی تھی ۔۔ ارحم کے پاس نہ ہونے کی کمی ۔۔ وہ آج بہت محسوس کر رہی تھی ۔۔ کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ ارحم کو بھی معلوم ہو کہ اس نے ایک بیٹے کو جنم دیا ہے جو ارحم اور اس کو ہے لیکن اسے معلوم تھا اس سے ارحم کو کوئی فرق نہیں پڑنا وہ اسے چھوڑنے کا فیصلہ بہت پہلے کا کر چکا تھا ۔۔
آسیہ کی آنکھ کھلی تو رات کے دو بج رہے تھے ۔۔ احد کے رونے کی آواز آ رہی تھی ۔۔ وہ اٹھ کے کشف کے کمرے کی طرف جانے لگی ۔۔ جیسے ہی دروازہ کھولا تو سامنے کشف روتے احد کو بانہوں میں لیے رو رہی تھی ” کشف ۔۔ کیوں رو رہی ہو ؟” کشف آسیہ کو دیکھنے لگی ” مما احد چپ ہی نہیں ہو رہا “
” تو تم کیوں رو رہی ہو ؟” اس سے احد کو لے کے آسیہ نے اپنی بانہوں میں بھر کے اسے سلانے لگی ۔۔ کشف آنسو بھری آنکھوں سے انھیں دیکھ رہی تھی احد سو چکا تھا آسیہ نے اسے آرام سے اس کی جگہ پہ سلایا پھر کشف کے پاس آ کے بیٹھ گئی ۔۔ اس کے آنسو صاف کیے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کے اسے پیار سے دیکھنے لگی ” کیوں رو رہی ہو کشف تم ؟” وہ سر جھکا گئی ” تم ماں ہو بیٹا ماں ۔۔ احد چھوٹا سا بچہ ہے ۔۔ بچے تو ایسے ہی ہوتے ہیں نہ ان کے سونے کا پتہ ہوتا نہ ان کے جاگنے کا ۔۔ احد روتا ہے تو تمہیں چاہئیے اسے کمفٹیبل فیل کراؤ ۔۔ وہ اپنی ماں کو چاہتا ہے اور اس کی مما رو رہی ہے ۔۔ نا میرے بچے نا احد کو پیار سے سہلاؤ ۔۔ اس کے سر پہ ۔۔ اس کی پیٹھ پہ آہستہ سے ہاتھ سے سہلاؤ ۔۔ اس کو فیل کرو ۔۔ اسے اپنا احساس دلاؤ ۔۔ جب اسے فیڈ کراؤ تو اس میں اپنی ممتا شامل۔کرو ۔۔ جب اسے سلاؤ تو اسے اپنی ممتا سے پہلے ریلیکس کرو ۔۔ اسے ٹچ کرو ۔۔ اسے پیار کرو ۔۔ وہ صرف یہ نہیں کہ فیڈ کراؤ اسے یا سلاؤ یا ڈائپر چینج کرو نا میری بچی ۔۔ اسے اپنے وجود کا بھی احساس دلاؤ بہت پیار سے ۔۔ سبھاؤ سے ۔۔ آئی سمجھ ” کشف مسکرا رہی تھی انھیں دیکھ کے ” جی ۔۔ تھینک یو مما ” وہ ان کے گلے لگ گئی آسیہ نے بھی پیار سے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا ” اب تم بھی سو جاؤ میں ہوں احد کے پاس “
” نہیں مما میں ٹھیک ہوں ۔۔ آپ سو جائے ” کشف کو مناسب نہیں لگ رہا تھا ” میں ماں ہو تمہاری آئی سمجھ ۔۔ اور میرا کام۔ہی کیا ہے ۔۔ تم سو جاؤ جب تمہاری نیند پوری ہو گئی تو میں سو جاؤں گی تم احد کے پاس رہنا اور سحر بھی تو ہے ۔۔ اس کی ہالیڈیز ہیں ویسے بھی ۔۔ ہم تینوں مل۔کے بڑا کرے گیں اپنے احد کو ۔۔” کشف کو پھر سے رونا آ گیا ” آپ کتنی اچھی ہے مما ” وہ سر جھکائے رو رہی تھی آسیہ نے اس کے آنسو صاف کیے ” کشف مت رویا کرو ۔۔ اللہ سب کچھ بہتر کرے گا انشا اللہ ۔۔ چلو اب سو جاؤ ” کشف مسکرا کے اپنے بیڈ پہ لیٹ گئی ۔۔ آسیہ نے اس کے اوپر بلینکٹ ٹھیک کیا اور وہ اتنی تھکی ہوئی تھی کہ نیند کی وادیوں میں چلی گئی ۔۔
