359K
17

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mehram Humraaz Episode 15

Mehram Humraaz by Malayeka Rafi

کشف بوتیک میں سب سے الوداع کرنے آئی تھی سب ہی دکھی ہو رہے تھے اس کے جانے سے لیکن ساتھ میں خوش بھی تھے کہ کشف اب اپنی فیملی کے ساتھ خوش رہے گی ۔۔ ” یور ہزبینڈ از سو ہینڈسم کشف ۔۔ یو آڑ سو لکی ” الزبتھ کے کہتے ہی سب ہنس پڑیں جبکہ ارحم سر کھجاتا مسکراہٹ چھپاتا نیچے دیکھنے لگا ۔۔ ” یس سو ہاٹ ” یہ ڈینی تھی۔۔

” اینڈ سو سیکسی ” یہ سارا تھی کشف گھور کے انھیں دیکھنے لگی تو وہ سب ہنس پڑیں ۔۔ ارحم بھی مسکرا رہا تھا

” وی آڑ کڈنگ ۔۔ اسٹے بلیسڈ باٹ آف یو ” الزبتھ نے مسکرا کے کہا تو کشف سب سے گلے مل کے نم آنکھوں کے ساتھ ارحم کے ساتھ بوتیک سے باہر نکلی ۔۔ اس کا دل اداس ہو رہا تھا اپنی زندگی کے چار سال ان کے ساتھ گزار چکی تھی کیسے۔ نہ اداس ہوتی ۔۔ ارحم نے اسے بانہوں کے گھیرے میں لے لیا ” آڑ یو اوکے ہنی ؟” کشف نے مسکرا کے سر اثبات میں ہلایا اگر ان سے بچھڑ رہی تھی تو اس کا محبوب تو اس کے پاس تھا اس کی فیملی اس کے ساتھ تھی ۔۔ اتنے سارے لوگ تھے اس کے ۔۔ اس نے گہرا سانس لیا اور اپنا سر ارحم کے کندھوں پہ رکھ دیا ۔۔ وہ خوش تھی مطمئن تھی ۔۔ اس کے رب نے اسے ناامید نہیں کیا تھا ۔۔ اللہ کی نعمتیں اور رحمتیں اس پہ تھی

لاہور ائیرپورٹ پہ ارحم احد کی انگلی تھامے کشف کے ساتھ باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔ عباس پاشا اپنی بیٹی کے کندھے پہ بازو حائل کیے تھے اور آسیہ خاموشی سے سر جھکائے چھوٹے قدم اٹھا رہی تھی جب عباس نے مڑ کے دیکھا تو ان کے قریب آئے ” آسیہ ویلکم ٹو پاکستان ڈئیر ” آسیہ انھیں دیکھ کے دھیرے سے مسکرائی ۔۔ ان کے چہرے پہ عجیب الجھن تھی جبکہ سحر کہنے لگی ” کم مما ۔۔ آپ کے ساتھ تو میں نے پاکستان دیکھنی ہے اب ” آسیہ اس کے چہرے کی خوشی دیکھتے خود بھی مسکرا پڑی ۔۔ اور ان کے ساتھ آگے بڑھ گئی ۔۔ ارحم انھیں لیے فلیٹ پہ آ گیا تھا احد خوش ہو رہا تھا ۔۔ ” پاپا یہ ہمارا پاکستان میں گھر ہے “

” یس مائی سن ” ارحم نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا تو عباس اس کے پاس بیٹھ گئے ” اور اس سے بھی بڑا گھر ہے آپ کے پاپا کا ۔۔ ویری سون ہم سب وہاں شفٹ ہونگیں ” احد عباس کی طرف دیکھتا خوشی کا اظہار کرنے لگا ” واؤ ۔۔ انٹرسٹنگ ” سب اس کی خوشی دیکھ کے مسکرا رہے تھے آخر کو احد پاکستان آیا تھا اپنے پاپا کے گھر خوش تو ہونا ہی تھا اس نے ۔۔۔ کشف نے آسیہ اور سحر کو ان کے کمرے دکھائے ۔۔ ایک کمرا عباس کے لئے بھی سیٹ کیا ۔۔ اور احد اور ارحم۔کے ساتھ اپنے کمرے میں آ گئی ۔۔ احد کو سلاتے کشف مسکرا رہی تھی ۔۔ ارحم نے اس کے گال چھوئے ۔۔ کشف اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ” میری جانم کیوں مسکرا رہی ہے ” ارحم کے کہنے پہ کشف کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔۔ ” ارے بتاؤ بھی “

” ہشششش ” کشف نے اسے اشارہ کیا چپ رہنے کا ۔۔ احد پہ بلینکیٹ ٹھیک کر کے وہ ارحم کو دیکھتی الماری تک گئی ۔۔ ” اوہ ” ارحم۔اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔۔ کشف نے جیسے ہی الماری کھولی سامنے اس کے کپڑے ویسے ہی ہینگ تھے ۔۔ اس نے حیرت سے ارحم کو دیکھا ۔۔ ارحم نے مسکرا کے کندھے اچکائے ۔۔ کشف مڑ کے دیکھنے لگی اس کی جیولریز ۔۔ شوز ۔۔ بیگز سب ویسے ہی تھے ۔۔ ارحم نے پیچھے سے اس کے کندھے پہ اپنا چہرہ ٹکایا ” سب ویسا ہی ہے ۔۔ کچھ بھی نہیں بدلا ” کشف مسکرا پڑی ۔۔ ” اچھا جی ۔۔ ” ارحم ہنس پڑا ” ہاں نا ” کشف اس کی طرف مڑ کے اس کی شرٹ کے بٹن سے کھیلنے لگی ” یو نو میں کیوں مسکرا رہی تھی ؟” ارحم۔اس کے چہرے کو دلچسپی سے دیکھنے لگا ” کیوں میری جان ” کشف کے چہرے پہ شرمیلی مسکراہٹ تھی ” یہاں سے ہماری بہت سی یادیں ہیں “

” ہاں مجھے بھی کچھ کچھ یاد آ رہا ہے ۔۔ میں یاد دلاؤں اچھی طرح سے ” ارحم شرارتی ہو رہا تھا کشف سوچ کے ہی مسکرا پڑی اور منہ موڑ گئی ارحم۔نے اسے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا ” شرماتی ہوئی کتنی ہاٹ لگتی ہو یار تم ” کشف چہرہ گھما کے اسے گھورنے لگی ” چپ کرو ” ارحم کی ہنسی بےساختہ تھی ۔۔ کشف بھی مسکرا رہی تھی

|||||||||••••••••••||||||||||||

عباس نے جب گھر میں قدم رکھا تو مہک جو فون پہ بات کر رہی تھی حیرت سے عباس کو دیکھنے لگی ۔۔ فون بند کر کے وہ عباس کو دیکھنے لگی ” ارے عباس تم کب آئے ؟”

” کل شام کو ” وہ اسے دیکھنے سے بھی کترا رہا تھا ۔

” تو رات کو کہاں تھے ؟” وہ اس کے پاس آ کے پوچھنے لگی ۔۔ عباس جو اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا رک کے اسے دیکھنے لگا ” ارحم کے فلیٹ پہ ۔۔ اپنی بہو اور پوتے کے ساتھ تھا ” آسیہ اور سحر کا ذکر اس نے جان بوجھ کے نہیں کیا ۔۔ مہک استہزائیہ انداز میں ہنسی ۔۔ ” کیسی رہی رات ؟” عباس نے اسے نہ سمجھنے والے انداز میں دیکھا ۔۔ ” بھئی باپ بیٹے نے خوب انجوائے کیا ہوگا اس طوائف کی سنگت میں ” عباس نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا اور ایک تھپڑ اس کی گال پہ رسید کیا ۔۔ ” اپنی گندی سوچ اپنے تک رکھو ۔۔ میں تمہیں صرف ایک مغرور اور ضدی عورت سمجھتا تھا لیکن آج تم نے یہ بھی باور کرا دیا کہ تم ایک نیچ عورت ہو ” کہہ کے وہ اوپر کی طرف بڑھ گئے جبکہ مہک اپنے گال سہلاتی انھیں جاتا دیکھنے لگی ۔۔ اس نے نخوت سے اپنا سر جھٹکا ۔۔

|||||||||||•••••••••••••||||||||||||

وہ سب بیٹھے چائے پی رہے تھے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے جب بیل کی آواز آئی سحر اپنی جگہ سے اٹھی ” میں دیکھتی ہوں ” کہہ کے دروازے کی طرف بڑھی ۔۔ جیسے ہی اس نے دروازہ کھولا سامنے مہک عباس کھڑی تھی ۔۔ ” یس ؟” مہک اسے نظر انداز کرتی اپنے ہاتھ سے پرے کرتی اندر آئی اور نخوت سے چلتی ان کے پاس کھڑی ہو گئی ” ارے واہ یہاں تو عشق بازی چل رہی ہے ” عباس اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے ۔۔ آسیہ اسے حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔ ارحم بھی اپنی جگہ سے اٹھا ۔ ” مما آپ ۔۔ “

” باپ بیٹے دونوں نے مل کے اپنی عیاشی کا انتظام کیا ہوا ہے یہاں تو ” مہک کے کہتے ہی ارحم نے اپنی مٹھیاں بھینچ لی جبکہ عباس آگے بڑھ کے اس کا بازو دبوچ لیا ” تم یہاں کیا کر رہی ہو؟”

” دیکھنے آئی تھی میرے ہزبینڈ نے ایسا کیا دیکھ لیا ہے ادھر جو گھر آنا ہی بھول چکے ہیں لیکن واؤ یہاں تو عشق بازیاں چل رہی ہے ” آسیہ کا شرمندگی سے برا حال تھا ۔۔ کشف افسوس سے مہک کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ” ایک لفظ مزید نہیں ” عباس نے اسے وارننگ دی تھی جبکہ مہک نے نخوت سے اس کا ہاتھ جھٹکا ۔۔ ” مما اپنی حد میں رہئیے ۔۔ یہاں میرا بیٹا بھی ہے آپ اس قسم کی بیہودہ باتیں کر رہی ہے میرے بیٹے کے سامنے ” ارحم خود کو کنٹرول کرتا کہہ رہا تھا

” ہونہہ پتہ تو کروایا ہے نا کہ تمہارا ہی بیٹا ہے کہ ..” مہک نے ہنستے ہوئے کہا

” مما اپنی حد بھول رہی ہے آپ ” ارحم غرایا تھا ۔۔

عباس نے اس کا ہاتھ دبوچا اسے وہاں سے باہر لے آیا ۔۔ اپنے ساتھ کھینچتے ہوئے گاڑی تک لایا اور گاڑی کا دروازہ کھول کے اسے بٹھا کے اسے تنبیہہ کرنے لگا ” دور رہو ان لوگوں کی زندگی سے تم اور اب دفع ہو جاؤ “

” دیکھ لوں گی سب ” کہہ کے مہک نے گاڑی اسٹارٹ کی اور گاڑی زن سے لے اڑی ۔۔ عباس واپس جب گھر میں داخل ہوا تو آسیہ سر جھکائے بیٹھی تھی عباس تھکے قدموں سے چلتے ان کے پاس بیٹھ گئے ” ایم سوری آسیہ ۔۔ ” آسیہ نے ایک نظر انھیں دیکھا۔

” آپ کیوں سوری بول رہے آپ نے تو کچھ نہیں کیا ” عباس سر جھکا گئے ۔۔ ” میں تمہیں خوشیاں دینا چاہتا تھا آسیہ ۔۔ ہمیشہ سے میری یہی خواہش تھی لیکن ۔۔۔ میں تمہیں دکھ دے گیا ۔۔ ” آسیہ چپ رہی ۔۔ ” آسیہ تم سے الگ ہونے کے بعد میں میں نہیں رہا تھا ۔۔ میں نے خوشیاں خود پہ حرام کر دی تھی ۔۔ مہک سے مجھے پہلے بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن ان سب کے بعد مجھے اور بھی اس سے نفرت ہو گئی میں صرف اپنے فاڈر کے بزنس کی وجہ سے مہک کے ساتھ رہنے پہ مجبور تھا کیونکہ انھوں نے مجھے مجبور کر دیا تھا مگر حقیقت تو یہ ہے کہ میں ہمیشہ سے تمہارا ہی تھا ۔۔ تمہیں دیے گئے ہر دکھ کے لئے مجھے معاف کردو پلیز ” وہ سر جھکائے شرمندہ تھے

” کتنی بار معافی مانگو گے عباس ” آسیہ ان سے پوچھ رہی تھی

” مجھ سے تمہارا یہ کترانا نہیں دیکھا جاتا آسیہ ۔۔ ہرٹ ہوتا ہوں بہت ” عباس کی بات پہ آسیہ اپنے لب کاٹنے لگی ” میں تمہیں فورس نہیں کر رہا کسی بھی بات کے لئے بٹ ایٹ لیسٹ اگنور تو مت کرو پلیز ۔۔ ” عباس منت کر رہا تھا آسیہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر مسکرا پڑی ” نہیں کر رہی اگنور ۔۔ چائے پیو گے ؟ ” عباس نے ایک نظر آسیہ کو دیکھا پھر مسکرا پڑے ” میں بھی ہیلپ کردوں ؟”

” شیور ” وہ اٹھی تو عباس بھی مسکراتے ہوئے ان کے ساتھ کچن کی طرف بڑھ گئے ۔۔